میں بہت "خطرے ناک” ہوں


پچھلے دنوں ہمارے لاڈلوں کے لاڈلے وزیراعظم نے دھمکی دی تھی کہ اگر مجھے حکومت سے نکال دیا گیا تو میں سڑکوں پر آ جاؤں گا اور ایسی صورت میں زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔ ان کا روئے سخن تو سب جانتے ہیں کہ ان کی طرف تھا جو صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں البتہ پائے سخن شاید اپوزیشن کی طرف تھا۔ ان کی دھمکی اپنی جگہ مگر انہیں تو معلوم ہی ہو گا کہ ان کے چار سالہ دور حکومت میں ملک کی سڑکیں پہلے سے زیادہ خستہ حال اور شکستہ صورت بن چکی ہیں کیونکہ انہوں نے ان کی طرف توجہ ہی نہیں دی۔

”خواص“ کی شاہراہوں پر وہ آنے سے رہے اور ”عوام“ کی سڑکیں اس قدر ٹوٹی پھوٹی ہیں کہ ان کے کھاتے پیتے اور خوشحال احتجاجی ان پر آنے سے رہے۔ سید ضمیر جعفری نے ان سڑکوں کی کربناک بلکہ خطرناک تصویر کشی اپنی نظم ”یہ سڑکیں“ میں کر رکھی ہے جبکہ مرزا محمود سرحدی نے ”مال گودام روڈ“ نامی نظم میں بھی ایسی سڑکوں کی خوب مرثیہ خوانی کی ہے۔

خیر بات ہو رہی تھی وزیراعظم کے خطرناک ہونے کی بیچ یہ جملہ ہائے معترضہ آ گئے۔ ہم نے لفظ خطرناک کے جتنے بھی مترادفات دیکھے ہیں ان میں کوئی بھی مثبت اور بھلے معنوں کا حامل نہیں ہے۔ وزیراعظم صاحب حکومت سے نکلنے یا نکالے جانے کے بعد جتنے بھی خطرناک ہو جائیں اس سے زیادہ خطرناک ہر گز نہیں ہو سکتے جتنے وہ حکومت میں رہ کر ملک کے لیے ثابت ہو رہے ہیں۔ کرکٹر کے طور پر تو وہ مخالف ٹیموں کے لیے واقعی بہت خطرناک تھے مگر سیاسی کھیل میں اگر ان کے پشتی بان ان کی کمر نہ تھپتھپائیں تو وہ اپوزیشن کے لیے قطعی خطرناک ثابت نہیں ہو سکتے۔

ماضی میں وہ ”امپائر“ کی انگلی کی بدولت ایک دو دھرنوں کی خطرناک اننگز کھیل چکے ہیں مگر اب ملک کو ہولناک اور خوفناک صورت حال سے دو چار کرنے کے بعد موصوف اگر کسی کے لیے ”خطرے ناک“ ہو سکتے ہیں تو پورس کے ہاتھیوں کی طرح اپنی ہی سپاہ کے لیے ہو سکتے ہیں۔ راجا پورس نے اپنے جنگی ہاتھیوں کو بڑے مان سے تیار کیا تھا مگر وقت آنے پر ان ہاتھیوں نے اپنی ہی تیس ہزار پیادہ فوج اور چار ہزار گھڑ سواروں کو روند ڈالا تھا۔

یہاں مجھے فٹ بال کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جانے والا ایک میچ یاد آ رہا ہے جس میں ایک ٹیم کے نامی گرامی کھلاڑی نے اپنی ہی ٹیم کے خلاف فیصلہ کن گول کر کے اپنی ٹیم کو ہرا دیا تھا۔ وزیراعظم بھی حکومت سے نکالے جانے کے بعد اس کھلاڑی کی طرح اپنے خلاف ہی گول کر کے اپنا سیاسی بوریا بستر گول کر دیں گے۔

