سیپ موتی کی تلاش میں ہے
گوہر کو اپنے شکم میں پرورش کی مسند عطا کرنے کی خاطر سیپ ازل سے فانی دنیا کے وسیع و عریض سمندر کی اوپری سطح پر قطرہ شبنم کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ اسی تلاش میں کسی سیپ کو شبنم کی بوند اور کسی کو سمندر کے کھاری پانی کا قطرہ نصیب ہوا۔ دنیا وسیع و عریض ہے اور اس کے ہر حصہ میں کوئی نہ کوئی سیپ ہمیشہ ایسے موتی کی تلاش میں رہتی ہے جو اس کی شان کو چار چاند لگا کر فضا کی بلندیوں کی سیر کروا سکے۔
ایسی ہی ایک سیپ کا ظہور پچھلی صدی کے وسط میں خاکی دنیا کے نقشے پر ایک الگ نام کے ساتھ ہوا۔ اپنے وجود میں ڈھلتے ہی یہ سیپ بھی اپنی نوع کے باقی سیپ کی طرح گوہر کی افزائش کی خاطر شبنم کے قطرے کے حصول کے لئے سرگرداں رہنے لگی۔ خوش بختی سے اس سیپ کو شبنم کا وہ قطرہ نصیب ہوا جو گوہر کا روپ اختیار کرنے کے بعد اس کی شان و شوکت کو چار چاند لگا کر باقی تمام سیپ سے نمایاں مقام عطا کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ مگر قدرت نے اس شبنم کی بوند کو ایک سال بعد ہی اس سے چھین لیا اور اسے اتنا وقت نہ مل سکا کہ وہ گوہر کا روپ اختیار کر پاتا۔
شبنم کی گزشتہ بوند چھین جانے کے بعد سیپ نئی بوند کے حصول کے لئے سمندر کی سطح پر ماری ماری پھرنے لگی۔ وقت کے ساتھ ساتھ شبنم کی تلاش میں سمندر کے کھاری قطرے ملتے گئے جو کچھ عرصہ بعد ہی سیپ کی اندرونی حالت کی اپنی صلاحیت کے مطابق تباہی کا باعث بن کر پھر سمندر کی آغوش میں چلے جاتے۔
ساٹھ کی دہائی میں صدف کے شکم میں ایک ایسی بوند پہنچ گئی جس نے صدف کے ہر عضو کو اپنی قوت کے زور پر اپنے قبضہ میں لے کر اپنی مرضی کا برتاؤ کرنا شروع کر دیا۔ ستر کی دہائی تک وہ بوند سیپ کے تمام اعضاء کو اتنی شدت سے بے ترتیب کر چکی تھی کہ سیپ کے مختلف اعضاء ایک دوسرے سے الگ ہونے کی پکار میں محو ہوتے گئے۔ وقت گزرتا گیا اور سیپ کی کھوٹی قسمت کی بدولت اس کے نصیب میں ہمیشہ گوہر کی بجائے سمندر کے کھاری پانی کا قطرہ ہی آیا۔
کیونکہ یہ اصول کائنات ہے کہ قدرتی عمل میں کوئی بیرونی قوت کا دخل انداز ہو تو فطرتی عمل میں بگاڑ آ جایا کرتا ہے۔ ایسا ہی ہوا اس سیپ کے ساتھ۔ مگر سیپ ہمیشہ گوہر کی تلاش میں سرگرداں رہی۔ سیپ نے اس بات کو تسلیم کر لیا تھا کہ اگر تلاش ہوں گوہر کی تو سمندر کے کھاری پانی سے واسطہ ضرور پڑتا ہے مگر وہ سیپ ہی موتی کی تلاش میں کامیاب رہتی ہے جو کھاری پانی سے نبردآزما ہوتے ہوئے اپنی تلاش اور کھوج سے منہ نہ موڑے۔ اسی لئے سیپ نے گوہر کی تلاش میں اپنی ہمت، جذبہ، اور حوصلہ کو ہمیشہ جوان کیے رکھا۔
اسی کی دہائی میں سیپ سمندری پانی کی کھاری بوندیں بار بار سمیٹنے اور ان کو گوہر میں تبدیل کرنے کی سعی میں اپنے دونوں بازوں کو یکجا نہ رکھ سکی اور اس کے دو ٹکڑے ہونے کا تماشا پوری دنیا نے دیکھا۔ دو ٹکڑے ہو جانے کے باعث سیپ کی ہیئت، شکل و شباہت میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں مگر اس نے اپنی تلاش کو لفظ اختتام سے نا آشنا رکھا۔ اسی دوران ایک بوند اسے ایسی نصیب ہوئی جس کے اندر سمندری پانی اور شبنم کی آمیزش کی۔
