ایک ہیں مسلم "حریم”کی پاسبانی کے لیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 حریم شاہ کے نام سے شہرت عام اور بقاٸے دوام حاصل کرنے والی ٹک ٹاکر فضا حسین آج کل ایک نٸی مشکل میں گرفتار ہو گٸی ہیں۔ لندن میں پونڈز کی گڈیوں کے ساتھ واٸرل ہونے والی نٸی ویڈیو میں وہ دعویٰ کرتی دیکھی جاسکتی ہیں کہ وہ بھاری تعداد میں غیر ملکی کرنسی لے کر برطانیہ پہنچ گٸی ہیں۔ نہ انہیں کسی نے پکڑا اور نہ انہیں کوٸی پکڑنے کی جرات کرسکتا ہے کیونکہ پاکستان میں قانون امرا کے لیے نہیں صرف غریبوں اور بے بس لوگوں کے لیے ہے۔ با الفاظ دیگر وہ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ ریاست مدینہ جدید کے ایوانوں میں بیٹھے تمام عاملین اور صادق و امین میرے کانے ہیں اور بقول اقبال ان بیچاروں  کے اعصاب پر عورت بھی بری طرح سوار ہے۔
 حریم شاہ کا دعویٰ بالکل درست ہے کیونکہ دفتر خارجہ کے دروازے جس پری پیکر کی قدموں کی ایک ٹھوکر سے کھل جاتے ہوں اور وہ وہاں بے باک انداز سے ویڈیوز بنا کر واٸرل کرنے پر قادر ہوں انہیں بھلا کون ہاتھ لگا سکتا ہے؟ہمارے صادق و امین وزیراعظم سے لے کر وزرا، بیوروکریٹز، افسران تہ و بالا اور امرا ان کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوں ان کے لیے کون سا قانون اور کیسے ضابطے؟ آخر اس پری وش اور قتالہ عالم کی ذات میں کوٸی تو خوبی ہو گی کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے لے کر تمام ارباب اختیار ان کے ساتھ ویڈیوز بنوانے اور تصاویر اتروانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ حریم شاہ بعض اقات محکمہ جذبات کی طرح ملکہ جذبات بن جاتی ہیں اور ان  کا ہاتھ بھی خاصا بھاری ہے اور وہ ہتھ چھٹ بھی بہت واقع ہوٸی ہیں۔ یہ بات مفتی عبدالقوی سے زیادہ کون جانتا ہو گا جو حریم کا تھپڑ کھا کے بھی بے مزا نہیں ہوٸے۔ بعد میں حریم شاہ نے اس واقعے کی توضیح اور اپنی حرکت کی توجیہ یوں کی تھی کہ یہ تھپڑ تھوڑی تھا، اصل میں میرا دست نازک مفتی صاحب کے گلنار گالوں کا بوسہ لینے کے لیے مچل اٹھا تھا۔ لوگوں نے بات کا بتنگڑ بنا ڈالا۔
ہمارے شیخی باز شیخ رشید صاحب کو تگنی کا ناچ نچانا حریم شاہ کا ایک اور محبوب مشغلہ ہے۔ وہ کٸی بار اہم میٹنگز میں براہ راست فون کر کے انہیں حواس باختہ کر چکی ہیں۔ وزیر داخلہ کے کاموں میں یوں بے باکانہ مداخلت صرف حریم شاہ کا خاصہ ہے۔ ہمارے ثناخوان تقدیس مشرق اس وقت تک حریم کو آبرو باختہ سمجھ کے ناک بھوں چڑھاتے ہیں جب تک یہ فتنہٕ جہاں انہیں حریم ذات میں داخل ہونے کی اجازت نہ دے دے، بقول شاعر
شور حریم ذات میں آخر اٹھا کیوں
اندر دیکھا جاٸے کہ باہر دیکھا جاٸے
حریم شاہ دل کی شہنشاہ ہیں۔ ایک عرصے سے وہ بعض معاملات میں دل بڑا اور حرکتیں چھوٹی کر کے عشاق کے دلوں میں گھر کرنے کی کوشش کر کررہی ہیں۔ اس لحاظ سے وہ امریکی حسینہ سنتھیا رچی کے نقش قدم پر چل رہی ہیں جس نے ہمارے کٸی ڈھول سپاہیوں کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ وہ ہمارے بہادران صف شکن اور دلاوران تیغ زن کی محفلوں میں یوں بے تکلفانہ گھل مل رہی ہیں کہ حافظ سعید اور احسان اللہ احسان وغیرہ کی طرح سٹریٹجک اثاثہ بننے والی ہیں۔ کیا خبر کل کو حریم شاہ بھی سنتھیا رچی، وینا ملک، صندل خٹک، نرگس اور دوسری خواتین کی طرح ہمارا دفاع کرنے والوں کا ببانگ دہل دفاع کرنے لگیں۔
 حریم شاہ کی پونڈز کے ہمراہ ویڈیو واٸرل ہوٸی تو ایف آٸی اے نے ان کے خلاف منی لانڈرنگ کی کاررواٸی کا عندیہ دیا۔ حریم شاہ نے کپتان کی طرح  اپنے بیان سے یو ٹرن مارتے ہوٸے اسے مذاق قرار دے دیا۔ ادھر ان کی پاسبانی کے لیے ایک اور صادق و امین دیوانہ وار میدان عمل میں کود پڑا۔ جس طرح پرانے وقتوں میں دانا کثرت سے پاٸے جاتے تھے اسی طرح اس دور حکومت میں صادق و امین بھی کھمبیوں کی طرح اگ رہے ہیں۔ یہ صادق و امین صاحب ذرا وکھری ٹاٸپ کے ہیں جنہوں نے” حریم” کی پاسبانی کا فریضہ انجام دیتے ہوٸے مردانہ وار انہیں اپنی منہ بولی بہن قرار دیا۔ اس حوالے سے ہماری دیسی زبان میں اس قدر واہیات قسم کی ضرب المثل موجود ہے کہ زبان تہذیب اسے دہرانے سے قاصر ہے۔ ممکن ہے کہ حریم شاہ کا یہ منہ بولا بھاٸی ہمارے شیخ صاحب کی ایما پر ان کے دفاع کے لیے سامنے آیا ہو، مبادا کل کوٸی شیخ صاحب سے شکوہ  کردے کہ
"حریم” رسوا ہوٸی "شیخ” حرم کی کم نگاہی سے
حریم کے ذکر سے یاد آیا کہ کچھ عرصہ قبل ایک اور عشوہ طراز ایان علی بھی منی لانڈرنگ کے الزام میں پکڑی گٸی تھیں۔ وہ کٸی ماہ بن سنور کر عدالتوں میں پیش ہوتی رہیں۔ ان کی ہر پیشی پر ان کے ہر عمر کے عشاق دل ہتھیلی پر رکھ ان پر واری جاتے تھے۔ عدالت کے احاطے میں ایان کے حسن کے جلووں کے طفیل ایمان شکن صورت حال پیدا ہو جاتی جاتی تھی۔ ایان نے بڑے بڑے پارساٶں کا ایمان خطرے میں ڈال دیا تھا۔ پھر وہ بھی کسی "کرم فرما”کی کرم نوازی سے بیرون ملک اڑن چھو ہو گٸی تھیں اور ادھر ان کے عشاق آہیں بھرتے کف افسوس ملتے رہ گٸے تھے۔
 اگر ایف آٸی اے حریم شاہ پر مقدمہ بنا کر انہیں عدالت کے روبرو پیش کرنے میں کامیاب ہوگٸی تو عدلیہ کے احاطوں میں بار دگر رونق  میلہ لگ جاٸے گا۔ ہر طرف حسن جاناں کے جلوے بکھر جاٸیں گے اور آٸین و قانون جیسے خشک اور سپاٹ شعبے کا حسن بھی دوبالا ہوجاٸے گا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments