لاہور کی خوبصورتی کو رنگ برنگے اونچے مینار اور گنبد چار چاند لگا دیتے ہیں۔ شام ڈھلے، بارش سے دھلی فضا میں، جس اور بھی دیکھیں ان کی بہار کھلی کھلی نظر آتی ہے۔ چمکتے میناروں سے ابھرتی اذان کی آواز گونجتی ہے تو پورے شہر پر عجیب سی روحانیت چھا جاتی ہے۔ داتا کی اس نگری میں، بھاٹی لوہاری سے لے کر اندرون شہر تک اتنے مدارس اور مساجد ہیں کہ یہ شہر پاکستانی بخارا لگتا ہے۔

جوں جوں اندھیرا بڑھتا ہے ماحول پر چھائے تقدس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

شام کو جب میں ادھر آ رہی تھی تو داتا کے مزار کے سامنے حاضری دینے والوں کا ہجوم دیکھا۔ ہری ہری ٹوپیاں سروں پر جمائے بوڑھے بچے سب کی منزل یہ درگاہ تھی۔ مدارس کے بچے اور نوجوان، لمبے سفید کرتے اور شلوار میں ملبوس ہری پگ سروں پر لپیٹے بہت بڑی تعداد میں نظر آئے۔ رش اتنا تھا کہ گاڑیاں رینگتی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔ ہم خواتین تو ایسی رش والی جگہوں پر پریشان ہو جاتی ہیں۔ ہم ہمیشہ کہتے تھے کہ لج یو آن کو پتا نہیں یہ علاقہ کیوں پسند آیا تھا۔ چین سے آنے کے بعد وہ تھوڑا عرصہ ہی ہمارے ساتھ گلبرگ میں رہی پھر ادھر منتقل ہو گئی تھی۔

آج اس کی پچاسویں سالگرہ پر اونچی چھت سے لاہور کا یہ نظارہ دیکھ کر اس کے فیصلے کو داد دینا پڑی۔ چھوٹی سی میز پر کیک سجائے وہ میرا انتظار کر رہی تھی۔ کیک کاٹنے کے بعد اس نے کھانا پروسا۔ کھانا بہت پر تکلف تھا۔ جس میں چائنیز کے ساتھ پاکستانی ڈشز بھی موجود تھیں۔ سب کچھ اس نے خود بنایا تھا۔ میں حیران تھی کہ وہ بہت جلد مقامی کھانے بنانا سیکھ گئی ہے۔ رات بھیگی تو ہلکی ہلکی موسیقی کے ساتھ اس نے بیئر لا کر رکھ دی۔ ہم دونوں اس ماحول کی تراوٹ میں کھو گئیں۔ دیر گئے تک لطف اندوز ہونے کے بعد میں نے واپسی کا ارادہ کیا۔ اس وقت اس کا فون بھی بج رہا تھا۔ فون سن کر بات جلدی ختم کی اور میرے ساتھ ہی نیچے آ گئی۔

سامنے ہی وہ کھڑا تھا۔

اونچا لمبا چھریرے بدن کا مالک، سفید لمبی چوغا نما قمیض اور ٹخنوں سے اونچی شلوار۔ کانوں کے پیچھے پنبہ ساں پٹے، تراشیدہ داڑھی اور نیم تراشیدہ ہونٹوں پر ہلکی ہلکی مونچھیں سجائے، سر پر سبز پگڑی پہنے آسمانی مخلوق ہی لگتا تھا۔ عود و عنبر کی خوشبو اس کے گرد ہالہ بنائے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ مجھے دیکھ کر گردن جھکائے اندر چلا گیا۔

میری نظروں میں سوالیہ نشان دیکھ کر بولی،
”وہی ہے، جس کا ذکر کیا تھا۔“
”یہ تو بیس بائیس کا ہی لگتا ہے۔“
”ہاں! تو پھر کیا؟“
”بات تو تمہاری صحیح ہے۔ لیکن یہ بھی تمہیں چھوڑ جائے گا۔“
”پھر بھی کوئی بات نہیں۔“
”تمہیں پتا ہے کہ میرے دل کے بھی دو دروازے ہیں،
میرے بیڈ روم کی طرح۔
اور یہ لاہور ہے، داتا کی نگری۔ ادھر لنگر عام ملتا ہے۔ ”
گاڑی میں بیٹھتے ہوئے میں نے دیکھا وہ کھڑکی کی اوٹ سے مجھے گھور رہا تھا۔