تعلیم کے فروغ میں مادری زبان کا کردار
ہر سال فروری کی 21 تاریخ کو مادری زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور صد شکر کہ اقوام عالم نے مادری زبان کی اہمیت کو سمجھا اور اس کی اہمیت کو عام کرنے کے لئے کوششوں کو اہمیت دی کیونکہ ہم اکثر و بیشتر اپنی مادری زبان کو اتنی اہمیت نہیں دیتے جتنی کہ دینی چاہیے مادری زبان کئی حوالوں سے قیمتی سرمایہ ہوا کرتی ہے ہماری سوچ، جذبات کی تشکیل میں ہماری مادری زبان بہت ضروری ہے بچے کی تربیت میں ہمہ گیر نشوونما کے لئے مادری زبان میں روانی بہت ضروری اور مفید ہوتی ہے کیونکہ یہ بچے کی متعدد طریقوں اور جہتوں میں فائدہ پہنچاتا ہے اور اسے اپنی ثقافت سے جوڑتا ہے دوسری زبانوں کو سیکھنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ ہم اس کی افادیت سے واقفیت نہیں رکھتے مادری زبان وہ ہوتی ہے کہ جسے ہم اپنے دنیا میں آنے کے بعد سے لے کر اپنی آخری ایام تک نہ صرف سنتے ہیں، بولتے ہیں بلکہ زندگی کے اہم اور متاثر کن لمحات میں بھی اسی زبان میں بولتے، سوچتے اور اسی زبان کی خیالی دنیا میں کھوئے ہوئے رہتے ہیں ہر انسان اور بلخصوص بچوں کے لئے مادری زبان کیسی بھی زبان سے زیادہ آسان اور اہم ہوتی ہے اس میں بچے کی ذاتی، سماجی اور ثقافتی شناخت شامل ہوتی ہے کیونکہ الفاظ اور اظہار کا انتخاب ثقافتوں میں مختلف اہمیت اور منفی رکھتا ہے اس لئے جدید تحقیق بھی ثابت کر رہی ہے کہ ابتدائی تعلیم انسان کی مادری زبان ہی میں ہونی چاہیے ۔
جب بچہ اپنی مادری زبان میں نشوونما کے مراحل طے کرتا ہے تو وہ بیک وقت کئی ضروری مہارتوں جیسے کہ تنقیدی سوچ اور ذہنی اور خواندگی کی مہارتوں کو فروغ دے کر اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہوتا ہے جیسے کہ اگر کسی بچے نے جس لفظ کے سیاق و سباق سے اس کے معنی کا اندازہ لگانے کی صلاحیت پیدا کر لی ہے یا سطروں کے درمیان پڑھ کر معنی کا اندازہ لگا لیا کرتا ہے تو یہ مہارتیں آسانی سے دوسری زبان میں بھی استعمال کر سکتا ہے اور یہ باآسانی منتقل بھی ہو جاتی ہیں اور اگر یہی عمل وہ مادری زبان میں نہ کرے تو اس کے لئے نئے مسائل پیدا ہوتے ہیں بات اگر تجریدی میارتوں کی کی جائے تو یہ عموماً کسی دوسری زبان میں سکھانا انتہائی مشکل کام ہے ایک مکمل، جامع اور مستحکم مادری زبان بولنے والے بچوں کے لئے کسی بھی دوسری زبان کو سیکھنا اور اپنی خواندگی کی مہارتوں کو فروغ دینا بہت آسان ہوا کرتا ہے جدید تحقیق سے یہ بھی ثابت ہو رہی ہے کہ دنیا بھر میں لسانی تعلیمی نظام مقبولیت حاصل کر رہا ہے اور بہت سے بین الاقوامی ادارے اپنے وسائل کا بڑا حصہ مادری زبانوں کو مضبوط کرنے کے پروگراموں پر خرچ کر کہ اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
جیسے کہ والدین میں مادری زبان اہمیت کو اجاگر کی ورکشاپس منعقد کی جا رہی ہیں ان والدین کی شرکت کو بھر پور اور یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ آگاہی اور شعور کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے اور ان کے حوصلہ افزا نتائج بھی ہم سب کے سامنے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ملک میں بھی مادری زبان میں تعلیم اور خصوصاً چھوٹے بچوں کی ابتدائی تعلیم کو مادری زبان ہی میں کر دیا جائے کیونکہ جدید سائنسی تحقیق ثابت کر چکی ہے کہ بچہ اپنی مادری زبان میں تمام مہارتوں کی ساتھ سیکھنے کے عمل کو باآسانی اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتا ہے۔
تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے جب پالیسی سازی کا کم کیا جائے تو اس امر پر ضرور غور کیا جانا ضروری ہے ہے کہ جدید تحقیق کے مطابق بچہ جس زبان میں جلد اور باآسانی سمجھ سکے اسی زبان میں تعلیم کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے خاص طور پر ابتدائی تعلیم کے لیے بہت ضروری ہے کہ اسے مادری زبان میں ہی فراہمی ممکن بنائی جائے کیونکہ ایک اجنبی زبان میں دی جانے والی تعلیم ان نونہالوں کے لئے اتنی موثر ثابت نہیں ہو سکتی جتنی کہ ان کی اپنی مادری زبان ہو سکتی ہے اور یہی زبان ان کی تمام سماجی۔ ذہنی، جذباتی اور روحانی مہارتوں پر اثر انداز بھی ہوتی ہے۔
ہمارے یہاں ؎خاص طور پر ایک منفی تاثر اور رجحان یہ رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی نقل مکانی اور بین الاقوامی اسکولوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ اپنی مادری زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں سیکھنے والے بچوں کی کئی فطری مہارتوں متاثر ہو رہی ہیں جو کہ صرف مادری زبان کی ابتدائی تعلیم سے بڑھ سکتی تھیں جبکہ جدید عالمی تحقیق یہ پتہ دیتی ہے کہ مادری زبان کی مضبوط بنیاد کی بہتر تفہیم کے ساتھ ساتھ اسکول کے بارے میں زیادہ مثبت رویے کا باعث بنتی ہے۔
مثال کے طور پر اگر بچے کو ریاضی کے بنیادی تصورات سکھانے ہیں تو وہ اس کی اپنی مادری زبان میں اکثر و بیشتر ان اعداد کو نہ صرف سن چکا ہو گا کئی بار بلکہ اپنی گفت و شنید میں ( روزمرہ) میں استعمال بھی کر رہا ہو گا اس کے لئے ان اعداد کو سیکھنا اور اس سے متعلقہ الفاظ کی زبان کو سیکھنا آسان تریں عمل ہو گا اس کے تمام محرکات کو سمجھنا نہایت آسان ہو گا پھر ریاضی کے تمام تصورات کو سمجھنے کی باری آتی ہے تب بھی بچے کے لئے اعداد سے واقفیت اس کے تمام تصورات سے آگاہی اور اس پر کی گئی تمام سر گرمیوں میں استعمال ہونے والے الفاظ اس کی اپنی زبان میں ہوں تو سیکھنے کا عمل نہایت تیزی سے مستقل بنیادوں پر جاری رہ سکتا ہے۔
اسی طرح اگر کسی اور مضمون کی بات کی جائے تو اس مضمون سے متعلق بنیادی سوالات و تصورات اگر بچے کی مادری زبان میں ہوں تو وہ ایک مکمل اور جامع اور مسلسل سیکھنے کے عمل میں موجزن ہو جاتا ہے اور پھر اپنی زندگی میں شخصیت سازی کے عمل کو پوری آب و تاب کے ساتھ مکمل کر لیتا ہے اور یہی اس کی منزل اور کامیابی کی جا نب اہم پیش رفت بھی ہوا کرتی ہے۔
ہمارا ملک مادری اور علاقائی زبانوں کے حوالے سے خاصا زرخیز ہے خواندگی کی شرح کم ہے نے کی بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ مادری زبان میں کا نہ ہونا بھی ہے اگر کہیں مادری زبان میں تعلیم دی بھی جاتی ہے تو وہ نامکمل اور محدود پیمانے پر حالانکہ ہماری اپنی قومی زبان بھی خاصی زرخیز ہے لیکن پھر بھی ہم خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی اس میں تعلیم دلوانا معیوب سمجھتے ہیں ہم خود اپنی زبان پر فخر نہیں کرتے اپنی مادری زبان کسی کو بتاتے اور اس میں تعلیم حاصل کرتے کتراتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہماری حکومتیں بھی ابھی تک کسی متفقہ حل یا فیصلے تک نہیں پہنچ سکی ہیں کہ کون سی زبان میں تعلیم فراہم کی جانی چاہیے یا کس درجے تک مادری زبان میں تعلیم دی جائے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی مادری زبانوں کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی مختلف جہتوں کو سمجھیں اس پر فخر کرنا سیکھیں اس کے ثمرات پر خود غور کریں اور پھر بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کو سمجھیں اپنے آنے والی نسلوں کی بقا کے لئے بھر پور تعلیمی ترقی کو ممکن بنائیں اور وہ بند دروازے کھولیں جو ہماری آنے والی نسلوں کو علم و آگہی کی بلندیوں تک لے جائیں۔


