قومی سلامتی پالیسی 2022-26 کا اجرا: ’آئی ایم ایف کے پاس جانے سے ملکی سلامتی متاثر ہوتی ہے‘، عمران خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے جمعے کو قومی سلامتی پالیسی کا اجرا کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس قرض مانگنے جانے سے ملکی سلامتی متاثر ہوتی ہے۔

جمعے کو وزیر اعظم ہاؤس میں قومی سلامتی پالیسی کے عوامی حصے کے اجرا کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اگر ہر کچھ عرصے بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی معاشی پالیسی درست نہیں ہے اور اس سے آپ کی سکیورٹی متاثر ہو گی کیونکہ ہمارے پاس کبھی بھی مشترکہ نیشنل سیکیورٹی کا تصور نہیں رہا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مجبوری میں آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں اور قرض لینے کے لیے اس کی کڑی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور جب شرائط مانتے ہیں تو کہیں نہ کہیں قومی سلامتی متاثر ہوتی ہے جو لازمی نہیں کہ سکیورٹی فورسز سے متعلق ہو، بلکہ اس کا مطلب یہ کہ آپ کو اپنی عوام پر بوجھ ڈالنا پڑتا ہے اور سب سے بڑی سیکیورٹی یہ ہوتی ہے کہ عوام آپ کے ساتھ کھڑی ہو۔‘

واضح رہے کہ 27 دسمبر کو قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) نے اس پالیسی کی منظوری دی تھی جس کے بعد 28 دسمبر کو وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری دے دی تھی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ملک کی ’پہلی قومی سلامتی پالیسی‘ ہے۔

نئی قومی سلامتی پالیسی میں کیا ہے؟

وفاقی حکومت کی جانب سے تیار کردہ نئی قومی سلامتی پالیسی 2022-2026 کا محور عام شہری کا تحفظ ہے اور معاشی سکیورٹی ہے۔

نئی قومی سلامتی پالیسی کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ عوامی سطح پر جاری کر دیا گیا ہے جبکہ دوسرے حصے کو کلاسیفائیڈ قرار دیا گیا ہے جس میں ملک کی داخلی و خارجی سکیورٹی سے متعلق اہم ریاستی معاملات شامل ہیں۔

پالیسی کے عوامی حصہ کح دستاویز کے مطابق اس میں قومی سلامتی کے فریم ورک پر بات کی گئی ہے جس میں قومی سلامتی کی ضرورت اور اس کے نظریے کو واضح کیا گیا ہے۔

اس کے چیدہ چیدہ نکات میں قومی مفاہمت کے قیام، ملک کے معاشی مستقبل کے تحفظ، دفاع اور سرحدی سالمیت، داخلی سکیورٹی اور بدلتی دنیا میں ملک کی خارجی پالیسی اور شہریوں کے تحفظ کی بات کی گئی ہے۔

قومی سلامتی پالیسی کی دستاویز کے مطابق اس میں پاکستانی معاشرے میں معاشی تفریق اور غریب اور امیر کے درمیان بڑھتے فرق سے معاشی عدم استحکام کے باعث درپیش خطرات، ملک کو درپیش موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت جیسے مسائل کے باعث درپیش مشکلات، موجودہ صورتحال، حکومتی لائحہ عمل اور مستقبل کے ممکنہ حل کے متعلق سفارشات مرتب کی گئی ہیں۔

قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے پالیسی کے اجرا کے موقعے پر قومی سلامتی پالیسی کے حوالے سے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی ہماری سلامتی پر اثر انداز ہونے والے روایتی اور غیر روایتی مسائل کے وسیع تناظر میں تشکیل دی گئی ہے۔

’قومی سلامتی پالیسی میں معاشی سلامتی، جیوسٹریٹجک اور جیو پولیٹیکل پہلوؤں کا (احاطہ کیا گیا ہے) جس میں پاکستان کی سلامتی کا استحکام اور دنیا میں مقام حاصل کرنا نمایاں خصوصیات ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس دستاویز کو مکمل سول ملٹری اتفاق رائے کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

قومی سلامتی پالیسی 26-2022: کیا یہ واقعی پہلی قومی سلامتی پالیسی ہے؟

قومی سلامتی سے متعلق خبر: ’ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی‘

’ماضی میں نیشنل ایکشن پلان پر زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی‘

قومی سلامتی کی خبر:’وفاقی وزیر اطلاعات سے عہدہ واپس‘

عمران خان نے مزید کیا کہا؟

اس موقع پر ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں معیشت کے حوالے سے کبھی یہ نہیں سوچا گیا کہ ہمیں اپنے آپ کو کس طرح محفوظ بنانا ہے۔ ’ہماری شرح نمو بڑھتی تھی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھ جاتا تھا جس سے روپے کی قدر پر دباؤ پڑتا تھا اور آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا تھا۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ جب بھی آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں مجبوری میں جاتے ہیں کیونکہ آخری حل کے طور پر صرف آئی ایم ایف ہی سب سے سستا قرض دیتا ہے۔

وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ قومی سلامتی پالیسی 2022-2026 کا محور حکومت کے اس نظریہ پر ہے کہ ملکی سلامتی کا انحصار شہریوں کی سلامتی میں مضمر ہے، کسی بھی قومی سلامتی پالیسی میں قومی ہم آہنگی اور لوگوں کی خوشحالی کو شامل کیا جانا چاہیے، جبکہ بلاامتیاز بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کی ضمانت ہونی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی کے بہت سے پہلو ہیں، اگر ایک ہی پہلو پر توجہ دی جائے تو ہمارے پاس سوویت یونین کی مثال ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور فورسز بھی سوویت یونین کو متحد نہ رکھ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ ہماری حکومت، عوام ایک سمت میں چلیں، اگر معیشت درست نہیں ہو تو آپ اپنے آپ کو طویل عرصے تک محفوظ نہیں رکھ سکتے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی مرتب کردہ نئی قومی سلامتی پالیسی میں جامع نمو کا تصور دیا گیا ہے یعنی جب تک ہم بحیثیت قوم ترقی نہیں کریں گے اور صرف ایک طبقہ ترقی کر جائے تو وہ قوم ہمیشہ غیر محفوظ رہے گی۔

وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہماری خارجہ پالیسی کا بڑا مقصد خطے اور خطے سے باہر امن و استحکام رہے گا، ہماری خارجہ پالیسی میں جاری معاشی خارجہ پالیسی پر مزید توجہ مرکوز کی جائے گی۔‘

نواز شریف کے دور میں بننے والی سلامتی پالیسی

یاد رہے کہ اس سے قبل سنہ 2014 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں بھی ایک قومی سلامتی پالیسی اور قومی ایکشن پلان تیار کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد ملک کی سکیورٹی صورتحال پر قابو پانا تھا۔

2014 میں قومی داخلہ سلامتی پالیسی ایک ایسے وقت تشکیل دی گئی تھی جب حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے اور پاکستانی فوج نے ٹی ٹی پی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

فروری 2014 میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے پالیسی کی منظوری دی۔ یہ تفصیلی پالیسی 84 صفحات پر مشتمل تھی اور اس میں قومی سلامتی کے اہم امور کا جائزہ لیا گیا تھا اور مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ان کے حل سے متعلق اقدامات واضح کیے گئے تھے۔

راحیل شریف اور نواز شریف

پالیسی میں یہ بھی کہا گیا تھا مسائل کے حل کے لیے فوجی آپریشنز کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کو فوقیت دی جائے گی جبکہ شدت پسند گروہوں سے منسلک وہ شہری جو بھٹک گئے تھے، ان کے لیے اصلاحی مراکز قائم کیے جائیں گے اور انھیں قومی دھارے کا حصہ بنایا جائے گا۔

سنہ 2014 میں بنی داخلی سلامتی کی قومی پالیسی میں بھی کہا گیا تھا کہ اس پالیسی کا مقصد ’ایک ایسا محفوظ ماحول قائم کرنا ہے جس میں شہریوں کی جان، مال، سول آزادیاں اور سماجی و معاشی حقوق کا تحفظ ہو اور پاکستان کے شہری آئین کے تحت ہم آہنگی، آزادی، عزت اور وقار کے ساتھ ملک میں زندگی گزار سکیں۔‘

تاہم اس پالیسی میں بنیادی مسئلہ ملک کی سکیورٹی صورتحال پر قابو پانا تھا، تمام سٹیک ہولڈرز سے مذاکرات اور دہشت گردی سے نمٹنے سے متعلق اقدامات کی وضاحت کی گئی تھی۔ اس قومی سلامتی پالیسی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ حکومت کو اقتدار میں آتے ہی سکیورٹی کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے اور اس پر قابو پا کر ہی معاشی استحکام اور شہریوں کی زندگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

مگر یہ پالیسی منظور ہونے کے ٹھیک 10 ماہ بعد پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے حملہ کر دیا۔

اس حملے کے بعد 2015 میں قومی ایکشن پلان تشکیل دیا گیا اور دہشتگرد تنظیموں سے بات چیت ترک کرنے اور ان کا مکمل خاتمہ کرنے کا فیصلہ ہوا جبکہ فوجی عدالتیں بھی قائم کی گئیں۔

قومی ایکشن پلان میں دیگر اقدامات کا فیصلہ بھی ہوا جن میں مدارس سے متعلق اصلاحات، انتہاپسندی کے خاتمے کے اقدامات وغیرہ بھی شامل تھے۔

سنہ 2018 میں جب مسلم لیگ ن کی حکومت کا آخری سال تھا، حکومت نے قومی داخلہ سلامتی پالیسی دوم 2023 – 2018 اور قومی ایکشن پلان دوم بھی منظور کیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 22589 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments