کتاب سے دوری، ایک المیہ

قدیم یونان کی ایک شہری ریاست، کا نام اس کے اساطیری بانی نے اپنی بیوی کے نام پر ”سپارٹا“ رکھا تھا، سپارٹا کو تاریخِ عالم میں اس لیے اہمیت حاصل ہے کہ اس کے شہری بڑے جری، بہادر اور سپاہیانہ زندگی کے شیدائی تھے، یہی وجہ ہے کہ سپارٹا کے باشندوں کا ذکر تاریخِ عالم…

Read more

ذرا سی لمبی مبارکباد قبول کیجئے گا

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ماہِ مبارک رمضان میں سوشل میڈیا سے کنارہ کش رہنے کی توفیق عطاء فرمائی اُن ہی کی وسعتِ رحمت کو دیکھ کر پُرامید ہوں کہ وہ ہمارے ٹوٹے پھوٹے اعمال کو شرفِ قبولیت سے نوازیں گے، اسلام نے نہ صرف یہ کہ اپنے ماننے والوں کو دنیوی فرحت و انبساط کے اہتمام کی اجازت دی ہے بلکہ خود اس کا ایسے خوبصورت طریقے سے انتظام فرمایا ہے کہ مسلمانانِ عالم یاد الٰہی سے بھی غافل نہ رہیں اور اسلامی برادری سے شناسائی کے مواقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیں۔

Read more

ٹرانسمیشنز یا رمضان کے تقدس کی پامالی

نوجوانوں کا علمائے دین اور مذہبی راہ نماؤں سے روحانی اور ایمانی بنیادوں پر رشتہ اور تعلق قائم تھا، اُن سے اپنے دینی وشرعی احکام و مسائل میں رجوع کرتے تھے، شریعت کے مطابق زندگی گزار نے کے لئے قدم قدم پر ان کی راہ نمائی اور رہبری کو اپنی ضرورت سمجھتے تھے، اُن نوجوانوں پر میڈیا نے ایسا جادو چلایا کہ آج وہ ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر حیاء کی دھجیاں اڑانے والیوں سے دین سیکھتے ہیں، وہ نیم عریاں دوشیزائیں کہ جن کو علمِ دین سے کبھی واسطہ ہی نہیں پڑا، جو اپنے چھوٹے سے جسم پر حیاء کی چادر تک نہیں ڈال سکتیں، وہ رمضان سے عقیدت کے جھوٹے آنسو بہا کر مسلمان قوم کو دینِ اسلام کی تعلیمات سکھا رہی ہوتی ہیں، لیکن افسوس اُن کے اوپر ہے نہ ٹی ویی مالکان کے اوپر کیونکہ ان دونوں نے تو اس حقیر دنیا کے عوض اپنا ایمان بیچنے کا سودا کیا ہوتا ہے، اُنہوں نے تو پکا عہد کرلیا ہے کہ ہم نے اتنی سر توڑ کوشش کرنی ہے کہ یہ مہینہ بھی کسی طرح ایک مسلمان کے لئے سودمند اور باعثِ نجات ثابت نہ ہوسکے اُن کو آفر ہی ایسی زوردار ہوئی ہے

Read more

پھلوں کا بادشاہ کون؟

متحدہ عرب امارات کی مارکیٹوں میں بقولِ بعض پھلوں کا بادشاہ (آم ) کئی ممالک سے پہنچ چکا ہے، ہم بھی کھا کر تھوڑا سالطف اُٹھا چکے ہیں، لیکن بھر پور طریقے سے لطف اندوز تب ہوں گے جب اپنی دھرتی پاکستان کا آم پہنچ جائے، پاکستانی آم ہمیشہ تاخیر سے آتا ہے لیکن جب آتا ہے تو پورے آب و تاب کے ساتھ آکر کلین سوئپ کرلیتا ہے، مجال ہے کہ پاکستانی آم کے آنے کے بعد کسی اور کنٹری کے آم کی مارکیٹ میں شان و شوکت باقی رہے، ویجیٹیبل اینڈ فروٹ مارکیٹ میں تو اس کے طفیل ہر طرف پاکستان کا نعرہ لگا رہتاہے، پاکستانی آم پاکستانی آم۔

Read more

حفاظِ کرام نعمتِ حفظِ قرآن کی قدر کریں

قرآن کریم کا حفظ کرنا ایک عظیم سعادت ہے یہ وہ عظیم سعادت ہے جس کے مقابلے میں دنیا کی تمام نعمتیں اور سعادتیں ثانوی درجہ رکھتی ہیں۔ حافظ قرآن کے لئے یہ فخر کیا کم ہے کہ وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اللہ جلّ شانہ کے کلام کا حافظ ہے، اس کا سینہ…

Read more

جسم امانت، مرضی اللہ کی

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ”کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کسی گوشے میں بیٹھی، پردہ نشین، کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیادار تھے۔ اور جب آپ کسی چیز کو ناپسند فرماتے تو ہم آپ علیہ السلام کے چہرہ انور کے آثار سے پہچان لیتے۔ قرآن کریم…

Read more

خود بدلتے نہیں ہم، حکمرانوں کو بدل دیتے ہیں

یہ حقیقت ہے کہ حکمرانوں کی بے شمار ذمہ داریاں ہیں جن کو اچھے طریقے سے نبھانا ان کا فرض ہے اور وہ ان ذمہ داریوں کو اچھے طریقے سے نبھانے میں بڑی حد تک ناکام ہیں، لیکن اس کے باوجود ہرقسم کے فساد کا ان کو ذمہ دار ٹھہرانا اور معاشرے کی تمام تر برائیوں کو ان کی طرف منسوب کرنا بھی کوئی انصاف نہیں بلکہ ان میں سے اکثر ہماری اچھی تربیت نہ ہونے کا یا بے پروائی کا نتیجہ ہیں۔ اگر ہم ایک اچھا معاشرہ وجود میں لانا چاہتے ہیں تو ہمیں خود کو بدلنا پڑے گا نہ کہ حکمرانوں کو، نماز، روزہ کی پابندی، زکوۃ اور صدقات سے غریبوں کی مدد نمود و نمایش سے پاک حج، قرآن کی تلاوت، بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت، رشتداروں سے صلہ رحمی، بیماروں کی تیمار داری اور بے کسوں کی دل جوئی یہ سب اور اس قسم کے تمام اچھے ک

Read more

عورت اور لطیفہ

ہمارے ایک جاننے والے ہیں جو چالیس سے تجاوز کرگئے ہیں اور ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں،ابھی تک شادی نہ کرنے کی وجہ پوچنھے پر موصوف نے بتایا کہ خواتین سے واسطہ پڑنے کے بعد تو شاید سب کو ڈر لگتاہو لیکن ہم نے اُن کا نگیٹیو پہلو اتنا سُن اور پڑھ رکھا ہے…

Read more

مولانا ہم سے بچھڑ کے نہ جانا

مولانا طارق جمیل صاحب ایک جید عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ مبلغ بھی ہیں، وہ اپنے مخصوص اندازِ بیان کی وجہ سے مشہور ہیں، انہوں نے تبلیغی جماعت کے ساتھ کئی ممالک کا سفر کیا ہے، لوگ بڑی تعداد میں اُن کے بیانات سنتے ہیں، ان کے بیانات سے متاثر ہوکر کئی معروف شخصیات اسلامی طرزِ زندگی کی طرف مائل ہوئیں، اوراُن کی تبلیغی کوششوں کے باعث بہت سے گلوکار، اداکار اور کھلاڑی نہ صرف یہ کہ خود دینِ اسلام کے احکامات کے اوپر عمل پیرا ہوئے بلکہ دوسروں کے لئے بھی ذریعہ ہدایت بنے، مولانا کا تعلق دعوت و تبلیغ کی اس جماعت سے ہے جس میں ان پڑھ، کاشتکار مزدور، تاجر، ملازمت پیشہ، اہل صنعت، اہل علم، گریجویٹ، ڈاکٹر انجنیئر ہر طبقہ کے لوگ اپنے خرچ پر سفر کرتے ہیں، جس کو جتنا وقت ملا نکلا، ہر فرد اپنے سے بڑے سے سیکھتا ہے اور چھوٹے کو سکھاتا ہے۔

کسی نے نماز سیکھی، کسی نے قرآن کی سورتیں سیکھیں، کسی نے ترجمہ ومطلب سیکھا، کسی نے حدیثیں یاد کیں، گشت کے لئے نکلتے ہیں، اپنے بھائیوں کے پاس جاکر نہایت ہمدردی سے ان کی خوشامد کرکے مسجد لاتے ہیں، دین کی اہمیت بتلاتے ہیں، نماز کی طرف توجہ دلاتے ہیں، کوئی وضوء کراتا ہے، کوئی فاتحہ، کوئی سورہ اخلاص تو کوئی تشہد یاد کراتا ہے، عموماً مسجدوں میں قیام کرتے ہیں، نوافل

Read more

دو بیویاں حانہ اور مانہ

قیامت کے دن انسان سے کہا جائیگا کہ"کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس کسی کو اُس میں نصیحت حاصل کرنی ہوتی کرلیتا اور تمہارے پاس (اللہ تعالی کے عذاب سے) ڈرانے والا بھی آیا تھا،، سورۃ الفاطر 37 ڈرانے والوں اور خبردار کرنے والوں سے مراد انبیاء کرام، اللہ تعالی کی…

Read more