اصغر ندیم سید کی افسانوی نثر کا اجمالی جائزہ

ادبی دنیا میں شاہ جی کے نام سے پہچانے جانے والے اصغر ندیم سید کا پہلا بڑا حوالہ ڈراما نگاری ہے مگر محض ڈراما نویسی تک محدود کرنے سے ان کے مقام و مرتبے کی تصویر مکمل نہیں ہو پاتی۔ اس مختصر مضمون میں شاہ جی کے ناولوں اور افسانوی مجموعے کا اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آدھے چاند کی رات ”آدھے چاند کی رات“ اصغر ندیم سید کا اولین ناولٹ ہے جو پہلی بار 1993 ء میں منظرِ

Read more

اک بات کا فسانہ

پاکستان میں ٹرکوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں پر اشعار اور مزاحیہ جملے لکھوانے کا رجحان بہت انوکھا اور دلچسپ ہے۔ ٹرکوں پر ڈیزائن بنوانے کی روایت اتنی مستحکم ہو چکی ہے کہ اب ٹرک آرٹ کے نام سے باقاعدہ ایک ہنر وجود رکھتا ہے۔ آج کل لاہور میں آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے ایک موبائل ایپلیکیشن کا بڑا چرچا ہو رہا ہے۔ اس ایپ کی تشہیر کا انداز بڑا نرالا اور قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے طریقہ

Read more

انٹلکچول ٹی

چائے کے شوقین حضرات اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ چائے کا ذائقہ ہم مشروب کی تبدیلی سے بدل جایا کرتا ہے۔ آپ سب نے چائے کے کئی کپ لنڈھائے ہوں گے مگر وہ چائے کہاں بھولتی ہے جس میں چینی کے بجائے انسیت کی چاشنی ہو۔ ہمارے سماج کا، باقی المیوں کے ساتھ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ایک ہی ادارے میں کام کرنے والے لوگ آپسی دوستانہ مراسم سے محروم رہتے ہیں۔ ہمارا بھی ایسے ہی

Read more

محمد حسن عسکری بطور نقاد

محمد حسن عسکری 5 نومبر 1919 ء کو ضلع میرٹھ کے ایک قصبے ”سراوہ“ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام اظہار الحق تھا جبکہ گھر میں انہیں ”بھولے میاں“ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ محمد حسن عسکری کا بچپن سرواہ کی گلیوں میں کھیلتے گزرا۔ ان کی تعلیم و تربیت کا آغاز مذہبی تعلیم سے ہوا جبکہ رسمی تعلیم کے لیے انہیں سراوہ کے پرائمری سکول بھیجا جانے لگا۔ مگر جلد ہی انہیں اس سکول سے ہٹا کر،

Read more

اصغر ندیم سید کے ناول ”جہاں آباد کی گلیاں“ میں تاریخی شعور

تاریخ، واقعات کو محفوظ کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایسے سوالات کا نام ہے جو واقعات کے نتائج سے برآمد ہوتے ہیں۔ ماضی کا دھارا حال میں موجود ہوتے ہوئے، مستقبل کی خبر دے رہا ہوتا ہے۔ تاریخ کے ذریعے قومیں اپنے اعمال کا موازنہ اپنے رفتگاں سے کرتے ہوئے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتی ہیں کہ کیا وہ فاتح قرار پائیں گی یا شکست ان کا مقدر ٹھہرے گی۔ یوں محاسبے کے عمل سے گزرتے ہوئے،

Read more

روہتاس کی سرمئی دوپہر

تاریخ کے دریچوں سے گزرنا بڑا دلفریب، پرکیف اور کٹھن ہوا کرتا ہے۔ محض در و دیوار کو دیکھ لینے سے بھی صدیوں کی بنتی بگڑتی کہانیاں خود پر گزرنے لگتی ہیں۔ مجلسِ اقبال ایسے ہی دریچوں سے بچوں کو آشنا کروانے 26 اکتوبر کو قلعہ روہتاس لے گئی۔ گاتے، مسکراتے لاہور سے جہلم کی طرف روانہ ہوئے مگر حقیقت میں یہ سفر اکیسویں صدی سے سولہویں صدی کی طرف تھا۔ صدیوں کی داستان کو نئے سرے سے یوں لکھا

Read more

بچو! الوداع

میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ لفظ ”الوداع“ تعلق ٹوٹ جانے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے یا ایسے تعلق کے معنوں میں جس کی تاثیر تو ہوتی ہے مگر تصویر موجود نہیں ہوا کرتی۔ میرے لیے یہ ایسے معمے کی بات تھی جسے میں کبھی حل نہ کر پایا۔ ادب کا طالب علم ہونے کے ناتے، مجھ پر لازم تھا کہ اس سوال کو حل کرنے کی جستجو کرتا مگر کوئی ایسا طریقہ میسر نہ آیا کہ جس کے

Read more

ایک تھا جنگلی جانور

یاد پڑتا ہے کہ کسی فلاسفر نے یہ کہہ رکھا ہے کہ انسان سماجی حیوان ہے۔ اس نے یہ کب، کیوں اور کس سیاق میں کہا تھا یاد نہیں، البتہ اتنا یاد ہے کہ پاکستانی منظر نامے سے اس کا ضرور کوئی نا کوئی رشتہ بنتا ہے۔ پاکستانی تناظر میں اس جملے کی تعبیر یوں کی جا سکتی ہے کہ جیسے جانوروں کو جینے کے لیے پانی اور کھانے کی ضرورت ہوتی ہے، پاکستانی عوام کو بھی یوں ہی پانی

Read more

دم توڑتی ثقافت، گم ہوتی شناخت

کسی بھی قوم کی شناخت اور معنویت اس کی مخصوص ثقافت سے ہوا کرتی ہے۔ اکیسویں صدی جہاں مادیت پرستی کی طرف بڑھتی دنیا کا نام ہے وہاں وہ مخصوص روایات بھی دم توڑتی جا رہی ہیں جو کسی مخصوص قوم کی پہچان ہوا کرتی تھیں۔ بات کو صرف پاکستانی سیاق تک محدود کرتے ہوئے، اس خطہ عرض کی ثقافت کی بات کی جائے تو بچپن سے آج تک کئی ایسی رسومات ہم نے اپنی زندگی میں دیکھیں، جو یا

Read more

خطرہ

پاکستان ایسا ملک دنیا میں دوسرا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے، پاکستان مثالی ملک کیسے ہو سکتا ہے؟ بے شمار سروے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ ملک خرابی کی لسٹوں میں اول نمبروں میں آتا ہے۔ میں ان اعداد و شمار کو تسلیم نہیں کرتا۔ میرے تو اپنے معیارات ہیں اور ان پر یہ ملک پورا اترتا ہے۔ پاکستان کی لوکل بسوں کی ہی مثال لے لیجیے۔ پاکستان میں ایسی ایسی لوکل

Read more

آؤ روس چلیں

جناردن اپادھیائے کے قلم سے وجود پانے والا سفر نامہ ”آنکھوں دیکھا روس“ ایک ایسا سفر نامہ ہے جس میں جہاں روس کے مناظر دل لبھاتے ہیں وہاں روسی تہذیب و ثقافت اور معاشرتی رویوں کا ہندوستان سے تقابل دو ممالک کی تہذیبی حرکیات میں ایسے تخصیص کرتا ہے کہ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ کیا اقدامات ہیں جن کی بدولت روس طبقاتی تفریق سے نکل کر انسانیت کے درجے میں داخل ہوا۔ مختصر سفرنامہ

Read more

عنوان: چیخوف کی سوانح عمری، تعارفی خاکہ: قسط اول

مصنف: کانسٹینس گارنیٹ انگریزی سے ترجمہ: علی حسن اویس 1841 ء میں روسی رئیس کے ایک کمیرے نے فی کس 700 روبل ادا کرتے ہوئے اپنی اور اپنے خاندان کی آزادی 3500 روبل کے عوض حاصل کی، جبکہ اس کی چھوٹی بیٹی الیگزینڈرا کو بغیر کسی معاوضے کہ آزاد کر دیا گیا۔ مصنف آنتون چیخوف اسی کمیرے کا پوتا تھا۔ جبکہ اس رئیس کا بیٹا تہرتکوف، ٹالسٹائین 1 نظریات کا حامی اور ٹالسٹائی کا دوست تھا۔ ( 1۔ ٹالسٹائی کے

Read more

وجاہت مسعود سے ملاقات (ادھوری چاہت کی تکمیل)

اچھے طالب علم کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ جن لوگوں کی تحریروں کے ساتھ شامیں گزارتا ہو، جن کی لکھت سے صبح کا آغاز کرتا ہو، ان لوگوں سے ملنے کے لیے ہمیشہ بے تاب رہتا ہے۔ میں خود کو اچھا طالب علم تسلیم تو نہیں کرتا مگر اس کے باوجود ان لوگوں سے ملنے کی چاہت ہمیشہ رہتی ہے جن کی نثر اور شاعری سے گاہے بگاہے مستفید ہوتا ہوں۔ میری عادت ہے کہ صبح اٹھتے ہی

Read more

دوہری جلاوطنی کی ایک کہانی

(ناول ”دا لاسٹ گفٹ“ ) لکھاری:۔ علی حسن اویس ”دی لاسٹ گفٹ“ عبدالرزاق گرناہ کا آٹھواں ناول ہے جو 2011 ء میں پہلی مرتبہ شائع ہوا۔ ناول کا تانا بانا افریقی پس منظر میں جلا وطنی اور احساس جرم کے گرد بنا گیا ہے۔ یہ ناول پانچ ابواب پر مشتمل ہے اور ہر باب جلاوطنی کی ایک داستان ہے۔ ناول کے مرکزی کردار عباس اور مریم ہیں جو کینوس میں میاں بیوی کے روپ میں ابھرتے ہیں۔ ناول کا آغاز

Read more

عاشقانہ نسخے

آج کا دن میری زندگی کا خوبصورت ترین دن ہے، وجہ یہ کہ آج میں اپنے نکمے عاشق قارئین کو کچھ ایسے نسخے بتانے جا رہا ہوں جن کا استعمال کر کے وہ میرا نام امر کر دیں گے۔ تو آئیے، نسخے نوٹ کر لیجیے۔ نسخہ نمبر ایک: (محبت کا اظہار) دلربا سلام! کچھ لمحات زندگی میں ایسے آتے ہیں کہ ان کی یاد انسان کا کل سرمایہ ہو کر رہ جاتی ہے۔ میری زندگی میں بھی ایک ایسا لمحہ

Read more

وہ اک شام جو ٹھہر گئی (طنز و مزاح)

کہا جاتا ہے کہ زندگی کے کچھ دن ایسے ہوتے ہیں کہ تمام عمر کے لیے ساکن ہو جاتے ہیں اور کچھ شامیں ٹھہر جاتیں ہیں۔ مگر مجھے یہ جملہ کبھی سمجھ نہ آیا کہ شام ٹھہر جانے کے کیا معنی۔ میں اکثر یہ بڑ ہانکا کرتا تھا کہ ”بھئی کوئی سر پھرا فلاسفر ہو گا جس نے یہ گپ اڑائی ہو گی“ ۔ پھر یوں ہوا کہ ایک شام آئی، آئی کیا ٹھہر گئی اور ریشے ریشے میں ہلکے

Read more

چیخوف کے ناولٹ ”تین سال“ کا کرداری مطالعہ (قسط 02 )

فیودر استیپانچ بھاری پاٹ دار آواز کا حامل ایک اسی سالہ خود پسند بوڑھا شخص ہے جو عورت اور مرد کو برابر نہیں مانتا۔ اس کا ثبوت وہ یوں دیتا ہے کہ اپنی بیٹی کو بیٹوں کے برعکس نہ ہی سکول بھیجتا ہے اور نہ اس کی رائے کو اہمیت دیتا ہے۔ یہ اس بات پر خفا نظر آتا ہے کہ اس کے بیٹے الکسئی فیودرووچ نے شادی کرتے وقت باپ سے اجازت لینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ یہ ایسا

Read more

چیخوف کے ناولٹ ”تین سال“ کا کرداری مطالعہ (قسط 01 )

آنتون پاولاویچ چیخوف کا ناولٹ ”تین سال“ پہلی بار 1895 ء میں Russkaya Mysl رسالہ کے جنوری اور فروری کے شماروں میں شائع ہوا۔ اس کو اردو ادب کی دنیا سے متعارف کروانے والی شخصیت ظ۔ انصاری کی ہے جنہوں نے اسے اردو جامہ پہنایا۔ اس ناولٹ کے مرکزی کردار الکسئی فیودرووچ (لاپتیف) اور یولیا سرگئی ونا ہیں۔ دیگر کردار ان مرکزی کرداروں کی کہانی کو منطقی انجام تک پہنچانے میں جٹے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ

Read more

صندلی ہواؤں کا دیس۔ میرا گاؤں

پچھلے ایک ہفتہ سے گاؤں میں بسرام ہے تو سوچا آپ کو اپنے گاؤں کی سیر کروائے دیتے ہیں۔ ہر گاؤں کی فضا ایک جیسی ہوتی ہے مگر جو چیزیں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کو ممتاز کرتی ہیں وہ خاصی لطیفے کی بات ہے۔ میرا گاؤں بھی ایک ایسا ہی گاؤں ہے جہاں سے گزرتی پکی سڑک سبز لہلہاتی کھیتوں میں لیٹی پگڈنڈیوں پر رشک کرتی ہے۔ ایکا دکا گزرتی بس کا ہارن، چڑیوں کی مدھر چہچہاہٹ اور دوسرے

Read more

علی سردار جعفری، ایک سرخ انقلابی نقاد

تفرقہ پڑتا ہے جب دنیا میں نسل و رنگ کا لے کے آتی ہوں پرچم انقلاب و جنگ کا (علی سردار جعفری کی نظم ”آزادی“ ) علی سردار جعفری ( 2000۔ 1913 ) ایک ایسا نام ہے جس کا ذکر کیے بغیر ترقی پسند تحریک کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔ ترقی پسند تحریک کا ذکر ہو اور علی سردار جعفری کی کتاب ”ترقی پسند ادب“ کو موضوع بحث نہ بنایا جائے تو بات تشنہ تکمیل رہتی ہے۔ وہ ترقی پسند

Read more

امن کے فروغ اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے میں مذہبی رہنماؤں کا کردار

امن ایک ایسی کیفیت، احساس اور جذبے کا نام ہے جس میں معاشرے کا ہر فرد انفرادی سطح پر اپنی زندگی، جائیداد اور دیگر حقوق کو محفوظ تصور کرتا ہے۔ اور بطور مجموعی، قوم اپنے وسائل، اختیارات اور ملکی معاملات کو بغیر کسی بیرونی دباؤ کے استعمال کرنے کی قوت رکھتی ہے۔ سادہ الفاظ میں کسی بھی ملک میں ذاتی، اجتماعی، سیاسی، معاشرتی، معاشی اور ثقافتی معاملات کا کسی بھی قسم کے دباؤ اور خوف کے بغیر طے پانا امن

Read more

عدالت (افسانہ)

”نہیں نجمہ آپا، ان آنکھوں کے کٹوروں کو چھلکنے سے کوئی نہیں روک سکتا، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ انہیں ہر چیز سے عزیز اپنے اصولوں کی پاسداری ہے۔ وہ کیس بھی آپ کو یاد ہو گا جس میں ان کے چچا کا بیٹا ملزم قرار پایا تھا اور انہوں نے اس کی عمر قید کے پروانے پر دستخط کر دیے تھے۔ وہ چاہتے تو اسے رہائی دلا سکتے تھے مگر ان کے نزدیک رشتوں سے زیادہ اپنے اصولوں

Read more

اکبر الہ آبادی کے ایک شعر کا سہ جہاتی مطالعہ

اردو شاعری کی اصل ہندوستانی روایت، جس کا صحیح معنوں میں بھرپور اظہار فروز بیدری (ف1564) کے ہاں ملتا ہے، نشاطیہ اور سانولے حسن کی روایت ہے جو بعد میں قلی قطب شاہ اور پھر ولی دکنی تک چھائی ملتی ہے۔ یہ ہی وہ روایت ہے جو لکھنوی شعراء، جراءت، انشاء اور رنگین وغیرہ کی شاعری میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ لکھنوی دبستان تک آتے آتے خوبصورتی کے معیارات

Read more

ہاسٹلائز روحیں

ہاسٹل ہر اس جگہ پائے جاتے ہیں جہاں گھر نہ ہوں، مگر یہ بات بھی درست ہے کہ اگر بیوی ’اچھی‘ ہو تو گھر کو ہاسٹل بنتے دیر نہیں لگتی۔ دوسری طرف ہاسٹل کو گھر بنانے کے ہنر سے کم کم لوگ ہی واقف ہوتے ہیں۔ ”ہاسٹل میں پڑنا“ پطرس کا موضوع بنا تو اس کے پیچھے وہ اوصاف حمیدہ تھے جو ہوسٹلائز طلباء کی شخصیت کا خاصہ ہوتے ہیں۔ میں بھی ایک طالب علم ہوں اور ہاسٹلائز بھی۔ مگر

Read more

”گرگ شب“ ، پیش منظر کی کہی سے پس منظر کی ان کہی تک

ناول کو زندگی کی تصویر کہا جاتا ہے، ایک ایسی تصویر جو زندگی کی کئی جہات کا احاطہ کرتی ہے۔ لکھنے والے اور اچھا لکھنے والے میں یہ فرق ہوتا ہے کہ اول الذکر اس تصویر میں خلا چھوڑنے اور حقیقت کو ملفوف کرنے سے قاصر ہوتا ہے مگر مؤخر الذکر نا صرف حقیقت کو پس پردہ بھیج کر کہانی کو ابھارتا ہے بلکہ کچھ ان کہی چھوڑ دیتا ہے جس تک پہنچنے کا کام قاری کو کرنا ہوتا ہے۔

Read more

مزدور بچے، ملکی غدار یا قومی خدمت گار

مزدور چاہے افغانی ہو یا تورانی، امریکی سٹور پر کام کرنے والا ہو یا پاکستان میں سڑک پر بیٹھ کر مزدوری کا انتظار کرنے والا، ہمیشہ سے قومی خدمت گار کے روپ میں نظر آتا ہے۔ مگر یہ خدمت گاری، کب ملکی غداری میں بدل جائے اس کے متعلق کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ ہاں کچھ وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں اور ان میں سے ایک، اور سب سے اہم ہے ”بچوں سے مزدوری کرانا“ ۔ دنیا بھر میں

Read more

تنہائی کا بھوت کھڑا ہے

تنہائی کیا ہوتی ہے اور تنہا ہونا کیا ہوتا ہے اس کے متعلق آئے دن لوگ خیالات کا اظہار تحریر، تقریر اور شاعری کی صورت کرتے ہیں۔ کوئی اسے نعمت تو کوئی زحمت کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہے تو کوئی اسے ایسا بھوت قرار دیتا ہے جو آدمیت سے انسانیت چھین کر اسے وحشت کا پیراہن عطا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر کوئی اپنے تجربے یا مشاہدے کی بنیاد پر اس لفظ کو نئے معنی پہنانے کی کوشش

Read more

لاری اڈا، کھٹارا طیارہ اور لوکل روڈ

کچھ سفر حسین ہوتے ہیں تو کچھ منزلیں شاندار۔ مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ بندہ سفر اور منزل کی فکر بھول کر مسافروں میں کھو کر رہ جائے۔ کبھی انسان سفر کو بھول جاتا ہے تو کبھی منزل گم کر بیٹھتا ہے مگر یہ ایک کمیاب واقعہ ہے کہ بندہ سفر اور منزل سے بے نیاز ہو کر مسافروں میں توجہ مرکوز کر بیٹھے۔ زندگی میں کچھ ایسے سفر اور مسافر بھی گزرتے ہیں کہ ان کے متعلق

Read more

خاندانی نیوز چینل اور خواتین

زندگی میں کئی عقدے وا کیے، کئی سوالات کے جواب تلاش کرنے میں کامیاب ہوا اور کئی ایسی چیزوں، باتوں اور نظریات کی وہ بنیادیں تلاش کرنے میں محو رہا جس کی اساس پر وہ معاشرے میں اپنی الگ پہچان اور الگ معیار قائم کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ مگر دو چیزوں کی اصلیت جان نہ پایا۔ زندگی کی بیس بہاریں دیکھ چکا ہوں لیکن آج تک محو حیرت ہوں کہ آخر وہ کیا وجہ تھی کہ عورت اور لونڈوں

Read more

مخلوقِ غضب اور فلاسفر شیدا

  طالب علم کی زندگی کا سب سے خراب موسم، موسم امتحان ہوتا ہے۔ بقول پطرس بخاری طلباء کی فصل شروع سرما میں بوئی جاتی ہے اور عموماً اواخر بہار میں پک کر تیار ہوتی ہے۔ موسم گرما کی ابتدا میں اس فصل کو کاٹا جاتا ہے۔ یہاں کاٹنے سے میری مراد ذہنی عرق ریزی سے ہے نا کہ جسمانی۔ جس طرح موسم کے بدلاؤ سے فضائی رویہ بدل جاتا ہے ایسے ہی موسم امتحان آتے ہی طلباء کے رویے

Read more

موت کے تین دن

کبھی تم نے یہ سوچا ہے کہ تین دن کی انسانی زندگی میں کیا اہمیت ہوتی ہے۔ تین دن میں بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ انسان اپنے ان سپنوں کی جانب تین قدم مزید بڑھا سکتا ہے جن کے تعاقب میں وہ برسوں سے سرگرداں رہا ہو۔ خود شناسی سے خدا شناسی تک کا سفر طے کر سکتا ہے۔ تین دن میں تین صدیوں کے واقعات کو کھنگالا جا سکتا ہے۔ تین ہزار سے زائد ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھی جا

Read more

واٹس ایپ وار

دشنام طرازی، ہاتھا پائی اور لڑائی جہاں بدمزگی، آزردگی اور عداوت کا باعث بنتی ہے، وہاں تہذیبی حسن اور ثقافتی خوبصورتی کی علامت بھی ہے۔ ہر علاقے کی دشنام دہی اور گتھم گتھا ہونے کی اپنی ایک ثقافت ہوتی ہے۔ کسی علاقے میں بات آپ سے تم تک پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے، تو کہیں فحش کلامی سے ”چھڈویں جتی“ تک کا سفر ایک لمحہ میں طے ہو جاتا ہے۔ کہیں ڈنڈے سوٹے چل جاتے ہیں تو کہیں پستول

Read more

فن اور اخلاقیات

فن ایک عمل خالص کا نام ہے۔ ایسا عمل جو اندرونی تحرک کی بنا پر ابھرتا ہے اور کسی بھی قسم کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہوتا ہے۔ نقالی کا نام فن نہیں بلکہ یہ نام ہے موجود امثال میں جدت لاتے ہوئے نقطۂ کمال کی جانب بڑھنا۔ فن کو سات اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے جنہیں اصطلاح میں فنون لطیفہ کہا جاتا ہے۔ اس میں فن تعمیر (روم میں پینتھیان، مصر میں اہرام، اور بھارت میں تاج محل

Read more

لونڈے لپاڑے

نوعمری سے بالغ پن کی راہ میں پڑنے والی منزل کو نوجوانی کہا جاتا ہے۔ نوجوان ایسا عجوبہ ہے جسے سمجھے کے لیے شاعر اور ادیب دیوان کے دیوان لکھ گئے مگر نتیجہ اخذ کرنے سے ناکام رہے۔ کسی نے قاتل رو کہا تو کسی نے صیاد پیشہ۔ کوئی گل رو کہہ گیا تو کوئی چنچل صنم۔ شاعر لکھ لکھ تھک گئے مگر تسلی بخش نتیجہ اخذ نہ کر پائے۔ اس مسئلہ پر غور و خوض کرنے اور نتائج تک

Read more

اجلاسی روحیں

ماؤں کے شہزادوں کو بے حال کرنے کے قانونی ہنر سے مالامال جگہ ہاسٹل کہلاتی ہے۔ ہاسٹل ہر اس جگہ پائے جاتے ہیں، جہاں گھر نہ ہوں۔ سول انجینئرز کی نئی تحقیق کے مطابق ہر وہ جگہ ہاسٹل کہلاتی ہے، جہاں چار پانچ لونڈے ہر وقت موجود ہوں۔ لاہور میں وہ طلبہ کثرت سے پائے جاتے ہیں، جو آوارہ منش ہوتے ہیں۔ ان کی طبیعت پر فاصلے گراں گزرتے ہیں، اس وجہ سے ان کی آوارگی ہوٹل، سینما اور دوستوں

Read more

فیض احمد فیض کے نام خط

فیض صاحب! میں آپ کی بہت قدر کرتا ہوں۔ ایک اس بنا پر کہ آپ اولڈ راوین ہیں اور دوسری وجہ یہ کہ آپ نے زندگی میں ”کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا“ اور ادب والوں کو محنت کا درس دے گئے۔ آپ شاعر ہیں اور ادب میں آپ کا مقام بلند ہے، مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی من مانی کرتے پھریں۔ آج 13 فروری ہے اور آج ہی کے دن آپ کا جنم ہوا

Read more

مرزا اطہر بیگ: قلمی جہات

مرزا اطہر بیگ علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہیں بچپن ہی سے ایسا ماحول میسر آیا جس میں کتابوں کی وادی بہت اہمیت کی حامل تھی۔ ہر ماہ ان کے گھر کئی علمی و ادبی رسائل آتے تھے۔ اس وجہ سے ان کا رجحان ادبی و علمی میدان کی وسعت کی جانب بڑھتا چلا گیا۔ آپ کے مطالعہ کی پختہ عادت نے آپ کو لکھنے کی جانب راغب کیا اور آپ نے ایک کہانی بعنوان ”سو پہلا دن ہوا“ لکھ

Read more

اردو شاعری میں رنگوں کا استعمال

رنگ، انسانی زندگی میں رنگ بکھیرنے کے عمل میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ رنگ کائناتی ہوں یا جذباتی، یہ حقیقت ہے کہ رنگوں ہی کی بدولت اس کائنات اور انسانی شخصیات میں تنوع ہے۔ اگر اس کائنات میں رنگ نہ ہوتے تو زندگی بے کیف ہو کر رہ جاتی، اور انسان اس بے کیفی سے گھبرا کر زندگی کا خاتمہ کر بیٹھتا۔ آسمان میں سنہرا سورج چمکتا ہے تو چرخ کا رنگ نیلا اور چاند کی روشنی سفید۔ سبز

Read more

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

خاک کے خمیر میں ظلم اور رحم کی حدت کے ساتھ، جب جذبات کی آمیزش کی گئی تب قرطاس کائنات پر آدمیت کا ظہور ہوا اور اس کا مسکن جنت قرار پایا۔ انسان ظلم کے حصار میں آ کر ظالم ٹھہرا اور جنت سے زمین پر ایسے پھینک دیا گیا، جیسے ٹوٹا تارا آسمان سے زمین کی طرف گرتا ہے۔ دوبارہ مہ کامل بننے کے لیے رحم کو ظلم پر حاوی کرنا لازم تھا۔ آدمیت کی اس کوشش میں ظلم

Read more

اردو غزل میں امرد پرستی کی روایت

مؤرخین نے وسطی ایشیا کو ہندوستان کا دروازہ کہا ہے اور اسی دروازے ہی سے آریہ، تاتار، مغل، ترک اور پٹھان ہندوستان میں داخل ہوئے اور حملے کرتے ہوئے پایہ تخت میں داخل ہو کر تخت نشین ہوئے۔ یہ لوگ جو رسم و رواج اور روایات اپنے ساتھ لائے تھے، وہی روایات اور رسم و رواج آج ہمارا سرمایہ فخر ہیں۔ غزل نے عرب میں جنم لیا اور فارس میں پلی بڑھی۔ فارسی میں غزل کی جو اقدار پروان چڑھ

Read more

ناول ”سدھارتھ“ ، فکری مطالعہ

انتساب گمنام آہوں اور گمشدہ راہوں کے نام جرمن لکھاری ہرمن ہیسے کے قلم سے تخلیق پانے والا ناول سدھارتھ 1922 ء میں جرمنی میں شائع ہوا۔ 1951 ء میں اس کا انگریزی ترجمہ امریکہ سے شائع ہوا۔ 1960 ء تک اس کی شہرت عام ہو چکی تھی۔ یعقوب یاور نے 1982 ء میں اسے اردو کے قالب میں ڈھال کر ہندوستان کو اس سے متعارف کروایا۔ سدھارتھ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جو سدھ اور ارتھ کا مجموعہ ہے۔

Read more

لاہوری بلیاں

لاہور ایک ایسی الکھ نگری ہے جو جکڑنے کی صلاحیت (جادو کہیں یا حسن) سے لبریز ہے۔ جو شخص اس نگری کا ایک بار مسافر ٹھہرا پھر اس کی بھل بھلیوں میں ایسا کھویا کہ واپسی کا راستہ چاہ کر بھی تلاش نہ سکا۔ لاہور میں ٹھہرا متلاشی منزل اندرونی کشمکش، جس کی وجہ ماضی کی کشادہ یادوں کا تنگ گلیوں سے تصادم ہے، میں مبتلا ہوتا ہے۔ تعلیم کے سلسلے میں گاؤں سے لاہور ہجرت کی اور ہاسٹل میں

Read more

مرزا اطہر بیگ: تعارفی مطالعہ

مرزا اطہر بیگ دنیا سے لاتعلقی انداز میں تعلق رکھنے والا ایک ایسا قلم کار ہے جو ”دھند میں راستہ“ پر چلتے ہوئے سیر کے لیے ”غلام باغ“ میں داخل ہوا۔ سیر کے دوران ”دوسرا آسمان“ تکتے ہوئے ”صفر سے ایک تک“ کے نظریہ پر غور و فکر کرتا ہوا ”گہرے پانی“ کا رخ کیا۔ راستے میں اس کی نظر ”دلدل“ پر پڑتی ہے تو اسے اچانک کچھ ”روگ“ یاد آ جاتے ہیں۔ ”روگ“ کے ”حصار“ سے نکلنے کی کوشش

Read more

تیسرا دیدار (افسانہ)

آسمان کے آنگن میں سفید رنگ کے بادل جن میں گہری سبز مائل جھیل کے پانی نے ہلچل مچا دی تھی تیر رہے تھے۔ پہاڑ کی چوٹی بادل کو گدگدا کر مسکرا دیتی اور پہاڑوں پر لیٹا سبزہ یہ کھیل دیکھ کر خوش ہوتا ہوا بادلوں کی روانی کو تکتا رہتا۔ ایک جانب پہاڑ خوش تھے کہ ان میں بادل کا سینہ چیرنے کی طاقت ہے تو دوسری جانب بادل اس رمز پر نازاں کہ پہاڑوں کی چوٹیاں اسے چیر

Read more

پاک چین دوستی، عوامی محبت اور قومی ترقی کا سنگم

جب آدمیت کے خمیر میں انسانیت کی آمیزش ہوئی اور نئے مرکب میں محبت کا عنصر شامل کیا گیا، تب دوستی کو جنم نصیب ہوا۔ دوستی کئی اقسام انفرادی، اجتماعی، قومی اور بین الاقوامی ہیں۔ پاک چین دوستی وہ دوستی ہے جو بین الاقوامی سطح پر اپنی مثال آپ ہے۔ پاکستان اور چین ایک دوسرے کے اس وقت قریب آئے جب پاکستان چین کو تسلیم کرنے والا پہلا اسلامی ملک قرار پایا۔ پاک چین دوستی کی ابتداء 21 مئی 1951

Read more

”امراؤ جان“ کے کردار کا نفسیاتی مطالعہ

کہانی کے بیج کی تخلیق اسی روز ہی ہوئی تھی جس روز خدائے واحد نے کائنات کو وجود بخشا تھا۔ مگر کہانی کے اس بیج کو جڑ تب نصیب ہوئی جب خدا کے حکم سے عزرائیل نے آدم کی تخلیق کی خاطر مٹی سے مٹی کو جدا کیا۔ کہانی کو وجود کا پیرہن تب نصیب ہوا، جب آدم کو مسجود ملائک دیکھ کر عزازیل نے تکبر کا قصد کیا۔ کہانی کو بیان کرنے کے مختلف ڈھنگ اپنائے جاتے رہے۔ کسی

Read more

امیرن کے کردار کا تجزیاتی و نفسیاتی مطالعہ

قصہ یا کہانی انسانی زندگی کا سب سے اہم پہلو ہے۔ کائنات کے کینوس میں کہانی کے جرثومے اس وقت ظاہر ہوئے جب آدم کو مسجود ملائک ٹھہرایا گیا اور عزازیل نے آدم کو مسند نشین دیکھ کر تکبر کا ورد کیا۔ کہانی کی تخلیق کے بعد انسان نے اس کو بیان کرنے کے کئی ڈھنگ اپنائے۔ کسی نے داستان کو چھیڑا تو کسی نے ناول کے پنوں میں زندگی کی شمع روشن کی۔ کوئی کہانی کا رخ موڑ کر

Read more

زلفوں کے سائے میں“ تجزیاتی مطالعہ

جس روز عناصر اربعہ؛ پانی، ہوا، مٹی اور آگ کا مرکب تیار کر کے پتلا بنایا گیا اور اس کے اندر روح پھونکی گئی، اسی روز لفظ ”جنگ“ کو وجود حاصل ہو گیا۔ اس لفظ کو مفہوم کا پیراہن تن نصیب ہوا جب آدم کو لائق مسجود ٹھہرایا گیا اور عزازیل نے آدم کو خلیفہ کے روپ میں مسند نشین دیکھ کر تکبر کا ورد کیا۔ لفظ ”جنگ“ کو مفہوم کا پیراہن ملتے ہی یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں

Read more

”جہاں میں تھا“ تجزیاتی مضمون

عصر موجود میں کون ایسا ہے جو عطاء الحق قاسمی کے نام سے واقف نہیں۔ وہ نہ صرف ادیب اور مزاح نگار بلکہ سفر نامہ نگار اور کالم نگار بھی ہیں۔ ان کی خدمات کو نا صرف ادبی حلقوں میں تسلیم کیا جا چکا ہے بلکہ حکومت پاکستان بھی ان کی خدمات کا اعتراف کرتی ہے اور اعتراف کے ثبوت میں یہی کافی ہے کہ انہیں تمغہ حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز جیسے قومی میڈل سے نوازا جا

Read more

اورحان پاموک، پرخطر رستوں کا مسافر

نوبل انعام الفریڈ نوبل سے وابستہ ایک ایسا انعام ہے جو طبیعیات، طب، معاشیات، امن اور ادب کے میدان میں ان لوگوں کے دامن میں ڈالا جاتا ہے جو ایسا کارنامہ سر انجام دیں جو کہ نہ صرف لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرے بلکہ اس کام کی نوعیت اس کے متعلقہ میدان کے دیگر شہ سواروں سے الگ اہمیت بھی رکھتی ہو۔ بیسویں صدی کے آخری عشروں میں نوبل انعام کو احمقانہ کوشش اور موت کے بوسے جیسے الفاظ

Read more

میری لڑکیوں سے لڑائی ہے

لڑکیاں خدا کی عجب مخلوق ہے۔ کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے، جس کی پشت پناہ یہ مخلوق ہوتی ہے وہ زندگی کے میدان میں ہار سے دو چار ہونے کی بجائے پھولوں کے ہار کا مستحق قرار پاتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب جب یہ مخلوق کسی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتی ہے وہ بچارا پھر ہاتھ دھونے کے قابل بھی نہیں رہتا۔ مگر میری تئیں معاملہ بالکل جدا نوعیت کا

Read more

ناطق کے کردار کی پُرسراریت ، سفید موتی کے تناظر میں

علی اکبر ناطق موجودہ دور ترقی کے ایسے عمدہ لکھاری ہیں جن کی وجہ شہرت ناول نولکھی کوٹھی ہے۔ مگر اس کے علاوہ شاعری اور افسانہ نگاری میں اپنی پہچان بنانے میں بھی سرگرداں ہیں۔ اگر بات کی جائے ان کے افسانوی کرداروں کی تو وہ زیادہ تر ایسے کرداروں کو پیش کرتے ہیں جنہیں پڑھ کر معلوم ہوتا ہے ایسے کرداروں سے ہم بھی مل چکے ہیں اور شاید بچھڑ بھی چکے ہیں۔ ایسے ہی کرداروں میں سے ایک

Read more

ایک بار اور میری عیادت کو آئیے

ہاسٹل ایک ایسی نگری کا نام ہے جو ماؤں کے لال کو بے حال کرنے کے قانونی ہنر سے مالامال ہوتی ہے۔ ہاسٹل کے اس قانونی ہنر کے سانچے سے گزرنا ان طلباء و طالبات پر فرض عین کی مانند لاگو ہوتا ہے جو دل میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خواہش کے موتی کے لمس کو سلگائے گھر سے دور اعلیٰ تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ ہاسٹل کے در و دیوار کے اندر داخل ہوتے ہی تمام کام

Read more

پانی، مسکراہٹوں کا پاسباں

قرطاس کائنات پر جب انسانیت کا ظہور ہوا وہ پانی کے ان خواص سے ناآشنا تھی جو اس کی شخصیت کی تہہ میں پنہاں خوشی کو لذت کے پر لگا کر سکون کی وادی کی معطر فضا میں محو پرواز کرنے کی صلاحیت سے لبریز تھے۔ مگر جوں جوں انسانیت کی نسل بڑھتی گئی توں توں خواص سے آشنائی کی لہر شدت پکڑتی گئی۔ بیسویں صدی کے آخری عشروں میں اس لہر نے وجود کی شکل اختیار کرتے ہوئے عالم

Read more

درگاہ سے درگاہ کا سفر

اشفاق احمد فرماتے ہیں، ”گورنمنٹ کالج لاہور (موجودہ یونیورسٹی) ایک درسگاہ ہے جس میں“ س ”کا حرف اضافی ہے۔ عالم گواہ ہے کہ اس جہان فانی میں فقر کا گوہر درگاہوں سے ہی نصیب ہوتا چلا آ رہا ہے۔ جس فقیر کے کاسہ کو وہ انمول صدف عطا ہوتا ہے اسے درویشی کا وہ جوہر، جس کی چمک دمک سے دنیا کی نس نس روشن ہو جاتی ہے، نصیب ہو جاتا ہے۔ مگر یہ قیمتی رتن حاصل کرنا ہر ایک

Read more

نمرود کی خدائی

”نمرود کی خدائی“ ایک سو اٹھائیس صفحات پر مبنی سعادت حسن منٹو کے ان بارہ افسانوں کا مجموعہ ہے جو آزادی سے قبل اور جنگ عظیم دوم کے بعد ہندوستان میں برپا ہونے والے فسادات کے تناظر میں لکھے گئے ہیں۔ آج تک جتنے بھی افسانوی مجموعے نظر سے گزرے ان کا عنوان مجموعہ میں شامل نمائندہ افسانہ کا موضوع تھا مگر افسانوی مجموعہ ”نمرود کی خدائی“ میں اس عنوان کے تحت کوئی کہانی یا افسانہ موجود نہیں۔ پہلا افسانہ

Read more

بند کواڑوں کا ادب

”بند کواڑوں کا ادب“ ایک سو گیارہ صفحات پر مبنی ان چالیس اداریوں پر مشتمل مجموعہ ہے جو شاہین زیدی نے بطور مدیرہ سہ ماہی مجلہ ”نوادر“ میں تحریر کیے ۔ شاہین زیدی ادبی دنیا میں بطور شاعرہ، ناول نگار، افسانہ نویس، مبصرہ، سفرنامہ نگار اور مدیرہ خاص مقام رکھتی ہیں۔ شاہین زیدی نے مجلہ نوادر اپنے سسر ڈاکٹر سید نظیر زیدی کی یاد کو تازہ رکھنے کی خاطر نکالنا شروع کیا اس لیے اکثر اداریوں میں ان کی یادوں

Read more

معاشرتی رواداری کے فروغ میں ادب کا کردار

صفحہ قرطاس پر جب انسانیت کا ظہور ہوا تب انسان گفتگو کے ان رموز سے نا آشنا تھا جو موجودہ دور ترقی میں گفتگو کی معراج تصور کیے جاتے ہیں۔ وقت کی رفتار کے ساتھ آدمیت نے ہلکی ہلکی ہوں ہاں کرنا سیکھی اور پہلی بات، جو شاید انسانی تاریخ کی پہلی بات تھی، شاعری کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی۔ دنیا کے ہر ایک لسانی ادب کا آغاز ہمیشہ شاعری سے ہوتا آیا ہے۔ لہذا دنیا کے اولین لسانی

Read more

الکھ نگری میں چمکتا سورج

چوکور نما احاطہ، جس میں اگی ہوئی گھاس کا سبز اور گرے ہوئے سنبل کے پتوں کا گہرا زرد رنگ حسین نظارہ پیش کر رہے ہیں، میں پڑے دو بنچوں پر سے اس بنچ پر بیٹھے جو تاریخ کی ایسی نگری جو اپنی دنیا میں ایک کائنات ہے، کی طرف بڑھتی راہداری کے کنارے زمین سے پیوست ہے، مجھ پر فاختہ، چڑیا، کوے اور کبوتر کی آواز کے امتزاج کے ساتھ ساتھ ہلکی ہلکی جسم سے ٹکراتی ہوا نے ایسا

Read more

مشاہدہ سے تجربہ تک

مادی آنکھ سے خاکی دنیا کی رگ رگ میں پنہاں خوبصورتی کو حسین انداز نظر سے بغور دیکھنا اور اس خوبصورتی سے پیوست ترنم کو تخیل کے کانوں سے درجہ سماعت عطا کرنا مشاہدہ کہلاتا ہے۔ عام چلن ہے کہ ہر چیز پر جیسی بھی نگاہ پڑ جائے اسے مشاہدہ سے تعبیر کیا جاتا ہے مگر حقیقت میں مشاہدہ بالکل ایک الگ چیز کا نام ہے۔ فرض کریں دو آدمی ایک سرسبز و شاداب باغ میں چہل قدمی کرتے ہوئے

Read more

قائد اعظم کا تصور قومی زبان

اردو زبان وہ زبان ہے جس کی جڑیں برصغیر سے پھوٹیں اور رفتہ رفتہ پودے کی شکل اختیار کرتے ہوئے بیسویں صدی عیسوی میں زبان کی حیثیت میں نمودار ہو کر برصغیر کی آزادی اور پاکستان کے عدم سے وجود میں آنے کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ قرار پائی۔ پاکستان اسلام کے نام کے ساتھ ساتھ زبان کے نام پر بھی حاصل کیا گیا۔ اور وہ زبان اردو تھی صرف اردو۔ جب پاکستان اپنے علیحدہ تشخص کے ساتھ

Read more

عادت سے لت تک

معاشرتی حیوانیت کے تاج کو سر پر سجانے والے خاکی پتلے کے ایک ہی کام کو بار بار دہرانے کے عمل کو وہ درجہ حاصل ہے جسے سادہ الفاظ میں عادت کہا جاتا ہے۔ عادت بذات خود اچھی ہے نہ بری مگر اس کی برائی اور اچھائی کا انحصار اس چیز کی نوعیت پر ہے جس کے ساتھ یہ پوست ہوتی ہے۔ عادت سے لت تک کے سفر کا گہرائی سے جائزہ لینے سے قبل عادت کی وجوہات کو زیر

Read more

نمازیں ہماری، حساب ہمارے

کاروبار کے دیو کی مورتی کو دل کی مسند پر بٹھائے خدائے عالم کے گھر کی نرم و ملائم صف پر خدائے واحد کی بارگاہ میں مؤدب کھڑے ہو کر قلبی صنم کے قدموں پر سر ٹیکنا معاشرے کا عام چلن ہے۔ میں وعظ ہوں نہ کوئی ناصح مگر تصوراتی صنم کو سر بازار لا کر پاش پاش کرنے کو اپنا فرض عین گردانتا ہوں۔ موجودہ معاشرے میں رہتے ہوئے مسجد کے اندر کھڑے ہو کر تجربہ اور اس تجربہ

Read more

سیپ موتی کی تلاش میں ہے

گوہر کو اپنے شکم میں پرورش کی مسند عطا کرنے کی خاطر سیپ ازل سے فانی دنیا کے وسیع و عریض سمندر کی اوپری سطح پر قطرہ شبنم کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ اسی تلاش میں کسی سیپ کو شبنم کی بوند اور کسی کو سمندر کے کھاری پانی کا قطرہ نصیب ہوا۔ دنیا وسیع و عریض ہے اور اس کے ہر حصہ میں کوئی نہ کوئی سیپ ہمیشہ ایسے موتی کی تلاش میں رہتی ہے جو اس کی شان

Read more

کالی شلوار: فحاشی کا پلندا یا حقیقت کی روداد

کالی شلوار سعادت حسن منٹو کا وہ افسانہ ہے جو 1942ء میں شاہد احمد دہلوی کے جریدے ” ساقی ” میں شائع ہوا۔ اس افسانہ پر فحاشی کے الزام میں لاہور کی کسی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا جہاں یہ افسانہ فحاشی پر مبنی داستان ٹھہرا مگر سیشن کورٹ لاہور میں سزا کے خلاف اپیل کی گئی تو اسے غیر فحش قرار دے کر منٹو کو بری کر دیا گیا۔ عدالتی ریکارڈ ناپید ہونے کے سبب اس بات کا ثبوت

Read more

نظیر اکبر آبادی کا ہنس نامہ

نظیر اکبر آبادی کا اسم گرامی ولی محمد اور تخلص نظیر کرتے تھے۔ جنم دن کے متعلق حتمی فیصلہ کرنا کہ وہ کب پیدا ہوئے مشکل ہے کیونکہ تاریخ حتمی فیصلہ کا سراغ وا کرنے سے قاصر ہے۔ ہاں مگر ”زندگانی بے نظیر“ میں پروفیسر عبدالغفور شہباز نظیر اکبر آبادی کی دہلی میں پیدائش محمد شاہ رنگیلا کے عہد میں اور رام بابو سکسینہ نادر شاہ کے حملہ کے وقت بیان کرتے ہیں۔ مبہم اشارات کی روشنی میں قرین قیاس

Read more

آخری صفحہ

لفظ ”آخری“ ابدی گھر سے دربدر کر دیے جانے والے خاکی پتلوں کی چار روزہ حیات میں وہ کردار نبھایا ہے جو ان کے دلوں کی گہرائی میں پنہاں خواہشات کو سر بازار لاکر پارہ پارہ کر دینے کے لیے کافی ہے۔ زندگی کے کینوس کو سمیٹ کر ایک لفظ میں بیان کرنے کی سعی لفظ آخری پر اختتام ہوتی ہے۔ زندگی کا ہر لمحہ، ہر پہلو اور ہر سانس اسی لفظ کا منتظر اور متلاشی ہوتا ہے۔ ازل سے

Read more

غاروں میں بسیرا کرنے والا الو

علامہ اقبال نے تخیل کی پرواز میں محو ہوتے ہوئے نوجوان ( یاد رہے یہ نوجوان اس وقت کا نوجوان ہے جس وقت موبائل فون اور انٹرنیٹ کی دنیا سے خاکی دنیا بے خبر تھی) کو شاہین کا تمغہ عطا کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں۔” اقبال نے ایسا اس لئے کہا تھا کہ اسے نوجوان میں وہ خصوصیات نظر آئیں جو کہ

Read more

کٹاس راج، تاریخ کے آئینہ میں تہذیب

کٹاس راج لاہور سے شمال مغرب کی جانب اڑھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر چند قدیم عمارتوں کا مجموعہ ہے جن کو عرف عام میں مندر کہا جاتا ہے۔ اس مندر کو زمان و مکان کا صید ہوتے ہوئے، مادی آنکھ سے دیکھنے سے قبل میں اسے اینٹوں پر مشتمل ایک کھنڈر تصور کرتا تھا، بس ایک کھنڈر۔ جب راقم گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی ادبی مجلس، مجلس اقبال کے ہمراہ کلر کہار کی پراسرار سرزمین سے گزرتا ہوا کٹاس

Read more

چلو اس طرف کو ہوا ہو جدھر کی۔

”وقت ان کا ہوتا ہے جو وقت کے ہوتے ہیں۔“ دوسرے الفاظ میں ”وقت ان کا ساتھ دیتا ہے جو وقت کے ساتھ چلتے ہیں۔“ یہ مقولہ صدیوں محو گردش رہا اور ہے۔ یہ اصول اس عالم مادی میں سب اقوام میں مقبول رہا ہے کہ اگر کچھ پا لینے کی تمنا دل میں اور حاصل کرنے کے لئے قوت بازوں میں موجود ہو تو وقت کے بے کراں دریا میں بہہ کر ہی وہ تمنا تکمیل ہوتی ہے۔ وہ

Read more

منٹو کا آدمی: اچھائی اور برائی کے تناظر میں

سعادت حسن منٹو کے ہاں آدمی کا تصور ادب کے دیگر شہسواروں کی نسبت بہت زیادہ مختلف پایا جاتا ہے۔ ادب کے تمام شہسواروں نے لکھا اور بہت خوب لکھا ہے مگر اس میدان میں اپنا زور قلم نہ آزمایا جو سب سے بنیادی اور انسانی جبلت کا نمایاں حصہ تھا۔ مگر سعادت حسن منٹو نے اپنے قلم کو، نظیر اکبر آبادی کے اس مصرعے کی تائید کرتے ہوئے کہ سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی،

Read more

دنیا دار کمینے

مزار اقبال پر حاضری کے دوران ایک عجیب منظر دیکھا، جو دیکھنے والوں کے لیے نظر کا دھوکا مگر سمجھنے والوں کے لئے سچائی پر مبنی ایک داستان تھا۔ پر رونق شہر کے مرد و زن مزار اقبال پر حاضری کی تمنا دل میں اور مزار کی زیارت کی خواہش چہروں پر سجائے خراماں خراماں مزار کی جانب رواں دواں تھے۔ مزار کا احاطہ قریب آیا تو ادب کے لباس میں ملبوس ہو کر، جوتیاں اتار کر مزار اقبال کے

Read more

ذات پات اور معاشرہ

عالم فانی گواہ ہے کہ مسلم عوام نے پاک سر زمین جن وجوہات کی بنا پر حاصل کی ان کی تہہ میں کہیں نہ کہیں ہندوانہ ذات پات کا نظام بھی کار فرما تھا۔ جب اپنے ہی معاشرے میں اونچ نیچ کا تصور عقیدے سے زیادہ قوی ہو جائے تو معاشرے سے الگ ہو جانے کی خواہش کا بھڑک اٹھنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ چھوت چھات سے چھٹکارا ہر ذی روح کے لیے جب معراج کا درجہ اختیار کر

Read more

بنیادِ معاشرہ، الہامی مذاہب یا انسانی مساعی

تاریخ کے پنوں کو، متفکر ذہن کی موجودگی میں مشاہدہ پرست آنکھوں کو ساتھی بنائے، اگر کھولا جائے تو یہ پوشیدہ راز عیاں ہوتا ہے کہ الہامی مذاہب ہی وہ مذاہب ہیں جو کسی بھی معاشرے کے عدم سے وجود میں آنے اور تہذیب کی پیدائش کا حقیقی باعث ہوتے ہیں۔ یہاں پر یہ سوال ہمارے سامنے دامن کھول کر جواب طلب ہے کہ موجودہ دنیا کے آثار کو دیکھا جائے تو ہمیں ایسے کئی معاشرے نظر آتے ہیں جن کے

Read more

رسم جشن، خوشی یا تماشا

پیلی روشنیوں سے جگمگاتی لاہور کی پر رونق گلیوں میں انداز و نیاز سے گزرتے لوگوں کے قدموں کی چاپ اور ہلکی ہلکی ترنم کی صدا سن کر جب میں گلی میں پہنچا تو ترنم کی صدا آہستہ آہستہ دل دہلا دینے والے شور میں تبدیل ہونے لگی۔ اچانک لوگوں کا رش بڑھنے لگا۔ گاڑیوں کا شور سن کر پر لطف فضا بے کیفی کا نظارہ پیش کرنے لگی۔ یہ سب کچھ دیکھ کر میں تعجب کے سحر میں مبتلا

Read more

قدیم منٹو، جدید معاشرہ

جب حقیقت کو حقیقی رنگ کی چاشنی کے ساتھ خیال پرست معاشرے کے سامنے پیش کیا جائے تو ہر سمت سے مخالفت کا طوفان کھڑے ہو جانا غیر معمولی بات نہیں۔ یہ معاشرے کا قدیم اصول اور بے حس پتلوں کا فطرتی رویہ ہے۔ ایسا ہی ہوا سعادت حسن منٹو کے ساتھ جب انہوں نے بے باکی سے یہ کہتے ہوئے، کہ میں سوچتا ہوں اگر بندر سے انسان بن کر ہم اتنی قیامتیں ڈھا سکتے ہیں، اس قدر فتنے برپا کر سکتے ہیں تو واپس بندر بن کر ہم خدا معلوم کیا کچھ کر سکتے ہیں، معاشرے کی حقیقی تصویر معاشرے کے سامنے رکھی تو مخالفت کا طوفان ساون کی بارش کی طرح چاروں اطراف سے امڈ آیا۔

Read more

اقسامِ شہرت

موجودہ عصر کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس مٹی کی دنیا کے خاکی پتلے بس ایک ہی چیز کو حاصل کرنے کی تگ و دود کر رہے ہیں۔ نہ صرف حال بلکہ ماضی کے پنوں کو اگر کھولا جائے تو یہی راز افشاں ہو گا کہ ہر خاص و عام شہرت حاصل کرنے کی کوشش میں ہی محو رہا۔ جب ہم لفظ شہرت بولتے ہیں تو اس کے کیا معنی ہوتے ہیں،

Read more

زمان و مکان کی تبدیلی ہیئت

آج ڈاکٹر نعیم احمد کو پڑھتے ہوئے ایک عجیب و غریب سطر میری نظر سے گزری، لکھا تھا، ”عالم خواب میں زمان و مکان کے پیمانے یکسر بدل جاتے ہیں۔“ مجھے یہ سطر پڑھ کر جھٹکا سا لگا کیونکہ اس سے قبل میں ذاتی طور پر یہی سمجھتا تھا کہ زمان و مکان کے پیمانوں میں رد و بدل یا تبدیلی کسی بھی صورت میں ممکن نہیں کیونکہ یہ کائنات زمان و مکان کے تحت وجود میں آئی اور اسی

Read more