جرائم اور عدم تحفظ: گمبھیر انسانی معاملہ

کسی بھی ملک کی انسانی سیکورٹی کی صورت حال کا اندازہ جرائم کی شرح سے کسی بھی قسم کی رپورٹ سے لگایا جاتا ہے۔ عمومی طور پر تجزیہ کے لئے جرائم کی شرح کو ایک لاکھ نفوس پر منقسم کر کے جرائم کی تعداد طے کی جاتی ہے۔ کسی بھی ملک کے حالات اور سماجیات دوسرے ملک سے قطعی مختلف ہوتے ہیں، اسی طرح جرائم کی وجوہ بھی بہت سے عوامل سے جڑی ہونے کے باعث ریکارڈ کا حصہ بنتی ہے۔ عموماً جرائم کی وجوہ میں غربت کی بلند سطح، بے روز گاری جرائم کی شرح کو بڑھانے کا سبب اور قانون کے نفاذ کے لئے سیکورٹی اداروں کا عملی کردار اور سخت سزائیں جرائم کی کمی شرح کو کم کرنے کے رجحان میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
عالمی جائزہ رپورٹوں میں زیادہ جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کی عمریں 20 سے 30 برس کے درمیان ہوتی ہیں، امریکہ میں جرائم کی مجموعی شرح 47.70 ہے۔ امریکہ میں گزشتہ 25 برسوں میں پرتشدد جرائم کی شرح میں نمایاں کمی بتائی جاتی ہے، لیکن امریکی ریاستوں میں جرائم کی شرح کی وجوہ مختلف ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ بھی ہے۔ الاسکا، نیو میکسیکو اور ٹینیسی جیسی ریاستوں میں مائن، نیو ہیمپشائر اور ورمونٹ میں جرائم کی شرح بہت زیادہ بتائی جاتی ہے جب کہ دنیا کی سب سے کم جرائم کی شرح سوئٹزر لینڈ، ڈنمارک، ناروے، جاپان اور نیوزی لینڈ میں ان کے مقابلے میں کم ہے۔ جرائم کی شرح کی کمی و بیشی کا اہم محرک موثر قانون نافذ کرے والے ادارے ہیں۔ ڈنمارک، ناروے اور جاپان نے اپنے معاشرے کو قانون کا سخت پابند بنانے کے لئے قوانین کی رٹ کو قائم بھی کیا ہے۔
ورلڈ کرائم انڈکس کے مطابق براعظم جنوبی امریکہ میں واقع وینزویلا جرائم کا انڈیکس 83 اعشاریہ 76 کے ساتھ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ زیر زمین 300 اعشاریہ 787 ملین بیرل تیل محفوظ رکھنے والے ملک کو امریکی محکمہ خارجہ کی ٹریول ایڈوائزری کے لیول 4 کے مطابق اپنے شہریوں کو وینزویلا کے سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ وینزیلا میں جرائم کی شرح بڑھنے کے اسباب میں بدعنوان حکام، عدلیہ کا ناقص نظام اور پرتشدد رجحانات قرار دیے جاتے ہیں۔
پاپوا نیو گنی جزیروں پر مشتمل ملک ہے، اس کا دارالحکومت پورٹ مورسبی ہے۔ آٹھ کروڑ 93 لاکھ پانچ ہزار نفوس کا یہ ملک 80 اعشاریہ 79 پوائنٹس کے ساتھ دنیا میں دوسرے نمبر ہے، گینگ وار، پرتشدد واقعات، مجرمانہ سرگرمیاں، کم تعلیم اور روزگار کے محدود مواقع نے بدعنوانی کے ساتھ جرائم کی شرح میں اضافہ کیا ہے۔ بالخصوص منشیات اور انسانی اسمگلنگ میں پاپوا نیو گنی پرکشش شمار کیا جاتا ہے۔ ، جنوبی افریقہ 76 اعشاریہ 86 انڈکس پوائنٹ کے ساتھ دنیا میں سب سے زیادہ جرائم کی شرح رکھنا تیسرے نمبر پر آنے والا ملک ہے۔
جنوبی افریقہ میں جرائم کی شرح میں عصمت دری، ٹارگٹ کلنگ، پرتشدد واقعات میں اضافہ ہے، جنوبی افریقہ کی میڈیکل ریسرچ کونسل کے سروے کے مطابق 4 میں سے 1 سے زیادہ مردوں نے عصمت دری کا اعتراف کیا۔ دنیا میں جرائم کی اضافی شرح کے پیمانے پر ، افغانستان 76 اعشاریہ 31 پوائنٹس کے ساتھ دنیا میں چوتھے نمبر پر موجود ہے، افغانستان میں زیادہ تر جرائم کا تعلق بدعنوانی، منشیات کی اسمگلنگ، اغوا اور منی لانڈرنگ سے ہے۔ تاہم 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جرائم کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے، لیکن سال 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان دنیا کو 85 فیصد افیون سپلائی کرنے ملک رہا ہے۔
افغان طالبان کو اس وقت معاشی بحران کا سامنا ہے، اگر حالات تبدیل نہ ہوئے تو ملک میں جرائم سمیت کئی غیر قانونی عوامل بڑھنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر جرائم کی بلند شرح میں مرکزی امریکا کا ہسپانوی زبان بولنے والا ہونڈوراس 74 اعشاریہ 54 پانچویں نمبر پر ہے۔ 9 کروڑ 26 لاکھ 5067 افراد پر مشتمل ملک کو امریکہ میں منشیات کا ایک بڑا راستہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ جرائم کی نوعیت میں گینگ وار کے نتیجے میں روزانہ کی بنیاد پر 18 سے 20 افراد قتل کے واقعات رونما ہوتے تھے۔ امریکہ محکمہ خارجہ کی ایڈوائزری کے لیول 3 کے تحت مسافروں کو ہونڈوراس کا دورہ کرنے کا انتباہ جاری کیا ہوا ہے۔ جمہوریہ ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو براعظم امریکہ کا ملک ہے جو بحیرہ کیریبین کے جنوب میں وینزیلا سے محض 11 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔
ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو 71 اعشاریہ 63 پوائنٹس کے ساتھ دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے۔ اس ملک کو جرائم کی مختلف نوعیت میں نوکر شاہی کی مزاحمت، گینگ وار، منشیات، معاشی کساد بازاری، اور غیر قانونی ہتھیاروں کی بڑی اور آزاد منڈی کو طور پر دیکھا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ایڈوئرزی لیول میں اسے لیول 2 پر رکھتے ہوئے مسافروں کو زیادہ احتیاط برتنے کی ہدایات جاری کیں، جس میں زیادہ تر جیب تراشی، حملہ، چوری اور دھوکہ دہی کے معاملات زیادہ بتائے گئے ہیں۔
، گیانا جنوبی امریکہ کے شمالی ساحل پر ایک ایسی مملکت ہے جس کی سرحدیں وینزیلا، سرینام اور برازیل سے ملتی ہیں۔ گیانا 68 اعشاریہ 74 پوائنٹس پر بلند شرح جرائم کے ساتھ دنیا میں ساتویں نمبر پر ہے۔ یہاں قتل کی شرح امریکہ سے چار گنا زیادہ ہے، آتشیں اسلحہ کے غیر قانونی اور جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے عام استعمال سمیت گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ، کمزور قوانین، مسلح ڈکیتیوں اور ہوٹلوں میں سیاحوں کے ساتھ بدسلوکی اور تھوڑ پھوڑ کے واقعات اور حملوں میں اضافے کے سبب دارالحکومت جارج ٹاؤن کو غیر محفوظ اور مجموعی طور پر پورے ملک میں جرائم کی شرح میں لاقانونیت کو اہم سبب قرار دیا جاتا ہے۔
وسطی امریکہ کا سب سے چھوٹا اور گنجان آباد ملک ایل سلواڈور 67 اعشاریہ 79 پوائنٹس پر آٹھویں نمبر پر ہے۔ یہاں جرائم کی نوعیت میں گینگ وار ہے جو سماجی تشدد میں ملوث ہونے کے علاوہ منشیات فروش گروہوں اور علاقائی تنازعات اہم اسباب میں شمار کیے جاتے ہیں۔ بے روزگاری کی بلند ترین سطح اور کم اجرت نے پس ماندگی میں اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے ڈکیتی، چوری بالخصوص گاڑی چھیننے کے بڑھتے واقعات سب سے زیادہ عام ہیں۔ برازیل 67 اعشاریہ 49 پوائنٹس پرتشدد واقعات کے ساتھ غیر معمولی شرح کے ساتھ جرائم کی شرح میں دنیا کے نویں نمبر پر آنے والا ملک ہے۔ 2020 میں برازیل 23.6 قتل فی ایک لاکھ باشندوں کے حساب سے بلند رہی۔ حریف گروپوں کے درمیان تشدد ایک معمول سمجھا جاتا ہے منشیات کی سمگلنگ، بدعنوانی اور گھریلو تشدد برازیل میں مسائل کا سب سے گمبھیر معاملہ ہے۔
بنگلہ دیش جرائم کی بلند شرح میں 63.9 پوائنٹس کے ساتھ عالمی فہرست پر 17 ویں نمبر، ایران 49.38 پوائنٹس پر 48 ویں، عراق 48.42 میں 53 ویں، امریکہ 47.81 پوائنٹس کے ساتھ 56 ویں، بھارت 44.43 کے ساتھ 71 واں، نیوزی لینڈ 42.88 پوائنٹس کے ساتھ 77 ویں اور پاکستان عالمی سطح پر بلند شرح کے 42.51 پوائنٹس کے ساتھ 79 ویں نمبر پر آتا ہے۔ 137 ممالک پر ترتیب دیے جانے والے جرائم میں اضافے کی اس فہرست میں 136 نمبر متحدہ عرب امارات کا نمبر 15.23 پوائنٹس کے ساتھ 136 ہے اور کم ترین جرائم کا شکار ملک قطر ہے جو 137 ویں نمبر پر 12.13 پوائنٹس پر آیا ہے۔
عالمی شرح کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے کہ لاقانونیت، قانون کی رٹ قائم نہ ہونے کی وجہ سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے عام انسان کی زندگی کو تحفظ فراہم کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔ انسانی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ تربیت اور نظام انصاف کا موثر و فعال کردار سب سے اہم خیال کیا جاتا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر جدید دور میں دستیاب سہولیات کا غلط استعمال کر کے عام انسانی تحفظ کو بھی مشکل بنا رہے ہیں۔
بدعنوانی، منشیات کی اسمگلنگ، اغوا اور منی لانڈرنگ، ڈکیتی، چوری، بے روزگاری، نوکر شاہی کی مزاحمت، گینگ وار، منشیات، معاشی کساد بازاری، اور غیر قانونی ہتھیار، جیب تراشی، حملہ، چوری اور دھوکہ دہی، سماجی و گھریلو تشدد اور پرتشدد واقعات، مجرمانہ سرگرمیاں، کم تعلیم ایسے نمایاں جرائم ہیں جن سے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے تکنیک، پیشہ ورانہ استعداد کار، قابلیت، اہلیت اور مخلص اہلکاروں سمیت کمیونٹی کی سطح پر محافظ کمیٹیاں وغیرہ بنانے سے انسانی تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
سیکورٹی فورسز کے تمام اداروں کی باہمی ربط سے انٹیلی جنس ذرائع کا مربوط ہونا بھی ناگزیر ہے۔ قومی سلامتی پالیسی میں انسانی تحفظ کے لئے بیشتر مسائل پر قابو پانے کے لئے کیمونٹی کی سطح سے لے سیکورٹی ہائی پروفائلنگ تک مصدقہ اطلاعات پر ٹارگٹڈ کارروائیاں اور فوری انصاف ہی کارآمد ہو سکتا ہے۔ عالمی سطح پر مبنی جرائم کی بلند شرح کی وجوہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ناممکن نہیں ہو گا کہ کیمونٹی کے ساتھ مل کر سیکورٹی فورسز، ریاست اور حکومت انسانی تحفظ کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

