نوجوان پرخطر سرمایہ کاری کیوں کر رہے ہیں کہ حکام اس بات سے پریشان ہیں

ریڈیسیوں - بی بی سی منڈو


سرمایہ کاری
آپ چاہے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں یا پھر حصص بازار میں، سرمایہ کاری کے لیے تازہ ایپس اور پلیٹفارمز کی آمد نے ہر کسی کے لیے سرمایہ کاری کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اور اس کی وجہ سے نہ تجربہ کار سرمایہ کاروں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ بطور خاص کرونا وائرس کی وبا کے زمانے میں نوجوانوں میں اس کا رجحان زیادہ نظر آیا ہے۔

بی بی سی بزنس ڈیلی ریڈیو شو کی ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان میں سے بہت سے 35 سال سے کم عمر کے سرمایہ کاروں میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ان کی ہمت ہے۔

یہ رجحان دنیا کے کئی حصوں میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایک مثال انڈیا ہے، جہاں گذشتہ دو سالوں میں خوردہ سرمایہ کاروں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے اور دو کروڑ نئے سرمایہ کار سامنے آئے ہیں جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کا سٹاک مارکیٹ کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

نچیکیت ٹیکاکار 23 سال کے ہیں اور بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جب سے وبائی بیماری شروع ہوئی ہے انھوں نے اپنی اور اپنے والدین کی تقریباً تمام بچت یعنی 30,000 امریکی ڈالر سٹاک میں لگا دی ہیں۔

انھوں نے بزنس ڈیلی کے میزبان ایڈ بٹلر کو بتایا: ‘کووڈ بحران نے لوگوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ غیر فعال آمدنی بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے سرمایہ کاری کی۔’

نچیکیت نے کہا کہ جب سے انھوں نے سرمایہ کاری شروع کی ہے انڈین سٹاک مارکیٹ میں دو بار تیزی سے گراوٹ آئی ہے لیکن اس کے باوجود انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور سرمایہ کاری کرتے رہے۔

انھوں نے کہا: ‘میرے خیال میں مارکیٹ کا کریش ہونا ایک موقع فراہم کرتا ہے، کیونکہ بعض دفعہ بہت سستی قیمت پر بہت اچھے حصص مل جاتے ہیں۔

‘آپ کو بس لچک کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر آپ ایک سرمایہ کار کے طور پر کامیاب ہونا چاہتے ہیں، تو آپ کو پرسکون رہنا ہوگا جب تک کہ مارکیٹ دوبارہ پٹری پر آجائے۔’

انھوں نے بتایا کہ ان کی اس حکمت عملی سے انھیں 30 سے 40 فیصد کا منافع کمانے کا موقع ملا۔

نوجوان

خطرات

لیکن ماہرین اور حکام کو خدشہ ہے کہ آن لائن سرمایہ کاری اور مالیاتی قیاس آرائیوں میں یہ بڑھتی ہوئی دلچسپی ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے، جیسا کہ نام نہاد 'ڈاٹ کام ببل' تھا جس کے تحت دو دہائی قبل نیس ڈیک سٹاک انڈیکس گر گیا تھا۔

دوسرے لوگ خبردار کرتے ہیں کہ سب سے قریب نظر آنے والا خطرہ ان بہت سے نوجوان اور ناتجربہ کار سرمایہ کاروں کے لیے ہے جو اپنی بچت کو یا تو سٹاک مارکیٹ میں یا کریپٹو کرنسی خریدنے میں لگا رہے ہیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ساری رقم نہ کھو دیں۔

برطانیہ کے بینک آف انگلینڈ نے پرخطر سرمایہ کاری میں اضافے کے بارے میں واضح انتباہ جاری کیا ہے۔

سارہ پریچرڈ برطانیہ کی فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی (ایف سی اے) کے مارکیٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ یہ کمپنی انسٹاگرما اور ٹک ٹاک کے ذریعے ان بھولے بھالے سرمایہ کاروں کو خبردار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پریچرڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں نوجوان نئے سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی بھوک کے متعلق خدشات ہیں اور وہ گھبرا رہی ہیں۔

انھوں نے کہا: ‘ہماری تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ 18 سے 40 سال کی عمر کے لوگ زیادہ خطرے والی سرمایہ کاری میں دو گنا زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں، لیکن جب ان سے خطرے کے نتیجے میں ان کی برداشت کے بارے میں پوچھیں تو وہ حقیقت میں کم ہے۔’

‘ایک مثال یہاں اہم ہے: ہم نے جن نوجوانوں کا سروے کیا ان میں سے 70 فیصد کا خیال تھا کہ کرپٹو اثاثوں کی خریداری محفوظ ہے اور کسی بھی نقصان کی تلافی ہو جائے گی، جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔’

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بہت سے ناتجربہ کار سرمایہ کار یہ نہیں جانتے کہ ان کے اثاثے بڑھنے کے بجائے کم کیے جا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘تقریباً نصف سرمایہ کار جو مالی مشورے کے بغیر سرمایہ کاری کرتے ہیں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کے خطرے کی وجہ سے پیسے کھو سکتے ہیں۔ یہی چیز ہمیں پریشان کرتی ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

اپنا کاروبار کرنے کے خواہشمند نوجوان درکار سرمایہ کیسے اکٹھا کر سکتے ہیں؟

خواتین بڑی تعداد میں سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کیوں کر رہی ہیں؟

پاکستانی نوجوان لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟

پریچرڈ کا کہنا ہے کہ ہمیشہ ایسے لوگ رہے ہیں جو سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی آمدنی کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ‘نئی بات رفتار ہے اور ہماری زندگیوں میں ڈیجیٹلائزیشن میں اضافے کے نتیجے میں اس میں اضافہ ہوا ہے۔’

ایف سی اے کی تحقیق کے مطابق، بہت سے نوجوان دوستوں یا خاندان کے ساتھ مقابلہ کرنے کے طریقے کے طور پر خطرے کی سرمایہ کاری کرنا شروع کر دیتے ہیں، یا سوشل نیٹ ورکس اور دیگر میڈیا پر جو کچھ دیکھتے ہیں اس سے حوصلہ پا کر ایسا کرتے ہیں۔

اگر چہ یہ نوخیز سرمایہ کار وبائی امراض کے دنوں سرگرم ہو ئے تھے لیکن پریچرڈ کا خیال ہے کہ کورونا وائرس کے خطرات کے ختم ہونے کے بعد میں بھی اس میں کمی ہونے کا رجحان نظر نہیں آتا۔

انھوں نے کہا: ‘ہم جانتے ہیں کہ وبائی امراض کے پہلے چھ مہینوں میں (برطانیہ میں) دس لاکھ لوگوں نے زیادہ خطرے والے حصص خریدے یا پھر اپنی خرید میں اضافہ کیا، لیکن میرے خیال سے مارکیٹ میں تبدیلی کے ساتھ یہ رجحان قائم رہے گا۔’

کرپٹو

کیا یہ اتنا برا ہے؟

لیکن کیا یہ اتنا برا ہے کہ نوجوان اپنی بچت کو داؤ پر لگا رہے ہیں؟

بہر حال، جب آپ جوان ہوتے ہیں تو زیادہ خطرے مول لینا ہونا عام بات ہوتی ہے۔

اور مالی طور پر، جب آپ کے پاس کھونے کے لیے کم اور اسے واپس حاصل کرنے کے لیے زیادہ وقت ہو تو بڑا خطرہ مول لینا بہتر ہو سکتا ہے۔

لیزلی این مورگن نے شروڈرز ویلتھ مینجمنٹ کے لیے ایک عالمی مطالعہ کی قیادت کی جس میں 20 سے زائد ممالک میں سرمایہ کاری کے رجحانات کو دیکھا گیا۔

