نمک مت چھڑکیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں یہ بات بھلا کیسے بھول سکتا ہوں؟ یہ غالباً آٹھ جولائی دو ہزار انیس ( 08۔ 07۔ 2019 ) کا دن تھا۔ کچھ لوگ چترال میں گھومنے پھرنے گئے ہوئے تھے۔ اچانک موسم خراب ہو گیا۔ وہاں ایک عورت بھی پھنس گئی۔ وہ کوئی عام عورت نہیں تھی، فوری طور پر ایک ہیلی کاپٹر روانہ کر دیا گیا۔ خاتون کو کامیابی سے ریسکیو کر لیا گیا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ عورت کون تھی؟ اس عورت کا نام علیمہ خان تھا، وہی علیمہ خان جن کے بھائی کا نام عمران خان ہے اور سنا ہے کہ وہ آج کل پاکستان کے وزیراعظم ”لگے“ ہوئے ہیں۔

گوگل کریں یا کوئی نقشہ اٹھا لیں اور دیکھیں کہ اسلام آباد اور چترال کا فاصلہ کتنا ہے؟ یہی عمل دوبارہ کریں لیکن اب آپ نے یہ دیکھنا ہے کہ اسلام اور مری کا فاصلہ کتنا ہے؟ جو ہیلی کاپٹر اتنی دور تلک جا سکتا ہے وہ مری تک کیوں نہیں پہنچ پایا؟ ہو سکتا ہے کہ وہ ہیلی کاپٹر پشاور سے ہی اڑا ہو۔ اگر ایک ہیلی کاپٹر پشاور سے ایک خاتون کو بچانے کے لیے اڑایا جا سکتا ہے تو ہزاروں لوگوں کو بچانے کے لیے اسلام آباد سے ہیلی کاپٹر کیوں نہیں اڑایا جا سکا؟

حالانکہ اسلام آباد میں وزیراعظم کا ہیلی کاپٹر دستیاب بھی ہے۔ خراب بھی نہیں بلکہ مکمل ”چالو“ ہے۔ روزانہ بنی گالا سے وزیراعظم ہاؤس تک آتا جاتا ہے۔ کرایہ بھی بہت سستا ہے۔ بقول حکومت ؛ چالیس پچاس روپے فی کلومیٹر خرچا آتا ہے۔ چیختے چلاتے، کانپتے ٹھٹھرتے اور تڑپتے لوگوں کا قصور کیا تھا؟ یہی کہ ان میں کسی خاتون کا بھائی وزیراعظم نہیں تھا؟ آپ کے محل کی دیواریں اونچی تھیں، چیخنے والوں کے گلے کمزور تھے یا ان جسموں میں بہتا ہوا خون شاہی نہیں تھا؟

مجھے وہ دن بھی نہیں بھولا، شہباز شریف کی حکومت تھی، لاہور میں بارش ہوئی، مال روڈ پر ایک گڑھا بن گیا، ایک نیک دل انسان برستی بارش میں باہر نکل آیا، وہاں پہنچا اور دنیا کو بتایا کہ جب حکمران کرپٹ اور نا اہل ہوتے ہیں تو اسی طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں، آج وہی نیک دل انسان وزیراعظم ہے اور اس کے محل کے نیچے تین دن لوگ تڑپتے رہے، پھول جیسے بچے کملا گئے، گھروں کے گھر تباہ ہو گئے لیکن موصوف کی آنکھ تک نہ کھلی، تین دن بعد صرف اتنا لکھا شاکڈ (Shocked) ، جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے کہ بس اتنا ہی لکھا جاتا ہے، مجھے یاد آیا کسی نے کہا تھا : میرا دادا اتنا بڑا دانشور ہے کہ اس نے صرف گھوڑے کے چلنے کی آواز پر تین سو صفحات کی کتاب لکھ دی ہے۔ کسی نے متاثر ہو کر وہ کتاب خریدی، گھر آ کر کھولی تو پہلے صفحے پر لکھا تھا : گھوڑا جب دوڑتا ہے تو آواز آتی ہے ٹک ٹک ٹکا ٹک، ٹک ٹک ٹکا ٹک۔ اور اگلے دو سو ننانوے صفحے اسی ”ٹکا ٹک“ سے بھرے ہوئے تھے۔ میرے کپتان کے جیسے حکومت بھی کسی نے نہیں کی، جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو رسپانس ہوتا ہے ”شاکڈ“ ۔

کس کس بات کا ماتم کیا جائے؟ سانحہ ہزارہ ہوا، لواحقین میتیں رکھ کر بیٹھے تو اشک سوئی کرنے کی بجائے کہا گیا :یہ بلیک میلر ہیں، شاکڈ۔ سانحہ ساہیوال ہوا تو غم بانٹنے کی بجائے بتایا گیا: مشکوک لوگ تھے، شاکڈ۔ ٹرین حادثہ ہوا تو تمام تر حکمت عملی یہ تھی کہ ڈرائیور ذمہ دار تھا، شاکڈ۔ جہاز حادثہ ہوا تو سمجھایا گیا : پائلٹ کے ذہن میں کرونا چھایا ہوا تھا، شاکڈ۔ سیلاب تباہی مچائے تو ذمہ دار بارشیں، شاکڈ۔ سیالکوٹ موٹروے پر بنت حوا لٹتی رہی لیکن ہمیں بتایا گیا : اس نے غلط راستے کا انتخاب ہی کیوں کیا؟ شاکڈ۔ مری میں اتنے لوگ جاں سے گزر گئے تو کہا گیا : گئے ہی کیوں؟ شاکڈ۔ ، حضور! آپ ان شاکس سے باہر نکلیں، جس کشتی کا ملاح ہی شاکڈ ہو جائے وہ ناخدا نہیں رہتا بلکہ بوجھ بن جاتا ہے۔

ان حالات میں میرا سائیں کیوں پیچھے رہتا؟ اگر ایک طرف سے ”شاکڈ“ جیسا تیسرا پھینکا گیا تھا تو دوسری طرف سے وسیم اکرم پلس نے ساری وکٹیں ہی ایک بال میں گرا دی، آرام سے تنظیمی ملاقاتیں ہوتی رہی، لوگ پریشان تھے کہ صوبے میں قیامت برپا ہے مگر وزیراعلیٰ غائب۔ کم ازکم ”شوباز“ شریف کی طرح بوٹ پہنے باہر نکل آتا تو انتظامی مشینری بھی الرٹ ہو جاتی اور عوام کی بھی ڈھارس بندھ جاتی۔ ان گنت سوال اور پہاڑ جیسی مشکلات لیکن میرے سائیں نے صرف ایک کام کیا اور پوری دنیا کے منیجمنٹ سسٹم کو حیران کر دیا۔ کام کیا تھا بس اتنا سا حکم نامہ تھا : مری آفت زدہ جگہ ہے۔ اس دریافت سے پہلے حکومت کرنا کبھی اتنا سہل نہ ہوا تھا۔

میری گزارش ہے کہ آئندہ جب بھی کوئی مشکل ہو، بجلی نہ ہو، گیس نہ ہو، مہنگائی ہو، کوئی بھوکا ہو، کسی کے پاس بل دینے کے پیسے نہ ہوں، کوئی غربت کا مارا اپنے معصوم بچوں کو مار کر خودکشی کر لے، آسمان گرے یا زمین پھٹے، شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بس اتنا کہہ دینا: آفت زدہ۔ عوام خود ہی سمجھ جائے گی اور آپ کا اب تک کا رویہ بھی یہی ہے۔ لیکن ہاں! اتنا رحم کرنا کہ جب کسی کے پیارے زلزلے میں منوں ملبے تلے دبے ہوں یا مری میں کسی کی لاش برف سے اکڑ رہی ہو تو پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسکرانا مت۔ زخم لگانا اور لکھ دینا: آفت زدہ۔ اتنا کافی ہے نمک مت چھڑکنا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments