کورونا وائرس کی تباہ کاریاں
سال 2019 شروع ہونے سے پہلے کسی کو یہ خبر نہیں تھی کہ دنیائے عالم میں ایک وائرل جنگ شروع ہونے والی ہے۔ جہاں ہر طرف ایک وائرس کی وجہ سے تباہی و بربادی ہو جائے گی۔ سکون و چین ختم ہو کر رہ جائے گا۔ لمحہ بھر میں پوری دنیا کی معیشت کی ساکھ بیٹھ جائے گی۔ اسٹاک ایکسچینج تاش کے پتوں کی طرح گرنے لگے گا۔ ہر طرف بے سکونی انتشار کا عالم ہو گا۔ لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ جائیں گے۔ ایک ہی گھر میں رہ کر ایک دوسرے سے ملنے کے لیے ترسنے لگیں گے۔ کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ کبھی ایسا بھی دن آئے گا یورپ سے لے کر ایشیا تک ہر انسان پریشان ہو گا۔ خدائی مدد کا منتظر ہو گا۔ لیکن اللہ نے اپنے بھٹکے ہوئے انسانوں کو بتایا کہ میں ہوں۔ میری موجودگی کو جانو۔ مجھ سے مدد مانگو۔ ہر انسان واسطہ بالواسطہ اسی کے آگے سر بسجود تھا۔ پھر اللہ کی مدد سے ہی ویکسین بنائی گئی۔ لیکن کورونا کے نئے نئے ویرینٹ اب بھی آرہے ہیں جو ہمیں متنبہ کر رہے ہیں کہ اے ابن آدم اب بھی وقت ہے سنبھل جاؤ۔ چلیں جانتے ہیں کہ آخر یہ کووڈ 19 ہے کیا؟ کیسے پھیلا؟
ڈبلیو ایچ او ( ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ) کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس پہلے سے موجود وائرس کا ایک گروپ ہے۔ یہ وائرس پہلے بھی 2003 میں چائنہ میں ایک سارس وائرس کے نام سے آیا تھا۔ یہ وائرس بلیوں سے پھیلا تھا اور اس نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی تھی۔ پھر اس کے بعد 2012 میں سعودیہ میں مرس کے نام سے یہ وائرس آیا تھا جو کہ اونٹ سے پھیلا تھا۔ اس کے بھی بہت برے اثرات عالمی دنیا اور اس کی معیشت پہ مرتب ہوئے تھے۔ یہ دونوں وائرس کورونا وائرس کی ہی اقسام تھیں۔ ان کو بھی کرونا کا نام اس لئے دیا گیا تھا کہ اس کی ساخت بھی کراون جیسی تھی جیسا کہ کووڈ 19 کی ساخت ہے۔
کووڈ 19 کی شروعات چائنہ کے صوبے ووہان سے ہوئی۔ اس کو ناول کرونا کا نام دیا گیا۔ کرونا کا پہلا کیس 31 دسمبر 2019 کو ووہان میں رپورٹ کیا گیا۔ یہ وہاں کے ایک مچھلی بازار سے پھیلا۔ وہاں کام کرنے والے اک شخص میں اس کی تشخیص ہوئی اس کے بعد ہی کچھ دن میں یہ وہاں کے مقامی لوگوں میں پھیلنا شروع ہو گیا۔ چائنا کی حکومت نے بروقت اقدامات کیے اور پورے شہر کو لاک ڈاؤن کر کے بند کر دیا۔ لیکن یہ وائرس اپنی تباہ کاری پھیلا کے کئی لوگوں کی زندگی نگل گیا تقریباً دو ماہ کی سخت ایس او پیز اور لاک ڈاؤن کے بعد ووہان میں ان مریضوں کی تعداد کی روک تھام ہوئی۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ وائرس چائنا سے نکل کر پوری دنیا میں پھیلتا چلا گیا۔ 26 فروری 2020 کو کرونا چائنا سے نکل کر پوری دنیا میں تباہی مچانے کے لیے پھیل چکا تھا۔ جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ اپنی جان کی بازی ہار گئے
