عمران خان! حقیقی ریاست مدینہ یہ ہے


گزشتہ روز میں نے وزیراعظم عمران خان کا روزنامہ دنیا میں ”روح ریاست مدینہ: پاکستانی معاشرے کی تشکیل نو“ کے عنوان سے ایک کالم پڑھا تو مجھے آغاز کالم بہت اچھا لگا لیکن جب میں نے مضمون کا کچھ حصہ پڑھا تو میری سمجھ میں یہ بات فوراً آ گئی کہ وزیراعظم صاحب نے مدینہ کی ریاست کا نام استعمال کر کے ایک دفعہ پھر اپنے سیاسی مخالفین کو نعوذ با اللہ غیر مسلم قرار دینے کی کوشش کی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل اور مدینہ کی ریاست کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے صرف فرد واحد میں ہی ہوں جس کو اسلامی تعلیمات پر مکمل عبور حاصل ہے۔

میرے نزدیک وزیراعظم صاحب ایک دفعہ پھر اپنے مخالفین کے خلاف حسد کا شکار ہو چکے ہیں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق جناب وزیراعظم صاحب کے حسد کو کم کرنے کی کوشش کروں گا کیونکہ ہم نے مذہبی شرپسندی کی بجائے امن پسندی کے ذریعے ہی چند اہم حقائق ان کے سامنے رکھنے ہیں اور اس امید کے ساتھ ہم ان کے ردعمل کا انتظار کریں گے کہ جس خواب کو وہ شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس خواب کے اوپر بذات خود کتنا عمل کیا ہے؟

مدینہ کی ریاست کا خواب دیکھنا ایک بہت ہی احسن کام ہے اور اس احسن کام کی پوری دنیا میں اشاعت کرنا اس سے بھی بڑا احسن قدم ہے۔ کسی بھی اسلامی ریاست کے کچھ اہم اصول ہوتے ہیں اور اس اصول کو جو ریاست خلوص نیت کے ساتھ اختیار کر لے تو وہ ”مدینہ کی ریاست یا اسلامی ریاست“ کہلوانے کی حقدار ہو جاتی ہے۔ مدینہ کی ریاست سات ستونوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ پہلا ستون: مملکت اور نظم و نسق، دوسرا ستون: نظام مالیہ اور تقویم، تیسرا ستون: نظام تشریع و عدلیہ، چوتھا ستون: دفاعی نظام و غزوات، پانچواں ستون: نظام تعلیم و سرپرستی علوم، چھٹا ستون: تبلیغ اسلام، ساتواں ستون: قانون بین الممالک۔

یہ وہ تمام سات اہم ستون ہیں جن کے اوپر کوئی بھی ملک عمل پیرا ہو کر اپنے آپ کو ”اسلامی ریاست“ شمار کر سکتا ہے۔ آئیے ہم اسلامی ریاست کے چند اہم ستونوں پر مختصراً روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جو قارئین مدینہ کی ریاست کو لے کر تذبذب کا شکار ہیں ان کی پریشانی کسی حد تک ختم ہو جائے۔

پہلا ستون مملکت اور نظم و نسق: قرآن مجید کی سورہ البقرہ کی آیت نمبر ( 201 ) میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ؛ ”اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطاء فرما اور ہمیں آخرت میں (بھی) بھلائی عطاء فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔“ یعنی اسلام اشرف المخلوقات کی دین و دنیا دونوں جہانوں کی بھلائی چاہتا ہے۔ دین اسلام میں جہاں ایک طرف کلمہ، نماز، روزہ، حج جیسی روحانی چیزوں کا تذکرہ ہے تو وہاں زکوٰۃ کا بھی تذکرہ ہے جو ایک مالی مسئلہ ہے لیکن اسے رکن ایمان اور رکن دین بنایا گیا ہے۔ اگر کوئی حکمران مدینہ کی ریاست کے خواب کو حقیقت میں بدلنا چاہتا ہے تو وہ ارکان ایمان پر خود بھی عمل کرے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرے تو اس کا خواب کافی حد تک شرمندہ تعبیر ہو جائے گا۔

دوسرا ستون نظام مالیہ اور تقویم: اللہ تعالٰی نے قرآن مجید کی سورہ النساء کی آیت نمبر 5 میں ارشاد فرمایا کہ: ”اور اپنے وہ مال بے سمجھوں کے حوالے نہ کرو جنہیں اللہ نے تمہاری زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا ہے، البتہ ان مالوں سے انہیں کھلاتے اور پہناتے رہو اور انہیں نصیحت کی بات کہتے رہو۔“ اس لحاظ سے قرآن مجید میں آج سے چودہ سو سال پہلے اس چیز کا ذکر آ چکا ہے کہ مال کی بڑی اہمیت ہے اور زمانہ حال میں یہ کہا جاتا ہے کہ مال کی بڑی اہمیت ہے تو وہ کہتے ہیں کہ تم کمیونسٹ بننا چاہتے ہو تو میں ان سے یہ ضرور کہوں گا کہ آج سے چودہ سو سال پہلے مسلمانوں کے دین نے یہ بتا دیا تھا کہ زندگی مال کے بغیر ایک دن بھی نہیں گزر سکتی لیکن مال کا حلال ہونا ضروری ہے اور حلال طریقے سے کمایا جانے والا مال کسی عبادت سے کم نہیں ہے۔

تقویم کا عمل بہت دلچسپ ہے کیونکہ عرب میں اسلام سے پہلے آج کل کی طرح شمسی سال پایا جاتا تھا۔ مہینوں کا آغاز بھی رؤیت ہلال سے ہوتا تھا اور مہینوں کا اختتام بھی رؤیت ہلال پر منحصر تھا۔ یعنی خالص قمری مہینے پائے جاتے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ دنوں کا ہیر پھیر کیا کرتے تھے جن کو ’نسی‘ کا نام دیا گیا تھا اور وہ ایسے کافر تھے جو مہینے کو آگے پیچھے کر کے حرام کو حلال سمجھنے کی کوشش کرتے تھے جس کو اسلام نے کفر قرار دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا کہ نسی کے مہینے گئے گزرے ہو گئے اب مہینوں کے اوقات کی حکم خداوندی کے مطابق حفاظت کی جائے۔

اس نظام کے متعلق اللہ تعالٰی نے سورہ التوبہ کی آیت نمبر 37 میں ارشاد فرمایا کہ: ”یہ مہینوں کا ہٹا دینا کفر میں اور ترقی ہے، اس سے کافر گمراہی میں پڑتے ہیں کہ اس مہینے کو ایک برس تو حلال کر لیتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام رکھتے ہیں تاکہ ان بارہ مہینوں کی گنتی پوری کر لیں جنہیں اللہ نے عزت دی ہے پھر حلال کر لیتے ہیں جو اللہ نے حرام کیا ہے، ان کے برے اعمال انہیں بھلے دکھائی دیتے ہیں، اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں کرتا۔“ اگر کوئی حکمران اسلامی ریاست کے دوسرے ستون نظام مالیہ اور تقویم پر عمل پیرا ہوتا ہے تو اس کا مدینہ کی ریاست کا خواب کافی حد تک شرمندہ تعبیر ہو جائے گا۔

تیسرا ستون نظام تشریع و عدلیہ: اگر کوئی حکمران مدینہ کی ریاست کا حقیقی معنوں میں قیام چاہتا ہے تو وہ احکام الٰہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکامات پر عملدرآمد کر کے ”قانون سازی“ اور ”عدلیہ“ کے نظام کا ڈھانچہ تیار کرے۔ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید کی سورہ الحدید میں ارشاد فرمایا کہ: ”بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب عدل اور ترازو کو نازل کیا کہ وہ لوگوں میں انصاف قائم کریں۔“

چوتھا ستون دفاعی نظام و غزوات: کسی بھی اسلامی سلطنت کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے دفاعی نظام بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو کفار نے اس وقت بھی سکھ کا سانس نہ لیا اور مسلمانوں پر حملہ کرنے کی دھمکی دے دی۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذریعے ایک دفاعی نظام مرتب کیا اور فوج تیار کی۔ اسی دفاعی نظام کو لے کر حضور اکرم ﷺ نے غزوات میں بھی شرکت کی اور بہترین ترغیب کے ذریعے کفار کے ساتھ کی گئی جنگوں میں کامیابی حاصل کی۔ اگر کوئی حکمران مدینہ کی ریاست کے دفاعی نظام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا چاہتا ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکامات پر عمل پیرا ہو کر دفاعی نظام ترتیب دے سکتا ہے۔

پانچواں ستون نظام تعلیم و سرپرستی علوم: مسلمانوں نے بعد کے زمانے میں جو علمی ترقیاں کی اور جس کے باعث وہ ساری دنیا کے معلم بنے اور ساری دنیا کے لوگ عربی کتب کو پڑھ کر جدید ترین تحقیقات سے آگاہ ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو سب سے پہلے جو خدائی حکم ملتا ہے وہ یہ ہے کہ: ”اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے سب کو پیدا کیا۔ انسان کو خون بستہ سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کرم والا ہے۔ جس نے قلم سے سکھایا۔ انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔“ یہ حکم نازل کرنے کے بعد اللہ تعالٰی نے اس وحی عظیم کو اپنے کلام الٰہی کا حصہ بنا دیا۔ اس وحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ یعنی قلم ہی وہ واسطہ ہے جو انسانی تہذیب و تمدن کا ضامن ہے۔ اس کے ذریعے سے انسان وہ چیزیں سیکھتا ہے جو اسے معلوم نہیں ہوتی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دور میں علوم طب کو کافی اہمیت دی جاتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو علوم طب سے واقف نہیں تو وہ علاج نہ کرے اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کو سخت سزا دی جائے گی۔ حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف سے بے شمار نسخے منسوب ہیں۔ لوگ آپ ﷺ کے پاس آتے تھے کہ یارسول اللہ ﷺ مجھے یہ تکلیف ہے تو آپ ﷺ اس کے لیے تجویز فرماتے تھے کہ فلاں چیز کا استعمال کرو۔ اگر کوئی حکمران مدینہ کی ریاست کے خواب کو حقیقت میں بدلنا چاہتا ہے تو وہ نظام تعلیم و علوم سرپرستی کے نفاذ کے لیے نبی کریم ﷺ کے احکامات پر عمل کرے جس سے اس کا خواب حقیقت میں بدل جائے گا۔

چھٹا ستون تبلیغ اسلام: رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے دو پہلو جو حقیقت میں ایک ہی پہلو کے دو جز ہیں یعنی اسلام کی تبلیغ اور تبلیغ کو قبول نہ کرنے والوں کے ساتھ آپ ﷺ کا برتاؤ۔ جو حکمران مدینہ کی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا چاہتا ہے تو وہ توحید و رسالت کا پیغام لوگوں تک پہنچائے تاکہ لوگ اسلام میں داخل ہو کر اپنی آخرت سنوار سکیں۔

ساتواں ستون قانون بین الممالک: یہ قانون دراصل سلطنتوں کے آپس کے تعلقات کے متعلق ہوتا ہے۔ اس قانون کو بھی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں نے سب سے پہلے وجود بخشا۔ پہلے ادوار میں یہ قانون افراد کے درمیان ہوتا تھا کیونکہ ہر فرد اپنی جگہ کا خودمختار ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے وحی کے نزول کے بعد قوموں کے درمیان تعلقات کے لیے کچھ اصول وضع کیے ہیں اگر حکمران ان اصولوں کو اپنا لیں تو پوری دنیا میں مسلم ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات خراب نہ ہوں۔

یہ ہیں وہ سات اہم ستون جس کو اپنا کر کوئی بھی حکمران مدینہ کی ریاست کا قیام عمل میں لا سکتا ہے لیکن افسوس! آج ہم نے اس خوبصورت جملے کو اپنی ذاتی و سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ جب تک آپ اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد اپنے گھر سے شروع نہیں کریں گے تو اس وقت تک رعایا اپنے حاکم کی بات پر عمل پیرا نہیں ہوتی۔ میری وزیراعظم عمران خان سے درخواست ہوگی کہ سب سے پہلے وہ اپنے آپ کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلائیں اور پھر قوم کو اس کی دعوت دیں۔ اگر آپ خود اسلامی تعلیمات پر عمل نہیں کریں گے اور دوسروں کو اس کی تلقین کریں گے تو یہ منافقت ہوگی۔

Facebook Comments HS