حکومتی ارکان بھی عمران خان کو آنکھیں دکھانے لگے؟


مارگلہ کی پہاڑیوں کی اوٹ میں سورج غروب ہو رہا تھا۔ پارلیمنٹ ہاﺅس پر سیاہ بادل چھا رہے تھے اس دوران پارلیمنٹ ہاﺅس کے کمیٹی روم نمبر 2 میں وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہو رہا تھا پی ٹی آئی کے اجلاس کا ماحول خاصا گرما گرم تھا ایسا دکھائی دیتا تھا پوری پارٹی ”منی بجٹ “ کی وجہ سے ”تناﺅ “ کا شکار ہے۔ وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیراعظم کے درمیان تلخ جملوں کے ”تبادلہ“ کی خبر پی ٹی آئی کے ایک ”ناراض “ رکن نے اپنے ایک اخبارنویس دوست کو وٹس ایپ پر بھجوا دی اخبار نویس کمیٹی روم نمبر2 کی دیوار سے ٹیک لگائے خبر کا انتظار کر رہا تھا جوں ہی ’ اسے ’چیختی چنگاڑتی “ خبر ملی اس نے دوسرے صحافی کو بھنک نہیں ہونے دی۔ جونہی اس نے اپنے ٹیلی ویژن سے خبر ٹیلی کاسٹ کرائی، پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک کے ٹیلی ویژنوں کی وزیر اعظم عمران خان اور پرویز خٹک کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلہ کو بڑی خبر کی حیثیت حاصل ہو گئی۔

قومی اسمبلی میں” منی بجٹ“ کی منظوی سے قبل ارکان قومی اسمبلی کو اعتماد میں لینے کے لئے پارلیمانی پارٹی کا طلب کیا گیا اجلاس بدمزگی میں ختم ہو گیا۔ اس نوعیت کے اجلاس میں ” منی بجٹ “کی منظوری کے لئے حکومتی ارکان کی حاضری پوری کرنا تھی۔ مطلوبہ تعداد پوری کرنے کے لئے پچھلے دو روز سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ نے اسلام آباد میں ” ڈیرے “ ڈال رکھے تھے۔ وہ اپنے اپنے صوبوں کے ارکان پارلیمنٹ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لئے ان کے اعزاز میں سرکاری خرچ پر عشائیوں کا اہتمام کر رہے تھے دوسری طرف ”نادیدہ قوتوں “ کی ٹیلی فون کالز کے ذریعے اتحادی جماعتوں کو حکومت کا ساتھ دینے پر آمادہ کیا جا رہا تھا اس طرح حکومت نے” منی بجٹ“ کی منظوری کے لئے مطلوبہ تعداد تو پوری کر لی لیکن پہلی بار وزیر اعظم کو اپنی پارٹی کے ارکان کی جانب جلی کٹی سننی پڑ گئیں۔ بہر حال اجلاس میں معاملہ خاصا بگڑ گیا۔

پرویز خٹک، نور عالم نے کھل کر منی بجٹ، مہنگائی، اسٹیٹ بینک کی خود مختاری بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جب کہ دیگر ارکان نے دبی زبان میں اپنے دل کی بات کہی پرویز خٹک نے حماد اظہر اور شوکت ترین پر بھی سخت الفاظ میں تنقید کی۔ نور عالم نے بھی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعظم سے پوچھا ہے ”کیا اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے قومی سلامتی کے ادارے متاثر نہیں ہوں گے؟ کیا ہم قومی سلامتی اداروں کے اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی آئی ایم ایف کو دیں گے؟“ اس پر وزیراعظم نے فوری جواب دیا کہ ” میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، قومی سلامتی کے اداروں کا تحفظ ہر صورت یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ نور عالم نے کہا کہ ”جناب وزیر اعظم کیا منی بجٹ سے ہمیں گیس، پانی، بجلی ملے گی؟ وزیر اعظم عمران خان جو کسی کی بات سننے کے عادی نہیں، اپنی بات ہی سناتے ہیں۔ منی بجٹ کی منظوری سے قبل ارکان کی باتیں سننے سے ان کا موڈ خراب ہو گیا۔

بدلے بدلے ماحول اور ارکان کی تلخ نوائی نے وزیر اعظم کو قدرے مشتعل کر دیا۔ اگرچہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ”ان کیمرہ “ ہو رہا تھا لہذا اندر کی خبر پارٹی کے ”ناراض“ ارکان ” وٹس ایپ “ کے ذریعے میڈیا تک پہنچا رہے تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پارلیمانی پارٹی کے بعض ارکان اپنی پارٹی کا تماشا لگا کر اپنی محرومیوں کا مداوا کر رہے تھے۔ اجلاس کی اندرونی کہانی کے منظر عام پر آنے کا ذریعہ پی ٹی آئی کے نارض ارکان تھے۔

وزیر دفاع اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا کہ” جناب عمران خان صاحب ! آپ کو وزیراعظم ہم نے بنایا ہے، خیبرپختونخوا میں گیس کنکشن پر پابندی ہے، ہم گیس بجلی پیدا کرتے ہیں لیکن ہمیں ہی گیس نہیں دی جا رہی، اگر آپ کا یہی رویہ رہا تو ہم عوام سے ووٹ نہیں لے سکیں گے۔ جس پر وزیراعظم عمران خان نے پرویز خٹک کو قدرے سخت جواب دیا اور کہا کہ” آپ سب کے سامنے مجھے بلیک میل کر رہے ہیں”۔ وزیر اعظم پرویز خٹک کی اس گفتگو پر نالاں ہو کر اجلاس سے اٹھ کر جانے لگے اور کہا کہ ”اگر آپ مجھ سے مطمئن نہیں تو کسی اور کو حکومت دے دیتا ہوں۔ میں ملک کی جنگ لڑ رہا ہوں، کوئی ذاتی مفاد نہیں، میرے کارخارنے ہیں اور نہ ہی کوئی کاروبار۔ میری تمام تر کوشش ملکی مفاد کی خاطر ہے۔ میں آپ کو روز روز بلا کر ووٹ مانگ رہا ہوں، میں ہر روز آئی ایم ایف سے کہہ رہا ہوں کہ ٹیکس کم کرے، اگر آپ کی یہی بلیک میلنگ رہی تو پھر اپوزیشن کو دعوت دے دیں کہ وہ آ کر حکومت کر لے‘۔

اس موقع پر وزیر توانائی حماد اظہر نے بیچ میں بولنے کی کوشش کی تو پرویز خٹک نے انہیں بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ ”میں وزیر اعظم سے بات کر رہا ہوں“۔ وزیراعظم نے ناراضی کا اظہار کیا۔ وہ اجلاس سے اٹھ کر جانے لگے تو سینیئر ارکان قومی اسمبلی نے انہیں روک لیا البتہ پرویز خٹک اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ انہوں نے اجلاس اٹھ کر چلے جانے کی یہ منطق پیش کی کہ وہ تناﺅ کے ماحول میں سگریٹ کا ایک کش لگانے کے لئے اجلاس سے باہر آ گئے تھے۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کا ماحول خاصا کشیدہ ہونے کے باعث وزیراعظم باضابطہ طور پر ارکان قومی اسمبلی سے منی بجٹ کے معاملے پر بات ہی نہ کر سکے۔ پنجاب اور کے پی کے وزرائے اعلٰی نے ارکانِ قومی اسمبلی کو الگ الگ عشائیے دیے وزیراعلیٰ پنجاب کے عشائیے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد ارکان قومی اسمبلی نے شرکت نہیں کی عشائیے کے موقع پرپارٹی ارکا ن قومی اسمبلی کی حاضری لگائی گئی وزیر اعلیٰ پنجاب نے وزیر اعظم کو عشائیہ میں شرکت نہ کرنے والے ارکان کی فہرست بھجوا دی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی محمود خان کی جانب سے بھی ارکان قومی اسمبلی کو علیحدہ عشائیہ دیا گیا۔

اس عشائیے میں بھی پانچ چھ ارکان قومی اسمبلی نے شرکت نہیں کی جن میں پرویز خٹک بھی شامل ہیں۔ وفاق میں حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم بھی مِنی بجٹ پر حکومت کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار تھی تاہم ”ٹیلی فون“ آنے پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم نے حکومت کی حمایت کر دی۔ اسی طرح حکومت نے اپوزیشن کے 150 ارکان کے مقابلے میں 168 ارکان سے ضمنی مالیاتی بل 2021 (منی بجٹ) منظور کرا لیا جبکہ اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

