میں پاک فوج کے ساتھ کیوں کھڑا ہوں؟

  ہاں میں مانتا ہوں کہ ڈکٹیٹرز نے وطن عزیز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ ایک قومی ادارے نے جمہوریت کو پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ بھی سچ ہے کہ ملک میں آئین کو معطل کرنے کے ناقابل معافی جرم کا بار بار ارتکاب کیا گیا۔ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ انتخابات میں سیاسی انجینئرنگ کی گئی، سیاستدانوں کو خریدا گیا، جھوٹے کیسز بنائے گئے، خاص لوگوں کے اشاروں

Read more

سوال اٹھانے پر بھی قید کی سزا مقرر کیجئے!

اس دنیا میں جب تک انسان موجود ہے تب تک اختلاف بھی رہے گا اور سوال بھی اپنا وجود برقرار رکھے گا اس لئے کہ اختلاف نظر ارتقا کا باعث ہے تو سوال علم کی تخلیق کا معتبر ذریعہ۔ علم کی تخلیق کے لئے سوال اتنا ہی ضروری ہے جتنا سانس لینے کے لئے ہوا۔ شعور کی منازل طے کرنے کے لئے اختلاف نظر اور سوال کسی بھی تہذیب یافتہ معاشرے کی ضرورت ہیں لیکن ہماری بد قسمتی دیکھئے کہ

Read more

افغانستان بدل گیا، طالبان بدل گئے

افغانستان پر طالبانی قبضہ کے بعد ”طالبان تبدیل ہو گئے“ کا بیانیہ اسی طرح زمین پر دھڑام سے آ گرا ہے جس طرح اگست 2021 کے وسط میں تخت کابل ریت کی دیوار ثابت ہوا تھا۔ کل تک زلمے خلیل زاد سے لے کر طالبانی فکر کے بہت سے حامی ”طالبان تبدیل ہو گئے“ کا تاثر پیدا کرنے میں اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال رہے تھے خلیل زاد کو تو اس بیانیے پر اتنا پختہ یقین تھا کہ غنی حکومت

Read more

پاکستان غداروں کا نہیں آئین اور جمہوریت پسندوں کا ملک ہے

7 اپریل پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جس دن ملک کی سب سے بڑی عدالت نے انصاف کا بول بالا کرتے ہوئے پاکستان کے آئین کی پامالی کا گھناؤنا منصوبہ نا کام بناتے ہوئے تاریخی فیصلہ دیا۔ آئین اور جمہوریت پسندوں کو اس فیصلے سے بہت حوصلہ ملا ہے انصاف کے تقاضوں پر پورا اترتا یہ فیصلہ کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت کی نہیں بلکہ پورے عوام کی جیت ہے۔ پاکستان کے ہر شہری کو

Read more

لیوپولڈ رانکے اور ہماری تاریخ میں تحریف

تاریخ ایک ایسا سمندر ہے جس کا دامن انسانی زندگی کو، پیش آنے والے حوادث و واقعات سے پر ہے۔ یہ واقعات ماضی کا حصہ بنتے ہوئے، جیسے ہی، وقت کے گہرے سمندر میں شامل ہوتے ہیں تو اسے تعصبات اور جھوٹ کے طوفان آ لیتے ہیں۔ جب تک اس سمندر سے تعصبات اور جھوٹ کو جدا نہیں کیا جاتا تب تک اقوام اور افراد اپنی اصلی شناخت اور تجربے کے رزق کے حصول سے محروم رہتے ہیں۔ تاریخ کے

Read more

سیاسی اسلام کا مستقبل

طاقت کے زور پر افغانستان پر مسلط ہونے والے طالبان کے اسلامی نظام نے اپنے کرشمے دکھانا شروع کر دیے ہیں کہیں ڈمیز کے سر قلم کیے جا رہے ہیں تو کہیں داڑھی نہ کٹوانے کے احکامات صادر کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ بھوک و افلاس کے شکار 23 ملین عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے طالبانی اسلامی نظام کا دامن سرے سے خالی ہے طالبانی اسلامی نظام کا انسانی مسائل کے حل سے تعلق تھا ہے اور

Read more

طالبان تبدیل ہو گئے” کی خوش فہمی”

امریکی انخلا کے بعد افغانستان کا ممکنہ سیاسی منظر نامہ اچھے حالات کی غمازی نہیں کر رہا۔ طالبان ملک کے اکثر علاقوں پر قبضہ کرتے ہوئے مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں، ان کے دعوی کے مطابق اب صرف مرکز پر قبضہ کرنا باقی رہ گیا ہے۔ اگر طالبان طاقت کے زور پر کابل پر بھی قبضہ کر لیتے ہیں تو انہیں اپنے اس اسلامی نظام کے نفاذ کا موقع مل جائے گا جس کے لئے وہ گزشتہ دو دہائیوں سے

Read more

نا اہلی کا بوجھ اور سرخ سیب

وطن عزیز میں طلوع ہونے والا ہر دن حکومت کی ناکامی کا اعلان کر رہا ہے۔ دماغ کی بجائے ہمیشہ دل کی ماننے والے ہمارے وزیر اعظم لا تعداد مسائل کے شکار عوام کو مسلسل صبر اور نہ گھبرانے کی تلقین کر رہے ہیں۔ صرف جذباتی بیانات اور دعوؤں سے مسائل حل ہو سکتے تو ”عمرانی“ بیانات کی برکت سے آج پاکستان دنیا کی واحد سپر پاور ہوتا، لیکن کیا کیا جائے خیال اور حقیقت کی دنیا میں بہت فرق

Read more

مچھ سانحہ اور ہزارہ برادری کی سادگی

جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں کوئٹہ میں، 11 کان کنوں کے قتل کے خلاف، ہزارہ برادری کا دھرنا جاری ہے شرکا کا مطالبہ ہے کہ جب تک وزیر اعظم نہیں آئیں گے تب تک لاشوں کی تدفین ہو گی نہ دھرنا ختم ہو گا بہت سے لوگ شاید یہی سوچ رہے ہیں کہ سادگی کی بھی حد ہوتی ہے بھلا یہ بھی کوئی مطالبہ ہوا؟ کیا وزیر اعظم کے آنے سے بے دردی سے قتل کیے جانے والے

Read more

میرے مزدور دوست کی رخصت

سمجھ نہیں آ رہی اس مزدور کا تذکرہ کہاں سے شروع کروں یادوں کا ایک وسیع سلسلہ قرطاس ذہن پر دستک دے رہا ہے دیرینہ شناسائی کی وجہ سے اس کی زندگی کے حالات و واقعات کا چشم دید گواہ ہوں شناختی کارڈ کی گواہی کے مطابق میرے اس مزدور دوست کا 1939 میں جھبیل خاندان میں جنم ہوا اس خاندان کو صوبہ سندھ میں ملاح، موہانہ یا جام کہا جاتا ہے جبکہ پنجاب میں یہ خاندان جھبیل کے نام

Read more

طاعون عمواس سے کرونا تک :محدثین و علما کا رویہ

مسلمانوں کو 18 ہجری میں پہلی مرتبہ کسی وبائی بیماری کا سامنا ہوا فلسطین میں قدس اور رملہ کے درمیان واقع عمواس شھر میں طاعون کی وبا نے سر اٹھایا جس نے بڑی سرعت کے ساتھ پورے شام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا یہ وہ زمانہ تھا جب شام میں فتوحات اسلامی کا سلسلہ جاری تھا تاریخ کی کتابوں میں اس وبا کو طاعون عمواس کا نام دیا گیا ہے، ابو عبیدہ بن جراح، معاذ بن جبل اور شرجیل

Read more

کرونا کی وبا میں ”مبینہ“ دعاؤں کی بازگشت

دعا کی اہمیت سے کسی کو انکار ہو ہی نہیں سکتا اس لئے کہ دعا خدا اور بندے کے درمیان تعلق اور رابطے کا نام ہے تہذیبوں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ روئے زمین پر کوئی ایسی تہذیب نہیں تھی جس میں دعا کا تصور موجود نہ ہو عجز و ناتوانی اور فقر میں انسان کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ خود کو اپنے سے برتر اور طاقتور وجود کے ساتھ متصل کرے اور اپنی مشکلات میں اسے

Read more

بزدل ”کرونا“ ذرا سامنے آ!