مورگن نے بی بی سی کو بتایا کہ بہت سے نوجوانوں نے پایا کہ ان کے پاس وبائی مرض کے دوران معمول سے زیادہ پیسے تھے۔

"بہت سے لوگوں نے ہمیں بتایا کہ انھوں نے توقع سے زیادہ بچت کی اور اپنی منصوبہ بندی سے زیادہ سرمایہ کاری کی کیونکہ ایک طرف وہ کم پیسہ خرچ کر رہے تھے کیونکہ وہ کووڈ کی وجہ سے زیادہ باہر نہیں جا سکتے تھے اور اس وجہ سے بھی ان کی آمدنی میں اضافہ ہوا تھا۔ وبائی مرض کے دوران ریاستی امداد کے نتیجے میں بھی ان کی آمدنی بڑھی تھی۔

ان میں سے بہت سے نئے سرمایہ کار روایتی حکمت عملیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کمپنیوں کے حصص پر شرط لگاتے ہیں۔

انھوں نے کہا: ‘اس سے ہمیں حیرت نہیں ہوئی کیونکہ اس قسم کی کمپنیوں کو وبائی بیماری کے دوران فائدہ ہوا ہے۔’

لیکن ان نئے نوجوان سرمایہ کاروں نے نئے قسم کی سرمایہ کاری میں بھی کافی دلچسپی ظاہر کی، جیسے کہ الیکٹرانک کاروں، بائیو ٹیکنالوجی اور کرپٹو کرنسیز میں۔

مورگن نے ایف سی اے کی رپورٹ سے اتفاق کیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل نیٹ ورک اس قسم کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا: ‘میرے خیال سے بہت سارے لوگوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے اس قسم کی بہت ساری معلومات پہنچائی جا رہی ہے جس سے ان کی کاروبار میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔’

سرمایہ کاری

جہاں تک ان زیادہ خطرے والی سرمایہ کاری سے ہونے والے نقصان کا تعلق ہے، اس بابت ان کا خیال ہے کہ جب آپ نوجوان ہیں تو خطرے سے دوچار اثاثوں پر شرط لگانا 'عام اور بہت قابل قبول' ہے کیونکہ آپ کے پاس اس کو درست کرنے کا وقت ہوتا ہے۔

تاہم، ‘اصل سوال یہ ہے کہ وہ کتنے نقصان کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ 20، 30 یا 40 فیصد کیونکہ رواں سال کرپٹو کرنسیوں میں اس قسم کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ سرمایہ کاری کی گئی رقم کہاں سے آتی ہے۔

‘مثال کے طور پر اگر یہ وہ رقم ہے جس سے آپ کرایہ ادا کرنے والے ہیں اور آپ سے سرمایہ کاری لگاتے ہیں تو یہ جوا کھیلنے کے مترادف ہے اور پھر تو یہ ایک مسئلہ ہے۔’

لیکن انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کہ اگر آپ کے پاس پیسے ہیں اور آپ انتظار کر سکتے ہیں اور آپ نوجوان ہیں تو آپ خطرات لے سکتے ہیں اور یہ قابل فہم ہے۔’

تاہم، انھوں نے واضح کیا کہ ان کے مطالعے کے مطابق بہت سے نوجوان سرمایہ کاروں کے پاس ان طویل مدتی فوائد کو دیکھنے کے لیے ضروری صبر نہیں ہے۔

‘ہم سرمایہ کاروں سے پوچھتے ہیں کہ وہ کتنی بار اپنی سرمایہ کاری کی جانچ پڑتال کرتے ہیں تو بہت سے لوگوں نے بتایا کہ وہ ہفتے میں کم از کم ایک بار ایسا کرتے ہیں۔

‘اس بات نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ لوگ طویل مدتی سرمایہ کاری کرنے کے بجائے سٹاک مارکیٹ میں تجارت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے مجھے کچھ تشویش لاحق ہے۔’


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24124 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments