وہ اللہ لوک تھا، مجذوب تھا یا متوکل؟
اسے میں نے ہمیشہ پینٹ اور بش شرٹ میں ہی دیکھا۔ سردیوں میں کوٹ کا اضافہ ہو جاتا۔ وہ آتا ایک طرف کھڑا ہوجاتا۔ میں ایک روپیہ کا نوٹ پکڑ اتا اور وہ چل دیتا اور ہمیشہ صرف ایک ہی فقرہ اس کے منہ سے نکلتا ”اللہ بہت دیوے گا۔“
ایک صبح مارکیٹ کے ایک دکان دار محمد ظہور کے ساتھ ایک منحنی جسم جھریوں بھرے چہرے درمیانے قد سفید کالے بالوں بظاہر پچاس پچپن سال کا محمد صدیق میرے سامنے بیٹھا تھا اس کا تعارف کراتے ظہور کہہ رہا تھا۔ لئیق صاحب اسے اللہ لوک سمجھ لیں سائیں لوک کہہ لیں بہر حال ایسا ضرورت مند ہے جو ہر در نہیں گھومتا یہ روز آئے گا کہتا ہے ایک روپیہ روز کا بندوبست اور ہو جائے میرا کام چل جائے گا۔ روپیہ ہاتھ میں پکڑا بغیر کچھ بولے اٹھا اور بس دروازے سے نکلتے ”اللہ بہت دیوے گا“ کی ہلکی آواز میں صدا لگائی۔
وہ روزانہ اسی وقت آتا ایک روپیہ پکڑتا وہی صدا لگاتا اور نکل جاتا۔ میں یہ نوٹ کر چکا تھا کہ وہ ظہور کی دکان سے نکل سیدھا میرے پاس رکتا اور نکل کے سرگودھا روڈ کو نکل جاتا۔
انیس سو چھیاسی کے اوائل میں میں اپنا آٹو پارٹس کا بزنس ریل بازار پولیس چوکی کے سامنے سے بس سٹینڈ سرگودھا روڈ پہ منتقل کر چکا تھا محمد صدیق کا معمول وہی تھا۔ کئی بار اس سے اس کے آگے پیچھے رشتہ دار اور رہائش کا پوچھا مگر جواب دیے بغیر نکل جاتا۔ میں اب اسے دو روپیہ روز دینا شروع کر چکا تھا۔ ایک دو بار اسے انگریزی اخبار پر نظر مارتے دیکھ اس کے کچھ تعلیم یافتہ ہونے کا بھی اندازہ ہو چکا تھا تب میں نے اسے کہا بتاؤ نہ بتاؤ مگر میں کہانی سمجھتا ہوں اور مجھے تمہارا روز آنا اچھا نہیں لگتا۔
میں تمہارا ماہانہ وظیفہ مقرر کر دیتا ہوں تم ہر پہلی تاریخ کو لے جایا کرو۔ اب میں اسے روزانہ دکان کے سامنے سے صبح شہر کی طرف جاتے اور شام لاری اڈہ سے متصل پہلی گلی میں جاتے دیکھتا مگر وہ آنکھ اٹھا کے بھی میری دکان کی طرف نہ دیکھتا، بس ہر پہلی تاریخ آتا میں اسے لفافے میں بند اعزازیہ پکڑاتا اور وہ ”اللہ بہت دیوے گا“ کہتا نکل جاتا۔
نوے کی دہائی آ چکی تھی۔ سردیاں بہت شدید تھیں ایک دن محمد صدیق واپسی پہ آ کہ کرسی پہ بیٹھ گیا اور جب میں فارغ ہوا تو نہایت جھجکتے کہنے لگا کہ ایک چھوٹا سا کام ہے ظہور نے کہا ہے کہ آپ کے پاس ہو سکتا ہے۔ پوچھنے پہ پتہ چلا کہ اسے کسی نے اپنے گھر کے کونے میں کوئی پانچ فٹ کی جگہ دے رکھی ہے جہاں تین طرف دیوار ہے، نہ چھت نہ دروازہ۔ اب اس نے مجھے اجازت دی ہے کہ اوپر کوئی پلاسٹک وغیرہ ڈال لوں۔ ظہور نے بتایا کہ لئیق صاحب کے پاس سامان کی پیکنگ میں خاصے بڑے پلاسٹک کے ٹکڑے آتے ہیں تو میں آیا ہوں کہ ایک مل جائے تو موج ہو جائے میرا سردی سے سہارا ہو جائے۔
اور میں اس کا منہ دیکھ رہا تھا۔ میرے پاس بسوں ٹرکوں کی ونڈ سکرین بڑی پیٹیوں میں آتے جن میں دیوار کے ساتھ بہت مضبوط پلاسٹک کے بڑے ٹکڑے ہوتے۔ میں اسے پیچھے لے گیا اور دکھایا تو وہ ”لو جی میری تے موجاں ہو گئیں۔ اور مجھے کیا چاہیے۔ یہ تو ایک ہی ٹکڑا میرا مسئلہ حل کردے گا“ اور اب وہ یہ فقرہ ہر منٹ بعد دوہرا رہا تھا۔ لڑکے ونڈ سکرین دوسری پیٹیوں منتقل کرتے دو شیٹس نکال چکے تھے جو اس کے بتائے سائز کے مطابق دہرا کر کے بھی اندازہ ”چھت ڈھانک اور دروازے پہ پردہ کر سکتے تھے۔ اچانک خیال آتے میں نے پوچھا کہ اگر آپ کے خیال میں مالک مکان کو اعتراض نہ ہو گا تو میں یہ پیٹیوں کے تختے، شاید چھ فٹ کے لگ بھگ لمبائی اور تین چار فٹ چوڑائی بھی دے دوں یہ اوپر رکھ اس پر پلاسٹک مڑھ لینا اور ایک سامنے دروازے کے آگے کھڑا کر لینا بارش اور سردی دونوں سے بچاؤ ہو جائے گا۔
لڑکے پیٹی کھول تختے الگ کرنے اور کیل نکالنے میں مصروف تھے اور اس کے منہ سے گردان جاری تھی۔ ”لو جی مجھے تو سب کچھ مل گیا۔ ربؔا میں نے اتنا مانگا بھی نہیں تھا۔ میری تو موجیں۔ میری تو موجیں۔ مجھے اور کیا چاہیے۔ میرا تو کام ہو گیا“ تھوڑی دیر بعد وہ تختے اور پلاسٹک تہہ شدہ سر پر رکھے ”اللہ بہت دیوے گا۔ اللہ بہت دیوے گا“ کہتے نکل رہا تھا اور میری باقی کسی بھی مدد کی پیشکش حتی ’کہ کسی لڑکے کو ساتھ اٹھا لے جا پہنچا آنے سے بھی سختی سے انکار کر چکا تھا۔ شاید وہ اپنی رہائش کا پتہ بھی خفیہ رکھنا چاہتا تھا ”مجھے اور کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں۔ مجھے جو چاہیے بہت زیادہ مل گیا۔ اللہ بہت دے گا۔ اللہ بہت دے گا“ اب وہ اونچی آواز میں دہراتا جا چکا تھا ”
سال گزر رہے تھے۔ شاید ہی کبھی اس کی زبان سے کوئی اور بات نکلی ہو۔ کبھی اپنی کہانی نہ بتائی۔ میں جب لمبے عرصہ کے لئے باہر جاتا تو اس کا لفافہ بنا رکھ جاتا۔ انیس سو ستانوے میں دل کے بائی پاس آپریشن کے لئے شکاگو گیا اور کینیڈا آئر لینڈ سے ہوتے واپس پہنچا تو اس کے لفافے ویسے پڑے تھے۔ وہ لینے نہ آیا تھا۔ اور پھر آیا ہی نہیں۔ ظہور بھی کوشش کے باوجود پتہ نہ کر سکا تھا۔
آج پچیس برس مزید گزر چکے۔ جب بھی پوری زندگی میں خدا تعالی کے کسی ابتلا سے نکالنے یا افضال سے نوازنے کی یاد آتی ہے ساتھ ہی منحنی جسم درمیانہ قد پینٹ بوشرٹ پہنے دروازے سے نکلتے ”اللہ بہت دیوے گا“ کی صدا لگاتا محمد صدیق یاد آ جاتا ہے جو اپنا نام ہمیشہ پورا لیتا اور پورے نام سے پکارا جانا پسند کرتا تھا اور پھر میں یہ فیصلہ کوشش کے باوجود نہیں کر سکتا کہ وہ اللہ لوک تھا، سائیں لوک تھا، زمانے اور اپنوں کا ستایا چپ کا روزہ رکھے تھا، مجذوب تھا یا متوکل۔
شاید وہ تھا جس کی کوئی ضرورت ہی باقی نہ رہ گئی ہو



Dear Laeeq Sb, What is the best way to contact you? I want to have a chat with you. My email is attached with this comment. Thanks