خود کو محدود کردینے والی سوچ سے نکلیں


ایک لمحے کے لئے آنکھیں بند کریں، اپنے بچپن کو ذہن میں لائیے، تب آپ کس قدر بے خوف ہوتے تھے، اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہر اس جگہ پہنچ جاتے تھے جہاں اب جانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ لیکن جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے گئے ایک طویل فہرست ہاتھ میں پکڑا دی گئی، یہ نہیں کرنا، یہ کرنا ہے، آپ کو کیسا ہو نا چاہیے، آپ کو کیسا بننا چاہیے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ ہماری سوچ محدود ہو کر رہ گئی، ہم جن چیزوں پر یقین کرتے ہیں، وہ محدود ہو کر رہ گئیں، یہی تو وجہ ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کا پوری طرح سے ادراک ہی نہیں کر پاتے۔ ٹھیک ہے مان لیا زندگی گزارنے کے کچھ اصول ہیں، لیکن یہ بھی تو ٹھیک نہیں ناں کہ آپ سے کھل کر جینے کا حق ہی چھین لیا جائے۔

ہم اکثر یہ کہتے رہتے ہیں، ”ہائے میری ریاضی تو بالکل بھی اچھی نہیں،“ یا ”ارے بھئی میں کبھی اچھی کک نہیں بن سکتی۔“ ہمارے محدود یقین کی یہ چھوٹی سی دو مثالیں ہیں، عموماً ہم اپنے بارے میں ایسے گمان کر لیتے ہیں جو اکثر و بیشتر درست نہیں ہوتے۔

محدود یقین، دماغ کی ایک ایسی حالت ہے، جس میں آپ بغیر کسی عار کہ کسی بات پر اتنا پختہ یقین کرلیتے ہیں کہ آپ اسے ہی سچ سمجھتے ہیں اور آپ کی یہ سوچ آپ کو محدود کر دیتی ہے۔ چاہے یہ سوچ آپ کی اپنی ذات کے متعلق ہو، لوگوں سے ملنے جلنے کے بارے میں ہو یا دنیا کے بارے میں۔

ایسی محدود سوچ کے کئی طرح سے ہم پر منفی اثرات ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں زندگی میں کئی اچھی چیزوں کے انتخاب سے روک دیتے ہیں، نئے مواقعوں کی جانب بڑھنے نہیں دیتے، حتیٰ کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو استعمال نہیں کر پا تا۔ بالآخر محدود سوچ ہمیں ایک منفی سوچ کے تابع بنا دیتی ہے، اور حقیقی معنوں میں جیسی زندگی ہم گزارنا چاہتے ہیں، اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔

کچھ معاملوں میں یہ محدود سوچ اپنانا ٹھیک بھی ہوتا ہے، ہماری اور معاشرے کی بھلائی اسی میں ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اس بات پر یقین رکھنا کہ مجھے چوری نہیں کرنی، اس کا فائدہ معاشرے کو بھی ہو رہا ہے اور مجھے بھی کہ میں کسی قسم کے جرم کی مرتکب نہیں ہو رہی۔ بعض اوقات ایسی محدود سوچ متعارف کروانے کے پیچھے مثبت سوچ ہوتی ہے، تاکہ ہمیں برائیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ہمارے والدین قدرتی طور پر ہماری حفاظت اور بھلائی کو لے کر پریشان رہتے ہیں، ان کی ہمارے لئے فکر مندی ہمیں محدود سوچ اپنانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اسی طرح بعض اوقات کوئی برا تجربہ، باعث شرمندگی بننے والا واقعہ، شرم یا خوف ہمیں محدود سوچ کا شکار بنا دیتے ہیں، اور یوں ہم زندگی بھر اس تجربے پر پکا یقین کر لیتے ہیں کہ آئندہ بھی اگر اس تجربے کو دہرایا تو حصے میں وہی خجالت، شرمندگی یا مایوسی آئے گی۔

وقت گزرنے کے ساتھ سب ٹھیک ہو جانا چاہیے لیکن مسئلہ تب پیش آتا ہے جب ہماری محدود سوچ ہماری زندگی کی راہ میں رکاوٹ بننے لگ جاتی ہے۔ ہما ری نمو رک جاتی ہے اور ہم اپنی زندگی کے مقاصد کے حصول میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر اقرا کو دفتر میں ایک نئی ذمہ داری سونپی جا رہی تھی، تنخواہ میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا اور رینک بھی بڑھ جاتا۔ وہ خود بھی چاہتی تھی کہ اسے کوئی ایسا موقع ملے۔ لیکن اس نئی جاب میں، اسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد سے ملنا جلنا شامل تھا۔ اقرا یہ مانتی تھی کہ اگر اسے پبلک سپیکنگ والا کوئی کام بھی دیا جائے تو وہ بری طرح ناکام ہو جائے گی، اسے بلاوجہ کی شرمندگی اٹھانا پڑے گی۔ ناکامی اور شرمندگی کے خوف سے اس نے نئی ذمہ داری لینے سے ان کا ر کر دیا۔

اگرچہ نئی ذمہ داری لینا کریئر کے لئے بھی ایک سنگ میل ثابت ہو تا اور پیسوں کی شدید ضرورت بھی پو ری ہو جاتی لیکن اس کی اپنے بارے میں محدود سوچ نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اگرچہ وہ بچپن سے یونیورسٹی تک تقریری مقابلے جیتتی رہی ہے لیکن شادی کے بعد ، سسرال والوں کے ظلم و ستم اور شوہر کی مار کٹائی نے اس کے اعتماد کو ایسے کچوکے لگائے ہیں کہ اس کا سارا اعتماد کہیں کھو کر رہ گیا ہے۔ اس نے اپنے بارے میں یہ رائے قائم کر لی ہے کہ وہ اس قابل نہیں ہے کہ کسی کے سامنے با اعتماد انداز میں بات کر سکے، اس نے ایک محدود سوچ اپنا لی ہے اس سے آگے اسے کچھ نظر ہی نہیں آتا۔

اپنی ایسی محدود سوچ سے پیچھا چھڑوانے کے لئے ہمیں اس چیز کا سامنا کرنا پڑے گا، اسے چیلنج کرنا پڑے گا جو ہمارے لئے سچ بن چکی ہے۔ میں تو یہی کہوں گی کہ جیسے اقرا کو یہ سچ لگتا ہے کہ وہ کسی سے با اعتماد انداز میں بات نہیں کر سکتی، اپنی ایسی محدود سوچ اور ایسے سچ پر اپنی گرفت ذرا ڈھیلی کیجئے۔ آپ یوں کر سکتے ہیں کہ جو باتیں آپ کو اپنے بارے میں سچ لگتی ہیں یا جو آپ کی محدود سوچ ہے اسے ایک کہانی کے طور پر بیان کیجئے، کیونکہ کہانیاں ہمیشہ سچ نہیں ہوتی ہیں، وہ بس کہانیاں ہوتی ہیں۔

کیا پتہ یہ محض آپ کے دماغ کی اختراع ہو، کیا پتہ اقرا میں ابھی بھی تقریر کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ تو آپ کو بھی اگر لگتا ہے کہ آپ فلاں کام نہیں کر سکتے، یا فلاں کے نتیجے میں صرف ناکامی کا ہی سامنا کرنا پڑے گا تو اس پر نظر ثانی کیجئے، ایک بار ٹرائی تو کر کے دیکھیں۔ اپنی اس کہانی کو از سر نو لکھ کر تو دیکھئے۔ کیا پتہ وہ آپ کی زندگی ہی بدل کر رکھ دے۔

Facebook Comments HS