اگر مجھے نکالا گیا بمقابلہ مجھے کیوں نکالا گیا؟


جب بظاہر طاقت کا سرچشمہ عوام ہو اور طاقت کے سر کے انکھوں پر چشمہ کوئی اور پہناتا ہو تو ایک وقت اتا ہے کہ وہ حقائق بھی نظر آ جاتے ہیں جو انکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ اس تسلسل سے بھری پڑی ہے اور ہر کوئی اس سے واقف بھی ہے لیکن یہ اقتدار کے حصول کا نشہ ہی ایسا ہے اور اس کی لالچ ہی ایسی ہے کہ اقتدار کے حصول کے دوڑ میں شامل ہونے والا فقط دوڑ دیکھتا ہے لیکن اس لمحے پر فوکس نہیں کرتا جس میں وہ سر کے بل گر بھی سکتا ہے۔

ہر مقتدر یہ سوچ کر اقتدار حاصل کرتا ہے کہ وہ اگر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نہیں تو خاصی طویل مدت یا پھر دو تین بار کے لئے تو ضرور اس اقتدار کی رعنائیوں کے چکا چوند میں اپنی انکھوں کو خیرہ کر جائے گا، بلا سوچے سمجھے کہ اقتدار کی اس چکاچوند سے انکھیں چندھیا بھی جا سکتی ہیں اور اپنے ہی قدموں کے چال میں لڑکھڑا کر گر بھی سکتا ہے۔ مجھے کیوں نکالا اور اگر مجھے نکالا گیا۔ دونوں نعروں کے خالق اپنے اپنے دور اقتدار میں مخلوق کے سہارے تو آئے لیکن مخلوق بھی تو محتاج ہے اور جو محتاجوں کے سہارے آئے اس کی طاقت کا سرچشمہ کس طرح سالم، محکم اور بے سہارا ہو سکتا ہے۔

لازمی بات ہے ”کوئی تو ہے جو یہ نظام سیاست اور نظام حکومت چلا رہا ہے۔“ ۔ خوشی میں کوئی دعا بد دعا یا گلے شکوے نہیں کرتا لیکن جونہی حالات پلٹا کھاتے ہیں تو وہ سب کچھ اگلنے لگتا ہے جو موصوف نے سازگار حالات کے دوران اپنے نظام انہضام میں سٹور کیا ہوا ہوتا ہے۔ مجھے کیوں نکالا کا نعرہ بھی سڑکوں پر اکر کیا گیا اور اگر مجھے نکالا گیا کا نعرہ بھی سڑکوں پر آنے کے لئے دھمکی آمیز فارمولاتی سیاسی نسخہ ہے۔ لیکن یہ نسخے آزمودہ کاروں پر نہیں آزمائے جا سکتے ہیں کیونکہ آزمودہ کار اس کا بندوبست پہلے سے کر چکے ہوتے ہیں اور اسی جڑی بوٹی سے دوسرا نسخہ فٹافٹ تیار کر لیتے ہیں جو اس سے بھی تیز اور بروقت اثر رکھتا ہے اور یہ نسخہ جس پر آزمایا جاتا ہے وہ ان ہی نعرہ لگانے والے کے بطن سے جنم لیتا ہے اور یہ نسخہ کھاتے ہی ان کا سارہ چھٹا بٹا کھول کے رکھ دیتا ہے۔ اور اس تمام عمل کو سیاسی اصطلاح میں اقتدار کی رسہ کشی کہتے ہیں۔

اب ہم آتے ہیں اصل مدعے پر۔ عوام کا خون نچوڑا جائے۔ عوام کو مہنگائی کے منوں بوجھ تلے دبایا جائے۔ عوام کو اٹے چینی دالوں اور سبزیوں سے محروم رکھا جائے۔ تنخواہ دار افراد کی تنخواہوں پر گزارہ نہ ہوتا ہو، عوام پر آئے دن منی بجٹ کی صورت میں آفات و بلائیں نازل کی جائیں۔ عوام کو صحت کے نام پر برائے نام صحت کارڈ کے آسرے پر چھوڑا جائے۔ عوام کو تفریحی مقامات پر سہولیات فراہم نہ کر کے موت کے منہ میں دھکیلا جائے۔

عوام کے ووٹ سے آئے ہوئے نمائندوں کو نظر انداز کر کے اپنے من پسند افراد کو وزیر مشیر بنا کر نوازا جائے۔ اپنا بینک بیلنس بڑھتا جائے اور عوام اپنی جیبیں پلٹا کر بھی اس سے دھیلا گرنے کی چھنک نہ سنے۔ عوام اپنی کچی آبادیوں اور آتھرائیزڈ جگہوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور حکمران اپنی جائیدادیں اونے پونے داموں آتھرائیزڈ کرائیں۔ عوام کے ہیروں شہیدوں کی زمینوں کو اونے پونے داموں با اثر افراد کوڑیوں کے دام خود اور فیملیز کے افراد کے درمیان بندر بانٹ میں مصروف عمل رہے ہوں۔

عوام کو دن دھاڑے ڈاکوں اور لٹیرے لوٹے۔ عام شاہراؤں پر خواتین کی عزت محفوظ نہ ہو وغیرہ وغیرہ اور پھر بندہ یہ توقع بھی رکھیں کہ باہر اکر میں اور خطرناک ہو جاؤں گا تو اس۔ کا مطلب یہ ہوا کہ ماضی سے کوئی سبق نہ سیکھا اور نہ سیکھنا چاہتے ہیں۔ ورنہ مجھے کیوں نکالا کے نعرہ مستانہ لگانے والے نے بھی یہی سوچا تھا کہ ان کے پیچھے عوام کا جم غفیر نکلے گا لیکن بقول ان کے جب پیچھے دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔ ان کو بھی اتنا ہی زعم تھا کہ لوگ ان کو واپس اکر اپنے کندھوں پر اقتدار کے ایوانوں تک لے کر جائیں گے لیکن پھر ان کو ائر پورٹ سے بھی منتیں کر کے واپس جا نا پڑا۔

عوام کے پاس کوئی طاقت نہیں، عوام کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ وہ کسی کو اقتدار پر بٹھائے یا اقتدار سے ہٹائے البتہ عوام کے پاس یہ سیاسی شعور ضرور ہے کی وہ ہر اس شخص کو جانتے پہچانتے اور دلوں پر نقش رکھتے ہیں جو ان سے ہاتھ کر جاتا ہے۔ لیکن ہر بار ان کے ساتھ ہاتھ ہو جاتا ہے کیونکہ عوام تبدیلی چاہتی ہے پبلک بدلاؤ چاہتی ہے عوام اپنی زندگیوں میں ارتقائی مناظر کے گردان کا گزران چاہتی ہے۔ جس کے بدلے ہر بار دھوکہ کھا کر اس بدلاؤ اور تبدیلی کے لئے کسی نجات دھندا کو اپنا راہنما سمجھ کر ہاتھ دے دیتے ہیں لیکن وہ راہنما ان کو بیچ چوراہے پر چھوڑ دیتے ہیں اور عوام نیلے اسمان کے چھت کے نیچے اپنی امیدوں کے سمندر میں خود کو ایک نئے ناخدا کے آنے تک مجھے کیوں نکالا اور اگر مجھے نکالا گیا کے کھوکھلے نعروں سے بے پروا ہو کر اور بغیر گھبرائے کنارے لگتے ہیں۔

Facebook Comments HS