مذہبی قبائلیت


قبائلی ساختار نے انسانی تاریخ پر ایک لمبا عرصہ حکمرانی کی ہے۔ اس لیے سماجی لاشعور میں اس کی باقیات ابھی تک ہیں اور نجانے کب تک رہیں گی۔

آسمانی مذاہب اور بالخصوص اسلام انسان کو اعلی اقدار کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ تاہم قبائلی ذہنیت اسے کنٹرول کر کے اپنے مخصوص مزاج میں ڈھال لیتی ہے۔ یوں مذہب اپنے اصولوں سے تو ہاتھ دھوتا ہی ہے۔ اس کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے اور یوں وہ اسی مزاج میں پھنس کر بے بسی سے ہاتھ پاؤں مارتا رہ جاتا ہے پر کر کچھ نہیں پاتا۔

قبیلے کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ پیدائشی حق پر مبنی ہوتا ہے۔ البتہ عرب قبائل کی حد تک تو میں جانتا ہوں کہ مختلف قرار دادوں کے ذریعے بھی بعض لوگ قبیلے کا حصہ بن جاتے تھے۔ پھر بھی عام طور پر قبائلی حقوق پیدائشی حق پر مبنی ہوتے ہیں۔

فرقوں میں بٹے مذاہب میں بھی یہ چیز واضح نظر آتی ہے کہ وہ پیدائش ہی سے انسان کو خاص انداز میں لکھت پڑھت سکھاتے ہیں، جس کی وجہ سے بچوں کا مزاج خاص طور طریقوں پر بنتا ہے، اور یوں وہ اپنے پرائے کے اسی تصور کو لے کر بڑے ہوتے ہے۔ یوں اسلام کی جامعیت شروع سے کھڈے لائن لگتی ہے۔

قبیلے میں دوسری خصوصیت یہ پائی جاتی ہے کہ حق و حقیقت کا معیار قبائلی روایات و اقدار ہوتی ہیں۔ افراد کی غلطیاں فقط قبیلے کے اندر ونی حدود میں غلطی شمار ہوتی ہیں، لیکن باہر کی نسبت سب ان غلطیوں کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں اور انصر اخاک ظالما او مظلوما کی بنیاد پر قبیلے کے افراد کی کوئی غلطی غلطی نہیں مانی جاتی۔

فرقوں میں بٹی اقوام کے علمی معیار بھی اسی قبائلی ذہنیت کے تابع ہو جاتے ہیں اور افکار کی تگ و دو اسی حد تک رہتی ہے۔ سب کچھ اپنے فرقے میں حق مانا جاتا ہے اور دوسروں کی طرف سے آنے والی کسی بھی بات کو اجنبی /غلطی/شبہ مان کر ٹال مٹول کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ عام ذہنیت ہے۔ مثلاً بہت سے تاریخی واقعات کو صرف اس بنیاد پر رد کر دیا جاتا ہے کہ وہ بعض فرقوں کے نظریات سے میل نہیں کھاتے۔

فرقوں کی اخروی نجات کے انحصار کا تصور بھی شاید اسی ذہنیت کا نتیجہ ہے، کوئی بھی فرقہ ہو وہ اپنے بارے میں نجات کا تصور رکھے ہوئے ہے اور مخالف فرقہ کو گمراہ، بدعتی، کافر اور جہنمی تصور کرتے ہیں۔

اصلاح پسند مسلمان دانشور اب اس نکتے کا ادراک کر چکے ہیں کہ اسلامی تاریخ و ثقافت میں فرقہ وارانہ روایت اسی نجات کے محدود تصور سے چلی ہے۔ جب تک کوئی فرقہ اپنے لیے الگ نجات کا تصور نہ رکھتا ہو وہ فرقہ نہیں بنتا۔ جس کی وجہ سے ہر فرقہ فقط اپنے آپ ہی کو نجات یافتہ بتلاتا ہے۔ طرفہ یہ ہے کہ فرقے کے ترجمان اپنے فرقے کے فضائل کے بیان میں اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو گمان ہونے لگتا ہے کہ اسی انتساب میں ہی نجات ہے۔

قبیلے میں تیسری خصوصیت انتقام جوئی کی پائی جاتی ہے۔ جب تک مخالف قبیلے سے انتقام نہ لے لیں چین سے نہیں بیٹھتے۔ یہاں حق و باطل کا معیار نہیں چلتا، بلکہ انتقام ہی انتقام ہوتا ہے جس کی آگ قبائل کو متحرک رکھتی ہے۔ فرقوں کی آگ میں بٹے مذاہب کے اندر یہ کیفیات بہت حد تک رسوخ کر چکی ہیں اور اپنے سابقین و اسلاف کی نسبت سے کیے جانے والے ظلم کا انتقام، مخالف قبیلے (فرقے ) کی موجودہ نسلوں سے لینے کے چکر میں رہتے ہیں۔

قبیلے کی چوتھی خصوصیت تفاخر و تکاثر ہے۔ یہ کثرت اور فخر کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں۔ افراد و اموال کی کثرت پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

مسلمان فرقے بھی زمانے کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ « پدرم سلطان بود » والی ذہنیت کا بہت حد تک شکار ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اپنے آباء و اجداد یعنی مذہبی اسلاف اور شخصیات پر فخر محسوس کرنا اور انہی کے قصے کہانیاں سن کر تسکین کا سامان فراہم کرنا اہم ترین مذہبی مشغلہ سمجھا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ مختلف طریقوں سے اپنے فرقے کی تعداد میں اضافہ کرنا اور گروہی قوت میں اضافے پر فخر محسوس کرنا ایک طرح سے سواد اعظم بننے کی کوشش کرنا ہر فرقے کا مشغلہ بن چکا ہے۔ معروف تاریخی شخصیات کو اپنے مذہب سے وابستہ کرنے کی کاوشیں بھی شاید اسی ذہنیت کا حصہ ہیں۔

قبیلے کی پانچویں خصوصیت اس کے رسوم و رواج ہوتے ہیں۔ ہر قبیلہ مخصوص قسم کے رسم و رواجوں میں بند ہوتا ہے۔ اور انہیں وہ بغیر کسی سوچ بچار کے انجام دیتے ہیں۔ کوئی سوال اٹھانے کی کوشش نہیں کرتا کہ یہ رسم و رواج کس حد تک منطقی ہیں۔ مثلاً بعض قبائل کو گھر بنانے کی عادت نہ تھی تو ہزاروں سال تک وہ غاروں میں پناہ گزین رہے، کسی نے یہ تک نہ پوچھا کہ اس زندگی کو تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

فرقوں میں بھی شلوار باندھنے سے لیکر، لباس اور پگڑی کے رنگوں تک، غمی خوشی سے لے کر مساجد تک سب کچھ بٹا ہوا ہے۔ کوئی بھی سوال اٹھائے تو اسے آرام سے دوسرے قبیلے (فرقے ) کا ترجمان قرار دے کر بھگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر نہ بھاگے تو مزید کسی طریقے سے اس کی آواز دبا دی جاتی ہے۔ لیکن اصل مسئلہ ویسا ہی رہتا ہے کہ عام طور پر رسوم و رواج کی ترجمانی کرنے والے ہی اس قبیلے (فرقے ) کے اصل حامی شمار ہوتے ہیں۔

قبائل کے شعرا ء، ثناء خوان اور مداح بھی اپنے اپنے ہوتے تھے۔ ہر قبیلے کا شاعر اپنے قبیلے کی خوبیاں گنواتے گنواتے تھکتا نہ تھا، اور پھر دوسرے کی ہجو ایسی کہ مٹی پلید کر کے رکھ دینا۔ یہی رسم آج فرقوں میں بٹے مذاہب کی ہے، ہر فرقہ اپنے اپنے شعراء اور ثنا خوانوں کے ذریعے اپنے اپنے فضائل پر فخر محسوس کرتا ہے اور دوسروں کی اس انداز میں مذمت کرنا کہ انہیں انسانیت و آدمیت سے خارج کر کے کم ذات اور بد نسلا قرار دینے میں کوئی کسر نہ اٹھانا۔

قرآن کریم کتاب ہدایت ہے، مسلمان امت اگر اس کی ماننے پر آئیں تو نہ وہ الگ مراسم کا قائل ہے، نہ ہی الگ تشخص کا، وہ اسلام ہی کو واحد دین اور مسلمان ہی کو بہترین عنوان یا نام کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کے ہاں عمل و ایمان کی کیفیت معیار ہے، ظاہری چیزیں زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔ انتساب سے بات نہیں بنتی، چاہے وہ فرضی ہوں یا موروثی۔ مزید یہ کہ قرآن اندھا دھند تقلید سے سخت روکتا ہے اور اپنے اعمال کو فکر و منطق کے پیمانے پر تولنے کی بات کرتا ہے۔ اس کے ہاں واحد برتری کا معیار تقوا ہے جو قبولیت اعمال کا معیار بھی ہے۔

قرآن کے یہی اصول ہی مسلمانوں کو زبونی، بدحالی اور نادانی سے بچا سکتے ہیں، ورنہ جس دلدل میں ہم دھنس چکے ہیں، سو سال تو کیا ہزار سال بھی نکلنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

Facebook Comments HS