برطانیہ کا متنازعہ نیشنیلٹی بل اور نسلی اقلیتوں میں بڑھتا ہوا خوف


گزشتہ ماہ سے برطانوی ایوانوں میں متنازعہ نیشنیلٹی اینڈ بارڈر بل نے ہل چل مچا رکھی ہے۔ سیاسی و سماجی حلقوں میں اس کی بھرپور مخالفت کی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے متاثر صرف دوسرے ممالک سے نقل مکانی کر کے برطانیہ میں آباد ہونے وائے امیگرینٹ ہی ہوں گے ۔ اگر یہ بل پاس ہو کر قانون کا حصہ بن گیا تو بغیر پیشگی اطلاع کے، آبائی تعلق کی بنیاد پر ایسے شہریوں کی برطانوی شہریت منسوخ کی جا سکے گی، جو سرکار کے خیال میں مجرم ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کا نشانہ صرف تارکین وطن ہوں گے اور کسی بھی جرم میں ان کی شہریت منسوخ کر کے ان کو ملک بدر کیا جا سکے گا۔

اگر ایک شخص برطانیہ میں رہائش پذیر ہے تو برطانوی سرکار نے ایک خاص مدت تک اس کے کردار، مالی حالت اور برطانوی سماج کی ترویج و ترقی میں حصہ ڈالنے کی اہلیت کو پرکھتے ہوئے اسے برطانوی نیشنیلٹی دے دی ہے، تو اس کے پاسپورٹ سے لے کر دیگر اہم دستاویز پر اس کی نیشنلٹی برٹش ہی لکھی جاتی ہے، اور دنیا بھر میں اس کی شناخت برطانوی شہری کے طور پر ہی ہوتی ہے۔ اسے برطانوی قانون کے تحت وہ تمام مراعات اور حقوق ملتے ہیں، جو ایک سفید فام انگریز شہری کو میسر ہیں۔

لیکن اس کے برعکس برٹش نیشنل پارٹی، برٹن فرسٹ اور برطانیہ کے دیگر قوم پرست حلقے، اس بات کا برملا دعویٰ کرتے ہیں کی آپ کی قومیت وہ ملک ہے جہاں آپ کے آبا و اجداد رہتے تھے اور جہاں سے آپ نقل مکانی کر کے برطانیہ آئے تھے۔ وہ تو ہمارے ان بچوں کو بھی اسی کھاتے میں ڈال دیتے ہیں جو یہاں برطانیہ میں ہی پیدا ہوئے، یہیں پڑھے لکھے اور جوان ہوئے ہیں، اور صرف برطانیہ کو ہی اپنا وطن تسلیم کرتے ہیں۔ ایسے گروپ یقیناً بہت کمزور ہیں، لیکن ایک پریشر گروپ کا کام کرتے ہیں اور حکمران طبقات وقتاً فوقتاً انہیں استعمال کرتے ہیں۔

نیشنلٹی کا معنی قومیت ہی ہوتے ہیں اور قومیت سے مراد کسی ملک کی شہریت ہے۔ قومیت کا استعمال بعض اوقات نسل کے لیے بھی کیا جاتا ہے، حالانکہ دونوں تکنیکی طور پر مختلف ہیں۔ لوگ ایک ہی قومیت کا اشتراک کر سکتے ہیں، اس کے باوجود کہ مختلف نسلی گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں، اور جو لوگ نسلی شناخت کا اشتراک کرتے ہیں وہ مختلف قومیتوں کے ہو سکتے ہیں۔

نیشنلٹی، امیگریشن اور اسائلم ایکٹ جو 2002 ء میں منظور کیا گیا، حکومت وقت کو ایسی قوت فراہم کرتا تھا کہ وہ ضرورت پڑنے پر کسی بھی برطانوی شہری کی شہریت چھین لے، بشرطیکہ اس کے پاس دوسری شہریت ہو۔ اس وقت ٹونی بلیئر کی حکومت تھی اور وہ لیبر پارٹی کے تاریخی کردار کو مسخ کر کے نیو لیبر کے نام سے اقتدار کے ایوانوں پر براجمان ہو چکا تھا۔ بعد ازاں 20 مارچ 2003 ء کو عراق پر سامراجی جنگ مسلط کر دی گئی تو انہیں خدشہ ہونے لگا کہ جنگ سے متاثر ہونے والے خاندانوں کے افراد برطانیہ آ کر انتقامی کارروائیاں نہ شروع کر دیں۔

لہٰذا 2006 ء میں اس نیشنلٹی، امیگریشن اور اسائلم ایکٹ میں ترمیم کر کے سرکار کو اضافی اختیار دے دیے گئے، جن کو مطابق برطانوی وزیر داخلہ کو یہ اختیار حاصل ہو گیا کہ اگر ایسا کرنا ”عوامی بھلائی کے زمرے میں آتا ہے“ تو وہ دوہری شہریت رکھنے والے شہریوں کو ان کی برطانوی شہریت سے محروم کر سکتا ہے۔ بعد ازاں 2014 ء میں ان اختیارات میں مزید توسیع کر دی گئی تاکہ غیر ملکی نژاد برطانوی شہریوں کو دوہری شہریت کے بغیر شامل کیا جا سکے۔ اس نئی ترمیم کے مطابق ایسے شہریوں کو بھی بے وطن بنایا جا سکتا ہے، جن کے بارے میں حکومت وقت کو یقین ہو کہ وہ کسی اور ملک کی شہریت حاصل کرنے کے اہل ہیں، اور یہاں وہ حکومت کی نظر میں ایسی سنگین صورت حال پیدا کر سکتے ہیں جس سے مفاد عامہ کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔

برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی، جسے عرف عام میں ٹوری پارٹی بھی کہا جاتا ہے، وہ اپنے اقتدار کے ہر دور میں ایسے عوام دشمن، جمہوری روایات کے منافی اور امتیازی سلوک پر مبنی اقدامات اٹھا جاتی ہے، جو آنے والے وقتوں میں نہ صرف برطانوی معاشرے پر دور رس اثرات مرتب کرتے ہیں بلکہ ملک کی سیکولر اور جمہوری روایات کو بھی بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ بورس جانسن کی ٹوری حکومت نے اس بل سے قبل پولیس کو کسی بھی احتجاج کو روکنے کے لیے وسیع تو اختیارات دینے کا بل پیش کیا گیا، جس کی مخالفت میں برطانیہ بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوتے رہے اور برطانیہ کی ہر چھوٹی بڑی سیاسی جماعت نے اس عمل کی بھرپور مخالفت کی۔ انسانی حقوق کے علم برداروں، نسلی اقلیتوں، ٹریڈ یونینوں اور ریسزم مخالف تنظیموں نے اس کے خلاف بڑھ چڑھ کو احتجاج کیا اور اب تک کر رہے ہیں۔

اس بات سے بھی کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ایسے قوانین بنانے کا آغاز تو مسٹر ٹونی بلیئر کی قیادت میں لیبر پارٹی کی حکومت نے کر دیا تھا، بالکل ایسے ہی جیسے اس نے اپنے پارٹی کی روایات کے خلاف یونیورسٹیوں میں فری تعلیم کو ختم کرتے ہوئے 3000 پونڈز ٹیوشن فیس متعارف کروائی تھی جسے بعد ازاں ٹوری پارٹی نے جواز بنا کر 9000 پونڈز تک پہنچا دیا۔ مجھے اکتوبر 2003 ء کا ایک واقع یاد آ گیا، جب ہم نے پاکستان سے ممتاز ترقی پسند سکالر اور سوشلسٹ تحریک کے روح رواں محترم عابد حسن منٹو کو برطانیہ مدعو کیا تھا۔

موزلے روڈ برمنگھم پر واقع کمیونٹی ہال میں ایک خوبصورت عوامی تقریب ممتاز صحافی اور میرے دیرینہ ساتھی عباس ملک نے سجائی تھی۔ تقریب کی صدارت سینئر کونسلر محمد افضل کر رہے تھے، جو اب برمنگھم کے لارڈ میئر ہیں۔ اس تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے لارڈ نزیر احمد نے کہا کہ منٹو صاحب ایک نامور سوشلسٹ ہیں اور اس نے بڑے فخر سے کہا کہ میں تو نئے دور کی نیو لیبر کا راہنما ہوں۔ اس کی قسمت ماڑی کہ یہ سب عابد حسن منٹو کے سامنے کہہ دیا۔

جب منٹو صاحب تقریر کے لیے اٹھے تو انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی ہے کہ لارڈ نزیر کو لیبر پارٹی سے نیو لیبر کا سفر کرنے پر فخر ہے۔ انہوں نے حقیقی لیبر پارٹی کے تاریخی اقدامات، سوشل سیکورٹی نظام، لیبر قوانین میں بہتری، مفت تعلیم کی سب تک رسائی، این ایچ ایس کا قیام، دوسرے ممالک پر قبضوں کا خاتمہ، دوسرے ممالک سے افواج کی واپسی سمیٹ اہم اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے نیو لیبر کے عراق پر سامراجی جنگ مسلط کرنے، ٹونی بلیئر کا وسیع تر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا جھوٹ اور مقامی طور پر سرمایہ دارانہ اصلاحات سمیت نیو لیبر کی پالیسیوں کا پوسٹ مارٹم کر دیا۔ مجھے یقین ہے کہ لارڈ نزیر نے ایسی غلطی دوبارہ کبھی نہیں دہرائی۔

نیشنلٹی، امیگریشن اور اسائلم ایکٹ کے اثرات سے متعلق سرکاری ریکارڈ کا جائزہ لیں تو 2006 ء اور 2017 ء کے درمیان ہوم آفس کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 199 افراد سے ان کی شہریت چھین لی گئی، جن میں سے 104 واقعات یا کیسز صرف 2017 ء میں ہوئے تھے۔ اس وقت ٹوری پارٹی کی حکومت تھی اور اس کی انتہائی دائیں بازو کی پالیسیاں ہم سب پر آشکار ہیں۔ ان کے کیسوں کا اگر بغور جائزہ لیں تو ماسوائے ایک دہشت تاری کرنے کے شاید ہی کچھ نظر آئے۔

نیا بارڈر اینڈ نیشنیلٹی بل، جسے ہم سرحدوں اور قومیت کا بل بھی کہتے ہیں، اس کی شق 9 کو نومبر میں شامل کیا گیا تھا، جس نے ملکی سطح پر ہلچل مچا دی اور نسلی اقلیتوں کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ بل بنیادی طور پر حکومت کے لیے یہ راستہ ہموار کرتا ہے کہ وہ عملی طور پر کسی پیشگی اطلاع کے بغیر ہی کسی بھی شہری کی برطانوی شہریت چھین لے، مثال کے طور پر اگر حکام کے پاس کسی شخص کی جانب سے قومی سلامتی یا پھر عوامی مفادات کے خلاف کام کرنے کا کوئی ثبوت یا ایسے لوگوں سے رابطے کی تفصیلات نہیں بھی ہیں، تو وہ پھر بھی ایسے اقدامات اٹھا سکتے ہیں، اور اس کے خلاف شنوائی کا حق بھی نہیں ہو گا۔

کسی شخص کو شہریت سے محروم کرنے کے فیصلے کا متعلقہ شخص کو نوٹس دینے کے حوالے سے نیشنلٹی اینڈ بارڈرز بل میں ترمیم کو اجاگر کرنے والا جواز یہ ہے کہ بعض اوقات سیکرٹری آف اسٹیٹ کے پاس اس ذیلی دفعہ کے تحت نوٹس دینے کے لیے درکار معلومات میسر نہیں ہوتیں، یا پھر کسی اور وجہ سے اس ذیلی دفعہ کے تحت مناسب وقت میں متعلقہ شخص کو نوٹس دینا قابل عمل نہیں ہوتا۔ اس لیے اس ذیلی دفعہ کے تحت نوٹس دینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ جو توجیہات پیش کی گئی ہیں ان میں اس بے مہار قوت حاصل کرنے کے لیے قومی سلامتی یا برطانیہ اور دوسرے ملکوں کے درمیان تعلقات کا متاثر ہونا، یا پھر مفادات عامہ کی آڑ لی گئی ہے۔

برطانیہ کی ٹوری پارٹی چونکہ دائیں بازو کی سیاسی جماعت ہے اور بعض مرتبہ تو اس کی قیادت انتہائی دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے گروہ کے ہاتھ آ جاتی ہے، جو ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ داروں اور ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کو نوازنے اور ان کے استحصال کو دوام بخشنے کے لیے دور رس اقدامات اور قانون سازی کرتی ہے۔ کارپوریٹ میڈیا تو اب پانچ بڑے بیلینیئرز کا قبضے میں جا چکا ہے اور اسی میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے بڑے سرمایہ دار اور ملٹی نیشنل کارپوریشنیں اس قدر پراپیگنڈہ سپانسر کرتی ہیں اور جھوٹ کو اس مہارت سے دہراتے ہیں کی وہی سچ لگنے لگتا ہے۔

ایسی حکومتوں کے سکینڈلز نمودار ہونا عام سی بات ہے اور ان سکینڈلز کے توڑ کے لیے بھی بہت سے متنازعہ قوانین متعارف کروائے جاتے ہیں، جن سے ایک نئی بحث شروع ہو جاتی ہے اور سکینڈلز پس پشت چلے جاتے ہیں۔ یہ اشرفیہ پر مشتمل حکمرانوں کا معمول بن چکا ہے اور آج کل ہم پاکستان، ہندوستان اور یہاں برطانیہ میں آئے روز ایسے بلز و قوانین دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان میں تو ایسے واقعات روز کا معمول بن چکا ہے، جبکہ ہندوستان بھی اسی راستے پر گامزن ہے، جبکہ برطانیہ میں جمہوری روایات کی مضبوطی کی وجہ سے قدرے کم ہے۔

بعض حکومتی اکابرین اس بل کو بنگلہ دیشی نزاد شمیمہ بیگم کے ساتھ جوڑتے ہیں، جو 15 سال کی عمر اسلامک اسٹیٹ نامی انتہا پسند تنظیم میں شامل ہونے کے لیے شام چلی گئی تھیں، اور ان کی شہریت ختم کر دی گئی تھی۔ ایک حالیہ فیصلے میں، سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ شمیمہ بیگم اپنی شہریت سے محرومی کے حکم کو ذاتی طور پر چیلنج کرنے کے لیے برطانیہ واپس نہیں آ سکتیں۔ اگرچہ شمیمہ بیگم کو منصفانہ سماعت کا حق حاصل تھا، لیکن حکمران ایسے حق کو بھی سلب کرنا چاہتے ہیں۔

نیشنلٹی اینڈ بارڈرز بل 6 جولائی 2021 ء کو ہاؤس آف کامنز میں پیش کیا گیا تھا۔ برطانوی سرکار کے مطابق یہ بل امیگریشن سسٹم میں بنیادی تبدیلیاں کرنے کے لیے متعارف کروایا گیا ہے جو سیاسی پناہ گزینوں کو کم کرنے میں مدد دے گا اور حکومتی حلقے دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ قانون سیاسی پناہ کی آڑ میں انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے داخلے کو روکنے کے لیے سنگ میل ثابت ہو گا۔ حکمراں کہتے ہیں کی قومیت، پناہ اور امیگریشن کے بارے میں موجودہ قانون کو اور حال کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ اس کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ ہو رہی ہے جس کا سدباب اشد ضروری ہے۔

برطانوی پارلیمان میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی کہ قانون سازی کے تحت بغیر ویزا کے افراد کی جانب سے برطانیہ میں داخل ہونے کی کوششوں کو جرم قرار دینے کے نئے اقدامات انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہوں گے اور جمہوری روایات پر یقین رکھنے والے پارلیمنٹیرین اسی نقطے کو مدنظر رکھتے ہوئے بحث کریں گے۔ گزشتہ دسمبر تک 88 صفحات پر مشتمل ترامیم پیش کی گئیں لیکن ان میں سے بالآخر کرسی پر براجمان ہی فیصلہ کریں گے کہ ان میں سے کس ترامیم پر بحث کی جائے گی اور ووٹ دیا جائے گا۔

حکمران حسب معمول اس سب کو عوامی پذیرائی دلوانے کے لیے سنہری حروف کا استعمال کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کے تین اہم مقاصد ہیں۔ پہلا، امیگریشن اور سیاسی پناہ کے نظام کو زیادہ منصفانہ اور موثر بنانا ہے تاکہ ہم پناہ کی حقیقی ضرورت والوں کی بہتر حفاظت اور مدد کر سکیں۔ دوسرا، انسانوں کی مجرمانہ اسمگلنگ نیٹ ورکس کے کاروباری ماڈل کو توڑنا اور نامساعد حالات میں آنے والوں کی جانیں بچانے کے لیے برطانیہ میں غیر قانونی داخلے کو روکنا ہے، جبکہ تیسرا برطانیہ سے ان لوگوں کو نکالنے کے لیے قانون کے ہاتھ مضبوط کرنا ہے جنہیں یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اگر قومیت اور سرحدوں کا بل منظور ہو جاتا ہے تو برطانیہ کے سیاسی پناہ کے نظام میں پناہ حاصل کرنے والے لوگوں کے لیے غیر ضروری دشواریاں اور اہم رکاوٹیں پیدا ہو جائیں گیں اور یہ قانون سازی مہاجرین، بچوں اور بے وطنی کے عالمی کنونشن اور انسانی حقوق کے چارٹر کی خلاف ورزی ہو گی اور اس کے تحت برطانیہ کی عالمی حیثیت کو نقصان پہنچے گا۔

گزشتہ پرس اکتوبر میں امیگریشن کے سرکردہ وکلاء کی ایک ٹیم نے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا کہ متنازعہ بل کم از کم 10 مختلف طریقوں سے بین الاقوامی اور ملکی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ بعض قانونی ماہرین تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کی اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو یہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور مہاجرین سے متعلق معاہدوں کے تحت چیلنجز کا باعث بنے گا۔ ادھر انسانی حقوق کے گروپ فریڈم فرام ٹارچر کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بل بین الاقوامی پناہ گزینوں کے قانون پر اب تک کا سب سے بڑا قانونی حملہ ہے، جو کہ برطانیہ میں دیکھا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کا سیاسی پناہ کا دعویٰ کرنے والوں کو آف شور مراکز میں بھیجنے کا منصوبہ بھی انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کے تین آرٹیکلز کی خلاف ورزی کرے گا۔

پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی لوگوں کے لیے نامناسب اطلاع کے بغیر اپنی دستاویزات پیش کرنے میں مختلف عملی مشکلات ہیں۔ اس لیے یہ قانون سازی غلامی اور انسانی اسمگلنگ سے نمٹنے کے بین الاقوامی مقصد کے برعکس ہے اور واضح طور پر ان لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہے جو پہلے ہی تکلیف دہ تجربات سے جان بچا کر بھاگے ہیں۔ یہ بل ایسے افراد کے لیے مزید تناؤ اور اضطراب کا باعث بنے گا۔ اگر یہ بل پاس ہو کر قانون کا حصہ بن گیا تو یہ ملک میں ریسزم کو بڑھاوا دے گا، نسلی اقلیتوں بالخصوص مسلم کمیونٹی کے خلاف خوف و ہراس کا سبب بنے گا، عدم تحفظ اور عدم برداشت کے حالات پیدا کرے گا اور ان کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور پر تشدد واقعات میں اضافے کا باعث بنے گا۔

اب تک تو دنیا کا کوئی دوسرا ملک قانونی طور پر اپنے شہریوں کو بغیر اطلاع کے شہریت سے محروم کر کے بے وطن نہیں بنا سکتا۔ برطانیہ کی شہریت سے محرومی کا عمل اقلیتوں اور تارکین وطن کے ورثے کو برطانیہ میں پیدا ہونے والے سفید فام برطانوی شہریوں سے کہیں زیادہ متاثر کرے گا۔ اس وقت دنیا بھر میں جمہوریت کو نئے خطرات کا سامنا ہے۔ برطانیہ اور یورپ بریگزٹ کے بعد ہلچل کے دور میں ہیں۔ کورونا وائرس نے دنیا کے بیشتر حصے کو تباہ کر دیا ہے۔

عدم مساوات بڑھ رہی ہے اور معاشروں میں تقسیم وسیع ہو رہی ہے، جو اکثر حکومتوں کی اشتعال انگیز بیان بازیوں سے سنگین صورت اختیار کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں زیر بحث نئے امیگریشن قانون کے نہ صرف برطانیہ میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے بلکہ کئی پشتوں سے برطانیہ میں آباد تارکین وطن کے لیے بھی بہت زیادہ مضمرات ہیں۔ قومیت اور سرحدوں کا بل ہاؤس آف کامنز سے گزرنے کے بعد اب ہاؤس آف لارڈز میں بحث ہو رہا ہے۔ اس بل کے تحت بغیر اجازت برطانیہ پہنچنا ایک مجرمانہ جرم ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا چار سال تک ہے۔

یہ بل برطانیہ کو پناہ کے متلاشیوں کو ”محفوظ تیسرے ملک“ میں بھیجنے کی اجازت دیتا ہے، اور برطانیہ میں ان کے سیاسی پناہ کے دعوؤں پر غور کرنے کے بجائے بیرون ملک آف شور پروسیسنگ مراکز کی اجازت دے سکتا ہے۔ بلا شعبہ یہ برطانیہ میں قانون سازی کا سب سے زیادہ نسل پرست عمل ہے جو میں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ یہ قانون سازی کا ایک غیر انسانی حصہ ہے جو پناہ گزینوں کو مجرم قرار دے گا اور امیگریشن کنٹرول سے مشروط افراد کے معمولی حقوق کو ختم کر دے گا۔

یہ سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو سزا دینے کا باعث بنے گا، مزید لوگوں کو طویل عرصے تک امیگریشن حراستی مراکز میں بند کرنے کا باعث بنے گا، اور حکومتی فیصلوں کو چیلنج کی پہنچ سے باہر رکھے گا۔ اس لیے ہر وہ شخص جو انصاف، ہمدردی اور وقار کے اصولوں پر مبنی امیگریشن سسٹم پر یقین رکھتا ہے، وہ اس کی مزاحمت میں آواز بلند کرے۔

ہمیں اپنے حلقوں کے ممبران پارلیمنٹ پر زور دینا چاہیے کہ وہ امیگریشن بل کی مخالفت کریں جو امتیازی ہے، انفرادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے، انفرادی آزادی کو خطرے میں ڈالتا ہے، خاندانوں کو توڑتا اور الگ کرتا ہے، بچوں کو استحکام سے محروم کرتا ہے، نسلی تعلقات کے لیے ایک آفت ہے اور اس کا امکان ہے کہ یہ نیا قانون موجودہ اور مستقبل کے تارکین وطن کے لیے خوف اور بد اعتمادی کا ماحول پیدا کرے گا۔ ہم سب کو بھرپور مطالبہ کرنا چاہیے کہ حکومت فوری طور پر اس نئے امیگریشن بل کو واپس لے بصورت دیگر ہم سب مل کر دیگر انسان دوست، جمہوریت پسند تنظیموں کے اشتراک سے ویسٹ منسٹر اور ملک کے دیگر شہروں میں حکومت کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

Facebook Comments HS

پرویز فتح (لیڈز-برطانیہ)

پرویز فتح برطانیہ کے شہر لیذز میں مقیم ہیں اور برٹش ایروسپیس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ وہ برطانیہ میں ساوتھ ایشین ممالک کے ترقی پسندوں کی تنظیم ساوتھ ایشین پیپلز فورم کورڈینیٹر ہیں اور برطابیہ میں اینٹی ریسزم اور سوشل جسٹس کے لئے سرگرم ہیں۔

pervez-fateh has 60 posts and counting.See all posts by pervez-fateh