تاریخ میرپور کے چند گمشدہ اوراق
میرپور شہر ایک قدیم تاریخی شہر تھا جو پچپن سال پہلے دریا جہلم پر بننے والے منگلا ڈیم کے پانیوں میں ڈوب گیا۔ ڈیم بننے کے بعد میرپور شہر اور اس کے نزدیکی دیہات کے علاوہ اندرہل کے سیکڑوں گاؤں بھی ڈیم میں غرق آب ہوئے۔ یہاں بسنے والے ہزاروں خاندان اجڑ گئے۔ اجڑنے والے شہر پھر دوبارہ کہاں اپنی اصلی حالت میں آباد ہوتے ہیں یہی حال میرپور شہر کا بھی ہوا۔ شہر اور قریبی دیہات میں بسنے والے کچھ لوگ تو بلا گاہلہ کی پہاڑیوں پر نئے بسنے والے میرپور شہر میں آباد ہوئے لیکن بہت سے دوسرے دیہات کے لوگوں کو فیصل آباد، جوہر آباد، گوجر خان اور دوسری مختلف جگہوں پر آباد ہونا پڑا۔
اگر میرپور شہر کو کسی قاعدے یا قانون کے تحت بسایا جاتا تو منگلا ڈیم کے کنارے آباد یہ شہر آج ایک جدید اور خوبصورت بستی کے روپ میں ہوتا۔ شہر کے ابتدائی پلان سے انحراف کر کے اس کو بے ہنگم طریقے سے بسایا گیا۔ بعد میں آنے والی شہر کی انتظامیہ نے شہر کے ابتدائی پلان میں بے جا تبدیلیاں کر کے اس کا ایسا حلیہ بگاڑ دیا کہ جس شہر کو منی لندن کا نام دیا جاتا ہے وہ لندن کے کسی گئے گزرے ایریا سے بھی مماثلت نہیں رکھتا۔
"تاریخ میرپور کے چند گمشدہ اوراق” اسی شہر پر لکھی گئی راجہ محمد شبیر کی کتاب کا نام ہے جو نومبر 2021 میں منظر عام پر آئی ہے۔ راجہ محمد شبیر سے میرا پہلا تعارف ایف ایم 92 ریڈیو سٹیشن کے سٹوڈیو میں ان دنوں ہوا، جب وہ یہ کتاب مرتب کر رہے تھے۔ سعودی عرب میں ملازمت کے دوران ان کو متعدد بار اللہ تعالی کے گھر کی حاضری نصیب ہوئی۔ دس سال سعودی عرب میں گزارنے کے بعد وہ وطن واپس تشریف لائے اور میرپور ایجوکیشن بورڈ میں ملازمت اختیار کی، ساتھ ہی ریڈیو پر مختلف پروگرام کرنا شروع کیے۔
چند سال قبل انہوں نے ریڈیو پاکستان میرپور کے سٹیشن ڈائریکٹر محمد شکیل کے تعاون سے میرپور شہر کی تاریخ کے حوالہ سے ریڈیو پروگراموں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا۔ ریڈیو پاکستان میرپور پر یہ پروگرام شروع کرنے کا بنیادی مقصد میرپور کی نئی نسل کو ان کی گمشدہ تاریخ کے بارے میں روشناس کرانا تھا۔ ان پروگراموں میں میرپور شہر کی تاریخ، رہن سہن اور بود و باش کے متعلق معلومات کے علاوہ علاقہ کی مشہور اور اہم شخصیات کا تعارف بھی پیش کیا گیا۔
1947 ء سے لے کر اسی کی دہائی تک بھمبر اور کوٹلی ضلع میرپور کی ہی تحصیلیں تھیں، جنھیں بعد میں ضلع کا درجہ دیا گیا۔ ان اضلاع کی تاریخ و تمدن، رہن سہن اور بود و باش کے علاوہ مشہور شخصیات بھی اس پروگرام کا حصہ بنے۔ ان پروگراموں میں کی گئی ریڈیائی تقاریر و گفتگو کو احاطہ تحریر میں لا کر ایک کتاب کی شکل دی گئی۔ راجہ محمد شبیر کی اس سلسلہ میں کی گئی تحقیق اور تقاریر کا یہ سلسلہ پچاس سے زائد پروگراموں پر محیط تھا۔
پروفیسر محمود حسین کے مطابق اس کتاب میں مصنف نے میرپور شہر کے محلوں، بازاروں، ڈھکیوں، کنوؤں، نالوں، باولیوں، مندروں، گردواروں، مسجدوں، قلعوں، تالابوں، تعلیمی اداروں، شخصیات، میلوں، ٹھیلوں اور مذہبی تقریبات کا ذکر کیا ہے۔ مصنف کی طرف سے حوالہ جات میں دی گئی کتابوں کے مصنفین اور اشاعتی اداروں کے نام کی کمی اور شخصیات کے انٹرویو میں تاریخ اور مقام کا اندراج نہ ہونے کی کمی کو میری طرح پروفیسر منیر یزدانی صاحب نے بھی محسوس کیا اور کتاب کے متعلق لکھے ہوئے اپنے مضمون میں اس کی نشاندہی بھی کر دی۔
کتاب کا آغاز میرپور شہر کے بارے میں مختصر احوال سے کیا گیا ہے۔ میرپور شہر ایک تاریخی اہمیت کا حامل شہر تھا اور جب تک اس کی تاریخ بیان نہ کی جائے اس شہر کے بارے میں لوگوں کو صحیح پتہ نہیں چلتا۔ یہ شہر کب آباد ہوا، کس نے آباد کیا، ابتدا میں اس شہر میں کون لوگ آباد تھے، ان کی زبان کیا تھی، خصوصاً 1940 ء سے پہلے کے میرپور شہر اور اس کے ارد گرد بسنے والے دیہات کے بارے میں مزید تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے جس کی کمی اس مضمون میں محسوس کی گئی۔
پرانے میرپور شہر اور اس کے نزدیکی دیہات کی سڑکوں کے کنارے اگے ہوئے خود رو بہکڑ اور پلائی کے پودوں کا ذکر تو مشہور ادیب کرشن چندر نے بھی اپنی کتاب ً میری یادوں کے چنار ً میں کیا ہے۔ 1947 سے پہلے میرپور شہر میں ہندو آبادی کی اکثریت تھی جبکہ مسلمان زیادہ تر شہر کے قریبی دیہات میں آباد تھے۔ تاریخ میں ہمیشہ سچائی بیان ہونی چاہیے کیونکہ تاریخ رنگ، نسل یا مذہب کو نہیں دیکھتی۔ کتاب میں میرپور شہر کے 1947 اور اس کے چند سال بعد کا ذکر موجود ہے لیکن اس بات کی تشنگی رہی کہ 1947 ء سے قبل شہر میں کون لوگ آباد تھے ان کا رہن سہن کیسا تھا۔
میرپور شہر کی طرف آنے جانے والے راستوں کا ذکر کتاب میں موجود ہے۔ شہر میں واقع محلوں، نالہ اور کھڈ اور ڈاب کی اہمیت بیان کرنے کے علاوہ شہر کے باغوں کی تفصیل بھی کتاب میں دی گئی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت کے میرپور شہر میں کافی تعداد میں باغ موجود تھے۔ موجودہ شہر میں ان باغوں کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ قریبی دیہات کی تفصیل بھی موجود ہے۔ جو لوگ نئے بسائے گئے میرپور شہر میں پیدا ہوئے ہیں ان کے لئے یہ تفصیل خاصی حیران کن ہو گی۔
میرپور میں بہت سے آثار قدیمہ موجود ہیں جن کی ایک تاریخی اہمیت ہے۔ ان میں علی بیگ کا گردوارہ، شہر میں رگوناتھ کا مندر، بھمبر شہر میں باولیاں و ہاتھی دروازہ اور کچھ سراؤں کا مختصر احوال دیا گیا ہے۔ چومکھ پرانے میرپور شہر کے نزدیک تجارتی اہمیت کا حامل ایک قصبہ تھا جس کا مختصر سا ذکر کیا گیا ہے۔ اس قصبے پر مزید تحقیق کے بعد ایک جامع مضمون کی ضرورت ہے۔
ماضی کے حکمرانوں نے ضلع میرپور میں بہت سے قلعے تعمیر کیے گئے جن کی اہم فوجی اہمیت تھی۔ ان قلعوں میں سماہنی کا قلعہ باغ سر، ڈڈیال کا رام کوٹ قلعہ اور منگلا قلعہ اور کوٹلی میں واقع قلعے شامل ہیں۔ بہت سی قدیم مساجد بھی موجود ہیں۔ ان قلعوں اور مسجدوں کا ذکر بھی کتاب میں سرسری طور پر کیا گیا ہے جبکہ یہ میرپور کا بہت اہم تاریخی ورثہ ہیں جن پر بھی مزید تحقیق و تحریر کی ضرورت ہے تا کہ نئی نسل ان مقامات کی تاریخی اہمیت کو جان سکے۔ بھمبر کے قلعہ باغ سر اور سیاکھ میں واقع قلعہ رام کوٹ پر بھی جامع مضمون لکھنے کی ضرورت ہے۔
منگلا قلعہ اور اس کے اردگرد کے علاقہ کی ایک خاص اہمیت ہے کیونکہ صدیوں قبل مشہور یونانی بادشاہ الیگزینڈر منگلا کے مقام پر دریا جہلم عبور کر کے کھڑی سے ہوتا ہوا راجہ پورس کی فوجوں پر پر حملہ آور ہوا تھا۔ راجہ پورس نے یونانی فوجوں کا بڑی بہادری سے مقابلہ کیا اور یہ جنگ دونوں کی باہمی رضامندی پر بغیر ہار جیت کے ختم ہوئی تھی۔ راجہ پورس کی بیٹی منگل کے نام پر منگلا قلعے کی تعمیر بھی کی ایک تاریخی روایت ہے۔
ماضی قریب میں منگلا قلعہ کھڑی کھڑیالی ریاست کا صدر مقام رہا ہے۔ اس کے حصول کے لئے سکھوں نے گجرات سے حملہ بھی کیا تھا۔ 1846 ء سے پہلے ریاست کھڑی کھڑیالی اور ریاست بھمبر کا علاقہ پنجاب میں شامل تھا جس کا ذکر بھی میرپور کی تاریخ میں ضرور آنا چاہیے تھا۔ ایسی ساری معلومات بھی منگلا قلعہ پر لکھے مضمون کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔
1947 ء سے پہلے میرپور سے شائع ہونے والے اخبارات و جرائد کی تفصیل بھی کتاب میں موجود ہے۔ راجہ محمد اکبر کی ادارت میں شائع ہونے والے ہفت روزہ سچ کے کاتب علاقہ کھڑی کے محمد یوسف ناظم تھے جو اس وقت سموال سکول میں استاد تھے۔ اگر میرپور کے موجودہ روزناموں کی تفصیل بھی دی جاتی تو معلومات میں اور اضافہ ہوجاتا۔
1932 ء میں چلنے والی عدم ادائیگی مالیہ کی تحریک میں میرپور شہر کے علاوہ علاقہ کھڑی، اندر ہل اور کھوئی رٹہ کے لوگوں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ مہاراجہ کے خلاف یہی تحریک بعد میں ریاست کشمیر میں سیاسی بیداری اور مسلم کانفرنس کے قیام کا سبب بنی۔ علاقہ کھڑی میں عدم ادائیگی مالیہ تحریک کا جلسہ کرنے والے افراد کو سکھ چین پور تھانہ میں بند کیا گیا۔ اس وقت علاقہ کھڑی میں سکھ چین پور اور سموال ہندو اکثریت کی آبادی کے گاؤں تھے۔
پیر صبح صادق شاہ اور کھڑی کے دوسرے سرکردہ لوگوں نے سکھ چین پور تھانہ جلا کر گرفتار لوگوں کو آزاد کرایا اور ہندووں کو قتل کیا جس کی پاداش میں بہت سے افراد کو گرفتار کیا گیا اور انہیں چھپن چھپن سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اسی طرح سیری کھوئی رٹہ میں بھی تشدد کے ایسے واقعات ہوئے۔ عدم ادائیگی مالیہ تحریک میں شامل سب لوگوں کو یاد نہ کرنا ان کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ اس پر مزید تحقیق و جستجو کی ضرورت ہے۔
دو سو چھپن صفحات پر مشتمل کتاب میں 116 صفحات میرپور کی شخصیات کے لئے مختص کیے گئے ہیں۔ مولانا عبد اللہ سیاکھوی، مولانا عبدالغنی ڈنڈے والے، پیر صبح صادق شاہ۔ سردار بدھ سنگھ، کرشن دیو سیٹھی، راجہ بڈھے خان اور الہی بخش چنیوٹی سمیت بہت سی اہم شخصیات کے متعلق لکھا گیا ہے۔ چوہدری خادم حسین اور چوہدری محمد اعظم ماضی قریب میں میرپور کی سیاست میں دو اہم نام تھے۔ کھڑی سے ہی تعلق رکھنے والے چوہدری محمد قاسم ظفر کا شمار میرپور میں صنعت اور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ میرپور شہر کی دوبارہ آبادکاری میں راجہ عدالت خان، چوہدری محمد عالم اور چومکھ کی مشہور شخصیت جسٹس قاضی عبدالغفور بھی میرپور کی اہم شخصیات تھیں۔ ان سب شخصیات کا ذکر کیے بغیر میرپور کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔
گورنمنٹ کالج میرپور پر ایک مختصر مگر جامع مضمون بھی کتاب کا حصہ ہے۔ گورنمنٹ کالج میرپور آزاد کشمیر کی ایک بہترین علمی درسگاہ ہے جہاں سے فارغ التحصیل طلبا کی ایک بڑی تعداد بہت اہم عہدوں پر فائز ہوئی۔ گو کہ ان سب کا ذکر اتنے مختصر مضمون میں ممکن نہیں تھا لیکن اپنی پسند کے نام دینے کی بجائے سینیئر طالب علموں کے ناموں پر اکتفا کیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا لیکن کالج میں تعینات رہنے والے پرنسپل صاحبان کے ذکر کے بغیر بھی مضمون مکمل نہیں ہوتا۔
منگلا ڈیم بنانے کے لئے میرپور شہر اور اس کے آس پاس آباد دیہاتوں کو بہت بڑی قربانی دینی پڑی۔ منگلا ڈیم کی تعمیر پر مضمون میں ڈیم کی تعمیر کی غرض و غایت، اس کی تعمیر کے ملک کی ترقی پر مثبت اثرات اور ڈیم بننے کے نتیجے میں میرپور شہر کے لوگوں کو پیش آنے والی مشکلات کا احاطہ کرنا بھی بہت ضروری تھا۔ لیکن ایک مختصر مضمون میں ان سب باتوں کا ذکر کرنا مصنف کے لیے بہت ہی مشکل تھا۔ اس پر ایک جامع مضمون کی ضرورت ہے۔
1947 ء کے ہنگاموں میں میرپور میں قائم ہونے والے ریفیوجی کیمپوں کا سرسری تذکرہ بھی کتاب میں شامل ہیں۔ حقیقتاً ً ان کیمپوں خصوصاً دتیال میں قائم ہونے والے کیمپ نے ان فسادات میں عورتوں اور بچوں کو بلوائیوں سے بچا کر انھیں پناہ دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ سیکڑوں خواتین اور بچیوں کو بلوائیوں کی دست و برد سے بچا کر ان کو کیمپوں میں پناہ دی گئی اور پھر انھیں حکومتی سطح پر ہندوستان روانہ کیا گیا تھا۔ ان کیمپوں کے بارے میں ایک مفصل مضمون بھی کتاب کا حصہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح پرانے میرپور سے نئے میرپور شہر کا سفر بہت سی تفصیلات کا متقاضی ہے۔ کتاب کے آخر میں دیے گئے مضامین تحریک کشمیر پر کتاب کا حصہ بننے چائیں۔ ان مضامین کی جگہ ان صفحات کا استعمال میرپور شہر اور علاقہ کی تاریخ پر مفصل مضامین کے لئے ہونا چاہیے تھا۔
ان چھوٹی چھوٹی تشنگیوں کے باوجود ً تاریخ میرپور کے چند گمشدہ اوراق ً راجہ محمد شبیر کی یہ ایک بہترین کاوش ہے۔ یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ دنیا جہاں کی باتیں کرنے اور پڑھنے لکھنے والے ہم جیسے لوگ اپنی ہی تاریخ، جغرافیے اور اپنی قابل قدر شخصیات سے ناآشنا ہیں۔ راجہ صاحب اس لحاظ سے مبارکباد اور شاباشی کے مستحق ہیں کہ انہوں نے تن تنہا میرپور کی تاریخ کے کچھ اوراق جمع کرنے کا کام سرانجام دیا۔ شہر کے بارے میں تفصیلات، معلومات اور حقائق جاننے کے لیے انھوں نے میرپور شہر پر دعوی اور حق جتانے والے بہت سے نامیوں کے دروازوں پر بار بار دستک دی اور مایوس ہوئے۔
چونکہ ان کی یہ کتاب ان کے ریڈیو پر پیش کیے گئے پروگراموں پر مشتمل ہے۔ ریڈیو پروگرام ہمیشہ مختصر دورانیے اور نپی تلی گفتگو پر محیط ہوتے ہیں۔ جبکہ تاریخ بیان کرتے وقت آپ کو سیاق و سباق کے علاوہ حوالہ جات اور دوسری تفصیلات بھی بیان کرنا ہوتی ہے اسی لئے انہوں نے کتاب کا نام بھی ً تاریخ میرپور کے چند گمشدہ اوراق ً رکھا ہے جس میں رہ جانے والے اوراق جوڑنے کی گنجائش موجود ہے۔ یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ میرپور کے متعلق اب تک بہت کم لکھا گیا ہے۔ راجہ شبیر صاحب کی میرپور پر لکھی گئی یہ کتاب پہلا ہوا کا جھونکا ہے جس پر انہوں نے بہت محنت کی ہے۔
میرپور شہر کے لوگوں کو اس کے لئے مصنف کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ کتاب لکھنے کے بعد اس کی طباعت بھی ایک بڑا تکلیف دہ مرحلہ ہے۔ اس زمانے میں اپنی محدود آمدنی میں سے اپنی جیب سے کتاب چھپوانے کے لیے خرچہ کرنا کتنا مشکل ہیں یہ آپ ہم جیسے سفید پوشوں سے پوچھئے۔ تاریخی کتاب لکھنا اور بھی جان جوکھوں کا کام ہے کیونکہ ایک معیاری کتاب لکھنے کے لیے سچے واقعات اور مستند تاریخی حوالہ جات کی کھوج ضرورت ہوتی ہے۔ میرپور میں بہت سے دانشور، صحافی اور گورنمنٹ کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ سینئر افسر بستے ہیں۔ ان سب کو چاہیے کہ وہ راجہ محمد شبیر کی یہ کتاب پڑھیں اور اس میں جو کمی رہ گئی ہے اس کی نشاندہی کریں۔ ان کے کام کو آگے بڑھانا اب ان سب کا فرض بنتا ہے بلکہ میرپور شہر کا ان سب پر قرض ہے جو انہیں میرپور شہر اور اس کی تاریخ کے بارے میں مزید تحقیقات اور جستجو کر کے اس پر کتاب لکھ کر اتارنا چاہیے۔


