کتاب کی بے توقیری

اہل علم و ہنر و دانش تو معاشرے اور اقتدار کے مراکز میں بے وقعت تھے ہی لیکن کتاب کی بے توقیری ہمارے معاشرے کی جس بے حسی و بے بسی کی خبر دے رہی ہے اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ وسعت نظر رکھنے والے ایک ایسے صاحب بصیرت شخص…

Read more

اویغور مسلمانوں پر ظلم کا جواز اسلامی ممالک نے دیا ہے

تاریخ کا دامن انسان پر بیتنے والے ہزاروں سالوں پر محیط وقائع و حوادث سے پُر ہے انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ گروہی زندگی کے آغاز کے ساتھ ہی ظلم نے بھی جنم لیا انسانی بستی میں جب باہمی مفادات ٹکرانے لگے تو طاقتوروں نے اپنے وجود کو برقرار رکھنے اور اپنے مفادات کے…

Read more

تاریخ انصاف مانگتی ہے

ہر چیز کا حسن اعتدال ہے اگر اس کی حدوں کو پامال کر دیا جائے تو افراط و تفریط جنم لے کر ویرانیوں کے سامان پیدا کرتی ہے یا یوں کہیے اعتدال اور عقل کا چولی دامن کاساتھ ہے جبکہ افراط و تفریط کی کوکھ سے انتہا پسندی اور جذباتیت جنم لے کر عقل اور…

Read more

ترقی کی شاہرہ پر گامزن ”نیا پاکستان“

معروف جریدے فارن میگزین کی طرف سے برجستہ عالمی مفکر کا اعزاز پانے والے ہمارے وزیر اعظم کے دور حکومت میں علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو غیر معمولی فروغ حاصل ہو رہا ہے اگر خان صاحب کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرتی ہے تو بڑے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کی خدمات کے اعتراف کے لئے تمام عالمی اعزاز کم پڑ جائیں گے۔

نوبل اعزاز تو انہیں حکومت کی ابتدا میں ہی ملنے والا تھا لیکن ان کی عاجزی و انکساری آڑے آ گئی اور انہوں نے فرمایا کہ جو مسئلہ کشمیر کو حل کرے گا نوبیل انعام اس کو ملنا چاہیے، مسئلہ کشمیر کو بھی خان صاحب جیسا عالمی مفکر ہی حل کروائے گا۔ جہاں تک دنیا کے بڑے سے بڑے اعزازت کے ناکافی ہونے کے مسئلہ کا تعلق ہے تو اس کے حل کا سامان بھی ابھی سے کر دیا گیا ہے

Read more

دین کی من مانی تشریحات اور موت کی ارزانی

علمائے دین اپنے فہم کی بنیاد پر دین کی تشریخ کرتے ہیں جس میں، کسی نہ کسی مرحلے پر اصلاح کی گنجائش ہر صورت موجود رہتی ہے اسی اصلاح کے پیش نظر مفکر اسلام علامہ محمد اقبال نے ”فکر اسلامی کی تشکیل“ جدید کے عنوان پر خطبات دیے جو بعد ازاں کتابی شکل میں شایع ہوئے۔ جس میں انہوں نے برملا اظہار کیا کہ فکر اسلامی گزشتہ پانچ سو سالوں سے منجمد چلی آ رہی ہے اقبال نے اس جمود کو توڑنے کے لئے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے نظریات پیش کیے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں ان خطبات کو وہ توجہ نہ مل سکی جو ملنی چاہیے تھی آج ہر مکتب فکر کے چھوٹے بڑے علما اپنی بات کی تائید کے لئے اقبال کے ولولہ انگیز شعر تو ضرور پڑھتے ہیں لیکن کبھی بھول کر بھی ان کے خطبات کا ذکر نہیں کرتے بلکہ علما کی ایک بڑی تعداد اقبال کے خطبات میں پیش کیے گئے نظریات سے ہی بے خبر ہے۔

Read more

نئے پاکستان کی تعمیر: ”روحانیت“ کے رحم و کرم پر

وجاہت مسعود کا ہر کالم پختہ اور نپی تلی سوچ کا مظہر ہوتا ہے ان کے لکھے بعض جملے قاری کے ذہن پر نا صرف اپنا اثر چھوڑتے ہیں بلکہ نقش ہو جاتے ہیں نا جانے کیوں آج کل انہی کے لکھے چند جملے تواتر کے ساتھ بار بار ذہن میں سر اٹھا رہے ہیں…

Read more

عمرانیات (جدید) کے عظیم قائد کے چند اصول

بائیس سالہ سیاسی جدوجہد میں جدید عمرانیات کے بانی عالمی مفکر جناب عمران خان صاحب نے جو اخلاقی اصول متعارف کروائے ہیں بلا شبہ علمی اور قومی میراث کا درجہ رکھتے ہیں ذیل میں ان کے چند آفاقی حیثیت کے حامل اصولوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔

پہلا اہم اخلاقی اصول یہ ہے کہ کوئی بھی کام یا اقدام بذات خود اچھا یا برا نہیں ہوتا بلکہ اس کے اچھے یا برے ہونے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اس کام کو کون انجام دے رہا ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ بانی عمرانیات کا مخالف کسی بھی صورت کوئی اچھا کام کر ہی نہیں سکتا لیکن پھر بھی خدانخواستہ اس سے کوئی اچھا کام سر زد ہو بھی جائے تب بھی وہ عمرانی نظریہ کے مطابق اچھا کام کہلانے کی خاصیت سے محروم ہو گا۔

Read more

”مسجد الاسلام“ اور ہم سب

کیا ہم سب نے ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لئے ہم سب کو اپنے اپنے رویوں پر غور کرنا ہو گا۔ اگر میں، آپ یا کوئی بھی شخص کسی بھی موضوع پر کوئی ایسی رائے قائم کرتا ہے جس کی بنیاد علم و دانش کی بجائے ذاتی حب و بغض اور مفاد کو مد نظر رکھ کر اٹھائی جاتی ہے تو ایسا شخص یقینا ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کا معمار ہی کہلائے گا۔

جانبداری، ہٹ دھرمی، بغض و عناد اور مفاد پرستی انسان اور حق و حقیقت کے درمیان ایک ایسی بلند و بالا دیوار کھڑی کر دیتی ہے جس کی موجودگی میں علم و دانش کے چشمہء آب حیات تک پہنچنا تو درکنار، اس کی ایک بوند تک کا حصول مشکل ہوجاتا ہے۔

Read more