ہائے یہ تفریح کو ترستے ہوئے میرے لوگ


کتنے دن ہو گئے ہیں مجھے اپنے ”ہم سب“ سے ملے ہوئے، باتیں کیے ہوئے، دل کے پھپھولے پھوڑے ہوئے۔ کرتی کیا؟ سیاپوں میں پڑی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر نے آنکھ کی سرجری کرنے کے بعد کہا تھا۔ ”چھوٹے بچے کی طرح حفاظت کرنی ہوگی۔“

بستر پر لیٹی تو وہ یاد آیا۔ ماتھے کے دائیں بائیں جلتے چراغوں سے محروم، لاٹھی ٹیکتا، بلاروک ٹوک عوامی گاڑیوں اور بسوں میں چڑھتا، اترتا اور اپنی پاٹ دار آواز میں ترنم سے گاتا۔

۔ ”انکھیاں والیو انکھیاں بڑی نعمات اے۔“

ہماری نسل کے لوگوں جنہوں نے اپنے بچپن اور جوانی میں ان گاڑیوں اور بسوں میں سفر کیے تھے وہ اس کردار سے بخوبی شناسا ہیں۔

تب اسے دیکھتے اور سنتے ہوئے کبھی یہ احساس تک نہ ہوا تھا کہ وہ کتنی بڑی حقیقت کا اعلان کر رہا ہے۔ اور یہ کتنی بڑی نعمت ہیں۔ جس کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب یہ بیمار ہوجاتی ہیں۔

موبائل کال کچھ بتاتی ہے۔ سموگ کی روک تھام کے لیے سکولوں میں ہفتہ بھر کی تعطیلات کے بعد مزید ہر ہفتے میں تین دن کے لیے تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں گے۔ اب ہدایات رہیں ایک طرف خود سے بولے چلی جا رہی ہوں۔ شاباش اس ملک کے اہل اقتدار تعلیم پر کہ جنہوں نے تہیہ کر لیا ہے کہ اس قوم کی نئی نسل کو آرام طلب اور جاہل ہی رکھنا ہے۔ سموگ کے تدارک کا بس یہی ایک راستہ رہ گیا ہے۔ شہر پر آبادی کے بڑھاؤ کا پریشر ہے۔ اس کی فکر نہیں۔ مضافات سے روزگار کی تلاش میں آنے والے افراد کی شہر پر جیسے ایک یلغار سی ہے۔ اس کی کوئی منصوبہ بندی نہیں۔ بھٹوں کا کاروبار عروج پر ہے۔ چھوٹی موٹی فیکٹریاں رہائشی علاقوں کے اندر بڑے مزے سے کاروبار میں مست ہیں۔ بھتے چلتے ہیں اور قانون خاموش اور رکھوالے مست ہیں۔

چھٹیاں۔ بچوں کی موجیں۔ ماؤں کی موجیں بچوں سے بھی بڑھ کر۔ گھروں میں گیارہ سے پہلے اٹھنے کا رواج نہیں۔ گھر کے مردوں نے ناشتے دفتروں میں جاکر کرنے ہیں۔

کسی مہربان کا اصرار تھا۔ بچوں کے ایک تخلیقی مقابلے کے چند پرچے دیکھنے کو بھیج رہی ہوں۔ پلیز انہیں ذرا دیکھ لو۔ ایک بند ایک کھلی آنکھ سے انہیں پڑھ رہی تھی اور دکھ کے پاتال میں گرتی جاتی تھی۔ کم و بیش ایک بٹہ چار لاکھ مہینہ فیس دینے والے بچوں کا اپنی قومی زبان میں اظہاریہ، تخلیقی صلاحیت اور بہاؤ اگر کسی بچے میں تھا بھی تو پیش کش کا انداز بھونڈا، املا کی بے تحاشا غلطیاں، لکھائی کی بد صورتی۔ کاپی کے ڈیڑھ صفحے کی تحریر اور جگہ جگہ کاٹے ماٹے۔

بندہ اب خود سے کیا کہے گا یہی نا کہ جلنا کڑھنا چھوڑ۔ اپنی نبیڑ۔

اب بستر پر پڑے پڑے مراد راس کو سنتی ہوں۔ نہیں بھئی سرمائی تعطیلات کیسی؟ چلنے دو اب۔ بچوں کا بہت تعلیمی نقصان ہوا ہے کہ دفعتاً فضا میں ایک للکار سی گونجی۔

تعلیمی ادارے سرمائی تعطیلات کے لیے بند ہوں گے۔ ”لو میاں ان تکڑی والوں کے بولنے کی کسر باقی رہ گئی تھی۔ کوئی پوچھے“ ارے بیبا تم اپنی تو نبیھڑو۔ تمہارے تو اپنے کنداں کوٹھے فائلوں سے نکوں نک آئے پڑے ہیں۔ تمہیں پرائے چھابوں میں ہاتھ مارنے کی فرصت کہاں؟ لوگ روتے پھرتے ہیں اور انصاف کی دیوی کرلاتی ہے۔ مگر نہیں جی یہاں تو ہر کسی کو ادھر ادھر منہ ماری کا شوق ہے وہ کیوں پیچھے رہیں۔

کنٹونمنٹ پرائیویٹ اسکولوں کی بھی ایک ہاہا کار مچی ہوئی تھی۔ پوچھتی ہوں ان کا کیا بنا؟ ارے انہیں کوئی بتانے والا نہیں کہ جب چھاؤنی کی حدود کا پھیلاؤ نچلے، متوسط اور دیہاڑی داروں کی جھگیوں جھونپڑیوں تک پھیلا ہوا ہو گا تو ان کے بچوں کے لیے کچھ ماڑے موٹے، کچھ اچھے برے اسکول تو ہوں گے ہی۔ تعلیمی ادارے رہائشی جگہوں میں ہی ہوتے ہیں۔ مغرب کے ملکوں کو دیکھ لیں۔ انگلینڈ کی کاؤنٹیوں کا جائزہ لے لیں۔ ایک کاؤنٹی کے اسکول میں داخل بچہ دوسری کاؤنٹی میں نہیں جاسکتا۔ ہمارے ملک کا باوہ آدم ہی نرالا ہے۔

اب تکڑی والے بوٹوں والوں کے پیچھے پڑے ہیں تو پھر بوٹوں والوں کو اپنے بچاؤ کا خیال آ گیا ہے۔

آنکھوں کو رونے کی ممانعت ہے مگر کیا کروں۔ آنسوؤں کا دریا ہے جو امنڈ رہا ہے باہر نکلنے کو۔ انہیں روکتی ہوں۔

دیکھو تو کیسی بھانت بھانت کی بولیاں ہیں۔ ایسے موسم میں نکلنے کا کس نے مشورہ دیا تھا۔ ہائے میرے ملک کے تفریح کے لیے ترسے ہوئے بیچارے لوگ۔ کہاں جائیں۔ بسنت کو ان سے چھین لیا۔ پنجاب کے گدے ٹپے بھنگڑے بیساکھی میلے سب کچھ تو مذہبی جنونیوں اور کچھ قدرتی آفات کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔

آج پلٹ کر دیکھتی ہوں۔ ہماری نسل کا بچپن غریبی کے باوجود بڑا امیر تھا تو جوانی بھی بڑی رنگوں سے بھری ہوئی تھی۔ ہمارے بچوں کا بچپن بھی بہتر تھا۔ مگر ہماری تیسری پیڑھی یعنی بچوں کے بچے۔ بیچارے ترس گئے ہیں۔ گھروں میں، سکولوں میں سہمے ڈرے ہوئے نہ ان کے لیے کھیلوں کا کوئی انتظام اور نہ کھیل کے میدان۔

ہائے تفریح کے لیے نکلے تھے۔ موج میلہ کرنے کے لیے ہزارہا منصوبوں کے ساتھ گھروں سے چلے تھے۔ صدقے جاؤں بچوں نے سنو فالنگ دیکھنے کے لیے ضد کی ہوگی۔

ماشاء اللہ سے فواد چودھری بھی بڑی خوشی سے اعلان کر رہے تھے کہ مری میں ایک لاکھ باسٹھ ہزار گاڑیاں داخل ہو گئی ہیں۔ الحمدللہ سیاحت کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ اف بندہ کیا کہے؟ انتظامیہ کا تو کوئی فرض ہی نہیں۔ سیاحت کے فروغ کی دعوے دار حکومت کی ذمہ داریاں کوئی انھیں بتلائے کہ ہم بتلائے کیا۔

موسم کی شدت، مری کی تنگ دامنی اور خصوصی انتظامات یہ سب کن کی ذمہ داری تھی۔
میرے پیارو میں کتنے بین ڈالوں۔
٭٭٭

Facebook Comments HS