فنون لطیفہ میں جمالیاتی لطف​​


کچھ عرصہ پہلے یونیورسٹی کی کلاس میں استھیٹکس​ یعنی جمالیاتی لطف​ پر بات ہو رہی تھی جسے قریب سبھی میٹس نے خوبصورتی سے تشبیہات کو سمجھا اور اس کے مطابق کام کیا۔ میں اس وقت کچھ پریشان ہوئی تھی کہ ​جمالیاتی لطف میں خوبصورتی ایک چھوٹا سا حصہ تو ہو سکتی ہے ​لیکن​ خوبصورتی ​مکمل جمالیاتی لطف نہیں ہو سکتی۔ کوئی بھی فن پارہ چاہے مصوری ہو یا مجسمہ، کہانی ہو، داستان ہو یا افسانہ یا پھر ناول۔ مکمل تبھی ہوتا ہے جب اپنے تمام لوازمات کے ساتھ پیش کیا جائے۔ ناول افسانے اور کہانی کے لیے پلاٹ، واقعہ (حقیقی یا تجریدی) لغات، اور جملوں کا مکمل اسٹرکچر ضروری ہے جب کہ مصوری، مجسمہ سازی، یا کسی اور طرح کے فن پارے کے لیے حقیقی یا تجریدی ڈیزائن، اس کا مکمل ہونا، اس کا اسٹرکچر فن کار کے زاویے و نظریے سے شفاف ہونا، دیکھتی آنکھ میں دلکشی رکھنا یا قانون کشش رکھنا، جیسے لوازمات ضروری ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب ہم مکمل اسٹرکچر کی بات کرتے ہیں تو بہت سے فن کار مثال کے طور پر مصور اپنے فن پاروں میں ادھورا پن رکھتے ہیں۔ جیسا کے بہت اسپاٹ فیشل ایکسپریشن کی موجودگی، یا بہت سے فن پاروں میں خالی پن یا خاموشی۔ تو یہاں ہمیں آرٹس کے ویژول (مناظر) کی شفافیت اس فن پارے سے بات کرنے کی دعوت کیسے دیتی ہے؟

بہت سارے فن پارے دیکھنے کے بعد انسانی دماغ ان کو سمجھنا الجھنا سلجھنا اور خاموش گفتگو کرنا سیکھ جاتا ہے۔ فن پاری ایک لغت بھی ہے اور یونیورسٹی بھی۔ فن پارے کی لغت کے لیے فن کے لوازمات جاننا ضروری ہوں یا نہ ہوں، دیکھنے کی صلاحیت ہونا بے حد ضروری ہے۔ تبھی ہم یہ جان سکیں گے کہ فن کار اور فن پارہ ہم سے کہنا کیا چاہتے ہیں۔ کچھ کہنا چاہتے ہیں بھی یا صرف لطف کی حد تک لمحہ موجود میں گانٹھ باندھے بیٹھے ہیں۔

لاہور میں ایک نئی آرٹ گیلری کی اوپننگ پر سلیم اختر کی کیوریشن پر مبنی صدام مراد کے فن پارے زینت بنے۔ اب صدام کا کام میں اگر اپنی آنکھ سے دیکھوں تو سوکھے برش ٹیکنیک میں بنائے گئے انسانی بدنی حصوں کو دکھانا ایک مشکل کام ہے۔ اس کام کو دیکھنے کے لیے آٓپ کی جمالیاتی اصولوں پر گرفت ضروری ہے۔ تو مجھے کام دیکھ کر مزا آیا۔ اب پبلک کیا سوچتی ہے اس پر چلتے ہیں، تو میں عرض کر رہی تھی استھیٹک دو طرح کی ہو سکتی ہے جیسا کہ ایک میرے جیسے اعلیٰ نہیں تو ادنیٰ سہی مگر فیلڈ سے تعلق رکھنے والے فن کار کی استھیٹک، دوسری ہے، پبلک استھیٹک، میں نے یہ اس طرح جانا کہ جب بھی میں کسی آرٹ گیلری میں جاوٴں تو وہاں قریب سبھی فن پاروں کے عکس اتارتی ہوں۔ پھر واپس اپنی رہائش گاہ پر آ کر انہیں کئی بار دیکھتی ہوں جو خدا بھلا کرے ایک دوست کا جس کی سائنس اچھی نا آرٹس مگر دوائی جو بھی دے اس کا جادو چل ہی جاتا ہے، تو اس کے ساتھ بات چیت کرتی ہوں۔ وہ کام دیکھتی ہے۔ اپنی رائے دیتی ہے، ایک سے بھلے دو اور دو سے بھلے چار یوں کرتے کراتے دس بارہ لوگ تو آسانی سے کام دیکھ کر خاموش رہ کر یا اپنے لفظوں سے نواز کر مجھے کچھ نہ کچھ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

Herbert Matter: Mercedes Matter in driftwood

اس طرح میں امیج کو سمجھنے کی ہی کوشش نہیں کرتی بلکہ عوامی رائے جان کر خود میرے تین چار مختلف پرسپیکٹو بن جاتے ہیں۔ آج کل یہ موقع کسی ان دیکھی وجہ سے مجھ سے چھن چکا ہے تو میں اب کام دیکھوں تو ایسے دیکھتی ہوں کہ فاطمہ دیکھے گی تو کیا کہے گی، ہما دیکھے گی تو کیا الفاظ ہوں گے، مقدس اسما شاہینہ حنا عائشہ وغیرہ وغیرہ اس طرح میں عوامی رائے کے حساب سے 2، 3 مختلف انداز میں سوچنے پر کامیاب ہوتے ہوتے ہو ہی جاتی ہوں۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ میں نے تو​ جمالیات​ کی تعریف پڑھی، مختلف فن کاروں کے تھیوریز پڑھیں، فیلڈ ہی یہی ہے تو مجھے معلوم ہے کہ کیا اصول ہیں مگر ​جمالیات​ کی کہانی اس غریب عوام نے تو ہر گز نہیں پڑھی ہو گی۔ کہاں شماریات پڑھنے والے اور مائکرو بائیولوجی پڑھنے والے اور بین الاقوامی تعلقات پڑھنے والے کہاں ویژوٴل آرٹس کی تعلیم پانے والے مجھ جیسے خوش نصیب۔ ہا ہا ہا۔

تو بھائی بہن لوگو! ابھی تو میں پڑھ سیکھ رہی ​ہوں ابھی۔ مجھ غریب​ کی جمالیات پر تھیوری ​کو رائے سمجھئے​۔​ ​میری ذات​ کو اتنا سمجھ آیا کہ استھیٹک​ یا جمالیات​ (عوامی اور ذاتی) سے مراد وہ اصول ہے جس کی وجہ سے ہم کسی بھی کام میں خوبصورتی، کہانی، بدصورتی، یا سادے لفظوں میں کام کی نوعیت سمجھ پاتے ہیں اور کام کا لطف لے پاتے ہیں اب وہ کام چاہے مارسل ڈیوشامپ کا میوزیم آف ماڈرن آرٹ میں رکھا ڈمی کموڈ ہو یا مائیکل مارٹن کا پینتالیس ہزار پاؤنڈ کا پیپر بال ہو جسے ہم بچپن میں ایویں کلاس میں شور مچانے اور ایک دوسرے کو تنگ کرنے اور بعض اوقات اپنے ٹیچرز کو تنگ کرنے کے لیے فزکس کی کلاس میں بنا بنا کر ایک دوسرے کو مارا کرتے تھے۔ ہے تو استھیٹیکل کونسپچوئل​ یعنی جمالیاتی تصوراتی​ فن پارہ۔

Facebook Comments HS

One thought on “فنون لطیفہ میں جمالیاتی لطف​​

  • 18/02/2022 at 5:00 شام
    Permalink

    بہت خوب.جمالیات پر بہت ہی شان دار کتابیں نصیر احمد ناصر کی ہیں۔ مطالعہ کیجیے لطف لیجیے

Comments are closed.