شہزاد اکبر سے استعفیٰ کیوں طلب کیا گیا؟


عمران خان کے وزراء اور مشیروں کے استعفوں پر حیران و ششدر ہونے کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ پچھلے ساڑھے تین سال کے دوران ایک وزیر اور 15 مشیر و معاونین خصوصی استعفے دے چکے ہیں۔ کسی وزیر با تدبیر یا مشیر و خصوصی معاون کا مستعفی ہونا دراصل ”باعزت فراغت“ تصور کیا جاتا ہے۔ کوئی وزیر یا مشیر و معاون خصوصی اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیتا بلکہ جب کوئی وزیر، مشیر یا معاون خصوصی حکومت پر بوجھ بن جائے تو اسے وزیراعظم کا پرنسپل سیکرٹری وزیراعظم کی طرف سے مستعفی ہونے کا پیغام پہنچا دیتا ہے، اگر کسی وزیر یا مشیر و خصوصی معاون کی طرف سے معمولی نوعیت کی مزاحمت کا سامنا ہو تو اس کی برطرفی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے میں ذرا بھر بھی دیر نہیں لگائی جاتی۔ پارلیمانی نظام حکومت میں وزراء اور مشیروں کا انتخاب وزیراعظم کی صوابدید ہوتی ہے لہٰذا وزیراعظم کبھی اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کی پوزیشن تبدیل کرتا ہے اور کبھی ناقص کارکردگی پر ٹیم سے نکال بھی دیتا ہے۔
ماضی قریب میں جب فردوس عاشق اعوان کو خصوصی معاون کے منصب سے مستعفی ہونے کا پیغام دیا گیا تو انہوں نے مستعفی ہونے سے قبل وزیراعظم سے ملاقات کی ”فرمائش“ کر دی، وزیراعظم ان سے ملنا نہیں چاہتے تھے لہٰذا ان کو ملاقات کا وقت نہیں دیا گیا اور یہ پروا بھی نہیں کی گئی کہ وہ صبح شام عمران خان کی ایسی ایسی خوبیاں تلاش کر کے لاتی تھیں جن کا شاید کپتان کو بھی علم نہ تھا۔ وہ ’کپتان‘ کے مخالفین کو صلواتیں سنانے میں سب سے آگے ہوتی تھیں لیکن اقتدار کی کرسی پر براجمان کپتان جب ان کے طرز عمل سے عاجز آ گئے تو انہیں مستعفی ہونے کا حکم جاری کر دیا۔ یہی حال وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر کا ہوا، وہ جب وزیراعظم کے مشیر بنے تو شاید یہ سمجھنے لگے تھے کہ عمرانی حکومت کے لیے ان کی حیثیت ایک ناگزیر شخص کی سی ہے، انہیں شریف خاندان کے احتساب کے عمل کو تیز تر کرنے کا ”ٹاسک“ دیا گیا، وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں، ایک قانون دان ہونے کے ناتے انہوں نے ”شریف خاندان“ کو فکس اپ کرنے پر وفاقی کابینہ میں بڑے لیکچر دیے۔ یہی وجہ تھی کہ ابتدائی طور انہیں خصوصی معاون بنایا گیا لیکن وزیراعظم نے خوش ہو کر ان کو مشیر کے عہدے پر ترقی دے کر ملک امین اسلم کو مشیر کے عہدے سے مستعفی ہو کر خصوصی معاون بننے پر مجبور کر دیا۔
شہزاد اکبر کو ان 5 مشیروں میں شامل کر لیا گیا جو نہ صرف پارلیمنٹ کو جواب دہ ہوتے ہیں بلکہ غیر منتخب ہونے کے باوجود انہیں وفاقی وزیر کے برابر درجہ دیا گیا۔ شہزاد اکبر نے جس طمطراق سے مشیر برائے احتساب و داخلہ کا منصب سنبھالا، اس سے اندازہ لگایا گیا کہ وہ شریف خاندان کا مالی امور پر احتساب کا عمل دنوں میں مکمل کر لیں گے، اس لحاظ سے وہ عمران خان کی کمزوری بن گئے لیکن انہیں معلوم نہیں کہ ”اقتدار“ بڑا بے رحم ہوتا ہے، جب کسی کی ضرورت پوری ہو جائے تو ضرورت پورا کرنے والے کو ”ڈسٹ بن“ میں پھینک دیا جاتا ہے۔ شہزاد اکبر نے احتساب کا خصوصی معاون بننے سے احتساب و داخلہ کا مشیر بننے تک وزیراعظم کو نواز شریف کی واپسی اور شہباز شریف کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھجوانے کی ایسی خوش کن کہانیاں سنائیں کہ انہوں نے وزیراعظم کے دل میں جگہ بنا لی لیکن جب انہیں شہزاد اکبر کی ناقص کارکردگی کا علم ہوا تو انہوں نے انہیں کھڑے کھڑے فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ موجودہ کابینہ میں تین مشیر و معاونین خصوصی خوش قسمت ہیں جنہیں دوبارہ کابینہ میں شامل کر لیا گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ پچھلے ساڑھے تین سال کے دوران متعدد وزراء کے قلمدان تبدیل کیے گئے، بیورو کریسی میں اعلیٰ سطح پر تبادلے روز مرہ کا معمول بن گیا ہے، وزیراعظم جن بیوروکریٹس کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوتے انہیں پھر ”کھڈے لائن“ لگا دیتے ہیں۔ وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لینا ”کپتان“ کا پسندیدہ مشغلہ ہے جس وزیر یا مشیر کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوتے، اسے فارغ کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ سر دست شہزاد اکبر کے استعفے کی وجہ وزیراعظم کی ”ناراضی“ بتائی جاتی ہے۔ شنید ہے کچھ روز قبل وزیراعظم نے شہزاد اکبر سے شریف خاندان کے خلاف مختلف عدالتوں میں مقدمات کی تفصیلات طلب کی تھیں ’لیکن شہزاد اکبر نے وزیراعظم کو جو معلومات فراہم کیں ان سے وزیراعظم مطمئن نہیں ہوئے، وزیراعظم سیاست دانوں کا تیز تر احتساب چاہتے ہیں، شہزاد اکبر شریف خاندان کے امور بارے مواد اکٹھا کرنے بار ہا لندن بھی گئے لیکن انہیں اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی، طرفہ تماشا یہ کہ جب انہوں نے احتساب و داخلہ کے مشیر کا منصب سنبھالا تو انہوں نے نہ صرف نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کے بلند بانگ دعوے کیے بلکہ ان سے قومی دولت واپس لینے کا شیڈول بنا کر دیا۔

وزیراعظم کو شہزاد اکبر سے کوئی بڑی شکایت نہ تھی لیکن انہیں یہ شکایت ضرور تھی کہ وہ ڈیلیور نہیں کر سکے۔ معلوم ہوا ہے کہ کابینہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں شہزاد اکبر نے نواز شریف کی واپسی کو مشکل قرار دیا تھا، ان کی یہ بات بھی کپتان کو پسند نہ آئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر نے شدید دباؤ میں بہترین کام کیا، مافیاز کے خلاف کام کرنا آسان نہیں تھا، مشکل حالات میں انہوں نے کرپٹ لوگوں کو بے نقاب کیا ہے، شہزاد اکبر پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے رکن کے طور پر اپنا کام جاری رکھیں گے جبکہ شہزاد اکبر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ وکالت کے کیریئر کو زیادہ وقت دینا چاہتے ہیں۔ ممکن ہے ان کی اشک شوئی کے لیے انہیں پارٹی میں اہم ذمہ داری دے دی جائے بہرحال ان کی ذمہ داریاں بریگیڈئیر (ر) مصدق عباسی نے خصوصی معاون کے طور پر سنبھال لی ہیں۔ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ پارٹی سے وابستہ رہوں گا اور قانونی خدمات جاری رکھوں گا۔ شہباز گل نے شہزاد اکبر کے عہدہ چھوڑنے کے بارے میں دلچسپ تبصرہ کیا ہے کہ ”شہزاد اکبر یا تو کام کر کے تھک گئے ہوں گے یا انہیں کوئی اور اچھا موقع مل رہا ہو گا“ ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شہزاد اکبر وکالت کو زیادہ وقت دیتے ہیں یا ان کے لیے کوئی اور جاب تلاش کی جاتی ہے۔ اس بارے میں آنے والے دنوں میں صورت حال واضح ہو جائے گی۔

Facebook Comments HS