کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی


میں یہ مقدمہ دیکھنے والی آنکھوں اور سوچنے والے دلوں کی عدالت میں رکھنا چاہتا ہوں۔ یادداشتیں مرتب رکھیں اور کچھ دیر کے لئے روایتی نفرت کے خول سے باہر نکل آئیں اور بولیں۔

گزشتہ دو عشروں میں، پولیس کلچر میں مثبت اور صحت مند تبدیلیوں کا رجحان نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے۔ دیگر اداروں کے برعکس، پولیس ڈیپارٹمنٹ میں جزا سزا کا نظام پوری قوت کے ساتھ نافذالعمل ہے۔

امن وامان کے قیام اور جرائم کے انسداد کے ساتھ ساتھ ڈیپارٹمنٹ تمام تر پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عصری شعور کے ساتھ مقدمات کے اندراج اور شکایات کے ازالہ کے لئے ہر فورم پر عام آدمی کی براہ راست رسائی کو یقینی بنا رہا ہے۔ چٹی دلالی اور رسہ گیری کے دسترخوان پر دعوتیں اڑانے والے سہولت پسند، اب مزدوریاں ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ تھانوں کی سطح پر فرنٹ ڈیسک اور پولیس خدمت مراکز کا قیام تبدیل ہوتے ہوئے پولیس کلچر کی طرف نہایت اہم پیش رفت ہے۔ پولیس فائل اب پڑھے لکھے، خوش اطوار اور خدمت گزاری کے جذبہ سے سرشار نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ درج مقدمات اور گزاری گئی ہر ایک درخواست آئی جی آفس تک مانیٹر ہو رہی ہے۔ پول کام ہر تفتیشی افسر کو نامہ ءاعمال کی طرح آئینہ دکھا رہا ہے۔ پولیس افسران کی تربیت اور تفتیش کا معیار بہت بہتر ہوا ہے۔

کوئی شک نہیں کہ روایتی پولیس کلچر سے استفادہ کرنے والے تمام طبقات پولیس کے تازہ مارچ سے خائف اور لرزاں و ترساں ہیں۔

ہم ڈسپلن فورس ہیں، ہمیں رائفلیں بھی ریاست نے دی ہیں اور قلم بھی۔ ہم فائر کی گئی ایک ایک گولی اور خول کا شمار رکھتے ہیں اور پولیس فائل میں لکھے گئے ایک ایک لفظ کے لئے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک جوابدہی اور ذمہ داری کا احساس لے کر پیش ہوتے ہیں۔ ہم ضابطوں کی زبان بولتے اور قانون کا چلن چلتے ہیں۔ ہمارا پلٹنا بھی اور چھپٹنا بھی روزنامچوں، رجسٹروں اور مثل کے صفحات میں محفوظ ہوتا رہتا ہے۔ خدا کی قسم نظم و ضبط کے جس کارخانے میں ہم سانس لیتے ہیں، مشینوں کا بھی دم گھٹنے لگ جائے۔ مگر دیکھیں! دیکھیں! ہمیں روبوٹ نہ سمجھ لیں۔ ہم بھی گوشت پوست کے بنے جیتے جاگتے انسان ہیں، ہم بھی شعر کہتے اور گیت گاتے ہیں، ہم بھی وطن کے بیٹے ہیں۔

پلٹ کر جواب نہ دیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہماری پیٹھ پر طعن و تشنیع کے تازیانے برسائے جائیں۔ تربیت اور کوڈ آف کنڈکٹ مانع آتے ہیں ورنہ ہم بھی دنیاداری کی ساری رمزیں جانتے ہیں، ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں۔

محترم رؤف کلاسرا صاحب معروف صحافی ہیں۔ میں عام آدمی ہوں، میرا ان سے مکالمہ نہیں بنتا مگر… آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے موصوف نقب زنی کے ایک مقدمہ کو  لے کر مقامی پولیس اور ڈی پی او لیہ محترمہ ڈاکٹر ندا ظفر چٹھہ کے خلاف سوشل میڈیا پر دشنام طرازی میں اس بری طرح مصروف ہیں کہ صحافتی روایات کا پاس ہے اور نہ سماجی اقدار کا لحاظ۔ بیٹیوں کو میدان عمل میں اتارنے کے لئے جدوجہد کرنے والے معاشرے میں قوم کی ایک بہادر اور باصلاحیت بیٹی کے خلاف سوشل میڈیا پر بے بنیاد ہرزہ سرائی اور یاوہ گوئی شرم ناک اور قابل مذمت ہے۔ خود صحافتی حلقوں کو ضابطۂ اخلاق کے نفاذ کے لئے آگے آنا چاہیے۔

مقدمات کا بلاتاخیر اندراج ہر شہری کا حق اور پولیس کا فرض ہے۔ ہر بدقماش اور اس کے پشتی بانوں کو خبر ہونی چاہیے کہ قانون کا نفاذ پولیس کی ذمہ داری ہے اور ہم یہ فرض بہرصورت نبھائیں گے خواہ اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ٹوٹے۔ کسی بھی مقدمہ کے میرٹ پر ہر خاص و عام کو بحث اور اگلے فورم سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔ مقامی پولیس کی تفتیش سے اتفاق نہیں تو مقدمہ کو ڈسٹرکٹ سٹینڈنگ بورڈ میں لے جائیں، وہاں بھی انصاف نہیں ملا تو ریجنل انویسٹی گیشن بورڈ حاضر ہے، پھر بھی دل مطمئن نہیں تو پنجاب انویسٹی گیشن بورڈ کے دفاتر آپ کو منتظر ملیں گے۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ ناقص تفتیش کسی بھی سطح پر قبول نہیں کرتا۔ آپ حق پر ہیں تو پولیس ڈیپارٹمنٹ آپ کو پشت پر کھڑا ہوا ملے گا۔

یہ حق مگر آپ کو نہیں دیا جا سکتا کہ فین فالونگ کے جتھے جمع کرنے کے لئے ہمیں ٹویٹر اکاؤنٹ پر گالیاں دیں، خواہ آپ کا منہ جتنا بڑا اور زبان جتنی لمبی ہو۔ قینچی جیسی زبان چلانے سے بہتر تھا تلوار جیسا قلم چلایا ہوتا۔

ضروری نہیں کہ ہر حکومت ڈسٹرکٹ منیجمنٹ کے انتخاب میں آپ کی سفارشات پر غور کرے اور ہر ڈی پی او ضلع کے تمام ایس ایچ اوز کو آپ کی نگاہ ناز اور جنبش ابرو کے تابع کر دے۔

محترمہ ڈاکٹر ندا ظفر چٹھہ ایک باصلاحیت اور مایہ ناز پولیس افسر ہیں جن کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر محکمہ کو بھرپور اعتماد اور فخر ہے۔ پاکستان کے اس باوقار ادارے نے انہیں پولیس ڈیپارٹمنٹ میں خدمات کے لئے انتخاب کیا ہے جس نے کبھی آپ کی مٹھی میں خط اعتذار تھما کر واپس گھر بھیج دیا تھا۔

کپتان صاحبہ اور لیہ پولیس مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے ہذیان کی جھاگ اڑانے والے فکشن رائٹر پر توجہ دینے کے بجائے، قانون اور ضابطے کا نفاذ یقینی بنایا۔ لیگل برانچ کو دیکھنا چاہیے کہ سوشل میڈیا پر جاری اس طوفان بدتمیزی اور لاف و گزاف کے خلاف کیا قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ایک خاتون پولیس افسر کے کیرئیر پر ذاتی اور شخصی نوعیت کی مکروہ جملے بازی پر ہتک عزت کا دعویٰ بھی دائر کیا جا سکتا ہے اور ایف آئی اے کو قانونی کارروائی کے لئے لیٹر بھی لکھا جا سکتا ہے۔ معذرت خواہ ہوں مگر گذشتہ کئی دنوں سے میں جب بھی یہ توہین آمیز ٹویٹس دیکھتا ہوں، ایک ہی خیال دل میں آتا ہے کہ

کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی

Facebook Comments HS