خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات: ڈیرہ اسماعیل خان میں میئر کی نشست پر انتخاب کے سلسلے میں اتنی ہلچل کیوں ہے؟
بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے الیکشن کمیشن نے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے اور اس کے لیے پولنگ 31 مارچ کو ہو گی لیکن اس سے پہلے ڈیرہ اسماعیل خان میں یہ اہم معرکہ 13 فروری کو ہونے جا رہا ہے جو ایک طرح سے آئندہ الیکشن کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیے یہ حلقہ ایک طرح سے ان کی انا کا مسئلہ بن چکا ہے اس لیے مقامی سطح پر کہا جا رہا ہے کہ تمام امیدوار ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔
لیکن آخر اس اہمیت کی وجہ کیا ہے اور کیا اس ہلچل کی وجہ پہلے مرحلے کے انتخابات میں جمیعت علما اسلام کی کامیابی اور دیگر جماعتوں کی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات ہیں یا کچھ اور؟ اس پر نظر آگے چل کر ڈالتے ہیں۔
انتخابی معرکہ
خیبر پختونخوا کے اُن اضلاع میں جہاں 19 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ ہوئی تھی لیکن جہاں مختلف وجوہات کے باعث انتحابی عمل روک دیا گیا تھا یا شکایات کی وجہ سے وہاں نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا، وہاں دوبارہ انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں تحصیل میئر کی نشست پر پہلے مرحلے میں پولنگ نہیں ہو سکی تھی جس وجہ سے وہاں نئے سرے سے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پہلے مرحلے میں خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں تحصیل میئر کا انتخاب اس وقت ملتوی ہو گیا تھا جب عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار عمر خطاب شیرانی کو الیکشن سے ایک روز پہلے قتل کر دیا گیا تھا۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے الیکشن کے لیے پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علما اسلام (ف) ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں اور ان جماعتوں کے مرکزی قائدین اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار بھی متحرک ہیں اور وہ اس انتخابی نتیجے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
تحصیل میئر کے انتخاب کے لیے امیدواروں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کے بھائی عمر امین گنڈہ پور اور جمیعت علما اسلام کے مقامی رہنما ایک کاروباری شخصیت کفیل نظامی شامل ہیں۔
سیاسی گہما گہمی اور ہل چل کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران الیکشن کمیشن نے وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کو ضلع بدر کیا تھا۔
ان کے بھائی اور تحصیل میئر کے امیداوار عمر امین کو نا اہل قرار دیا گیا تھا لیکن عدالت کے حکم پر الیکشن کمیشن نے علی امین کو مشروط اجازت دی اور ان کے بھائی کی نااہلی کا فیصلہ بھی واپس لے لیا۔
دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کے بھائی ضیا الرحمان کے سرکاری ملازم ہونے کے باوجود انتخابی مہم میں حصہ لینے پر بھی ایکشن لیا گیا تھا۔
سیاسی جماعتوں کی کارکردگی
خیبر پختونخوا میں جب بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہوا تو حکمران جماعت کی کوشش تھی کہ اس میں تاخیر کی جائے کیونکہ بقول تجزیہ کاروں کے پی ٹی آئی ان انتخابات کے لیے تیار نہیں تھی۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عرفان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بلدیاتی انتخابات سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد منعقد ہوئے اور اس وجہ سے حکمران جماعت ان انتخابات کا انعقاد اس وقت نہیں چاہتی تھی۔
’دوسری جانب مولانا فضل الرحمان بھی نہیں چاہتے تھے کہ یہ انتخابات اس وقت منعقد ہوں۔ مولانا فضل الرحمان کو خدشہ تھا کہ جو مہم حکومت کے خلاف چلائی گئی ہے اور اگر انتخابات کے نتائج ان کے حق میں نہیں آتے تو انھوں نے جو محنت اور جلسے، مارچ کیے تھے ان کا اثر ضائع ہو جائے گا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’عوامی نینشل پارٹی مکمل تیار نظر آتی تھی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی صوبے کی سطح پر کوئی زیادہ کارکردگی کی توقع نہیں تھی کیونکہ جماعت کو صوبے میں کوئی زیادہ متحرک اور بہترین قیادت نہیں مل سکی جبکہ مسلم لیگ نواز صرف ہری پور کی سطح پر کارکردگی کا مظاہرہ کر پائی۔
’پی ٹی آئی ان انتخابات میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی اور اس وجہ سے جماعت کی قیادت فکر مند نظر آتی ہے۔ یہ نتائج جمیعت علما اسلام کے لیے انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں اور اب جے یو آئی نے ان انتخابات کے لیے بھرپور کوششیں شروع کر دی ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ڈیرہ اسماعیل خان کا حلقہ جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا اپنا حلقہ ہے لیکن پہلے مرحلے کے انتخابات میں جمیعت نے اس حلقے سے ایک بھی تحصیل میں کامیابی حاصل نہیں کی تھی اس لیے اب ان کی کوشش ہے کہ اس تحصیل کی نشست کو جیتنا ضروری ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
’بیوروکریسی بلدیاتی نظام کی مخالف ہے‘
خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں ایک شخص کی دونوں بیویاں میدان میں
ثنا پرویز: باجوڑ کی پہلی اقلیتی خاتون جنرل کونسلر جو بلا مقابلہ منتخب ہوئیں
ناموزوں امیدواروں کے چناؤ کا فیصلہ شکست کی وجہ بنا: وزیر اعظم عمران خان
وہ کہتے ہیں کہ ’علی امین گنڈا پور کا بھی یہ اپنا حلقہ ہے اور وہ خود یہاں سے قومی اسمبلی کی نشست جیت چکے ہیں اور ان کے بھائی فیصل امین گنڈا پور صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے تھے اور اب تیسرے بھائی انتخابی میدان میں ہیں۔‘
’فیصل کریم کنڈی بھی اس حلقے سے ایک مرتبہ قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہو چکے ہیں جبکہ سنہ 2018 کے انتخاب میں ان کے بھائی احمد کریم کنڈی ڈیرہ اسماعیل خان سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔‘
’جے یو آئی کے امیدوار ایک کاروباری شخصیت ہیں اور پہلی مرتبہ سیاسی میدان میں سامنے آئے ہیں جن کا مقابلہ مضبوط رہنماؤں سے ہے۔‘
ڈیرہ اسماعیل سے مقامی صحافی سعید اللہ مروت نے بتایا کہ اس وقت دیگر سیاسی جماعتیں بھی ان امیدواروں کے ساتھ اتحاد میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی حمایت پاکستان پیپلز پارٹی کو حاصل ہے اس کے علاوہ اس علاقے میں مضبوط سیاسی خاندان میاں خیل برادران نے بھی پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ یہاں پاکستان مسلم لیگ ن جمیعت علما اسلام کی حمایت کر رہی ہے۔
ان انتخابات کا مستقبل کی سیاست پر کیا اثر ہو گا؟
بظاہر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آئندہ برس جنرل الیکشن کے لیے یہ انتخاب ایک راہ متعین کر سکے گا اور ایک طرح سے ان انتخابات میں سیاسی جماعتیں اپنی عوامی قوت کا بھرپور مظاہرہ کر سکیں گی۔
سینیئر صحافی عرفان خان کے مطابق اگرچہ ابتدا میں ان انتخابات کی طرف سیاسی جماعتوں کی یا تو توجہ کم تھی اور یا وہ تیار نہیں تھیں لیکن اب سیاسی جماعتیں زیادہ متحرک نظر آتی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ان انتخابات سے ان سیاسی جماعتوں کے مستقبل کی راہ کا تعین ہو سکے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے مرحلے میں پی ٹی آئی کی کارکردگی کے بعد سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے مختلف شہروں کے دورے کیے تھے اور ناراض کارکنوں کو منانے کے علاوہ جماعت کے امیدواروں کی حمایت کے لیے کہا تھا۔ کچھ علاقوں میں پرویز خٹک کو سخت رد عمل کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔‘
’پہلے مرحلے کے نتائج کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ اکثر حلقوں میں پی ٹی آئی کے دو یا تین امیدوار تھے جن میں ایک ٹکٹ ہولڈر اور باقی آزاد حیثیت سے انتخابات میں شامل تھے جس وجہ سے جماعت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائی۔‘

