تاحیات نااہلی کے خلاف آئینی درخواست اعتراض لگا کر واپس


سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے تاحیات نااہلی کے خلاف آئینی درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق تاحیات نااہلی کے خلاف آئینی درخواست سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے واپس کرتے ہوئے کہا ہے کہ درخواست سے متعلق سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ فیصلہ دے چکا ہے۔

رجسٹرار آفس کا کہنا ہے کہ درخواست گزار انفرادی شکایت لے کر آیا جو 184/3کے دائرہ کار میں نہیں آتی، 184/3 کے اختیار سماعت سے متعلق اٹھائے گئے نکات اطمینان بخش نہیں۔

سپریم کورٹ نےپاناما کیس میں نواز شریف کیس میں تاحیات نااہلی کے قانون کی تشریح کی تھی ، سپریم کورٹ نے 2018 میں قرار دیا تھا کہ آرٹیکل 62 شق 1 ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ بار نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ تاحیات نااہلی ختم کرنے کے معاملے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے درخواست دائر کی تھی جس کے متن میں وفاق کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست کے مطابق تاحیات نااہلی کے اصول کا اطلاق صرف انتخابی تنازعات میں استعمال کیا جائے، درخواست کے متن میں آرٹیکل 184اور آرٹیکل 99 کی تشریح کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

درخواست میں دوسرے پٹیشنر صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون ہیں۔

Facebook Comments HS