شبنم نے اپنی مقدار کے مطابق اپنا اثر دکھانا شروع کیا اور ایک ایسے گوہر کی افزائش ہونا شروع ہوئی جس نے قانون کی ترتیب عطا کرتے ہوئے سیپ کے آدھے حصے، جو کہ مکمل تصور کیا جا رہا تھا، کو یکجا کر کے ترقی کی منازل کی طرف گامزن کرنا شروع کر دیا۔ مگر گوہر وہ ہی مکمل ہو پاتا ہے جس کی بنیاد مکمل شبنم کے قطرے پر ہو۔ مگر وہاں تو معاملہ الٹ تھا کیونکہ شبنم کی بوند میں کھاری پانی کی آمیزش بھی تھی۔ اسی وجہ سے افزائش کا عمل مکمل ہونے سے قبل ہی وہ آدھا ادھورا موتی سمندر کی جانب واپس بہہ گیا۔
جن کا مقدر ہی ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہو کر اپنی موجودگی کا احساس نہ دلوائے ان کے حصے میں ہمیشہ کھاری بوندیں ہی آیا کرتی ہیں۔ یہی ہوا سیپ ساتھ۔ وہ جب شبنم کی بوند کے حصول کے لیے بحر کی موجوں پر سوار ہو کر ساغر کی سب سے بلند سطح پر نمودار ہوئی اور منہ شبنم کے قطرے کو اپنے اندر ضم کرنے کے لیے کھولا تو سمندر کے کھاری پانی کا خطرہ چالاکی سے سیپ کے شکم میں اتر کیا اور سیپ منہ کو بند کرتے ہیں واپس گہرائیوں کی جانب چلی گئی۔
ازل سے لوگوں کے دلوں میں ایک نظریہ یقین کی مانند پختہ اور پوشیدہ ہے کہ وقت ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتا رہتا ہے۔ بالکل اسی طرح سیپ کے مقدر میں بھی ایک ایسا ہی قطرہ آیا جیسا ساٹھ کی دہائی میں اس کے دامن کو تار تار کر چکا تھا۔ مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ اس قطرہ کو پرکھنے کے دوران سیپ کو اعلی مقام بھی نصیب ہونا شروع ہوا مگر کب تک۔ اگر قطرے نے اپنی خصوصیات کو ظاہر کرنا شروع کیں اور سیپ کے ہر ہر ٹکڑے میں ہنگامے برپا ہونے لگے اور آخر کار اس قطرے سے چھٹکارا تو مل گیا مگر سیپ کی حالت ابتر ہو چکی تھی۔
تب سے آج تک سیپ کو تین قطرے نصیب ہو چکے ہیں، ان تینوں کے خواص بالکل ایک دوسرے کے خواص سے مشابہ ہیں۔ مگر کسی نے سیپ کے اندر بسنے والی خوردبینی مخلوق کے حقوق کا سہارا لے کر سیپ کے اندر جانے کا راستہ ہموار کیا تو کسی نے سیپ کے چار مختلف حصوں کو برابر حقوق مراعات اور قوت دینے کے وعدے کا سہارا لیتے ہوئے سیپ کے اندر جانے کے لیے دروازہ غیر مقفل کیا۔ آخری قطرے نے بالکل الگ راستہ اختیار کرتے ہوئے سیپ کو وہ مقام، جو بیسویں صدی کے وسط میں تھا، عطا کرنے کا خواب خوردبینی مخلوق کی آنکھوں میں اتارتے ہوئے سیپ کے شکم کی مسند حاصل کی۔ یہ قطرہ ابھی تک سیپ کے شکم کی مسند پر براجمان ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ قطرہ وہ گوہر ثابت ہو جس کے حصول کے لئے سیپ تقریباً اسی سال سے سرگرداں ہے۔ ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے۔


