آدھی رات کو سنسان سڑک پر


آفت زدہ پاکستان کے زنگ لگے حکمران

برف کی سفید چادر سے ڈھکے پہاڑ دیکھنے کی حسرت میں جانے والے بچے اب خود سفید چادر اوڑھ کر سو گئے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے ای پی ایس اسکول کے بچے اسکول سے سیدھے جنت چلے گئے تھے۔ اب وہ کبھی برف کی سفید چادر اوڑھے پہاڑوں کو دیکھنے کی تمنا نہیں کر سکتے۔ وہ کبھی سوال نہیں پوچھ سکتے پاپا اتنی برف کیوں پڑتی ہے؟ پاپا یہاں پر برف صاف کرنے کے لئے کوئی گاڑی کیوں نہیں ہے؟ پاپا ہمیں نکالو یہاں سے ہمیں ڈر لگ رہا ہے؟

پاپا کوئی تو ہو جو ہمیں بچانے آ جائے؟ کاش کوئی تو ہو جو وقت سے پہلے نہیں تو وقت پر پہنچ جائے پر اس ملک کے حکمرانوں کو زنگ لگ چکا ہے جن کو نہ کوئی چیز سنائی دیتی ہے نہ دکھائی دیتی ہے جب تک کوئی بڑا حادثہ رونما نہ ہو جائے۔ اکتیس دسمبر کو محکمہ موسمیات نے ایک وارننگ جاری کی تھی کے جنوری کے پہلے ہفتے میں ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشیں اور بالائی علاقوں میں شدید برف باری ہونے کی وجہ سے سڑکیں بند ہو سکتی ہیں۔

حکومت کو چاہیے تھا وہ اجلاس بلاتی اور متعلقہ سارے اداروں کو بلاتی، اور ان کو کسی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لے تیار رہنے کا حکم دیتی، کوئی ریڈ الرٹ جاری کرتے۔ لیکن حکومت سے لے کر نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ، پراونشل ڈزاسٹر مینجمنٹ، ضلعی انتظامیہ۔ پنجاب ٹوئرازم ڈپارٹمنٹ، نیشنل ہائی وی اتھارٹی کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ ہم خوشحالی کے نغمے گانے میں مگن تھے ایک لاکھ گاڑیاں مری پہنچ گئی ہیں، کسی نے یہ نہ سوچا کے مری کی کپیسٹی کتنی ہے وہاں پر اتنی گاڑیاں کیسی جا سکتی ہیں وہ بہی اتنی سرد موسم اور برف باری میں۔

جب دھند کے باعث گاڑیوں کو موٹروے پر روکا جاسکتا ہے اس کی وارننگ جاری ہو سکتی ہے اور وہ بہی ایک دو دن کے لئے نہیں ان کا ایک مستقل سسٹم بنا ہوا ہے تو پھر مری میں کیوں نہیں۔ اور جب اتنا بڑا سانحہ رونما ہو چکا ہے تو ہم اپنی اور اپنے اداروں کی کارکردگی جانچنے ٹھیک کرنے کے بجائے لوگوں کو برسر الزام ٹھرا رہے ہیں۔ اس ملک میں اداروں کی بھرمار ہے اور ہر ادارے کے ہیڈ ایک رٹائرڈ بندے کو لگایا ہوا ہے، ہماری بدقسمتی یہ ہے کے ہم نوجوانوں کو آگے آنے نہیں دیتے چاہے وہ سیاست ہو یا کوئی سرکاری یا غیر سرکاری محکمہ وہاں پر ہم ایسے لوگوں کو بٹھا دیتے ہیں جو اپنے عمر کا ایک حصہ اپنے ملک کی خدمت میں گزار دیا ہے اب ان میں اتنی انرجی اور اسٹیمنا نہیں ہے کے وہ ہنگامی اور بدلتے حالات کا مقابلہ کر سکیں۔

ظاہر ہے پھر ان کی کارکردگی وہی ہوگی جو آپ کے ہم سب کے سامنے ہے۔ ادارے بنا دیے جاتے ہیں لیکن ان کی تکنیکی اور فنی مہارتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق لیس نہیں کیا جاتا۔ ہمارے ملک میں انفارمیشن، ایجوکیشن اور کمیونیکیشن دینے کا فقدان ہے جتنی جانوں کا نقصان ہوا ہے وہ آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر سیاحتی مراکز پر ایسا کوئی سسٹم ہو کے بروشر فلائر، پوسٹر وغیرہ بنا کر ٹول پلازہ پر رکھ دئی جائیں اور ٹول لیتے وقت لوگوں کو بروشر ہاتھ میں تھما دیں جن میں ہدایات لکھی ہوں اور متعلقہ اداروں کی معلومات اور عام حالات اور ایمرجنسی حالات میں کام کرنے والے اداروں کے فون نمبر ہوں۔

ساتھ میں اگر کہیں کوئی ایسی صورتحال پیش آجاتی ہے تو کون سے احتیاط برتنی چاہے اس کے بہی چند نکات درج ہو۔ بل بورڈ لگے ہوں تا کہ لوگوں کو پتہ چل سکے کے قریب میں کہاں پر کوئی انسانی آبادی یا کسی اداری کا دفتر موجود ہے۔ سب سے آسان چیز موبائل میسیج ہیں جن تک ہر ایک کی رسائی ہے۔ میڈیا کس درد کی دوا ہے جب کوئی واقعہ رونما ہو جائے تو بریکنگ نیوز چلانے اور ریٹنگ بڑھانے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑتے۔

ٹاک شوز پر صرف سیاستدانوں کا حق ہے۔ اور مارننگ شوز میں رنگ گورا کرنے کی ترکیبیں، کس نے کون سی برانڈ کا جوتا پہنا ہے اس کے علاوہ وہاں پر کوئی بات نہیں ہوتی کیا اس ملک میں رنگ گورا کرنے کے علاوہ اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ نوید اقبال اسلام آباد پولیس اہلکار ای ایس آئی کی آڈیو جو مرنے کے بعد میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے کیا وہ پہلے وائرل نہیں ہو سکتی تھی۔ افسوس تو اس بات کا ہے کے اسلام آباد پولیس کا ایک اہلکار بیس گھنٹے تک پکار پکار کر اپنے معصوم بچوں سمیت مر گیا اس کو بچانے کے لئے ان کا اپنا ادارہ کچھ نہیں کر پایا جو باقی لوگوں کے محافظ ہیں، کون سے محافظ، کون سی حفاظت کیا کر سکتے ہو آپ لوگ جو اپنے پٹے بھائی کو بچانے کے لئے کچھ نہیں کر پائے۔

پرائس کنٹرول نام کی اس ملک میں کوئی چیز نہیں ہے جس کی مرضی جو دام لگائے کوئی پوچھنے والا نہیں ان کا بس صرف ریڑھی بانوں پر چلتا ہے، ٹوئرازم مافیا پر کسی کا بس نہیں چلتا، خیبر پختونخوا جائیں وہاں پر بغیر کسی غلطی کیے آپ کو تین سے پانچ ہزار تک چالان کے نام پر غنڈہ ٹیکس بھرنا پڑتا ہے۔ ہم ایک قوم نہیں ہجوم ہیں زومبیوں کا ہجوم ہے جو گھات لگائے بیٹھا ہے کے کب کون ہتھے چڑھے تو اسے زندہ جلا کر مار ڈالیں، انہی سنگسار کر دیں۔ یورپ کی مثالیں دینے والے خود اپنے ملک کے حالات کو کب سدھاریں گے اور اپنے اداروں کو کب جوابدہ بنائیں گے، لوگ کب اپنی ذمے داری محسوس کر کے ایک ذمے دار شہری ہونے کا ثبوت دیں گے، اور دنیا پاکستان کی مثال دے گی۔

Facebook Comments HS