ولایتی کتے کی موت سے دیسی انسان کی موت تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گو کہ کتے کی موت کے بارے میں ہمارے نصاب اور روایات میں ایک قصہ بہت بیان کیا جاتا ہے کہ فرات کے کنارے بے بسی کی موت مرنے والے کتے کا ذمہ دار بھی حکمران ہے۔ اسی سے حساب لیا جائے گا۔ یعنی کتے کو بھی اتنا اہم سمجھا جاتا ہے کہ اس کی موت کی پرسش ہو گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کتے کی موت کو ہمارے ہاں اچھا سمجھا جاتا ہے۔ سرکار تو باقاعدہ کتے مار مہم چلاتی ہے۔ اور وہ ایسی مہم نہ چلائے تو عدالت اس سے پوچھتی ہے کہ کتے کو کیوں نہیں مارا؟

دوسری جانب متمدن معاشرے بھی ہیں جہاں کتا بلی کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو ریسکیو والے اپنا لاؤ لشکر لے کر اس کی جان بچانے پہنچ جاتے ہیں۔ یعنی بلی کسی درخت پر چڑھ جائے اور اپنی فطرت و آبائی تربیت بھلا کر اترنا بھول جائے تو بھی حکومت بجائے یہ کہنے کے کہ یہ اس کی اپنی غلطی ہے اور وہ اگر مر گئی تو حکومت نردوش ہو گی، الٹا ایک کثیر سرمایہ اور وسائل اسے درخت سے اتارنے پر خرچ کر دیتی ہے۔ کتوں کے بھی ایسے ہی بہت زیادہ حقوق ہیں اور کتے کی موت بھی حکومت کو مصیبت میں ڈال سکتی ہے۔

دوسری جانب ہمارے ہاں بلاوجہ ہی کتے کو پتھر مار دینا بھی لطف اندوز ہونے کا ایک طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ اور پھر کتے کی موت کو اس حد تک عبرتناک بھی سمجھا جاتا ہے کہ دشمن کو ایسی موت مرنے کی بدعا دی جاتی ہے۔ بہرحال کتے کے مرنے کو ہمارے ہاں اہم نہیں سمجھا جاتا، صرف اس کی میت کے تعفن سے قوم کو پریشانی ہوتی ہے۔ ورنہ کتا مرتا مر جائے ہمیں کیا؟

ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ حقیر سا کتا ہمارے لیے اہم نہیں ہے۔ گلیوں میں آوارہ پھرتا ہے۔ بھونک بھونک کر ہمارا سکون غارت کرتا ہے۔ کبھی زیادہ ہی مشتعل ہو تو کاٹ بھی لیتا ہے۔ اس لیے ایک کتا مرتا ہے تو ہم یہ سوچتے ہیں کہ چلو ایک پریشانی کم ہوئی۔

اب اسی معاملے کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ حکومت کے لیے عام انسان حقیر ہیں۔ وہ اہم نہیں۔ بھونک بھونک کر حکومت کا سکون غارت کرتے ہیں۔ زیادہ ہی مشتعل ہوں تو حکومت کو کاٹ بھی ڈالتے ہیں۔ اس لیے ایک عام انسان مرتا ہے تو حکومت سوچتی ہے کہ چلو ایک پریشانی کم ہوئی۔

یہی وجہ ہے کہ نہ تو سڑک حادثات کی روک تھام کی جاتی ہے، نہ ہی ہسپتالوں میں انسان بچانے پر زیادہ رقم خرچ کی جاتی ہے۔ نہ زخم خوردہ انسانوں کو خالص دوائی یا خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔ نہ اس کی تعلیم پر زیادہ خرچ کیا جاتا ہے۔ نہ ہی ایسا بندوبست کیا جاتا ہے کہ وہ کسی برفانی علاقے میں برف کے طوفان میں پھنس کر جان کی بازی ہار رہا ہو تو چند میل دور واقع حکمرانوں کے محل تک اس کی آہ پہنچے اور اسے بچانے کا بندوبست کیا جائے۔

بس ایسی موت پر زیادہ شور نہ مچے۔ لوگ مشتعل ہو کر حکومت کو کاٹ کھانے پر نہ اتر آئیں۔ ورنہ تو بس اس موت سے حکومت کی ایک پریشانی کم ہوئی، اس پر وہ کیوں اپنا وقت برباد کرے؟ ہاں مرنے والے اپنے آخری لمحات میں ضرور سوچتے ہوں گے کہ دیسی انسان سے تو ولایت کا کتا بھلا، جیسا بھی ہو حکومت خبر گیری تو کرتی ہے، یہ تو نہیں کہتی کہ وہ اپنی بے وقوفی سے مرا تو میرا قصور نہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1442 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments