سیکولرازم ایک انسان دوست نظریہ
انسان کی اجتماعی سوچ و فکر روز اول سے ترقی کے مراحل طے کرتی آ رہی ہے اس مقام تک پہنچنے کے لیے جہاں ہم آج کھڑے ہیں انسان نے لاکھوں سال پر محیط سفر طے کیا پر آسائش زندگی گزارنے کی جستجو میں انسان کے دماغ میں ہر دور میں مختلف خیالات ابھرتے گئے جس کو اپنانے سے انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی آتی رہی۔ خاص فکر ایک مدت تک کارآمد ہوتی پھر پہلے سے بہتر فکر جنم لیتی اسی طرح ترقی کا یہ سفر بتدریج آگے چلتا رہا نتیجتاً انسان پتھروں کے زمانے سے ترقی کرتا ہوا روشنی کے زمانے میں داخل ہوا۔
جن اقوام نے بدلتے افکار کے ساتھ اجتماعی طور پر اپنی فکر ڈھالی وہ ترقی کر گئے اور جنھوں نے ترقی کے دوڑتے ہوئے گھوڑے کے لگام کو اپنے ہاتھوں سے گرا دیا وہ خود گر کر صرف تماشا دیکھتے رہے جبکہ ترقی کے گھوڑے پر سوار مترقی لوگوں نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی بجائے آگے سمت اپنا سفر جاری رکھا پر پیچ راستے کا یہ سفر انتہائی کٹھن تھا جہاں اس میں قدرتی مشکلات آئی تو وہاں ترقی کے مخالف اہل اقتدار اور مختلف مذاہب کے علماء نے دانستہ طور اس راستے میں روڑے اٹکائے تاکہ وہ عوام کو جہالت کے اندھیروں میں رکھ کر اپنی سیاسی، معاشی اور جغرافیائی طاقت کو برقرار رکھ سکیں اس کے لئے انھوں نے آزادی اظہار خیال و فکر پر پابندی عائد کی تھی خلاف ورزی پر سنگین سزائیں دیتے لیکن اس کے باوجود وقتاً فوقتاً اہل دانش اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر انسان کے زندگی کی ریل گاڑی کو پٹری پر لانے کے لئے آگے آتے اور اپنی فکر سے رائے عامہ کو تبدیل کرتے۔ ایسا ہی ایک روشن فکر جس نے انسانی زندگی میں انقلاب برپا کیا سیکولرازم کہلاتا ہے
سیکولرازم کا مطلب مذہبی اداروں کو ریاستی اداروں سے الگ رکھنا ہے۔ یعنی سیکولر ریاست بلا کسی مذہبی تفریق کے اپنی تمام شہریوں کو مذہبی آزادی، سیاست، سماجی اقدار اور معیشت کے یکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ اپنے ماننے والوں کو ، معاشی اور انتظامی مسائل کو عقائد کی بجائے عقلی دلیل اور سائنسی سوچ کی بنیاد پر حل کرنے کا پابند کرتا ہے جو مختلف عقائد کے پیروکاروں کے درمیان تصادم سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔ یہ فکر یورپ میں کیتھولک چرچ اور پروٹسٹنٹ کے مابین لڑی جانے والی 30 سالہ لڑائی کے خاتمے کے بعد فروغ پائی جس کے بعد یورپ میں مذہبی بنیادوں پر کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ اسی سیکولر سوچ کی بدولت یورپ ترقی کے راستے پر گامزن ہوا
عیسائی مذہب کے پیشوا، جن کی طاقت اور اختیارات کا یہ عالم تھا کہ ان کا یورپ کے ایک تہائی زمین پر قبضہ کے علاوہ اگر یہ بادشاہ کے خلاف کوئی بیان دیتے تو اس ملک کی رعایا بادشاہ کے خلاف ہی بغاوت کر دیتی تھی لوگوں کا عقیدہ بنایا گیا تھا کہ پادری کو خوش رکھ کر ہی آپ کے لئے جنت میں داخل ہونا ممکن ہے جس کی وجہ سے لوگ پادری کو جنت کا پاسپورٹ سمجھتے تھے چرچ اور لوگوں کے درمیان تعلق کا بنیاد پیسہ تھا مالدار لوگ اپنے بچوں کو دوزخ سے بچانے کے لئے عقیدہ کی بنیاد پر اعلی پوزیشن خریدتے تھے بچوں کو عیسائی بنانے کے لیے، شادی کرنے کے لئے اور مردے کو مقدس زمین میں دفن کرنے کے لئے چرچ کو پیسہ دینا ہوتا تھا سرمایہ داروں اور کسانوں کو سال کے آخر میں اپنے سرمایہ کا دسواں حصہ چرچ کو دینا ہوتا تھا اس کے علاوہ پادری سرٹیفکیٹس پر دستخط کر کے بیچتے تھے جسے لوگ اپنے گناہ معاف کروانے کے لئے خریدتے تھے، اپنی راج کو بچانے کی خاطر ان کی پوری کوشش تھی کہ مترقی سوچ کو رکوا کر پنپنے نہ دے لیکن ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا
ان مظالم کے خلاف جرمنی کے وٹنبرگ یونیورسٹی کے تھیالوجی کے پروفیسر ”مارٹن لوتھر“ نے علم بغاوت بلند کیا جس پر چرچ کے جبر سے تنگ عیسائیوں نے لبیک کہا اور کیتھولک چرچ کے خلاف پروٹسٹ کیا جس کی وجہ سے پروٹسٹنٹ کہلائے۔ کیتھولک چرچ نے مارٹن لوتھر کے 95 تھیسس کے کانسپٹ کو دبانے کے لئے ہر قسم کے حربے استعمال کیے جس پر پروٹسٹنٹ اور کیتھولک کے مابین 30 سال پر محیط جنگ چڑ گئی آخرکار دونوں گروپ چرچ میں اصلاحات کے لئے مل بیٹھے جس میں چرچ کو ریاستی معاملات سے الگ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور ریاستی معاملات میں شعور اور علم کو مذہبی عقائد پر ترجیح دی گئی یہاں سے روشن خیالی کے دور کا آغاز ہوا پرنٹنگ پریس کو آزادی دی گئی بائبل کا مختلف زبانوں میں ترجمے کی اجازت دی گئی جس سے عوام کو پادریوں پر انحصار سے چھٹکارا مل گیا یہ وہی دور تھا جس میں انسائیکلوپیڈیا کا ایجاد ہوا جو پورے یورپ میں روشن خیالات کے پھیلاؤ کا موجب بنا۔ سائنسی ایجادات جیسے سٹیم انجن، ہائیڈرالکس، آپٹکس، میڈیسن، آسٹرانومی، آرٹ اور میوزک اسی دور کے مرہون منت ہیں۔
بدقسمتی سے مذہبی لوگوں نے سیکولرازم کو الحاد یا کفریہ نظریہ کے طور پر پیش کیا ہے جو ایک مغالطہ ہے حالانکہ مسلم مفکر ابن رشد کو سیکولر نظریہ کا موجد سمجھا جاتا ہے جس نے اندلس میں ارسطو کے فلسفے پر بحث کرتے ہوئے یہ نظریہ پیش کیا کہ صداقت تک پہنچنے کے لئے دو راستے ہیں مذہب اور فلسفہ۔ یوں اس نے مسلم معاشرہ میں فلسفہ کو مذہب سے الگ کر کے سیکولر یعنی دنیاوی طرز فکر پیش کیا۔ اس کے باوجود بھی مذہبی گروہ اسلامی نظام کے نام پر عام فہم عوام کو ورغلا کر سیاسی طاقت بٹورنا چاہتے ہیں۔
یہ لوگ خلافت راشدہ کے طرز پر اسلامی ریاست کے قیام کا دعوہ کرتے ہیں حالانکہ خلافت راشدہ صرف 25 سال قائم رہا جس کے بعد ہزار سال تک بادشاہت قائم رہی۔ چاروں خلفائے راشد الگ الگ نظام کے تحت خلیفہ بنے اب بندہ ان سے پوچھے کہ حکمران چننے کے لئے ان چار ماڈل میں سے کون سا ماڈل اسلام ہے؟ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام نے کوئی مخصوص نظام حکومت تجویز کیا ہے؟ اگر کیا ہے تو پھر بتایا جائیں کہ قرآن یا حدیث میں مملکت کے اداروں سے متعلق اصول و ضوابط کیا بیان ہوئے ہیں؟
یعنی ریاست کے سربراہ کا کا تقرر کیسے ہو گا، کون کرے گا، کتنی میعاد کے لئے ہو گا، افواج کی ساخت اور قواعد کیا ہوں گے ، ان کی بھرتی اور تعیناتی اور ان کا مقصد و میعاد کیا ہو گا، نظام معیشت کیسے ہو گا وغیرہ اگر ان سوالات کے جوابات نہیں تو پھر سیاسی اسلام کا کانسپٹ مغالطے کے سوا کچھ نہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ذہن کو پھر سیاسی اسلام کے مغالطے سے آزاد کرایا جائے اور سیاسی انتظامی فیصلے عقائد کی بجائے شعور اور عقلی بنیادوں پر حل کیے جائیں مشکل مگر یہ ہے کہ اس سوچ کو عام کرنے کے لیے مسلمانوں کا ”مارٹن لوتھر“ کون ہو گا؟



بہت پیاری تحریر۔ بہت شکریہ
ٹھوس حقائق سے بھرپور تحریر