26 فروری 2020 میں پاکستان میں کرونا کا پہلا کیس رجسٹرڈ کیا گیا تھا۔ ڈاکٹرز کے مطابق کرونا کی خاص علامات میں بخار کا ہونا کھانسی سانس لینے میں دشواری کا ہونا نمونیا شامل ہیں۔ کرونا انسانی گردوں اور پھیپھڑوں کو بھی متاثر کرتا ہے اور انسانی آنتوں پہ بھی مضر اثرات مرتب کرتا ہے۔ کچھ لوگوں میں یہ شدید اثرات دیتا ہے لیکن کچھ لوگوں میں یہ ہلکے اثرات ظاہر کرتا ہے۔ کرونا کے مریضوں میں بخار مستقل رہتا ہے، کھانسی ہوتی ہے، سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے، آکسیجن لیول نارمل نہیں رہتا ہے، پٹھوں میں کھچاؤ محسوس ہوتا ہے، سونگھنے کی اور چکھنے کی حس بھی کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ اور مریض اپنے آپ کو کمزور اور لاغر محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اعصابی طور پہ کمزور افراد کو یہ مرض جلدی شکار کرتا ہے۔ اس کی تشخیص کے لئے جو ٹیسٹ کیا جاتا ہے اس کو پی سی آر پولی میریس چین ری ایکشن۔ کہتے ہیں۔
اگر کسی کا پی سی آر پوزیٹو آ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اس فرد میں کرونا کے جراثیم موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق جن لوگوں میں کورونا کے اثرات نمایاں ہوجائیں تو فوری ٹیسٹ کروائیں اور ایسے لوگوں کو دس دن آئسولیشن اختیار کرنا چاہیے۔ سماجی تعلقات ترک کر دیں۔ وٹامن سی کا زیادہ سے زیادہ استعمال رکھیں۔ صفائی کا خاص خیال رکھیں ماسک پہنیں۔
ماہرین کے مطابق چار سے پانچ دن کے بعد کرونا کا مریض ریکور کرنا شروع کر دیتا ہے۔ لیکن کچھ مریضوں میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ ریکوری کے دنوں میں پانچویں چھٹے دن علامات دوبارہ ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اور اسی دوران پھیپھڑوں پر بھی اثرات ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں کے گردوں پر بھی اس وائرس کا اثر ہوتا ہے۔ لیکن عموماً عام مریضوں میں پانچویں چھٹے دن کرونا سے ریکوری شروع ہوجاتی ہے۔ شروع میں ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ 14 دن آئسولیشن اختیار کرنی چاہیے اگر کسی کا کرونا کا ٹیسٹ مثبت آئے تو۔ لیکن اب ڈاکٹرز کا کہنا یہ ہے کہ دس دن میں کرونا کا مریض صحت یاب ہونے لگتا ہے۔
کرونا کے ختم ہونے کے بعد بھی کرونا وائرس ڈیڈ حالت میں انسان کی جسم میں شامل رہتا ہے۔ اس لئے آئسولیشن کے بعد دوبارہ ٹیسٹ کروانے کو بھی اب ڈاکٹرز ضروری نہیں سمجھ رہے ہیں۔ آئسولیشن کے دوران زیادہ سے زیادہ غذائیت والے کھانا کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مریض روزانہ اپنا آکسیجن لیول چیک کرتے رہے۔ کرونا کے مریضوں میں چار سے پانچ فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑتی ہے اسے پسند لوگ آئسولیشن کے چوتھے پانچویں دن کے بعد ریکوری کی طرف چلے جاتے ہیں انہی میں سے کچھ شدید اثرات والے پیشنٹ ایسے بھی ہیں جو آکسیجن لگا کر ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ دو سے تین پرسنٹ مریض کرونا کے ایسے ہیں جو اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے اور کرونا کے وار کو برداشت نہیں کر پاتا۔
جب دنیا عالم پر اس وبا نے اثر کیا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ پوری دنیا کو ہلا کے رکھ دے گا۔ پوری معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔
کرونا سے بچنے کے لئے ویکسین کی تیاری کی گئی اور پھر ویکسینیشن کا عمل شروع کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق کورونا سے بچنے کا آسان حل ہے سماجی فاصلہ قائم رکھیں، ماسک پہنیں، بار بار ہاتھ دھوئیں، سینی ٹائزر استعمال کریں اور اعصابی نظام کو مضبوط کرنے والی غذاؤں کا استعمال کریں۔
پاکستان میں بھی کورونا کی پہلی لہر نے بہت نقصانات کیے لاکھوں جانیں گئیں۔ لاک ڈاؤن لگانے کی وجہ سے معیشت بدحالی کا شکار ہو گئی جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگاری کا شکار ہوئے۔ اور اب تک معیشت تاش کے پتوں کی مانند بکھری ہوئی ہے جس کی وجہ سے مہنگائی اپنے عروج پہ پہنچ گئی ہے۔
پاکستان میں ویکسینیشن کا عمل اب تک جاری و ساری ہے۔عوام کی غفلت اب بھی برقرار ہے۔ ایس او پیز کا کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔ 2019 سے لے کر 2022 جنوری تک کورونا کی پانچ لہریں آ چکی ہیں جو ہر پرانی لہر سے زیادہ طاقتور ثابت ہو رہی ہیں۔
کرونا سے بچاؤ کے لئے آٹھ ویکسینیشن لگائی جا رہی ہیں جس میں موڈرنا، فائزر، سائنوویک زیادہ کامیابی سے لگائی جا چکی ہیں اب تک لاکھوں لوگوں کو۔ 2019 سے لے کر 2022 تک ناول کرونا وائرس کی پانچ لہریں کرہ ارض کو تباہی کا نشانہ بنا چکی ہیں۔ جن میں افریقی اومیکرون۔ انڈیا سے سونامی۔ قبرص سے ڈیلٹا پلس ویرینٹ آ چکے ہیں۔
کرونا کا ہر وار پچھلے وار سے زیادہ جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ یہ وائرس دن بدن اپنی ہیئت و شکل تبدیل کر رہا ہے۔ اور اب تک اس کے بارے میں بہت زیادہ معلومات نہیں مل سکی ہیں۔ ویرینٹس ویکسین شدہ لوگوں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے لیکن ان پر اس کے اثرات کم ہے۔ لوگوں میں ویکسینیشن کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اور ساتھ ہی تیسری ویکسینیشن لگانے کا سلسلہ بھی شروع کیا جا چکا ہے۔ اس وائرس کی تبدیل ہونے والی ہر شکل سے بچاؤ کا واحد حل اب تک صرف احتیاط ہے۔ ویکسین لگوانا ہے۔ ایس او پیز پر مکمل عمل کرنا اور سماجی فاصلہ بنائے رکھیں۔ صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ کیوں کہ صرف لاک ڈاؤن لگانا اس کا واحد حل نہیں ہے۔ ہماری معیشت کی بدحالی ہمیں مزید اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔ ہمیں اپنی عوام کو ذمہ دار شہری بنانے کے لئے آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ اور خود بھی ایک ذمہ دار شہری بننے کی ضرورت ہے۔ ورنہ اس وائرس کی بڑھتی ہوئی تباہ کاریاں ہمیں تباہی کے دہانے تک لے جائیں گی۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناتے ہمیں چاہیے صفائی کو اپنی زندگی کا جز اور عادت بنا لیں۔ ان احتیاطی تدابیر کو اپنی زندگی میں شامل کر کے ہم خود کو اور اپنے عزیزواقارب کو اس وائرس کے مضر اثرات سے بچا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے ڈاکٹرز پیرامیڈیکل اسٹاف اور اس وائرس سے لڑنے والے ہر شخص کی کاوشوں کو سراہنا چاہیے۔ کیونکہ کرونا کی شرح کنٹرول کرنا ہوتی ہے لیکن کچھ عرصے بعد ہی وائرس کا نیا ویرینٹ سامنے آ جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں ہر حال میں ثابت قدم رہتے ہوئے ایس او پیز پر عمل پیرا رہنا ہے۔ اور اپنی زندگی میں شامل کرنا ہے۔


