بغیر سمجھے قرآن پڑھنے پر ثواب اور جناب غامدی صاحب
کیا قرآن بغیر ترجمہ کے پڑھنے کا کوئی فائدہ ہے؟ یقیناً کوئی فائدہ نہیں ہے ”
ڈریں نہیں! یہ الفاظ ہمارے نہیں ہیں بلکہ جناب غامدی صاحب کے منہ سے کافی عرصہ پہلے ایک ویڈیو کلپ میں سنے تھے۔ آج یہ بات یوں یاد آئی کہ چند دن پہلے ہماری برادر زادی نے قرآن کریم کو ناظرہ کے ساتھ ختم کیا، سوچا کیوں نہ ہم بھی اپنا نظریہ آپ کے سامنے رکھ لیں۔
ہمارا تو ایمان یہ ہے کہ حدیث شریف میں جو قرآن شریف پڑھنے پر ثواب کا حکم مذکور ہے، وہ نفس قرات پر ہے، یعنی پڑھنے والا خواہ معنی نہ سمجھے تب بھی اسے اس کی تلاوت پر ثواب ضرور ملتا ہے۔ جی ہاں! قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جس کے صرف ”الم“ پڑھنے پر قاری کے نامہ اعمال میں تیس نیکیاں جمع ہو جاتی ہیں، اس کی تلاوت کے وقت سکینت اور رحمت کا نزول ہوتا ہے، اس کے قاری کو حدیث میں قابل رشک کہا گیا ہے اور جو سینہ اس کے تھوڑے سے حصے سے بھی فارغ ہو اس کو اس ویران گھر سے تشبیہ دی گئی ہے جو خیر و برکت سے خالی ہو۔
اگر ایک طرف اس کی تلاوت کے ماہر کو قیامت کے دن عزت مند اور نیکو کار فرشتوں کی رفاقت کی نوید سنائی گئی ہے تو دوسری طرف تکلیف و مشقت سے پڑھنے والے کو دگنے اجر کا مستحق بھی قراردیا گیا ہے۔ کم ازکم میں نے آج تک غامدی صاحب کو چھوڑ کر کسی کو نہیں سنا اور پڑھا کہ بغیر سمجھے قرآن پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ احادیث کو حجت تسلیم کرنے سے چونکہ غامدی صاحب کو گویا چڑ سی ہے اس لیے ہم ان کی خدمت میں قرآن مجید کی سورہ فاطر کی آیت نمبر انتیس پیش کرتے ہیں، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ”جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، اور جنہوں نے نماز کی پابندی کر رکھی ہے، اور ہم نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے وہ (نیک کاموں میں ) خفیہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی نقصان نہیں اٹھائے گی۔
چنانچہ اس آیت میں قرآن کریم کی فقط تلاوت کا ذکر ہے، ترجمہ کا نہیں۔ لیکن موصوف کے فالوورز اس آیت کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ جس وقت قرآن کریم کا نزول ہوا تھا اس وقت مخاطب چونکہ عرب تھے اس لیے وہ مفہوم سمجھ کر ہی تلاوت کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے انہیں اجر ملتا تھا۔ اس کے جواب میں چند باتیں عرض کرتا ہوں۔ پہلی بات یہ ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالی کی آخری کتاب ہے، جو نبی آخر الزماں پر نازل ہوئی اور پھر آپ کے واسطے سے سب ہی اس کے مخاطب ٹھہرے، تو یہ کیسے تصور کر لیا جائے کہ اجر و ثواب صرف اس وقت کے سمجھنے والوں کے لیے خاص ہو اور بعد کے نہ سمجھنے والے اس سے محروم رہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ کہنا ہی غلط ہے کہ اس وقت سارے عرب قرآن کریم کے ترجمے کو نبی اکرم ﷺ کی وضاحت کے بغیر از خود سمجھتے تھے، یا آج سمجھتے ہیں کیونکہ کئی آیات ایسی ہیں جو اپنا ایک خاص پس منظر رکھتیں ہے، جنہیں اسی پس منظر کو مد نظر رکھ کر ہی سمجھا جاسکتا ہے اور ظاہر ہے وہ پس منظر نبی کریم ﷺ ہی جانتے تھے اور یا پھر آج تفاسیر کی مدد سے انہیں سمجھا جاسکتا ہے۔
پہلے ہی عرض کیا کہ ایسی کئی آیات ہیں لیکن یہاں صرف ایک مثال عرض کرتا ہوں۔ جب سورہ بقرہ کی آیت نمبر ایک سو ستاسی نازل ہوئی، جس کا مطلب ہے کہ ”کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید دھاری، سیاہ دھاری سے کھل جائے“ تو اس پر کچھ لوگ یہ کرتے تھے کہ جب روزے کا ارادہ ہوتا تو سیاہ اور سفید دھاگہ لے کر پاؤں میں باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگے پوری طرح دکھائی نہ دینے لگتے، کھانا پینا بند نہ کرتے تھے، الغرض جب تک نبی کریم ﷺ نے وضاحت کرتے ہوئے ان کی غلط فہمی دور نہیں فرمائی تب تک ان کو علم نہیں تھا کہ اس سے مراد دن اور رات ہیں۔ اب یہ غامدی صاحب ہی بتا سکیں گے کہ اس سے پہلے جن لوگوں نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی ان کو اجر ملا یا پھر محروم رہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ قرآن کریم کی بعض سورتوں کی ابتداء حروف مقطعات سے ہوتی ہے جن کے معانی سوائے اللہ تعالی کے کوئی نہیں جانتا، ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو ان کا مطلب و مفہوم بتا دیا گیا ہو لیکن یہ بات یقینی ہے کہ آپ ﷺ نے امت کو نہیں بتایا، تو کیا ان کلمات کی تلاوت پر بھی غامدی صاحب کے ہاں اجر و ثواب نہیں ملے گا؟ حالانکہ کمال کی بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیث میں قرآن کریم کی تلاوت پر اجر و ثواب کے لیے جس لفظ کو بطور مثال ذکر فرمایا، وہ انہی حروف مقطعات میں سے ہے جن کا معنی و مفہوم سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، چنانچہ فرمایا: ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی جائے گی، میں نہیں کہتا «الم» ایک حرف ہے، بلکہ «الف» ایک حرف ہے، «لام» ایک حرف ہے اور «میم» ایک حرف ہے“ (ترمذی)
عقلی اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو قرآن کریم کے الفاظ کو درست کرنے، اسے حفظ کرنے اور اسے سیکھنے سکھانے سب پر اجر ملنا چاہیے۔ درست مطلب تب ہی سمجھا جاسکتا ہے جب الفاظ کو بھی درست پڑھا جائے گا۔ قرآن سے اصل مقصود سمجھنا سمجھانے سے یہ کیسے لازم آیا کہ اس کے پڑھنے پڑھانے پر اجر و ثواب مرتب نہیں ہو گا۔
فرض کر لیں غامدی صاحب کو ٹی وی چینلز والے یہ حکم دیتے ہیں کہ جناب نے کوٹ ٹائی پہن کر ہی سکرین پر نمودار ہونا ہے، لیکن غامدی صاحب اس فرمان کو نظر انداز کر کے یہ کہے کہ جی اصل مقصد تو ٹی وی پر آ کر دین اسلام کے قطعی احکامات کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے تو کیا انہیں قبول کیا جائے گا؟ کیا اس قسم کی خلاف ورزی پر مقررہ تنخواہ سے کٹوتی نہیں ہوتی؟ اگر ہوتی ہے تو خوب سمجھ لیجیے کہ جب انسان سمجھ کر قرآن پڑھے گا تو اجر و ثواب بھی زیادہ ہو گا اور جب بغیر سمجھے پڑھے گا تو اجر بھی اسی حساب سے ملے گا۔
پھر سمجھنے کے دو مطلب ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ بندہ ہر ہر لفظ اور جملے کا معنی سمجھے، پھر اس کا مطلب اور تفسیر سمجھے اور دوسرا یہ کہ وہ اجمالی طور پر قرآن کے پیغام کو سمجھے، حلال و حرام، صحیح اور غلط، ضلالت اور ہدایت، سیدھا راستہ اور ٹھیڑا راستہ اور یہ کہ اس دنیا میں رہتے ہوئے اس نے کیسے زندگی گزارنی ہے۔ کیا جائز ہے اور کیا کیا ناجائز ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ پہلی صورت کے حوالے سے غامدی صاحب خود کہاں کھڑے ہیں لیکن چلیں کوئی بات نہیں کہ وہ صورت علماء کے نزدیک فرض کفایہ کی ہے جبکہ دوسری صورت فرض عین کی ہے۔
ہماری نظر میں تو امت مسلمہ میں دونوں صورتوں کے اوپر عمل ہو رہا ہے۔ آئیے اس کو ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج سے کافی عرصہ پہلے اندرون اور بیرون ملک سے لوگوں کے پاس اپنے پیاروں کے خطوط آتے تھے۔ ان پڑھ لوگ ان خطوط کو لے کر پڑھے لکھے لوگوں کے پاس جاتے تھے اور وہ انہیں خطوط میں موجود پیغام پڑھ کر سناتے تھے۔ انہیں اچھی طرح علم ہوجاتا تھا کہ ہمارے پیاروں نے ہمیں کیا پیغام بھیجا ہے لیکن وہ بذات خود پھر بھی ان خطوط کو پڑھنے اور سمجھنے کے قابل نہیں ہوتے تھے، تو کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان خطوط سے جو مقصود تھا حاصل نہیں ہوا؟ بالکل اسی طرح اگر ایک مسلمان قرآن کے الفاظ کا ترجمہ لفظ بہ لفظ نہیں سمجھتا لیکن وہ یہ جان لیتا ہے کہ قرآن کا پیغام کیا ہے، تو پھر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اصل مقصد کو بھول گیا ہے۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ جب تک وہ قرآن کو سمجھ کر غور و فکر اور تدبر کے ساتھ نہیں پڑھے گا تب تک بے شمار فوائد سے محروم رہے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص بغیر غور و فکر کے قرآن کی تلاوت کرتا ہے اسے تلاوت ترک کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا، بلکہ اسے مزید جدوجہد کر کے معانی اور مطلب کو سمجھ کر غور و فکر کے ساتھ پڑھنے کے لیے کہا جائے گا، تاکہ وہ جو کچھ پڑھتا ہے اس سے رہبری حاصل کرسکے، قرآن کے پیغام کو سمجھے سکے، اس میں پوشیدہ کمالات کو دریافت کرسکے، اس کے احکامات کو جان سکے اور اس کے مطابق اپنی زندگی ڈھال سکے۔ اللہ تعالی ہمیں اپنے دین کی صحیح سمجھ عطاء فرمائے۔ آمین۔


