ایک ملاقات کی اندرونی کہانی اور این ٹی ایس قضیہ


اسلامی جمعیت طلبہ کی حقوق طلبہ مہم کے دوران ایک حکومتی ذمہ دار کے ساتھ وفد کے ہمراہ ملاقات تھی دیگر مسائل کے علاوہ انٹری ٹسٹ جو تازہ تازہ متعارف ہوا تھا پر بھی جمعیت کی تحفظات اور خدشات سامنے رکھے۔ دوران گفتگو ہم نے اپنی تئیں یہ جسارت جبکہ موصوف کے نزدیک یہ کہنے کی حماقت کر ڈالی کہ انٹری ٹسٹ والا تجربہ بھی ناکامی سے دوچار ہو گا۔ موصوف نے کرسی ہر سیدھا بیٹھتے ہوئے اور تیور چڑھا کر کچھ بلند آواز میں انکشاف فرمایا کہ اس نظام کے خالق تو وہ ”بقلم خود“ ہیں۔ اور پھر پورے دو سو کی رفتار سے بولتے ہوئے اس نظام کے فضائل بیان فرمانے لگے۔

ہم نے بھی موقع پاکر بلکہ اصل ”مجرم“ پکڑ کر دھلائی کی ٹھان لی۔
ہم نے بالکل سیدھا فائر داغتے ہوئے سوال پوچھا کہ
جناب، اس نظام کی آخر ضرورت ہی کیا پڑی؟

تفاخرانہ انداز میں بورڈز کی خراب ترین کارکردگی پہ ضرب لگاتے ہوئے اپنے شفاف نظام پہ دوسرا لیکچر دے مارا۔

عادت سے مجبور ہو کر ہم نے بھی سیدھا ایک سوال اور پھینکا بلکہ ایک باغیانہ لیکچر دیا کہ
محترم، دنیا میں رائج طریقہ یہ ہے کہ کسی نئے نظام لانے کا شوق پورا کرنے سے پہلے موجودہ نظام ہی کی تطہیر اور تعمیر کی جاتی ہے اور مایوسی کی صورت کسے نئے نظام کو تو ضرور آزمایا جاتا ہے لیکن موجودہ کو مکمل ختم کر کے ہی۔ سوال یہ ہے کہ کیا خراب ترین کارکردگی کا حامل بورڈ سسٹم کو ختم کیا گیا ہے یا وہ کھیل بھی جاری رہے گا اور ساتھ نیا میدان بھی سجایا جائے گا؟

فوری دوسرے سوال نے انھیں کرسی کے ساتھ ٹیک لگانے پہ مجبور کیا۔

کیا آپ کے تخلیق شدہ نظام کو چلانے کے لئے اسمان سے فرشتے لائے گئے ہیں کیونکہ بقول اپ کا بورڈ سسٹم تو نقل سے عبارت ہے اور ہماری معلومات، پکے شواہد اور تجربات کی روشنی میں اس تباہی کے ذمہ دار بورڈ اہلکار اور محکمہ تعلیم سے وابستہ حضرات ہیں اور ان ہی کل پرزوں پر آپ کا سسٹم بھی استوار ہو گا۔ دستیاب مال تو یہی ہے۔

جناب نے چشمے نیچے کرتے ہوئے بس اتنا سا فرمانے پر اکتفا کیا کہ
اپ جماعتی بھی بڑے کیڑے نکالنے والے ہیں۔
ہم نے بھی زیادہ گستاخی سے بچتے ہوئے آہستگی سے کہا کہ یعنی۔
پھر
چراغوں میں روشنی ہی نہیں رہی۔
رخصت کرتے ہوئے باقاعدہ کھڑے ہوکے ہمیں تھپکی دی اور فرمایا کہ بہت اچھے انداز میں اپنا مقدمہ پیش کیا۔
ہم نے بھی ازراہ مذاق کہا کہ
سرجی، جس دن اپ کا یہ تجربہ ناکام رہا تو ہمیں مٹھائی ضرور کھلائے گا۔
قہقہہ لگا کر فرمایا کہ
مٹھائی نہیں حلوہ۔
برادران عزیز کہنا یہ ہے کہ یہ صرف ایک NTS کا قضیہ نہیں بلکہ پورا آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔
ایٹا ٹسٹ ہے
این ٹی ایس ہے
پی ایم ڈی سی ہے
حتیٰ کہ مقابلے کے دیگر امتحانات اور نظام ہے ہر جگہ یہی کہانی ہے۔

عمران خان حکومت نے دیگر تبدیلیوں کے علاوہ نظام تعلیم اور امتحانات میں انقلابی تبدیلی کا دعوی کیا تھا لیکن تاحال کوئی بڑا قدم اٹھانا ہی کیا صرف ایک این ٹی ایس اور ایٹا ٹسٹ ان سے سنبھالا نہیں جا رہا۔

غیر معیاری پرچہ جات
پرچہ جات کا وقت سے پہلے ہی آؤٹ ہوجانا
نتائج کا تبدیل ہونا
غیر شفافیت و کرپشن
امتحانات کا بار بار منسوخ اور تبدیل ہونا
مس منیجمنٹ اور اس طرح کی دیگر شکایات تو بالکل عیاں ہے۔

یہ سارا کھیل پیسوں کے لیے ہے۔ ٹسٹ ایجنسیز، دیگر حکومتی اداروں اور ممبران و وزراء کا یہ منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ کم وبیش یہ سب کچھ پچھلی حکومتوں میں بھی ہوتا چلا آ رہا ہے لیکن دونوں ادوار میں ایک بنیادی فرق ضرور دیکھنے کو ملا ہے۔

پچھلی حکومتوں میں پیسے کے ساتھ ساتھ سیاسی سفارشیوں کا بھی کبھی کام نکل رہا تھا جبکہ اب کے بار لین دین مکمل دولت کا ہے۔ اپنے ہی پارٹی ورکرز کا کام بھی بغیر پیسوں کا ہونا دشوار ہے۔

کرپشن ختم کرنے کی دعویدار عمرانی حکومت میں لوٹ مار کا بازار گرم ہے اور رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت کے ہر سال میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کہہ رہا ہے کہ پاکستان کرپشن میں ایک نہیں دو نہیں پورے سولہ درجے ترقی کر کے 124 سے 140 پر آ گیا۔

Facebook Comments HS