مسکان کا بایاں بازو

ہم نے اکثر ٹی وی ٹاک شوز میں دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کا ذکر سنا ہو گا۔ دائیں اور بائیں بازو کی سیاست سے کیا مراد ہے۔ اس اصطلاح کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے 1789 ءمیں فرانس کی قانون ساز مجالس میں چند اصطلاحات وضع ہوئیں۔ جو دراصل سیاسی جماعتوں کی ترتیب کے حوالے سے تھیں 1789 ء کی فرانس کی مستطیل پارلیمنٹ میں دائیں بازو، وسطی اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں تھیں۔ دائیں بازو کی جماعتوں سے مراد قدامت پسند یعنی جمود پسند، بادشاہ کی جماعتی اور پرانے خیالات کی جماعتیں تھیں۔ وسطی جماعتوں سے مراد اعتدال پسند جماعتیں اور بائیں بازو سے مراد ترقی پسند یعنی تبدیلی نظام کی جماعتیں تھیں ان جماعتوں میں کمیونسٹ، لبرل اور سوشلسٹ جماعتیں تھیں۔
عام طور پر بائیں بازو کی خصوصیات آزادی، مساوات برادرانہ حقوق، پیشرفت اصطلاحات اور بین الاقوامیت جیسے نظریات پر زور دینے کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ دائیں بازو کی خصوصیات اتھارٹی، درجہ بندی اور آرڈر جیسے نظریات پر زور دینے سے ہوتی ہے فرض، روایات، ردعمل و جمود اور قوم پرستی وغیرہ۔ بائیں بازو والے عام طور پر ترقی پسند ہوتے ہیں ان کی نظر مستقبل کی طرف ہوتی ہے۔ ان لوگوں کی حمایت کرتے ہیں جو خود کی حمایت نہیں کر سکتے۔
آئیڈیلسٹ اور مساوات پر یقین رکھتے ہیں۔ بائیں بازو کے لوگ دولت کی برابر تقسیم کے قائل ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں لیف پارٹی اور گرین پارٹی اہم بائیں بازو کی جماعتیں ہیں وہ ایسے قوانین بنانے پر یقین رکھتی ہیں جو خواتین، نسلی اقلیتوں کو امتیازی سلوک کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ مالدار لوگوں پر زیادہ ٹیکس لگایا جانا چاہیے۔
پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی، مزدور کسان پارٹی سوشلسٹ اور عوامی ورکرز پارٹی بائیں بازو کی اہم سیاسی جماعتیں ہیں پیپلز پارٹی بھی شروع میں بائیں بازو کی جماعت تھی مگر بعد میں جاگیرداروں اور مفاد پرست لوگوں کے شامل ہو جانے کی وجہ سے دائیں بازو کی جماعت بن گئی۔
دائیں بازو والے عقائد اور روایات کو اہمیت دیتے ہیں۔ دائیں بازو کی حامل جماعتیں قدامت پسند تبدیلی کے خلاف، اور جمود کو برقرار رکھنے کی جماعتیں ہوتی ہیں۔ دائیں بازو کی جماعتیں قوم پرستی اور سرمایہ دارانہ سوچ کی حامل جماعتیں ہوتی ہیں۔ ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ نظام کو ایسے ہی چلنے دیا جائے مذہبی جماعتیں بھی عام طور پر دائیں بازو سے وابستہ ہوتی ہیں۔ امریکہ میں ریپبلکن پارٹی اور یو۔ کے میں کنزرویٹو پارٹی انڈیا میں بی۔ جے۔ پی اور کانگرس پاکستان میں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی دائیں بازو کی مشہور جماعتیں ہیں۔
پچھلے دنوں بھارتی ریاست کرناٹک میں زعفرانی شالیں لہراتے سینکڑوں طالب علموں کا گروہ ’جے شری رام‘ کے نعرے لگاتے ہوئے مسکان نامی مسلمان لڑکی کو بہ وجہ حجاب ہراساں کرتا ہے جس کے جواب میں وہ طالبہ اپنا بایاں بازو اٹھا کر ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگاتی ہے اور مقامی زبان میں کہتی ہے ’کیا مجھے حجاب پہننے کا حق حاصل نہیں ہے اور یہ مزاحمتی استعارہ ہے دائیں بازو ہندو گروہوں کے لیے کے جب بات حق کی ہو اصول کی ہو قانون کی ہو تو فرد آزاد ہے۔ مسکان کا بایاں بازو ان ہزار دائیں بازوں سے بہتر ہے جو ہندوستانی جمہوری فاشزم کے حق میں اٹھتے ہیں۔
ہندوستان کے دائیں بازو کی سیاست نے انسانوں کے درمیان مذہبی خلیج کو انتہائی گہری نفرتوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ نفرتوں کا اظہار اب اشاروں میں نہیں کھل کر کیا جاتا ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں نفرتوں کی سیاست معاشرے اور انسانی رشتوں کو کافی نقصان پہنچا چکی ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ جب بات حقوق کی ہو تو انتہا پسندوں کے سامنے بے خوفی سے بایاں بازو اٹھائے ہوئے مسکان آزادی کی علامت بن جائے اور پسے ہوئے طبقات کو نوید سنائے کہ آخرکار آزادی کی سرزمین تک پہنچنے کے لیے ان کا سفر ختم ہو گیا ہے۔

