لیوپولڈ رانکے اور ہماری تاریخ میں تحریف


تاریخ ایک ایسا سمندر ہے جس کا دامن انسانی زندگی کو، پیش آنے والے حوادث و واقعات سے پر ہے۔ یہ واقعات ماضی کا حصہ بنتے ہوئے، جیسے ہی، وقت کے گہرے سمندر میں شامل ہوتے ہیں تو اسے تعصبات اور جھوٹ کے طوفان آ لیتے ہیں۔ جب تک اس سمندر سے تعصبات اور جھوٹ کو جدا نہیں کیا جاتا تب تک اقوام اور افراد اپنی اصلی شناخت اور تجربے کے رزق کے حصول سے محروم رہتے ہیں۔ تاریخ کے گہرے سمندر سے اقوام کو شناخت اور تجربے کا رزق فراہم کرنے کا بیڑا مؤرخین اٹھاتے ہیں اور اپنی فہم و فراست کو بروئے کار لاتے ہوئے تاریخ کے سمندر میں پیدا ہو جانے والی گدلاہٹ کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مطالعہ تاریخ، اور تاریخ نویسی کے اصول و طریقے درحقیقت مذکورہ گدلاہٹ کو دور کرنے کی کوشش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مؤرخین نے، تاریخ کو لکھنے، سمجھنے اور شرح و تفسiر کے مختلف طریقے اور اصول بیان کیے ہیں۔

انیسویں صدی کے معروف مؤرخ لیوپولڈ رانکے کا شمار بھی ایسے ہی مؤرخین میں ہوتا ہے۔ جس کے خیالات و آرا ء نے اس صدی کے فہم تاریخ پر دیر پا اثرات چھوڑے۔ اس حوالے سے مؤرخین میں اختلاف ہے کہ آیا تاریخی اصولوں اور طریقوں پر، پر کھنے کے بعد سامنے آنے والی تاریخ، مکمل طور پر ماضی کی عکاس ہوتی ہے یا نہیں؟ کچھ کا خیال ہے کہ تاریخ مکمل طور پر تاریخ نویس کے ذہن سے جنم لیتی ہے اور اس کا ماضی میں گزرے ہوئے واقعات کی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس تاریخ کو باقاعدہ علم سمجھنے والے، رانکے جیسے مؤرخین اور دانشوروں کا خیال ہے کہ تاریخی اصولوں اور طریقوں کو بروئے کار لا کر مکمل طور پر نہ سہی، ایک حد تک ماضی کے چہرے سے نقاب الٹ کر اس کا چہرہ دیکھا جا سکتا ہے۔

رانکے نے سیمینارز کے انعقاد کے ذریعے، ریسرچ میتھڈز اور تنقیدی طریقے متعارف کروائے جس کی وجہ سے تاریخ (علم) ، پوری دنیا میں پروفیشنل علم کے طور پر سامنے آیا۔ تاریخ کو ایک جدید علم کے طور پر متعارف کروانے میں رانکے کا بہت بڑا کردار ہے اسی وجہ سے اسے 19 و 20 صدی کے تاریخی علمی سکول آف تھاٹ کا بانی مانا جاتا ہے۔ رانکے کی کوششوں کے نتیجے میں آرکائیوز اور کتابوں کے تنقیدی جائزہ لینے کے حوالے سے اصول سامنے آئے جنہیں یونیورسٹیوں میں پڑھایا جانے لگا۔ جس میں تاریخ دان، تاریخی طریقوں اور اصولوں سے آشنائی حاصل کرتے۔ رانکے نے علم تاریخ کے ماہر ین کی پہلی نسل کی تربیت کی۔

مؤرخ کے طور پر، شہرت کا باعث بننے والی عالمی تاریخ پر، اپنی کتاب میں رانکے نے معتبر دستاویزات سے استفادہ کیا اور مختلف تاریخی کتابوں کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہوئے، مصادر و مآخذ کا جائزہ لیا۔ اور اس بات پر زور دیا کہ محققانہ تاریخ اسی صورت میں لکھی جا سکتی ہے جب اصلی دستاویزات سے استفادہ کیا جائے۔ اسی طرح رانکے کا کہنا تھا کہ تاریخی واقعات کو اس انداز میں لکھا جانا چاہیے کہ جس طرح وقوع پذیر ہوئے تھے ؛وہ ماضی کے واقعات کے متعلق مؤرخ کے فیصلہ کرنے اور رائے کے اظہار کو بھی درست نہیں سمجھتا تھا۔ بلکہ رانکے کے نزدیک مؤرخ کا کام صرف یہ ہے کہ بنیادی اور ٹھوس مآخذ سے استفادہ کرتے ہوئے واقعات کو اسی طرح بیان کرے، جس طرح وہ رونما ہوئے تھے۔

رانکے کے تاریخی فھم کے مطابق کسی بھی تاریخی دور کو اپنے افکار و اقدار کے آئینے سے دیکھنے کی بجائے اس طرح دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے جس طرح وہ واقع ہوا تھا اس کے نزدیک ہر تاریخی واقعہ یا تاریخی دور خاص خصوصیات کا حامل ہوتا ہے اس حوالے سے کسی بھی مورخ کا یہ فریضہ ہے کہ اس واقعہ یا تاریخی دور سے متعلق ان خاص خصوصیات کو سامنے لائے۔

جہاں تک رانکے کی اس رائے کا تعلق ہے کہ مؤرخ کا صرف یہ فریضہ ہے کہ کسی بھی تاریخی واقعہ کو اسی طرح بیان کرے کہ جس طرح واقع ہوا ہے۔ اس جملے کے حوالے سے محققین میں بہت اختلاف ہے کیونکہ یہ جملہ جرمن زبان سے انگلش میں ترجمہ کیا گیا اسی وجہ سے جس نے جیسے سمجھا اسی طرح اس کی تشریح و تفسیر کی اکثر نے اس جملے سے یہی سمجھا ہے کہ مؤرخ صرف کسی بھی واقعہ کو من و عن اسی طرح بیان کردے اور اس پر کسی بھی طرح کی رائے کا اظہار نہ کرے۔

گیورگ ایگرز اپنی کتاب میں کچھ مؤرخین کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ رانکے کا یہ نقطہ نظر تھا کہ مؤرخین حقیقت لکھیں یعنی اپنے خیالات کو تاریخ میں دخل نہ دیں اگر مؤرخین اپنی کسی بھی بات کو تاریخ میں شامل کریں گے تو اس صورت میں وہ ماضی کی واضح تصویر کو پیش کرنے سے قاصر رہیں گے۔ گیورگ ایگرز کے نزدیک رانکے کے معروف جملے کا ترجمہ یہ ہے : ”تاریخ در حقیقت اس چیز کا بیان ہے کہ کوئی واقعہ کیسے رونما ہوا“ ۔

معاصر مؤرخ و محقق لوئیس گڈیس کا بھی یہ کہنا ہے کہ مؤرخ کی طرف سے اظہار رائے، نہ کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ماضی کا حال سے کوئی تعلق نہیں ہے یا ماضی سے حال کے لئے کچھ نہیں سیکھا جا سکتا، بلکہ رانکے کے اس معروف اصول کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں ہے کہ مؤرخ پہلے مرحلے میں مآخذ و منابع پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ان میں غور و فکر کرے اس کے بعد دوسرے مرحلے میں تاریخی واقعات کی تشریح و تفسیر یا تجزیہ و تحلیل کرے اس بات کی دلیل یہ ہے کہ خود رانکے نے بعد میں اپنی کتاب میں لکھا کہ تاریخ صرف یونیورسٹی کے ایک سبجیکٹ کا نام نہیں ہے بلکہ انسانی تاریخ سے متعلق ہماری شناخت اور علم کا نام تاریخ ہے جو پوری انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔

گیورگ ایگرز اور لوئیس کے بیانات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رانکے تاریخی تحقیقات میں تجزیہ و تحلیل کرنے کا مخالف نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ تاریخی واقعات کو مؤرخ کے ذاتی خیالات و آرا سے آلودہ ہونے سے بچایا جائے اس لئے کہ اگر تاریخی واقعات میں مؤرخین کی رائے بھی شامل ہو جائے تو وہ واقعات حقیقت سے دور ہو جائیں گے اور محققین کو اصل حقیقت تک پہنچنے کے لئے بڑی مشقت سے کام لینا پڑے گا۔ اس لئے رانکے کا مذکورہ اصول ان لوگوں کے لئے بالکل بھی قابل قبول نہیں ہے جو اپنی آئیڈیالوجی کو پرموٹ کرنے لئے تاریخ کو مسخ کر کے جعلی واقعات و حوادث کو تاریخ کا نام دیتے ہیں۔ ایسے لوگ در حقیقت اپنی آئیڈیالوجیک ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے تاریخ سے سؤ استفادہ کرتے ہیں۔

موجودہ دنیا میں شاید کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جس کی تاریخ، تحریف سے محفوظ رہی ہو ہر ملک اپنے اہداف کے لئے تاریخ کو ایک خاص رخ دینے کی کوشش کرتا ہے البتہ ایسے ممالک جن کی بنیادیں کسی خاص آئیڈیالوجی میں پیوست ہوں، ان میں تاریخ میں تحریف کرنے کا رجحان زیاد ہوتا ہے۔

ہم اگر اپنی 7 دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط تاریخ کو دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ ہم نے خود ساختہ نظریات کو بنیادیں فراہم کرنے کے لئے جعلی واقعات کا سہارا لیا اور تاریخ میں تحریف کرنے سے نہیں چونکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنی تاریخ سے بہت کم سیکھا ہے۔ ہم ایسے نابغہ لوگ ہیں کہ آج بھی ملک کے آئین کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکا ڈالنے والوں کے دور کو سنہرا دور کہتے ہیں اور اگر کوئی، اصلی واقعات و حوادث کی طرف اشارہ بھی کر دے تو اسے اگلے ہی لمحے غدار قرار دے دیتے ہیں۔

قیام پاکستان کے مقاصد ہوں، ریاست کا ماڈل ہو، مسئلہ کشمیر ہو، ہمسائے کے ساتھ جنگیں ہوں، سقوط ڈھاکہ ہو، نظام مصطفی تحریک ہو، مذہب کا ریاستی استعمال ہو، یا عام انتخابات ہوں ہم نے بڑی فراخ دلی کے ساتھ تاریخ کو مسخ کیا ہے اور اس قبیح عمل پر نادم ہونے کی بجائے ہمیشہ فخر کا اظہار کیا ہے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ہم نے فخر کے لئے بھی جن جملوں کا ہمیشہ استعمال کیا ہے وہ کلیشے کی شکل اختیار کرتے ہوئے تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں نا جانے یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا۔

رانکے کے اصول تاریخ کی روشنی میں، ہمیں ایک طرف مستند اور معتبر مآخذ کی صورت میں اپنی 70 سالہ تاریخ بکھری نظر آتی ہے تو دوسری طرف جعلی تاریخ یا جھوٹے قصے کہانیاں نظر آتی ہیں جنہیں بیان کرنے، یا لکھنے کے لئے ریاستی دانشور! ہر وقت مشغول نظر آتے ہیں ان حالات میں تاریخ کا موضوع پیچیدگی اختیار کر چکا ہے۔ کیونکہ ماضی کے برعکس اب تاریخ کو انٹرنیٹ اور ٹی وی چینلز جیسے، ذرائع ابلاغ کے ذریعے بیان کیا جا تا ہے جس سے، تاریخ کو سمجھنے، پڑھنے کے میتھڈز کی ضرورت پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے۔ یہ میتھڈز نہ صرف جعلی تاریخ کو اصلی تاریخ سے علیحدہ کرتے ہیں بلکہ تاریخ میں تحریف کرنے والوں، اور ان کے تنخواہ دار کارندوں کے منصوبوں کو بھی طشت از بام کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS