قبائلی نوجوانوں کو درپیش مسائل (حصہ اول)۔
قبائلی علاقے انضمام سے پہلے کیسے تھے اور لوگوں کی ترجیحات اور ضروریات کیا تھیں اب اس پر جانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اب انضمام کے بعد کیا یہ علاقے واقعی ترقی اور خوشحالی کی جانب رواں دواں ہوئے ہیں یا صرف زبانی جمع خرچ ہو رہا ہے۔ ویسے تو مسائل بہت سے ہیں لیکن کچھ مسائل ایسے ہیں جن پر نہ تو یہاں کی لیڈرشپ یا بڑوں نے بات کرنے کو ضروری سمجھا اور نہ ہی حکومت نے اس طرف کوئی توجہ دی ہے۔
ویسے تو دعوے بہت کیے جا رہے ہیں کہ قبائلی اضلاع کی ترقی کے لئے حکومت بہت کچھ کر رہی ہے۔ کیا کر رہی ہے اور کیسے کر رہی ہے اس کا علم پشاور میں ٹھنڈے اے سی کمروں میں بیٹھ کر نہیں لگایا جاسکتا۔ سب کچھ ٹھیک جا رہا ہے اور سب اچھا ہے کی رٹ لگائے کبھی بھی کسی نے بھی یہاں کے عام لوگوں سے نہیں پوچھا اور نہ پوچھنے کو ضروری سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ ہمیشہ سے ہوتا آ رہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں امداد کے نام پر آنے والے فنڈ اور ان کے استعمال پر کسی نے قبائلی عوام کی رائے کو اہمیت نہیں دی گئی۔ یہاں کی بیورو کریسی، عوامی نمائندے اور خان خوانین نے قبائلی عوام کی مظلومیت کا نعرہ لگا کر کر یہاں کے عوام کا استحصال کیا اور خود سیاہ سفید کے مالک بن بیٹھے۔
ہم اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں نوجوان کسی بھی قوم کے لئے ایک ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں انہی کی بدولت قومیں اٹھتی ہیں اور ہر قسم کے مشکلات اور چیلنجز کا مقابلہ کرتی ہیں۔ کسی بھی علاقے کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے نوجوانوں کی ترجیحات کا اندازہ لگا کر کیا جاسکتا ہے۔ اگر نوجوان طبقہ کی تعلیم و تربیت بہتر طریقے سے ہو رہی ہو اور وہ مثبت خیالات کے مالک ہیں تو اس علاقے کا مستقبل روشن ہو گا لیکن اگر کسی علاقے کے نوجوانوں کی سرگرمیوں کا محور منفی باتیں اور کام ہیں تو وہاں بے چینی، بدامنی، بے روزگاری اور خلفشار ہو گا۔
ضم اضلاع کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے ایک رپورٹ کے مطابق ضم اضلاع کی پچاس لاکھ آبادی میں کم از کم آٹھ سے دس لاکھ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ پچھلے دو دہائیوں سے جاری بد امنی کے لہر کے بعد جب یہاں امن کی بحالی شروع ہوئی تو دوسرے مسائل کی طرح یہاں کے نوجوانوں کو درپیش مسائل حل کرنے کی ضرورت بھی سامنے آئی۔ ہمارے قبائلی علاقوں میں ایک طویل مدت کے بعد امن اور ترقی کا سفر شروع ہوا ہے تو ایسے میں حکومت اور یہاں کے مشران کو چاہیے کہ وہ اپنی نوجوان نسل کا خاص خیال رکھ انہیں وہ تمام وسائل فراہم کرے جن سے وہ اس پسماندگی کے شکار علاقے کے لوگوں کے لئے ایک امید بنے۔
تمام اہم امور میں یہاں کے نوجوانوں کی رائے لینا ضروری سمجھے۔ انہیں بہترین تعلیم و تربیت دے کر انہیں ایک سود مند شہری بنائے جو نہ صرف خود ان کے لئے بلکہ اس کے خاندان، علاقہ اور ملک کے لئے بھی سودمند ہو گا۔ اس حوالے سے سب زیادہ توجہ تعلیم پر دینا ہوگی۔ کسی بھی قوم اور علاقے کی ترقی کے لئے جو چیز سب ضروری ہے وہ ہے تعلیم۔ تعلیم کے بغیر کوئی بھی قوم اور علاقہ ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا واحد راستہ تعلیم ہے۔ یہاں کے نوجوانوں کا بھی سب سے اولین مطالبہ تعلیم ہے۔
انضمام کے بعد قبائلی نوجوانوں کے لئے سب اہم چیز طلباء کے لئے سکالرشپس اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کو آسان بنانے کے لئے ملک کے مختلف یونیورسٹیوں میں ان کے لئے مختص سیٹیں دگنا کر کے ان کے لئے داخلہ کا عمل آسان سے آسان بنایا جائے۔ نوجوانوں کے لئے کھیل کی سرگرمیوں کے لئے ضم اضلاع میں کھیلوں کے میدان اور ان کے ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لئے مختلف اکیڈمیز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ بدقسمتی سے قبائلی اضلاع کے لئے ملک کے مختلف جامعات میں سکالرشپس اور سیٹیں تو مختص ہیں لیکن زیادہ تر قبائلی طلباء کی بجائے دوسرے اضلاع میں رہنے والے طلباء ہی ان کوٹہ پر چلے جاتے ہیں۔
ان میں بہت سے لوگوں نے دو نمبر کے ڈومیسائل بنائے ہیں خاص کر ایسے لوگ نیم قبائلی علاقوں یعنی ایف آرز ( جنہیں اب سب ڈویژنز کہا جاتا ہے ) میں عام ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ کچھ نئے شرائط کے تحت جس میں ان طلباء کا ضم اضلاع میں رہائش اور زیرتعلیم ہونے کی شرط بھی اگر لاگو کی جائے تو یہ قبائلی اضلاع میں رہنے والے طلباء کے لئے بہت اچھا رہے گا۔