جوں ہی وزیر دفاع پرویز خٹک کو معلوم ہوا کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم سے تلخ جملوں کے تبادلے کے بارے میں میڈیا پر خبر چلتی رہی ہے تو انہوں نے فوری طور پر اس کی تردید کر دی اور کہا کہ ”میری وزیراعظم سے کوئی تلخ کلامی نہیں ہوئی، عمران خان میرے لیڈر ہیں، ان کے خلاف ایسی کوئی بات سوچ بھی نہیں سکتا، ان کے ساتھ کھڑا ہوں، وزیراعظم کے خلاف ہوں اور نہ ہی سوچ سکتا ہوں وزیراعظم پر سوفیصد اعتماد ہے، اس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، ہم کسی کو فارورڈ بلاک بننانے نہیں دیں گے، میڈیا بے بنیاد خبریں چلانا بند کردے، انہوں نے دلچسپ بات کہی کہ ”ٹی وی پر خبریں دیکھ کر حیران رہ گیا ہوں کہ معلوم نہیں میں نے کیا طوفان کھڑا کردیا ہے کہ خبریں چل گئی ہیں، میں نے صرف صوبہ خیبرپختونخوا میں گیس کے مسئلے پر وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر سے سوالا ت کئے ہیں لیکن میڈیا نے ہنگامہ برپا کر دیا۔

وزیراعظم عمران خان ایوان میں آئے تو جہاں حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا گیا وہاں اپوزیشن نے حسب معمول عمران خان کے خلاف شدید نعر ے بازی کی۔ فنانس بل میں ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے حوالے سے قوانین میں کچھ ترمیم کی گئی ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2021 30 دسمبر کو پیش کیا گیا تھا اور ان بلوں کا مقصد آئی ایم ایف کی سفارشات کو پورا کرنا ہے۔ قومی اسمبلی میں دوسری مرتبہ اسٹینڈنگ ووٹنگ کے وقت وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے لابی میں موجود حکومتی ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ” آجاﺅ مجاہدو وقت شہادت آگیا ہے“۔

قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے نعرے بازی کی گئی اپوزیشن ارکان کی جانب سے مانگے تانگے کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گی، ایک ٹکے کے دو نیازی، گو نیازی گو نیازی، پرویز خٹک قدم بڑھاﺅ کے نعرے لگائے گئے حکومتی ارکان کی جانب سے کون بچائے گا پاکستان عمران خان عمران خان کے نعرے لگائے گئے۔ قومی اسمبلی میں حکومتی رکن نور عالم خان نے اپوزیشن کی ترمیم پر ووٹنگ کے دوران غیر جانبدار رہنے کی کوشش کی تاہم ساتھی ارکان نے نور عالم خان کو غیر جانبدار نہ رہنے دیا اور بہت اصرار کر کے ترمیم کے خلاف کھڑا کر دیا۔ قومی اسمبلی میں وزیر دفاع پرویز خٹک اپوزیشن ارکان کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے رہے، اپوزیشن ارکان نے پرویز خٹک قدم بڑھاﺅ کے نعرے لگائے جبکہ خواجہ آصف نے پرویز خٹک کی جرات کو سلام پیش کیا۔

 حکومت نے قومی اسمبلی سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی خود مختاری بارے بل کو منظور تو کرا لیا لیکن اپوزیشن نے اسے سقوط ڈھاکہ سے بڑا سرنڈر قرار دے دیا جبکہ حکومتی رکن نور عالم خان نے ایوان میں حکومتی بنچوں کی پہلی تین لائنوں میں بیٹھے ارکان (وزرا) کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ کر دے دیا۔ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ”اب تمام حدود عبور ہو گئی ہیں، حکومت نے اپنے دعویٰ کے برعکس ڈالر منہ پر مارنے کی بجائے پورا اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے منہ پر مار دیا، 32 سال کے کیریئر میں نے کسی اسپیکر کو اس طرح پارلیمانی روایات کو بلڈوز کرتے نہیں دیکھا۔” مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ کل جو پارلیمنٹ میں ہوا اس کے بعد ہمارا اس ملک میں عزت سے گزارہ نہیں ہوسکتا۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سن لے سٹیٹ بینک بل سمیت بلڈوز کئے گئے تمام بلز واپس ہوں گے، کل عوام کا قتل نامہ تھا جس پر مہر لگائی گئی۔ اب گلا ہی کاٹ دیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک بل سب سے خطرناک ہے، اپنی معیشت کی چابی ہم نے آئی ایم ایف کے حوالے کر دی

حکومت نے پارلیمان سے منی بجٹ اور اسٹیٹ بنک کو خود مختاری دینے کے بل تو منظور کرا لئے ہیں اب دیکھنا یہ ہے آئندہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کس قدر بڑھتی ہے اور ڈالر کی کس قدر اونچی اڑان ہوتی ہے؟

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments