پہاڑی سلسلے چاروں طرف اور بیچ میں ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ائر پورٹ ٹکنالوجی ڈاٹ کام (Airport۔ technology۔ com) نے سطح سمندر سے بلند ترین دنیا کے دس ائر پورٹز میں سے پہلے نمبر پر جس ائرپورٹ کو رکھا ہے وہ چین کے سائی چوان (Sichuan) صوبہ میں واقع ڈؤو چن یاڈنگ (Daocheng Yading Airport) ائرپورٹ ہے۔ سطح سمندر سے یہ تقریباً ( 4411 m) چار ہزار چارسو گیارہ میٹرز جو کہ ( 14,472 ft) چودہ ہزار چارسو بہتر فٹز بنتا ہے، دنیا کا بلند ترین سویلین (civilian) ائرپورٹ ہے۔ اس اونچائی پر ائر پورٹ تعمیر کرنا واقعہ کے اعتبار سے انسان کا کمال ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کی اعلی قدرت اور تخلیق کا کمال ہے کہ اس بلندی پر انسانوں کی آسانی کے لیے زمین کو ایسا ہموار اور قرار گاہ بنایا کہ انسان اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور یہاں سے اپنی اڑان لیں۔ قرآن کی زبان میں : کون ہے جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا (النمل : 61 ) ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے تخلیقی پلان کا حصہ ہے کہ اس نے انسانوں کے لیے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب مسخر کیا۔ اب گلگت بلتستان کی طرف دیکھئے۔

سکردو انٹر نیشنل ائر پورٹ، جو کہ گلگت بلتستان میں واقع ہے سطح سمندر سے ( 2230 m) دو ہزار دو سو تیس میٹرز ( 7316 ft) بلندی پر ہے۔ اس طرح یہ بھی دنیا کے اونچے ائر پورٹ میں شامل ہوتا ہے۔ 2 دسمبر 2021 ء کو اس ائرپورٹ کو آفیشلی انٹرنیشنل ائرپورٹ کا درجہ دیا گیا ہے۔ ڈان اخبار کے مطابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بروز جمعرات، 17 دسمبر کو اس کا افتتاح کیا۔ اور سکردو پولو گراؤنڈ میں خطاب بھی کیا، جس میں ان کا یہ کہنا خاص ہے، کہ سہولت سے آراستہ بلندی پر واقع انٹر نیشنل ائر پورٹ کا درجہ پانے پر مقامی لوگوں کے لیے یہ بے شمار و ان گنت تبدیلیاں لے آئے گا :

The prime minister said the facility ’s elevation to an international airport would bring untold changes for the locals. (Dawn, December 17, 2021,p.8)

انھوں نے سوئٹزرلینڈ کی سیاحت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک اب سیاحت سے ($ 70 billion) ستر بلین سالانہ کے بنیاد پر انکم حاصل کر رہا ہے چنانچہ گلگت بلتستان کی سیاحت سے ($ 30۔ $ 40 billion) تیس سے چالیس بلین سالانہ قومی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ یہ ائر پورٹ معاشی اعتبار سے گلگت بلتستان کی روشن مستقبل میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں سؤال یہ ہے کہ کیا فقط معاشی تبدیلی وقوع پذیر ہو گی یا کہ دیگر تبدیلیاں بھی آئیں گی۔

غیر ملکی سیاح اپنا رہن سہن، اپنی معاشرت، اپنا مذہب و دین اور بھی بہت سی چیزیں یہاں لے کے وارد ہو گا، سب سے بڑھ کر وہ جدید دنیا کی نظریات سے وابستہ ہو کر بھی یہاں آ سکتا ہے۔ سب سے اہم چیلنج جو یہاں متوقع ہے وہ تہذیبی و ثقافتی اور نظریاتی سطح پر پیش آئے گی۔ و زیر اعظم عمران خان کا یہ کہنا عین درست ہے کہ اب یہاں بے تحاشا اور لا تعداد (untold) تبدل و تغیر کا واقعہ رونما ہونے والا ہے۔ میرے خیال میں جو اہم اور اصولی (principle) تبدیلی ہو گی وہ ذہنی و فکری سطح پر رونما ہو گی، ترقیاتی اور معاشی تبدیلیاں اضافی (relative) نوعیت کی حامل ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے جو دوسری اہم بات اپنی خطاب میں کہی وہ گلگت بلتستان کے خوب صورت اور بلند و بالا پہاڑوں اور ٹنوں برف سے ڈھکی ہوئی پرخطر جبال اور گلیشیرز سے متعلق تھا۔ انھوں نے گلگت بلتستان کو (most beautiful mountain scenery in the world) دنیا کا خوب صورت ترین پہاڑی نظارہ والا ملک قرار دیا۔

اقوام متحدہ جہاں دنیا بھر کے مندوبین کی شرکت ہے اور جیسے ایک عالمی دماغ (global mind) بھی کہا جا سکتا ہے، موجودہ دنیا کو در پیش مسائل کا حل دینے کی کوشش کر رہا ہے، اس میں یہ عالمی ادارہ کتنا کامیاب رہا ہے یا ناکام، وہ تو سب کے سامنے عیاں ہے۔ دنیا میں بدلتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے قدرت کی عطا کردہ کائناتی نعمتوں کی حفاظت اور آگاہی کے حوالہ سے اقوام متحدہ ہر سال مختلف ایام کو مختلف ناموں سے مناتی ہیں۔

ان میں سے ایک بین الاقوامی پہاڑی دن ہے جسے ہر سال 11 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ سال 2021 میں اس انٹرنیشنل ماؤنٹین ڈے (IMD) کو جس عنوان کے ساتھ منایا گیا، وہ پائیدار پہاڑی سیاحت (sustainable mountain tourism) تھا۔ عالمی سیاحت میں سے پندرہ سے بیس ( 20 / 15 ) فیصد کا تعلق پہاڑی سیاحت پر مبنی ہے۔ دنیا کی آبادی میں سے پندرہ فیصد وہ لوگ ہیں جو پہاڑوں میں یا اس کے قریب نشیبی علاقوں میں زندگی گزارتے ہیں اور دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کو تازہ پانی ان پہاڑوں سے ملتا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک پہاڑی سیاحت سے اپنی قومی آمدنی بڑھاتی ہیں اور معاشی استحکام میں آنے جانے کی تگ و دو کرتی ہیں۔ لیکن تفکر و تعقل کریں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ہر حوالہ سے پہاڑ اور گلیشیرز معرفت الٰہی کے لیے اصل (principle) کا درجہ رکھتی ہیں اور اس سے متعلق فوائد اضافی (relative) اور ضمنی (by product) حیثیت کی حامل ہیں۔

یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان ہر سمت سے پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ یہاں دنیا کے تین بڑے پہاڑی سلسلے آ ملتے ہیں، جسے دنیا کوہ قراقرم، کوہ ہندوکش اور کوہ ہمالیہ کے نام سے جانتی ہے۔ یہ سنگم (junction point) جگلوٹ میں دکھائی دیتا ہے، جو گلگت سے 40 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ اس نقطہ پر پہاڑی سلسلوں کا ملنا محض ایک اتفاقی واقعہ ہے یا یہ ثابت کرتا ہے کہ کائنات میں ایک اعلی ریاضیاتی ذہن کار فرما ہے۔

قراقرم پہاڑی سلسلہ تبت مشرق سے ہوتے ہوئے مغرب میں ہندوکش تک پھیلا ہوا ہے۔ اس پہاڑی سلسلے کی لمبائی 500 کلومیٹر اور چوڑائی 240 کلومیٹر ہے۔ ورلڈ اٹلاس ڈاٹ کام (worldatlas۔ com) کے مطابق قراقرم رینج کے چار پہاڑوں کی بلندی ( 8000 m ) آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ ہے اور اٹھارہ چوٹیوں کی اونچائی ( 7500 m) سات ہزار پانسو میٹر ہے۔ کے ٹو ( 8611 m) جو دنیا کی دوسری بلند ترین پہاڑ ہے اس سلسلہ پہاڑی میں شامل ہے۔ اس پہاڑی رینج میں بہت شدت سے برف باری ہوتی ہے اور اٹھارہ ( 18 ) گلیشیرز ایسے ہیں جن کی لمبائی 7 سے 72 کلومیٹرز ہے، سب سے بلند ترین گلیشئر سیاچن ہے جس کی لمبائی 76 کلو میٹرز ہے جو کہ قراقرم پہاڑی سلسلہ کا عنصر ہے۔

اسی طرح ہندوکش جو قراقرم پہاڑی سلسلہ کا تسلسل ہے پچھم (westward) میں افغانستان تک پھیلا ہوا ہے۔ اس سلسلہ کا سب سے اونچا پہاڑ ترچ میر (Tirich Mir) ہے جس کی لمبائی ( 7708 m) سات ہزار سات سو آٹھ میٹرز ہے۔ کوہ ہمالیہ کا سلسلہ مشرق میں ریاست آسام، انڈیا سے ہوتے ہوئے شمال مشرق میں چین کے علاقے تبت سے ہو کر مغرب میں پاکستان تک چلتا ہے، اس رینج میں دنیا کا سب سے بلند و بالا پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ ( 8848 m) ہے جو کہ نیپال اور تبت کے درمیان میں واقع ہے۔

سیاح کی کثیر تعداد یہاں ان پہاڑوں پر سیاحت کے لیے آتے ہیں۔ جن میں سے کئی محض شوق کی بنا پر آتے ہیں، کئی اپنی ذہنی اور طبعی تسکین کے لیے ان پہاڑوں پر چڑھتے ہیں، بہت سے ماؤنٹینرز شہرت کے حصول کے لیے ان اونچائیوں پر سفر باندھتے ہیں۔ کئی پہاڑوں پر کی جانے والی تحقیقات کے سلسلے میں ان پرخطر راستوں سے گزرتے ہیں۔ بہت سے مقامی باشندے سلسلہ روزگار کے حوالہ سے پورٹر (porter) کی حیثیت سے محو سفر ہوتے ہیں۔ جس کے پاس استطاعت ہو، اپنے مزاج اور ضرورت کے حساب ان پہاڑیوں پر سفر کرتے ہیں اور محظوظ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مطابق کچھ ماؤنٹینرز پہاڑوں کی پیک (peak) سر کر کے فقط فتح مندی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ یہ ان کے لیے روحانی و جسمانی تسکین کا ذریعہ بھی ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر سربفلک پہاڑوں کی ان چوٹیوں پر انہیں (contact with natural grandeur) قدرتی عظمت و شرافت اور بلندی سے ملاقات کا موقع بھی ملتا ہے۔ پہاڑ جو برف اور سلج کی چادریں اوڑھی ہوئی ہیں ان پر سفر کے لیے خاصی سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

زیادہ تر سیاح کو حکومت کی مالی سر پرستی کی وجہ سے ان تیز دھار اور اونچے پہاڑوں پر سفر کرنا آسان رہتا ہے۔ لیکن آج کل این جی اوز اور امیر و نجیب لوگ اپنے ذاتی خرچے پر بھی یہاں کا رخ کثرت سے کر رہے ہیں۔ آج کے زمانہ میں پہاڑوں پر چڑھنا باقاعدہ ایک علم کے شعبہ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے جسے mountaineering کہا جاتا ہے۔ سکردو ائرپورٹ کو انٹرنیشنل ائرپورٹ کا درجہ دینے پر اب سیاح یہاں مزید اضافے کی صورت میں آئیں گے۔

گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کی عطا کردہ لاتعداد اقسام کے معدنیات کا خزانہ موجود ہے۔ منسٹری آف پلیننگ ڈویلپمنٹ اینڈ رفارم، حکومت پاکستان نے کلسٹر سٹڈی ( cluster study) کے نام سے جولائی 2019 میں ایک سروے کیا ہے، جس میں قیمتی پتھر (gemstone and mining) اور ان کی کان کنی کے حوالہ سے مفصل ریسرچ اور ان کی امکانیت (feasibility) پر تفصیلی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس سروے کے مطابق گلگت بلتستان میں نایاب قسم کے پتھر پائے جاتے ہیں۔ جیسے زمرد (emerald) ، بیروج (acquamarine) ، ترمری (torurmaline) ، زبرجد (peridot) ، پکھراج، یاقوت (topaz) ، نیلم (sapphire) ، یورینیم (uranium) ، چاندی سا سفید دھاتی عنصر (molybdenum) وغیرہ۔

یہ نایاب اور نادر پتھر اتنی پرفیکٹ اور مختلف انداز رنگ میں ان پہاڑوں میں سمانا ساری جہاں میں سے کسی کا کمال نہیں اور نہ ہی یہ کسی صاحب عقل و فراست والے مخلوق کا انتخاب ہے اور یہ کہ ہر پتھر اپنی خصوصیت اور استعمال کے اعتبار سے ایک دوسرے سے فرق رکھتا ہے۔ کیا یہ سارے مختلف النوع حجر و سنگ ایسے ہی عبث و فالتو پیدا کیے گئے ہیں یا کہ ان سے کسی اعلی ہستی کی معرفت کا دروازہ کھلتا ہے۔ یہاں انساں کی حالت بے بسی کے سوا کچھ نہیں، کرنے کا کام یہ ہے کہ انساں اس عظیم ہستی کی پہچان اور معرفت پانے کی کوشش کرے جس نے ان پہاڑوں اور پتھروں میں بھی انسانوں کی ضرورت کے ساز و سامان وافر مقدار میں فراہم کیے ہیں۔

یہ ساری معلومات تو انسانوں کے جاننے سے پہلے ہی کتاب مبین میں واضح انداز سے درج ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں : یعنی تیرے رب سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز غائب نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسماں میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں ہے (یونس: 61 ) ۔ ان پہاڑی سلسلوں کو منظم انداز میں، مختلف فوائد سمیت زمین پر قائم رکھنا کسی اعلی و برتر ہستی کی اور اس کی اعلی ذہانت کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ ساری کائنات کا یہی حال ہے۔

زمین پر پرامن تہذیب کا وجود صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب سارے انسان اللہ کی یاد میں جینے لگیں، اور خدا کی یاد میں جینا اسی وقت ممکن ہے جب کائنات اور اس میں موجود آیات پر غور و فکر کر کے قلب و عقل کے بند دروازے کھولے جائیں۔ جس طرح نظر آنے والی کائنات اور اس سے باہر موجود عظیم الشان کہکشائیں (galaxies) اللہ تعالی کی شان اور بڑھائی بیاں کرتی ہیں اور انسانوں کی عاجزی کو ثابت کرتی ہیں، اسی طرح زمین پر موجود تمام پہاڑ انسانوں کو واضح انداز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور عظمت کا نظارہ کراتی ہیں۔ اس لیے انسان صرف اسی معنوں میں گوہر نایاب ٹھہریں گے جب سنگ و حجر سے بھی خدا کی معرفت ملنے لگے۔ تب کہیں معروف شاعر حشمت کمال الہامی ؒ کی کہی ہوئی یہ بات سچ ثابت ہو گی۔

پہاڑی سلسلے چاروں طرف ہیں اور بیچ میں ہم ہیں
مثال گوہر نایاب ہم پتھر میں رہتے ہیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

نجم الدین ہمدانی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments