ایک استعفیٰ دینے سے کیا ہو گا؟


یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے لیکن جمعہ کے روز سٹیٹ بنک کو خود مختار کرنے سے متعلق بل پر ووٹنگ کے دوران غیر حاضری کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہ استعفیٰ پیپلز پارٹی میں سامنے آنے والے اختلاف کی وجہ سے دیا گیا ہے تاہم سینیٹ میں اکثریت کے باوجود اپوزیشن نے حکومت کو نیچا دکھانے کے اہم موقع گنوا دیا۔

سٹیٹ بنک کے بارے میں بل کی منظوری آئی ایم ایف کی طرف سے مالی پیکیج کی ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کے لئے حتمی شرط تھی۔ حکومت کی متعدد کوششوں کے باوجود عالمی مالیاتی فنڈ نے اس بارے میں کوئی رعایت دینے سے انکار کیا تھا حتی کہ اس بل کی منظوری سے قبل امدادی رقم جاری کرنے سے صاف انکار کر دیا گیا تھا۔ اس لحاظ سے اس صورت حال میں اس بل کی منظوری نہ صرف حکومت کے لئے عزت کا مسئلہ بنی ہوئی تھی بلکہ پاکستان کے مالی مفاد کے حوالے سے بھی اس قانون کی منظوری اہم تھی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اپوزیشن کو پہلے دن سے اس بات کی خبر تھی کہ وہ اس بل کی راہ میں رکاوٹ کھڑی نہیں کر سکتی۔ بل کی ناکامی کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت پر ایک طرف سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوتا تو دوسری طرف مشکل مالی صورت حال کی وجہ سے کاروبار حکومت جاری رکھنا مشکل ہو جاتا۔ ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے پاکستان کے معاشی دیوالیہ ہونے کا جو دعویٰ کیا تھا، سٹیٹ بنک بل منظور نہ ہونے کی صورت میں یہ حقیقت طشت از بام ہوجاتی۔

اس پس منظر میں اپوزیشن ارکان پر اس بل کی منظوری کے لئے دباؤ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ملکی معاملات میں اسٹبلشمنٹ کے اسٹیک کے بارے میں دو رائے نہیں ہیں اور نہ ہی اب یہ کوئی راز رہا ہے کہ اپوزیشن کیوں سینیٹ میں اکثریت کے باوجود کسی بھی موقع پر حکومت کو نیچا دکھانے میں کامیاب نہیں ہو پاتی۔ کسی نہ کسی جگہ سے کوئی ایسا کرشمہ ہوتا ہے کہ اپوزیشن ارکان سب کے سامنے ایک بات کرتے ہیں لیکن خفیہ ووٹنگ کے دوران بالکل اس کے برعکس فیصلہ کے لئے ووٹ دیتے ہیں۔ سینیٹرز کو ایک لائن میں کھڑا کرنے والی جادو کی اس چھڑی کا حکومت کو ہی نہیں اپوزیشن لیڈروں کو بھی اچھی طرح علم ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کے وقت اپوزیشن پارٹیاں قیادت کے فیصلہ سے بغاوت کرنے والے سینیٹرز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکیں۔ حالانکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اس کا اعلان کیا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ان باتوں کو بھلا کر تند و تیز سیاسی بیانات سے کام چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس معاملہ کا یہ پہلو بھی واضح ہونا چاہیے کہ عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ معاملات میں حالات کو اس درجہ مشکل سطح تک لانے میں تحریک انصاف کی بھی غلطیاں ہوں گی لیکن ملک کو عمومی طور سے جس کساد بازاری اور پیداواری صلاحیت میں مندی کا سامنا ہے، اس میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے پاس مسائل کا کوئی ٹھوس حل موجود نہیں ہے۔ اگر یہ تصور کر لیا جائے کہ تحریک انصاف کی بجائے سٹیٹ بنک بل کے خلاف تند و تیز بیانات دینے والے اپوزیشن لیڈروں میں سے کسی ایک کی پارٹی حکومت میں ہوتی تو اسے بھی معاشی گاڑی کھینچنے کے لئے آئی ایم ایف کی شرط کو ماننا ہی پڑتا یعنی سٹیٹ بنک کو وہ خود مختاری دینا ناگزیر تھا جس کا تقاضا کیا گیا تھا۔ اور جو اب تفویض کی جا چکی ہے۔ ایسی صورت میں اپوزیشن کو حکومت کے خلاف پوائنٹ اسکورنگ کے علاوہ ٹھنڈے دل و دماغ سے یہ بھی سوچنا چاہیے تھا کہ ان حالات میں اگر حکومت عدم اعتماد کا سامنا کرتی ہے تو اپوزیشن پارٹیاں ملکی نظام کے تسلسل کے لئے اپنی پارلیمانی ذمہ داری کیسے پورا کریں گی؟ اس سوال کا کوئی شافی جواب میسر نہیں ہے، اس لئے اپوزیشن کو پارلیمانی فراست سے کام لیتے ہوئے بل پر تنقید کے باوجود مخالفت میں اس حد تک جانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے تھی کہ سیاسی محاذ آرائی میں اسے ایسی شدید ہزیمت کا سامنا ہوتا جو گزشتہ جمعہ کو اس کے حصے میں آئی ہے۔

اس کے علاوہ اس بات پر بھی ملک کے تمام سیاسی حلقوں کو یکساں طور سے پریشان ہونا چاہیے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ پاکستانی حکومت کی فراست اور فیصلے کرنے کی صلاحیت پر اعتبار کرنے کی بجائے اسٹیٹ بنک کے ذریعے مالی معاملات پر دسترس حاصل کرنے کا اقدام چاہتی تھی۔ اسلام آباد کی حکومتوں نے تسلسل سے اسٹیٹ بنک کو اپنی مالی بے اعتدالیوں کا بوجھ اٹھانے اور مارکیٹ سے حکومتی مالی قوت سے زیادہ قرض لینے کے لئے استعمال کیا ہے۔ بار بار اصرار کے باوجود جب یہ صورت تبدیل نہیں ہوئی تو بات سٹیٹ بنک کو مکمل طور سے حکومتی اختیار سے آزاد کرنے کے مطالبے تک پہنچ گئی۔ یہ دراصل حکومتی غیر ذمہ داری اور ہوش مندانہ معاشی فیصلے کرنے میں ناکامی کی داستان ہے۔

حیرت انگیز طور پر حکومت اس صورت حال پر خاموشی اختیار کرنے کی بجائے اپنے تئیں اپوزیشن کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حالانکہ حکومت کے لئے یہ باعث شرم بات ہونی چاہیے کہ اسے سینیٹ میں اکثریت کے لئے چئیر مین کے فیصلہ کن ووٹ کا سہارا لینا پڑا اور اس طرح حکومت کی کمزوری اور بے بسی عیاں ہو گئی۔ یہ کامیابی اگر اپوزیشن کی ناکامی ہے تو یہ حکومت کی کامیابی بھی نہیں ہے۔ اس لئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو اس معاملہ پر سیاست کرنے کی بجائے اپنے مستقبل کی فکر کرنی چاہیے۔ جمعہ کو انہوں نے بل کی منظوری کے بعد یوسف رضا گیلانی کا شکریہ ادا کر کے دراصل اپوزیشن میں انتشار نمایاں کرنے کی کوشش کی تھی۔ جزوی طور سے فواد چوہدری کی استہزائیہ ٹویٹ بھی یوسف رضا گیلانی کے استعفی کی وجہ بنی ہوگی، اگرچہ اپنی ہی پارٹی کے ایک سینیٹر کی طرف سے تند و تیز تنقید فیصلہ کن ثابت ہوئی ہے۔ تاہم یہ یقینی نہیں ہے کہ آنے والے دنوں میں پارٹی قیادت یوسف رضا گیلانی کا استعفیٰ منظور کر لے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں اپوزیشن لیڈر کے طور پر کام کرتے رہنے پر آمادہ کر لیا جائے۔

حکومت کو جان لینا چاہیے کہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کر کے اس نے کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیا کیوں کہ سابقہ مواقع کی طرح اس بار اپوزیشن کی اکثریت کو ’مینیج‘ کرنے کا جھرلو عمران خان کی حمایت میں نہیں ملکی معیشت کو چالو رکھنے کی مجبوری میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس بل کی ناکامی کی صورت میں پیدا ہونے والے حالات صرف سیاسی جماعتوں ہی کے لئے نہیں بلکہ ملکی عسکری قیادت کے لئے بھی ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہوتے۔ معیشت میں اچانک تعطل اور عالمی منڈیوں میں مشکلات کی وجہ سے قومی آمدنی میں ہونے والی کمی کا دفاعی بجٹ پر بھی فوری اثر مرتب ہو سکتا تھا۔ حکومتی ترجمان یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ سینیٹ میں حکومتی ’کامیابی‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے اب تک اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ اول تو یہ تاثر دینا ہی شرمناک رویہ ہے۔ ایک آئینی انتظام میں صرف جمہوری طور سے منتخب لوگوں کو حکومت کا حق حاصل ہوتا ہے، بیساکھیوں کے سہارے چلنے والی حکومت کو آئینی نہیں کہا جاسکتا۔ دوئم اپوزیشن تو پہلے ہی یہ دعویٰ کرتی ہے کہ یہ نامزد حکومت ہے جسے عسکری ادارے اپنی مجبوری کی وجہ سے کھینچنے پر مجبور ہیں ورنہ اس میں اتنا دم نہیں ہے کہ ایک دن بھی قومی اسمبلی میں اکثریت قائم رکھ سکے۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے حوالے سے یہ بات برملا کہہ چکے ہیں۔

ملک میں کسی عبوری انتظام کے لئے کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔ اس خلا میں عمران خان کو مجبوراً قبول کیا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال حکومت کے علاوہ اپوزیشن کے لئے بھی یکساں طور سے پریشان کن ہونی چاہیے۔ خاص طور سے جب اس کے اپنے سینیٹرز ہی عسکری اداروں کی بادشاہ گری میں آلہ کار بننے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ یا سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ وہ کسی منشور، کسی متبادل سیاسی پروگرام یا کسی عوامی تحریک کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ کی موجودہ حکومت سے دوری کو ملک میں ایک نئی سیاسی تبدیلی کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ دیکھا جائے تو اگر عدم اعتماد یا کسی دوسرے ہتھکنڈے سے عمران خان کو ہٹا بھی دیا جائے تو اسے حقیقی تبدیلی کیسے کہا جائے گا؟ اگر اصل اختیار اسٹبلشمنٹ ہی کو حاصل رہنا ہے اور حتمی فیصلہ چند دفتروں میں بیٹھے غیر منتخب اہلکاروں ہی کو کرنا ہے کہ آئندہ مرحلے پر کون سا چہرہ وزارت عظمی کے لئے مناسب ہو گا تو یہ چہرہ نیا ہونے کے باوجود کون سا نیا کام کرسکے گا؟ اور اس طریقہ سے عوامی حکمرانی کا خواب کیسے پایہ تکمیل تک پہنچے گا؟

وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو آئینہ دکھانے کی بجائے، اسی آئینے میں خود اپنی شکل دیکھنے کی کوشش کریں اور ملک میں حقیقی آئینی انتظام کا راستہ ہموار کرنے کے لئے کسی مشترکہ لائحہ عمل پر کام کریں۔ ملک میں صرف اسی وقت تبدیلی آئے گی اور آئینی و عوامی حکمرانی کا دور شروع ہو گا جب سیاسی قوتیں ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے کی بجائے مل کر ان قوتوں کے خلاف محاذ بنائیں جو ملک میں جمہور کے حق حکمرانی پر نقب لگانے کا سبب بنی رہی ہیں۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali