عمران خان کی کابینہ یا پرائمری اسکول کا جلسہ تقسیم انعامات؟
فواد چوہدری سخت محنت کے باوجود دس بہترین وزیروں میں جگہ نہیں بنا سکے جبکہ وزیر داخلہ شیخ رشید قوم کو دہشت گردی سے ڈرانے کے باوجود اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے وزیروں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ وزیر اطلاعات میڈیا کنٹرول کرنے، مستقل بنیادوں پر عمران خان کی قصیدہ گوئی کا اہتمام کرنے اور ناقدانہ آوازوں کو کچلنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود اتنے ’نمبر‘ بھی حاصل نہیں کرسکے کہ وہ ٹاپ ٹین میں شامل ہو جاتے۔ اب وہ ’اگلی دفعہ انشاللہ‘ کی امید پر ساتھی وزیروں کو مبارک باد دے رہے ہیں۔
یوں تو شاہ محمود قریشی نے بھی ہر سفارتی محاذ پر مات کھانے کے باوجود پاکستان کی ’خود مختار‘ خارجہ پالیسی کا ڈھول پیٹا ہے اور عوام کو پورا یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ اس وقت پاکستان کے ساتھ جو بھی ’اچھا‘ ہو رہا ہے وہ ان کی شاندار کارکردگی، مہارت اور زیرکی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے تئیں وزارت عظمی کے سب سے مناسب امیدوار بھی ہیں کہ عمران خان کی جگہ لینے کے لئے متبادل کی ضرورت ہو تو ہر کس و ناکس کو خبر ہو کہ وہ ’میسر‘ بھی ہیں اور چوکنے بھی۔ شاید اسی ہوشیاری کی وجہ سے انہیں ’شاندار دس‘ کی فہرست میں شامل نہ کیا گیاہو۔
مراد سعید کے پہلے نمبر نے واضح کر دیا ہے کہ عمران حکومت کو کیسے جی دار وزیروں کی ضرورت ہے۔ یوں تو انہیں مواصلات کے شعبہ میں کارکردگی دکھانے پر ایوارڈ ملا ہے لیکن یہ خبر نہیں کہ اس نام سے موسوم وزارت نے ایسا کون سا کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ مراد سعید سب وزیروں پر بازی لے گئے۔ البتہ ان کی ایک خوبی کا سب کو پتہ ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی تنقید کے جواب میں مراد سعید بڑھ چڑھ کر وزیر اعظم کے ذاتی وکیل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر انہوں نے باقی سب کو چاروں شانے چت کیا ہے تو حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ ان کے دیگر ساتھیوں کو بھی مراد سعید اور اسد عمر سے سبق سیکھنا چاہیے۔ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کے مصداق جب تک خوشامد پسند حکمران موجود ہو، کاسہ لیسی والوں کے لئے امکانات کم نہیں ہوتے۔
کابینہ کے ارکان کو وزیر اعظم کا توصیفی سرٹیفکیٹ دینا اور اس سلسلہ میں تقریب منعقد کر کے اچھے کام کی توصیف اور برے کام کی سرزنش کا تصور نمایاں کرنا ایک تاریخ ساز کارنامہ ہے۔ کیوں کہ تاریخ میں باد شاہوں کے نورتنوں کا حال تو درج ہے لیکن کسی جمہوری نظام میں یہ وقوعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے انوکھا ہے کہ وزیر اعظم کسی وزیر کی اعلیٰ کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے نمبر ون قرار دے اور دوسروں کو کم تر کارکردگی کی بنیاد پر متنبہ کیا جائے کہ آئندہ انہیں تعزیر کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔ البتہ قباحت صرف یہ ہے کہ اس اگلی باری کا امکان ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے۔ آئینی طریقہ کار کے مطابق عمران خان کی حکومت چوتھے برس میں داخل ہو چکی ہے۔ اگلے سال کے شروع میں انہیں عنان اقتدار کسی عبوری حکومت کے حوالے کرنا ہو گی تاکہ 2023 کے وسط تک نیا انتخاب منعقد کروایا جا سکے۔ عمران خان کو وزارتوں میں کارکردگی کا مقابلہ کروانے کا اتنا ہی شوق تھا تو اس کا اہتمام پہلے سال سے ہی ہونا چاہیے تھا تاکہ اب تک وہ بہترین وزیروں کی ٹیم کے ساتھ عوام کے مسائل حل کرچکے ہوتے یاکم از کم سیاسی طور سے اپنے حلقہ انتخاب میں منہ دکھانے کے قابل رہتے۔
اور عمران خان ہر مرحلے پر شریف اور زرداریوں کو کوسنے کے بعد یہ نہ کہنا پڑتا کہ ملک کا نظام ان کے انقلابی اقدامات کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا، اسی لئے کوئی خاص تبدیلی واقعہ نہیں ہو سکی۔ ایسا کہتے ہوئے وزیر اعظم بھول جاتے ہیں کہ انہیں نظام تبدیل کرنے ہی کے لئے ووٹ دے کر اقتدار سونپا گیا تھا۔ اگر وہ پہل سے ہی جانتے تھے کہ پانچ سال کی مدت میں ان کے انقلاب آفرین خیالات پر عمل ممکن نہیں ہو گا تو دیانت داری کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ پہلے سے ووٹروں کو بتادیتے کہ ان سے کسی بڑی تبدیلی کی امید نہ رکھی جائے البتہ وہ نظام کو اپنی ’انقلاب کی سوچ‘ کے مطابق سریع الاثر بنانے کے بعد دوسری یا تیسری مدت میں شاید عوام کی بہتری کی طرف بھی توجہ دے سکیں۔ یا سادہ لفظوں میں انہیں یہ اپیل کرنی چاہیے تھی کہ ’اے پاکستان کے مظلوم لوگو! آپ نے فوجی آمروں کو بھی تو دس دس سال کے لئے اقتدار پر قابض رہنے کا موقع دیا ہے۔ اب آپ کے پاس موقع ہے کہ اپنے محبوب لیڈر کو تاحیات حکومت کرنے کا حق تفویض کریں تاکہ پہلے میں لائق اور نالائق وزیروں کی چھان پھٹک کرلوں۔ اس کام میں ایک آئینی مدت صرف ہو جائے گی دوسری مدت میں مسائل کو سمجھوں گا اور تیسری مدت آنے تک عوام کو اتنا سوچنے کی تاب ہی نہیں ہوگی کہ ان کا لیڈر منتخب نمائندہ ہے بلکہ اس کے فسطائی ہتھکنڈے ملک پر ایسا قہر نازل کریں گے کہ اختلاف کا ہر جمہوری حق ناجائز طریقہ اور کرپٹ سیاست دانوں کی حمایت کا بہانہ قرار دیاجائے گا۔ سیاسی مخالفین ہی چور اچکے نہیں ہوں گے بلکہ انقلاب لانے والے وزیر اعظم کے کسی اقدام پر رائے دینے کا حق مانگنے والا ہر شخص بھی ریاست اور عوام کا دشمن قرار پائے گا۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ پرانے ناقص نظام کے مقابلے میں میرے لائے ہوئے فعال نظام میں ہو کا عالم ہو گا اور سب اچھا ہے، کا پھریرا لہرائے گا‘ ۔
عمران خان کی قسمت کہ خوابوں کی دنیا عملی حقائق سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتی ہے۔ خواب میں محل کھڑے کرنا اور خود کو کسی ایسے حاتم طائی کی جگہ پر تصور کرلینا جو ہرمانگنے والے کی ہر خواہش پوری کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، ایک خیالی تصور تو ہو سکتا ہے لیکن عملی زندگی میں ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ فرد ہو یا قوم، لیڈر ہو یا اس کا کوئی ’عثمان بزدار یا مراد سعید‘ اسے نتائج دکھانے کے لئے محنت کرنا پڑتی ہے۔ یہ نتائج خود اپنے منہ سے بولتے ہیں۔ ان کو سامنے لانے کے لئے ڈھول بجانے، اشتہار دینے، وزیر اعظم سے توصیفی تقریر کروانے یا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ عمران خان ایک بٹن دبا کر مسائل حل کرنے کا خواب دیکھتے ہیں اور جب یہ خیالی تصور عملی شکل میں ظاہر نہیں ہوتا تو کبھی وہ عدالتوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور کبھی خود کو مہارت کے کسی اعلیٰ ترین منصب پر فائز سمجھتے ہوئے یہ گمان کرتے ہیں کہ ملک کا نظام ان کے انقلابی خیالات اور زریں مشوروں کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ حالانکہ نظام کو خواہ کیسے ہی طریقہ میں تبدیل کر لیا جائے پانی سے موٹر چلانے اور صرف سوچ لینے سے کسی ملک کو خوشحال کرنے کا ’تصور‘ عملی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ ایسے میں وزیر اعظم نظام کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں تو شاید خواب بکھرنے کی تکلیف میں کچھ کمی واقعہ ہو۔
عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے وزیروں میں کارکردگی کا مقابلہ کروایا ہے اور اس میں کامیابی حاصل کرنے والے اراکین کابینہ کو تعریفی سرٹیفکیٹ دیے گئے ہیں تاکہ پیچھے رہ جانے والے وزیروں میں بھی محنت کرنے کا شوق پیدا ہو اور وہ فواد چوہدری کی طرح ’انشاللہ اگلی بار‘ کی ٹویٹ کرتے ہوئے کام میں جت جائیں۔ لیکن وزیروں کو سرٹیفکیٹ سے نوازنے کی تقریب سے خطاب کے دوران بھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ مقابلہ کس بنیاد پر منعقد کیا گیا تھا۔ کس کامیابی پر توصیف کی گئی اور کون سی ناکامیوں پر کوئی وزارت یا اس کا وزیر نظر انداز ہوا؟ اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے 10 وزیروں کا انتخاب کس میرٹ پر کیا گیا تھا اور کون سے معیار کی وجہ سے بعض وزیر ناکام ٹھہرے۔ اور جو شخص اپنے کام سے وزیر اعظم کو مطمئن نہیں کر سکا، اسے کیوں کابینہ میں شامل رکھ کر قومی خزانہ کے بوجھ میں اضافہ کیا جا رہا ہے؟ عمران خان نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اچھا کام کرنے پر شاباش دینے کے علاوہ ناکامی پر ’سزا‘ کا تصور بھی پیش کیا ہے۔ وہ اس کے علاوہ وہ عام طور سے میرٹ کے سوال پر سیر ہاصل گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ اس تناظر میں وزیروں کو توصیفی پرچیاں بانٹنے سے پہلے عمران خان کو خود اپنے آپ کوکٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے تھا اور بتانا چاہیے تھا کہ ملک کے منتظم اعلیٰ کے طور پر ان کی اپنی کارکردگی کیسی رہی؟ اپوزیشن لیڈروں، کسی حد تک غیر جانبدار مبصروں یا عالمی جائزوں پر نگاہ ڈالیں تو حکومت اکثر شعبوں میں شدید ناکامی کا شکار ہے۔
عمران خان کایہ اعتراف کہ وہ نظام تبدیل نہیں کرسکے بلکہ نظام نے ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال رکھی ہیں، بجائے خود ان کے خلاف فرد جرم کی حیثیت رکھتاہے۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والے وزیروں میں نمبر بانٹنے سے پہلے عمران خان خود اپنی گریڈنگ بھی کر لیتے تو شاید انہیں آج کی تقریب منعقد کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔ وفاقی کابینہ کے ارکان کو پرائمری اسکول کے بچوں کی طرح نمبر دینے اور پھر کسی اچھے ہیڈ ماسٹر کی طرح ’اخلاقیات‘ پر لیکچر سے پہلے عمران خان کو اپنی اخلاقی قامت اور پارلیمنٹ میں حیثیت کو پرکھ لینا چاہیے تھا۔ اپوزیشن حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کے لئے پراعتماد دکھائی دیتی ہے اور ان کی اپنی پارٹی کے ارکان اس عمل میں اپوزیشن کے شراکت دار بن رہے ہیں۔ ایسے ناکام لیڈر کو وزیروں کو سبق سکھانے سے پہلے خود یہ جاننا چاہیے کہ وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے ہیں۔ وہ نہ پارٹی سنبھال پا رہے ہیں اور نہ حکومت چلا سکے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کی عوامی مقبولیت کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حوصلہ ہے تو انتخابات کروا کے اپنی مقبولیت پرکھ لیں۔ ملک کو جس سیاسی اور معاشی بحران کا سامنا ہے، اس کا حل وزیروں کو توصیفی سرٹیفکیٹ بانٹ کر تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ نئے انتخابات ہی اس مشکل میں عمران خان کی سیاسی دادرسی کر سکتے ہیں۔ اور اسی طرح ملک کے مستقبل کا تعین بھی ہو سکے گا۔