آپ ہی بتایئے ”کرونا“ سے بڑا کوئی بزدل ہو سکتا ہے جو چھپ کر وار کر رہا ہے پیٹھ پر وار کر کے پوری دنیا کو خوف میں مبتلا کر رہا ہے اچھی خاصی متحرک زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اس نے! اتنا ڈرپوک کہ ہمت نہیں آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکے کسی خونخوار درندے کی طرح اپنے شکارکو علم ہوئے بغیر حملہ کرتا ہے اور گلا گھونٹ کر کام تمام کر دیتا ہے دو لاکھ 84

Read more

کتاب کی بے توقیری

اہل علم و ہنر و دانش تو معاشرے اور اقتدار کے مراکز میں بے وقعت تھے ہی لیکن کتاب کی بے توقیری ہمارے معاشرے کی جس بے حسی و بے بسی کی خبر دے رہی ہے اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ وسعت نظر رکھنے والے ایک ایسے صاحب بصیرت شخص نے حال ہی میں کتاب کی بے توقیری کی گواہی دی ہے جسے وجاہت مسعود ہماری دھرتی کا وہ گیانی اور مہاپُرش قرار دیتے ہیں

Read more

اویغور مسلمانوں پر ظلم کا جواز اسلامی ممالک نے دیا ہے

تاریخ کا دامن انسان پر بیتنے والے ہزاروں سالوں پر محیط وقائع و حوادث سے پُر ہے انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ گروہی زندگی کے آغاز کے ساتھ ہی ظلم نے بھی جنم لیا انسانی بستی میں جب باہمی مفادات ٹکرانے لگے تو طاقتوروں نے اپنے وجود کو برقرار رکھنے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے مد مقابل پر ہر طرح کا ظلم و ستم روا رکھا انسانی قافلہ لڑتے جھگڑتے، مارتے مرتے، گرتے سنبھلتے آج موجودہ صورت

Read more

تاریخ انصاف مانگتی ہے

ہر چیز کا حسن اعتدال ہے اگر اس کی حدوں کو پامال کر دیا جائے تو افراط و تفریط جنم لے کر ویرانیوں کے سامان پیدا کرتی ہے یا یوں کہیے اعتدال اور عقل کا چولی دامن کاساتھ ہے جبکہ افراط و تفریط کی کوکھ سے انتہا پسندی اور جذباتیت جنم لے کر عقل اور اعتدال کے مقابل آ کھڑی ہوتی ہے ایسے حالات میں حد اعتدال سے گر جانے والی چیز کو اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لالے

Read more

ترقی کی شاہرہ پر گامزن ”نیا پاکستان“

معروف جریدے فارن میگزین کی طرف سے برجستہ عالمی مفکر کا اعزاز پانے والے ہمارے وزیر اعظم کے دور حکومت میں علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو غیر معمولی فروغ حاصل ہو رہا ہے اگر خان صاحب کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرتی ہے تو بڑے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کی خدمات کے اعتراف کے لئے تمام عالمی اعزاز کم پڑ جائیں گے۔

نوبل اعزاز تو انہیں حکومت کی ابتدا میں ہی ملنے والا تھا لیکن ان کی عاجزی و انکساری آڑے آ گئی اور انہوں نے فرمایا کہ جو مسئلہ کشمیر کو حل کرے گا نوبیل انعام اس کو ملنا چاہیے، مسئلہ کشمیر کو بھی خان صاحب جیسا عالمی مفکر ہی حل کروائے گا۔ جہاں تک دنیا کے بڑے سے بڑے اعزازت کے ناکافی ہونے کے مسئلہ کا تعلق ہے تو اس کے حل کا سامان بھی ابھی سے کر دیا گیا ہے

Read more

دین کی من مانی تشریحات اور موت کی ارزانی

علمائے دین اپنے فہم کی بنیاد پر دین کی تشریخ کرتے ہیں جس میں، کسی نہ کسی مرحلے پر اصلاح کی گنجائش ہر صورت موجود رہتی ہے اسی اصلاح کے پیش نظر مفکر اسلام علامہ محمد اقبال نے ”فکر اسلامی کی تشکیل“ جدید کے عنوان پر خطبات دیے جو بعد ازاں کتابی شکل میں شایع ہوئے۔ جس میں انہوں نے برملا اظہار کیا کہ فکر اسلامی گزشتہ پانچ سو سالوں سے منجمد چلی آ رہی ہے اقبال نے اس جمود کو توڑنے کے لئے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے نظریات پیش کیے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں ان خطبات کو وہ توجہ نہ مل سکی جو ملنی چاہیے تھی آج ہر مکتب فکر کے چھوٹے بڑے علما اپنی بات کی تائید کے لئے اقبال کے ولولہ انگیز شعر تو ضرور پڑھتے ہیں لیکن کبھی بھول کر بھی ان کے خطبات کا ذکر نہیں کرتے بلکہ علما کی ایک بڑی تعداد اقبال کے خطبات میں پیش کیے گئے نظریات سے ہی بے خبر ہے۔

Read more

نئے پاکستان کی تعمیر: ”روحانیت“ کے رحم و کرم پر

وجاہت مسعود کا ہر کالم پختہ اور نپی تلی سوچ کا مظہر ہوتا ہے ان کے لکھے بعض جملے قاری کے ذہن پر نا صرف اپنا اثر چھوڑتے ہیں بلکہ نقش ہو جاتے ہیں نا جانے کیوں آج کل انہی کے لکھے چند جملے تواتر کے ساتھ بار بار ذہن میں سر اٹھا رہے ہیں انہوں نے اپنے کسی کالم میں لکھا تھا۔ ”پختہ سوچ وہی ہے جو اپنے مطالعے، مشاہدے، اور غوروفکر سے جنم لیتی ہے۔ سیکھنا اور چیز

Read more

عمرانیات (جدید) کے عظیم قائد کے چند اصول

بائیس سالہ سیاسی جدوجہد میں جدید عمرانیات کے بانی عالمی مفکر جناب عمران خان صاحب نے جو اخلاقی اصول متعارف کروائے ہیں بلا شبہ علمی اور قومی میراث کا درجہ رکھتے ہیں ذیل میں ان کے چند آفاقی حیثیت کے حامل اصولوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔

پہلا اہم اخلاقی اصول یہ ہے کہ کوئی بھی کام یا اقدام بذات خود اچھا یا برا نہیں ہوتا بلکہ اس کے اچھے یا برے ہونے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اس کام کو کون انجام دے رہا ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ بانی عمرانیات کا مخالف کسی بھی صورت کوئی اچھا کام کر ہی نہیں سکتا لیکن پھر بھی خدانخواستہ اس سے کوئی اچھا کام سر زد ہو بھی جائے تب بھی وہ عمرانی نظریہ کے مطابق اچھا کام کہلانے کی خاصیت سے محروم ہو گا۔

Read more

”مسجد الاسلام“ اور ہم سب

کیا ہم سب نے ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لئے ہم سب کو اپنے اپنے رویوں پر غور کرنا ہو گا۔ اگر میں، آپ یا کوئی بھی شخص کسی بھی موضوع پر کوئی ایسی رائے قائم کرتا ہے جس کی بنیاد علم و دانش کی بجائے ذاتی حب و بغض اور مفاد کو مد نظر رکھ کر اٹھائی جاتی ہے تو ایسا شخص یقینا ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کا معمار ہی کہلائے گا۔

جانبداری، ہٹ دھرمی، بغض و عناد اور مفاد پرستی انسان اور حق و حقیقت کے درمیان ایک ایسی بلند و بالا دیوار کھڑی کر دیتی ہے جس کی موجودگی میں علم و دانش کے چشمہء آب حیات تک پہنچنا تو درکنار، اس کی ایک بوند تک کا حصول مشکل ہوجاتا ہے۔

Read more