محسن بیگ کی گرفتاری، فائرنگ اور عمران خان کا خوف


صحافی و تجزیہ نگار محسن بیگ کی گرفتاری اور اس موقع پر صحافی کی طرف سے ظاہر کیا گیا رویہ، دونوں قابل مذمت افعال ہیں۔ ریاستی اداروں کو اظہار رائے کو دبانے کے لئے استعمال کرنے کا طریقہ حکومت کے جابرانہ اور ناقابل قبول مزاج کا برملا اظہار ہے۔

اس کی ایک صورت کراچی میں ایک دوسرے ریاستی ادارے کی طرف سے ایک اینکر اور اس کے ساتھیوں پر تشدد کی صورت میں دیکھنے میں آئی ہے۔ حکومت اقرار الحسن پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے متعدد افسروں کو معطل کروانے کا کریڈٹ لیتی ہے لیکن ساتھ ہی ایک صحافی کو محض ایک ناپسندیدہ جملہ کہنے پر ہراساں کیا جاتا ہے تو اس سے آزاد میڈیا کی حرمت کے بارے میں سرکاری پالیسی آشکار ہوجاتی ہے۔ عذر کچھ بھی ہو، ایسی کسی پالیسی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

اسلام آباد کے ایک جج نے محسن بیگ کے گھر پر چھاپے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود ایف آئی اے نے اپنی وہ پریس ریلیز واپس نہیں لی جس میں اس چھاپے کی تفصیلات درج ہیں اور بتایا گیا ہے کہ باقاعدہ عدالتی وارنٹ کے تحت وفاقی وزیر مراد سعید کی شکایت پر چھاپہ مارا گیا تھا۔ نہ ہی ابھی تک یہ واضح ہے کہ ایف آئی اے محسن بیگ کو گرفتار کرنے کے لئے ان کے گھر گئی تھی یا اس کا ارادہ محض چھاپے کے دوران ’ قابل اعتراض‘ مواد برآمد کر کے ایک چہیتے وفاقی وزیر کے بارے میں ’نازیبا‘ گفتگو کرنے پر محسن بیگ کے خلاف سائیبر کرائم کا مقدمہ ’مضبوط‘ کرنا مطلوب تھا۔ چند روز پہلے ایک ٹی وی ٹاک شو میں محسن بیگ سے منسوب ایک فقرے کا حوالہ دے کر ، ان پر فحش کلامی اور توہین کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ اس ایک فقرے میں کسی شائع شدہ کتاب میں درج کی گئی تفصیلات کو وزیر اعظم کی نگاہوں میں مراد سعید کی پسندیدگی کی وجہ قرار دیا گیا تھا۔ جب کہ وزیر اعظم ہاؤس کا دعویٰ تھا کہ وزیروں میں ’مقابلہ ‘ کروانے کے ایک خاص طریقہ کار کے تحت مختلف وزارتوں کو گریڈ دیے گئے اور اس گریڈنگ میں وزارت مواصلات نے اعلیٰ ترین نمبر حاصل کئے جس کے نتیجہ وزارت کے نگران وزیر کے طور پر مراد سعید کو سب سے شاندار کارکردگی والا وزیر قرار دیا گیا تھا۔

کسی وزیر اعظم کی طرف سے اپنے وزیرں کی کارکردگی کو جانچنے کا یہ ایک مضحکہ خیز طریقہ تھا ۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس طریقہ کا ٹھوس جواز پیش کرنے کی بجائے وزیر اعظم کی توصیفی تقریر کو سند اور شہادت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ حالانکہ اگر عمران خان کو حکومت کی کارکردگی کی ایسی ہی فکر لاحق ہے اور وہ واقعی اپنی کابینہ کو عوام دوست بنانا چاہتے ہیں تو انہیں اس موقع پر ان وزارتوں کے کارناموں کو دستاویزی شواہد کے ساتھ سامنے لانا چاہئے تھا ،جن کو توصیفی اسناد تقسیم کی گئی تھیں۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا جاتا کہ جن وزیروں کی کارکردگی ناقص ہے انہیں ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کیا جارہا ہے۔ اگر وزیر اعظم ہاؤس ایسا متوازن رویہ اختیار کرتا تو شاید وزیروں کو توصیفی سرٹیفکیٹ بانٹنے کا کوئی جواز بھی فراہم ہوجاتا بصورت دیگر لوگوں کو اس طریقہ پر ہنسنے اور مذاق اڑانے کا موقع ملے گا۔

دیکھا جائے تو غریدہ فاروقی کے پروگرام میں یہی کام کیا گیا تھا۔ نہ تو اس بارے میں سوال سنجیدہ تھا اور نہ ہی اس کا جواب دیتے ہوئے مباحثہ میں شریک کسی بھی فرد نے حقائق کا تجزیہ کرتے ہوئے کوئی رائے پیش کی تھی۔ اس کی ایک وجہ تو یہی ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس نے ’ٹاپ ٹین ‘ وزیروں کا اعلان کرتے ہوئے ایک تقریب کا اہتمام کیا اور وزیر اعظم نے توصیفی اسناد تقسیم کرنے کے علاوہ مراد سعید سمیت دیگر وزیروں کو سراہا۔ اگر وزیر اعظم اس موقع پر حقائق کی بنیاد پر گفتگو کرتے اور بتاتے کہ انہیں ایسے وقت میں بہترین وزیر چننے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی جب نیا انتخاب محض ایک سال کی دوری پر ہے اور حکومت کو چاروں طرف سے سیاسی اندیشوں نے گھیرا ہؤا ہے۔ جب وزیر اعظم خود بچگانہ اور غیر ذمہ دارانہ باتیں کریں گے اور کسی جواز کے بغیر وزیر اعظم ہاؤس میں غیر ضروری تقریب میں وقت اور وسائل صرف کریں گے تو اس پر کسی نہ کسی طریقہ سے تنقید تو سامنے آئے گی۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ عمران خان کی حکومت خود پر ہونے والی تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔

محسن بیک نے مراد سعید کی کامیابی کے بارے میں کہا تھا کہ ریحام خان کی کتاب میں وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ اس فقرہ کی حد تک کوئی فحش کلامی نہیں کی گئی اور اگر مراد سعید پر کوئی الزام عائد ہؤا ہے تو اس کا ایک ٹھوس حوالہ دیا گیا تھا۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ مراد سعید ایف آئی اے کے سائیبر کرائم سیل کو ملوث کرکے ایک صحافی و تجزیہ نگار کو ہراساں کروانے کی بجائے ، ہتک عزت کے قوانین کے تحت ریحام خان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجاتا۔ اس کی بجائے ایک صحافی کو مورد الزام ٹھہر کر اور قومی سطح پر متعدد وزیروں کی طرف سے ایک منظم مہم کے تحت اس پروگرام اور اس کے شرکا کے خلاف اظہار خیال سے ملک کی سیاسی فضا میں کشیدگی پیدا کی گئی۔ ایک اور سرکاری ادارے پیمرا کے ذریعے متعلقہ ٹیلی ویژن اسٹیشن کو نوٹس بھجوایا گیا اور کیبل آپریٹرز کے ذریعے کسی باقاعدہ قانونی کارروائی کے بغیر اس چینل کی نشریات معطل کروادی گئیں۔

 کسی بھی حکومت کے اس طرز عمل کو فاشسٹ اور غیر جمہوری طریقہ ہی کہا جائے گا۔ عمران خان قانون کی بالادستی کی بات کرتے نہیں تھکتے لیکن وہ پارٹی کے اجلاسوں میں ناپسندیدہ رائے دینے والوں سے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی بات کرتے ہیں۔ بدھ کی صبح محسن بیگ کے گھر پر غیر قانونی دھاوا مار کر درحقیقت اسی ’آہنی ہاتھ ‘ کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے ایف آئی اے سوشل میڈیا پر حکومت مخالف رائے ظاہر کرنے پر ایک شخص کو گرفتار کرچکی تھی۔ اب محسن بیگ کو گرفتار کرکے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ حکومت اپنے خلاف ایک ناپسندیدہ فقرہ کہنے پرکسی بھی میڈیا ہاؤس یا فرد کے لئے جینا دو بھر کردے گی۔ یہ رویہ ناقابل قبول اور غیر جمہوری ہے۔ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کے بقول یہ حکومتی رویہ عمران خان کے خوف کی علامت ہے۔

عمران خان کا خوف کئی حوالوں سے درست ہوسکتا ہے۔ لیکن ان کے خوف یا اناپسندی کی وجہ سے ملک میں آزادی رائے اور میڈیا کی خود مختاری کو داؤ پر لگانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عالمی جائزوں اور زمینی حقائق کی بنیاد پر دیکھاجاسکتا ہے کہ ملک میں پہلے ہی حرف کی حرمت پامال ہے۔ میڈیا ہاؤسز اور اخبارات پر سخت پابندیاں عائد ہیں کہ وہ کیا کہہ سکتے ہیں اور کیا کہنے کی اجازت نہیں ہے۔ کس معاملے کی ’رپورٹ‘ دی جا سکتی ہے اور کس ’سچ‘ کو بیان کرنے سے انٹیلی جنس بیورو کے اہل کاروں و افسروں کو ایسا غصہ آسکتا ہے کہ وہ ایک ٹی وی اینکر اور اس کے ساتھیوں کو غیر قانونی حراست میں رکھیں، برہنہ کرکے ان پر تشدد کیا جائے اور ان کی ویڈیوبنا کر بلیک میل کرنے کی دھمکیاں دی جائیں۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی خواہ کتنے ہی سخت الفاظ میں اس واقعہ کی مذمت کرلیں لیکن اسلام آباد میں محسن بیگ کے خلاف ہونے والی کارروائی کے بعد وہ کیوں کر اس سچائی سے انکار کر پائیں گے کہ’ناپسندیدہ اظہار ‘ کے خلاف غیر قانونی کارروائی کی روایت خود تحریک انصاف کی حکومت کی نگرانی میں مستحکم کی جا رہی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت معاشی، انتظامی، سفارتی اور قومی سلامتی کے تمام شعبوں میں شدید ناکامی کا سامنا کررہی ہے۔ اسی لئے اس کی سیاسی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔ اپوزیشن کی عمران مخالف مہم کو اپوزیشن کی کسی کارکردگی کی بجائے موجودہ حکومت کی ناکامیاں تقویت دے رہی ہیں۔ جن اداروں کی تائد یا سرپرستی کے بل بوتے پر عمران خان اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں ، وہ بھی دگرگوں معیشت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اس صورت میں عمران خان اور ان کے معاونین کو میڈیا اور سیاسی مخالفین کو دباؤ میں لا کر مسائل کا حل تلاش کرنے کی بجائے اپنی حقیقی کارکردگی کا دیانت داری سے جائزہ لے کر اصلاح احوال کی کوشش کرنی چاہئے۔ صحافیوں کی گرفتاریاں اور ان پر تشدد کے واقعات بحران کی زد پر آئی ہوئی حکومت کے لئے زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں۔ حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اختلاف برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے ۔ وزیر اعظم اور وزرا جس تہذیب و اخلاق کا مطالبہ سیاسی مخالفین اور صحافیوں سے کرتے ہیں، ان کا طرز گفتار بھی اس کا عکاس ہو۔

محسن بیگ کے گھر پر چھاپہ کو عدالت غیر قانونی قرار دے چکی ہے لیکن وہ خود پولیس ریمانڈ میں ہیں اور ان پر دیگر دفعات کے علاوہ دہشت گردی کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ واقعات کی ترتیب کے بارے میں ایف آئی اے اور محسن بیگ کے اہل خانہ کا بیان ایک دوسرے سے برعکس ہے۔ لیکن کسی بھی عذر پر کسی صحافی کو کسی سرکاری ادارے کے ارکان کو تشدد کا نشانہ بنانے یا ان کے خلاف اسلحہ استعمال کرنے کی دھمکی دینے کا حق حاصل نہیں ہوسکتا۔ اسلحہ ہاتھ میں پکڑ کر پولیس یا ایف آئی اے کے ارکان کو دھمکانے کے ہر اقدام کی مذمت لازمی ہے۔ لیکن حکومت کو جاننا چاہئے کہ جب وہ سرکاری اداروں کو سیاسی مقاصد اور ذاتی انا کی تسکین کے لئے استعمال کرنے کا اہتمام کرے گی تو اس سے ریاست کی اتھارٹی اور اداروں کا احترام متاثر ہوگا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2281 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments