پاکستان میں مسکان کی حمایت مگر عورت مارچ کو گالیاں!

سحر بلوچ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام


muskaan khan, india

انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک میں 19 سالہ بچی مسکان نے ایک مشتعل ہجوم کے سامنے آواز بلند کی، اور اب اس کی گونج دنیا بھر میں سنائی دے رہی ہے۔ جہاں انڈیا میں اس پر بحث اور احتجاج جاری ہیں، وہیں پاکستان کے مختلف شہروں میں دو روز سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ حمعرات کو جماعتِ اسلامی کی خواتین وِنگ نے مسکان کے حق میں احتجاج کیا، اور جمعے کے روز جامعہ حفضہ کی طالبات کا احتجاج بھی متوقع ہے۔

جماعتِ اسلامی سے منسلک سابق رکنِ پارلیمان سمیعہ راحیل قاضی نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘مسکان کو اللہ نے وسیلہ بنایا کہ وہ نہ صرف مسلمانوں کی بلکہ دنیا بھر میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کی آواز بنے۔ وہ دنیا بھر میں اس وقت مزاحمت کی مثال ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں ہر کسی کو اس کی مرضی کے مطابق لباس پہننے کی اجازت دی گئی ہے۔ تو کسی عورت کے حجاب پہننے پر اعتراض کیوں؟’

انھوں نے کہا کہ انھیں بیس سال ہوچکے ہیں تحریکِ حجاب چلاتے ہوئے۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘اس دوران ہم نے دیکھا کے 1990 کی دہائی میں ترکی میں ایک خاتون وزیر کو حجاب پہننے پر نکال دیا گیا تھا۔ اب وہ ملائشیا میں سفیر ہیں۔ مسکان ہمارے لیے مثال ہے، اسے اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے کوئی خوف نہیں تھا۔’

سمیعہ نے کہا کہ انڈیا میں کئی صحافی بھی مسکان کی حمایت کررہے ہیں جو کہ ایک ‘بڑی بات ہے، اور اس کی جتنی تعریف کریں وہ کم ہیں۔’

تاہم پاکستان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو جہاں مسکان کی بھرپور حمایت کرتا ہے، وہیں ‘عورتیں جیسا چاہیں ویسا پہنیں’ کے حالیہ نعروں کو دہرا معیار مانتا ہے۔

اس کی ایک بڑی مثال عورت مارچ ہے، جہاں ہر سال عورتوں کو ‘میرا جسم میری مرضی’ کے نعرے بلند کرنے پر ہر طرح کے القابات سے نوازا جاتا ہے اور ایف آئی آریں درج کی جاتی ہیں۔

اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے عورت مارچ کی ایک منتظم نے کہا کہ ‘ہمارے لیے پاکستانیوں کا دماغ اور سوچ بہت تنگ ہے۔ میں اب تک صرف ایک پلے کارڈ بنانے کی وجہ سے گھر تک محدود ہوں۔ مجھے کس قسم کی گالیاں نہیں دی گئیں۔ لیکن چونکہ حجاب پہننا ہماری اجتماعی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، اس لیے اس کی بھرپور حمایت کی جارہی ہے۔’

اسی دہرے معیار پر بات کرتے ہوئے صحافی شیراز حسن نے لکھا کہ ‘زیادہ تر پاکستانی مرد مسکان کی ہندوتوا کے خلاف آواز اٹھانے پر تعریف کررہے ہیں لیکن جب کبھی کوئی پاکستانی لڑکی ایسی ہمت کا اظہار کرتی ہے تو اسے مردوں کا جھنڈ گالیاں دینے پہنچ جاتا ہے۔’

اسی طرح کچھ خواتین صارف نے لکھا کہ مسکان کی ہمت اور حوصلے سے اختلاف نہیں لیکن ‘مسکان کا نعرہ مختلف ہے اسے میرا جسم میری مرضی سے نہ جوڑا جائے۔’

اس پر تاحال بحث جاری ہے کیونکہ زیادہ تر صارفین نے کہا کہ مسکان بھی لڑکی ہے اور اس کا اپنی مرضی کا لباس پہننا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ کسی اور ملک میں رہنے والی کسی اور لڑکی کا۔

سمیعہ راحیل نے اس کے بارے میں کہا کہ ‘میں پاکستان میں مسکان کی حمایت کو دوغلہ پن یا دہرا معیار تو نہیں کہوں گی۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور قرآن میں حجاب کرنے کو کہا گیا ہے۔ جبکہ مردوں پر بھی پابندی ہے کہ وہ حجاب کو نافذ کرنے میں اپنا فرض نبھائیں۔’

تجزیہ کار اور صحافی محمل سرفراز نے کہا کہ پاکستانیوں کا دہرا معیار بالکل ہے کیونکہ ‘ہمیں انڈیا میں صحافی رانا ایوب بہت اچھی لگتی ہے لیکن عاصمہ شیرازی اگر اسی طرز کی بات یہاں کریں تو ہمیں بالکل اچھا نہیں لگتا۔ عاصمہ جہانگیر کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔’

لیکن انھوں نے کہا کہ انڈیا میں حجاب کا معاملہ مذہبی نہیں سیاسی ہے۔ ‘اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایجنڈا کے تحت تحریک چلائی جارہی ہے۔ اور اچھا ہے کہ سب مل کر اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں کیونکہ ناانصافی کے خلاف بولنا ضروری ہے۔’

انھوں نے کہا کہ اس وقت بحث کا مرکز ہر لڑکی کا اس کی مرضی کے مطابق لباس زیب تن کرنا ہے، جو سب کا بنیادی حق ہے۔ ‘پاکستان میں میرا جسم میری مرضی کے نعرے کو گھما پھرا کر بتایا گیا۔ لیکن اس کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ ہر عورت کو اپنے جسم پر حق ہے کہ وہ کیا پہنے اور کیا نہیں۔’

اب سوال یہ ہے کہ دنیا بھر میں عورتوں کا لباس ہی زیرِ بحث کیوں رہتا ہے؟

اسی سلسلے میں فرانس کی مثال بھی سامنے ہے جہاں مسلمان خواتین پر حجاب پہننے پر پابندی عائد کی گئی۔

محمل نے کہا کہ ‘حالانکہ دنیا میں چند ممالک میں خواتین کو آزادی اور حقوق ملے ہیں لیکن اس کے لیے انھیں کافی تگ و دو کرنی پڑی ہے اور وہ آج بھی جاری ہے۔ آج بھی کسی قسم کے تنازعے میں عورتوں کی کردار کشی کی جاتی ہے۔ اور اب بھی بہت سے ممالک پدر شاہی نظام کے تحت چل رہے ہیں۔ اس سوچ کو تبدیل کرنے میں کافی وقت لگے گا۔’


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25415 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments