ریاست کو عظیم عوامی تحریک کی ضرورت ہے
عمران خان کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہی نظر آ رہی ہے، اقتصادی محاذ ہو یا معیشت، قانون ہو یا ملازمتوں کی فراہمی خدا بھلا کرے میرے خان کا بڑی مستقل مزاجی سے فیل ہوتے چلے جا رہے ہیں لیکن تمام تر ناکامیوں کے باوجود اس حکومت کی ایک خوبی یہ ہے کہ سینیٹ سے بل پاس کرانے میں یہ ہمیشہ کامیاب ہوجاتی ہے۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ عمران خان کی ٹیم کے پاس ایسی کون سی کی گیدڑ سنگی ہے کہ بل پاس کرانے میں انہیں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوتا۔
کبھی کسی سینیٹر کی طبیعت ناساز ہوجاتی ہے، کبھی کسی کو اجلاس کی اطلاع دیر سے ملتی ہے اور کچھ بھی نہ بن پائے تو اپوزیشن بائیکاٹ ہی کر دیتی ہے۔ اب تو عمران خان کے قریبی دوست کا جہاز بھی ساتھ نہیں دیتا خدا جانے پھر کون ہے جو ان کی مدد کرتا ہے۔ کون سا ایسا منتر ہے جو سب جن قبضے میں کر لیتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان کے اصل سپورٹر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ہیں جو خود اپوزیشن کو شکست دینے اور عمران خان کے پانچ سال پورے کرانے کے لئے کوشاں ہیں۔
حکومت نے اپنے سپورٹروں کی مدد سے ایک اور بل منظور کرا لیا میں اسد محمود سے سوال کرنے کی گستاخی نہیں کر سکتا۔ مذہبی طبقہ مجھ پر فتوے لگانے کا پورا حق رکھتا ہے پھر جب مولانا صاحب کو یہ برتری حاصل ہے کہ ان سے سوال نہیں کیا جاسکتا تو گیلانی صاحب کا روحانی منصب بھی کم نہیں اس لئے ان سے سوال پوچھنا بھی جائز نہیں۔ ایک لمحے کو سوال جواب سے نکلیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہو چکا ہے۔
کرپشن کا خاتمہ ایک ایسا نعرہ تھا جس کے بعد عوام نے عمران خان کو قبول کیا۔ عمران خان کے اس نعرے کے بعد عوام کو یہ احساس ہوا کہ ملک کی تباہی کی وجہ صرف کرپشن ہے۔ اگر ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہو جائے تو پاکستانی امیر ہوجائیں گے، سارے قرضے ختم ہوجائیں اور ہم خودمختار ریاست بن جائیں۔ عمران خان نے ریاست مدینہ کا خواب دکھایا، چوروں لٹیروں کو لٹکانے کا اعلان کیا اور حکومت بنا لی۔ عوام ریاست مدینہ کے خواب ٹوٹنے سے تو پہلے ہی دلبرداشتہ تھے اور اب اس رپورٹ کے بعد عوام کو یہ بھی سمجھ آ گیا کہ یہ سب مل کر ہمیں بنا رہے ہیں۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کے بعد یہ تو سب کو یہ سمجھ آ گیا ہے کہ کرپشن کا خاتمہ صرف نعرہ ہی تھا۔ اس نعرے میں بھی ریاست مدینہ کے خواب کی طرح کوئی صداقت نہیں تھی۔ جن کے بارے میں عمران خان کا کہنا تھا کہ انہیں سزا دلوائیں گے، ان سے قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لیں گے وہ سب بھی آزاد ہیں۔ غلام تو بس عوام ہیں۔ آئی ایم ایف کے غلام، حکمرانوں کے غلام، قانون کے غلام اور اپنی بے بسی کے غلام۔ تحریک انصاف کی صداقت و دیانت جاننے کے بعد عوام کے ذہنوں میں یہ سوال آیا کہ کیا پہلے والے بہتر تھے؟
تو یاد رکھیں اس حکومت کا ساتھ دینے اور اسے وقت پورا کرانے میں سب سے بڑا ہاتھ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے لوگوں کا ہے۔ بلاول اگر زیادہ جوش میں آ جائیں تو حب پدر سامنے آجاتی ہے۔ انہیں سمجھا دیا جاتا ہے کہ اب مزید شہادتوں سے گریز ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی گرج سنیں تو ایسا لگتا ہے سیاستدانوں میں تو کوئی خاص برائی نہیں بس ملکی ادارے ہی ہر ناکامی کے ذمہ دار ہیں۔ ملک کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ قربانیاں اور جانیں دینے والوں کی وجہ سے ہوا۔
چلیں مان لیں کہ اداروں کی غلطیاں ہیں تو انہیں غلطیاں کرنے کی اجازت کس نے دی؟ عوام نے؟ یا اقتدار کے ایوانوں کے مزے لوٹنے والوں نے؟ بڑے میاں صاحب کو زیادہ غصہ آ جائے تو انہیں بھی میاں شہباز شریف سمجھا دیتے ہیں کہ آپ اپنا علاج کرائیں سکون سے حسن اور حسین کے ساتھ گھومیں پھریں سیاست میں سنبھال لوں گا، مریم بی بی کے بیان کسی پر گراں گزریں تو وہاں بھی چچا جان کہہ دیتے ہیں بچی ہے میں صفدر سے کہوں گا سمجھا دے گا سنجیدہ نہ لیں۔ رہی بات ملک کی چھوٹی جماعتوں کی تو انہیں ہمیشہ سے چڑھتا سورج اچھا لگتا ہے۔ ہاں اگر حکومت کی جانب سے اچھی آفر نہ ہوئی تو محمود خان اچکزئی اور اسفندیار ولی کی طرح اپوزیشن کا کردار بھی ادا کیا جاسکتا ہے۔
کسی بھی حکومت کو اٹھا کر دیکھ لیں، کسی بھی سروے کسی بھی رپورٹ کو پڑھ لیں۔ جتنی چاہیں تحقیقات کر لیں حاصل گفتگو یہی ہو گا کہ سیاست مل کر چلنے کا نام ہے۔ پاکستان کی سیاست میں عوامی لیڈروں کا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ موجودہ حکیموں کے نسخے اب کامیاب ہوتے نظر نہیں آرہے۔ پاکستان کو ہر اعتبار سے ایک سیاسی، معاشی اور سماجی کایا پلٹ کی ضرورت ہے جس کی پشت پر ایک عظیم عوامی جمہوری تحریک ہو۔ عوام کو اب چلے ہوئے ناکام کھلاڑیوں کی پشت پناہی کے بجائے نئے آپشن کی جانب بڑھنا ہو گا تبھی کچھ ہو سکتا ہے۔ روکھی سوکھی سیاست پہ گزارے سے اب ملک مزید نہیں چل سکتا۔ ایک آزادانہ، منصفانہ انتخابات کے ذریعے رائے دہندگان کو فیصلہ کرنے کا موقع نہ دیا گیا اور عوام نے اپنی تقدیر کو بدلنے کا فیصلہ نہ کیا گیا تو ملک کا دیوالیہ نکل جائے گا۔