ایک لڑکی نے ایک لڑکے سے کہا کہ تم مجھے خطرناک طریقے سے پروپوز کرو تو میں شادی کے بارے میں سوچ سکتی ہوں۔ لڑکے نے کہا کہ کیا تم چاہتی ہو کہ ہمارے بچے اور میں تمہارا جنازہ پڑھیں۔ راوی اس کے بعد کہتا ہے کہ چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ خطرناک و المناک سوال و جواب کا ذکر چل نکلا تو یہ دلچسپ واقعہ بھی سن لیجیے جس میں ایک مولوی صاحب نے جب اپنی بیمار اہلیہ سے پوچھا کہ مرنے کے بعد تمہاری قبر پر کس مفہوم کی عبارت سے مزین کتبہ نصب کرواوٴں؟ اس پر اہلیہ نے جل بھن کر جو ”خطرے ناک“ بلکہ ہولناک قسم کا جواب دیا وہ عہد حاضر کے سب سے بڑے مزاحیہ شاعر جناب انور مسعود کی زبان میں سنیے اور اہلیہ کے نشاط اور مولوی صاحب کے ملال سے حظ اٹھائیے۔

اپنی زوجہ سے کہا اک مولوی نے
نیک بخت! تیری تربت پر لکھیں تحریر کس مفہوم کی
اہلیہ بولی، عبارت سب سے موزوں ہے یہی
دفن ہے بیوہ یہاں پر مولوی مرحوم کی

آج تک تو سیاست میں خطروں کا کھلاڑی آصف علی زرداری کو کہا جاتا تھا، جو سب پر بھاری سمجھے جاتے رہے ہیں مگر اب معلوم ہوا کہ ہمارے وزیراعظم ان سے بھی زیادہ خطرناک ہیں جو تاک تاک کر اپوزیشن پر نشانہ بازی کرتے ہیں۔ ویسے ہمیں تو ان دونوں سے زیادہ خطرناک سب کی نیندیں حرام کرنے والی حریم شاہ لگی ہیں۔ انہوں نے چتاوٴنی دی تھی کہ ان کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس چلانا کسی مائی کے لعل کے بس کی بات نہیں۔ ایف آئی اے اس حوالے سے پھرتیاں دکھا ہی رہی تھی کہ سندھ ہائی کورٹ نے اسے حریم شاہ کے خلاف مزید کارروائی سے روک دیا۔ ”حریم“ کے پاسباں تو ہر جگہ موجود ہیں۔ ویسے اگر حریم شاہ سیاست میں آ جائیں تو خطروں کے کھلاڑی اور ”خطرے ناک“ دونوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔ پھر وہ بھی سیاسی مخالفین کو للکارتے ہوئے کہہ سکتی ہیں اگر مجھ سے پنگا لیا تو میں بہت خطرناک ہو جاؤں گی۔

جاتے جاتے ایک اور ”خطرے ناک“ ناہنجار بیٹے کی کہانی بھی سن لیں۔ چودھری صاحب اپنے گھر والوں کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھے تھے کہ اچانک ایک بکرا کمرے میں گھس آیا۔ چودھری صاحب نے کہا کہ یار کوئی اسے پکڑو۔ یہ سننا تھا کہ ان کا ”خطرے ناک“ بیٹا اٹھا۔ اس نے آوٴ دیکھا نہ تاوٴ۔ بکرے کی طرف لپکا تو ہاتھ لگنے سے لالٹین بجھ گئی۔ خطرے ناک صاحب جو اپنے چھوٹے بھائی پر گرے تو اس کا پاوٴں سالن کے ڈونگے میں جا پڑا۔ خطرے ناک نے خود کو گرنے سے بچانے کی کوشش میں اماں کی آنکھ پر ہاتھ مار دیا۔ اماں کا پاوٴں جگ سے ٹکرایا تو دستر خوان پر جل تھل ایک ہو گیا۔ یوں لگ رہا تھا کہ پانی پت کی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ سب اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ چودھری صاحب نے ہڑ بڑا کر کہا کہ بکرے کو چھوڑو اس ”خطرے ناک“ کو پکڑو۔

Facebook Comments HS