نظم و ضبط اور ہماری زندگی
ہماری زندگی میں ہم آہنگی، معاملات کی درست ترتیب اور شخصیت کو جوابدہی اور احترام کا مظاہرہ کرنا سکھانے والی اہم چیز نظم و ضبط ہے بچپن ہی مناسب رہنمائی اور نظم و ضبط ضروری ہے جس سے خود اعتمادی حاصل ہوتی ہے یہ نہ رکنے والی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
نظم و ضبط کی مشق انسان کے دل و دماغ کی نشو و نما کے لیے معاون ہے یہ نشوونما دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہے اندرونی اور بیرونی
اندرونی مستقل مزاجی، صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہے۔
بیرونی ضابطہ عام توقعات جیسے پر مرکوز ہوتا ہے جیسے قانون کا نفاذ بہترین صلاحیتوں کا ہونا کافی نہیں ہے کیونکہ ان کو استعمال کر نے کے لیے بھی ہمیں نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ نظم و ضبط با اعتبار معنی قاعدہ، تنظیم اور مشق کے ہیں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے ہماری زندگی میں قاعدگی آجاتی ہے جو کہ بہت ضروری بھی ہے۔
مثال کے طور پر ضبط نفس زبان کی شائستگی کو کنٹرول یا ضبط میں رکھنا ہے اس سے مراد ہم یہ بھی لیتے ہیں کہ معاشرہ کا ہر فرد اپنے منظم طرزعمل کی حالت میں دوسروں اور اپنے لیے باعث نفع ہو کیونکہ یہ خود پر قابو پانے اور سوچ اور عمل کے سماجی طور پر منظور شدہ معیارات کی اطاعت کی عادات کے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں یعنی وہ صحیح طرزعمل کی اچھی سمجھ رکھ سکتے ہیں نظم و ضبط ہی کہ ذریعے ہم اپنے معیارات کی پاسداری جائز اور ضروری بنا سکتے ہیں کی، اسی سے ہم اپنے رویے کو اس قدر مضبوط اور مربوط بنا سکتے ہیں کہ ہماری سوچ انفرادی مفادات کو گروہی، سماجی اور معاشرتی مفادات کے تابع کرنا شامل ہے اسی وجہ سے نظم و ضبط ایک مثبت معاشرے کے لئے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے
اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کسی بھی خطہ زمین پر جب بھی بے ضابطگیاں مقررہ حد سے بڑھ جاتی ہیں تو اسے کوئی نہ کوئی بیرونی طاقت اسے اپنی یلغار کا شکار کرلی جاتی ہے اور نتائج سنگین تر ہوتی چلی جاتی ہے
نظم و ضبط کی ابتدا ہمارے گھر میں ہماری تربیت کے دوران ہی ہو جاتی ہے اور ہونی بھی چاہیے جس گھر میں نظم و ضبط ہو گا اس کے ہر معاملات آپ کو سلجھے ہوئے اور بر وقت نظر آئیں گے چاہے وہ گھر داری کے ہوں، بچوں کی تربیت کے ہوں، یا شخصیت سازی کے ہی کیوں نہ ہو۔
ہم اکثر اپنے بچوں میں نظم و ضبط کی کمی کی شکایات کرتے نظر آتے ہیں لیکن ہم اپنے اندر اپنی شخصیت اسے ڈالنے کی کوشش ہی نہیں کرتے نتیجتاً ہمارا ہر عمل ہمارے تمام افعال اسی کے بر خؒلاف ہوتے جا رہے ہوتے ہیں اور ہمارے بچے اس سارے عمل میں براہ راست گواہ اور کہیں کہیں شکار بی ہو رہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بے ہنگم طرز زندگی، جھوٹ، فریب، بد دیانتی اور بناوٹ ان کی شخصیت کا حصہ بنتی چلی جاتی ہے اور نظم و ضبط کی چونکہ ہم نے تربیت ہی نہیں دی ہوتی تو ہمیں کسی سطح پر نظر ہی نہیں آتا ایک نامکمل اور بے ہنگم طرز زندگی دے کر ہم یہ بہانہ بخوبی بناتے ہیں کہ وقت کی کمی نے ہمیں صحیح تربیت نہ کرنے دی حالانکہ یہ قطعاً غلط رویہ ہے جو ہم سب اختیار کر رہے ہیں۔
اب بات کرتے ہیں کچھ پیشہ ورانہ زندگی کے معاملات کی تو اس میں بھی ہم نے باقی تمام لوازمات جو کہ غیر ضروری بھی ہیں جمع کر رکھے ہیں اور جو ضروری ہیں کامیاب اور منظم زندگی کے لئے وہ سب ہم نے کہیں پیچھے چھوڑ دیے ہیں نہ ہی گھر سے صحیح وقت پر نکل پاتے ہیں نہ ہی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر پاتے ہیں اور نہ ہی اپنے خاندان، دوست، احباب اور معاشرے کو وہ سب دے پاتے ہیں جو ہم دینا چاہتے ہیں۔ نظم و ضبط کی کمی کسی بھی غلط ردعمل کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ یہ نظم و ضبط ہی ہے جو کہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ اچھی ذہنیت کیسے تیار کی جائے اور دوسروں کی شخصیت کا تجزیہ کرنے اور جانچنے کی صلاحیت میں مدد ملتی ہے اور ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہمیں کس وقت اور کیا کرنا ضروری ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ صحیح رویہ اپنانا ایک بہت اہم قابلیت ہے جسے ہمیں معاشرے میں زندہ رہنے کے لئے تیار کرنا چاہیے اور یہ ہمیں نظم و ضبط پر عمل کرنے ہی سے حاصل ہوتی ہے۔
ہم اکثر و بیشتر سنتے رہتے ہیں کہ ہمارے جدید معاشرے میں افراد میں بے چینی اور ڈپریشن جیسے ذہنی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں یہ بھی زندگیوں میں نظم و ضبط کا فقدان کی وجہ سے ہیں۔
کسی بھی معاشرے میں امن وامان کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور امن وامان کے بغیر معاشرہ جنگل تصور کیا جاتا ہے یہ کسی بھی معاشرے کے زندہ و تابندہ رہنے کی بنیاد ہوتا ہے اور یہ بھی بغیر نظم و ضبط کے ممکن ہی نہیں۔
جب ہم جانتے ہیں کہ نظم و ضبط ہی ہمارے خیالات اور اہداف کو ہم آہنگ کر کے ہمارے جذبات اور سوچ پر قابو پانے میں ہمیں کامیاب کر سکتا ہے تو ہمیں اسے اپنی زندگی کا معمول بنا لینا چاہیے کیونکہ نظم و ضبط کے حامل افراد نہ صرف خود کو ایک نعمت دے رہے ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کو ناکامی کی زندگی سے دور رہنے میں مدد بھی کر رہے ہوتے ہیں یہ افراد کسی بھی معاشرے میں اثاثہ
تصور کیے جاتے ہیں اور تصور کیا جانا ان کا حق بھی ہے۔


