پی ایس ایل: قلندرز کی یونائٹیڈ کو 66 رنز سے شکست، بروک کے لیے میدان کھلا تھا


میچ کے آغاز میں ہی لاہور قلندرز کی یکے بعد دیگرے تین وکٹیں گریں اور پھر ہیری بروک کی شاندار بلے بازی اور سنچری نے منظر بدل کر قلندرز کو میچ جیتنے کے لیے ایک اچھا سکور فراہم کیا۔

سنیچر کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل کے 27ویں میچ میں لاہور قلندرز اور اسلام آباد یونائٹیڈ کا ٹاکرا ہوا۔ لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور اوپنر فخر زمان اور فِل سالٹ نے اننگز کی شروعات کیں۔

قلندرز کی اوپننگ شراکت مسلسل دوسرے روز ناقص رہی جہاں فل سالٹ صرف 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ کامران غلام کو بھی فہیم اشرف نے شکار کیا اور انھیں کھاتہ کھولے بغیر ایل بی ڈبلیو کر کے پویلین کی راہ دکھا دی۔

قلندرز کے پروفیسر محمد حفیظ بھی سکور بورڈ پر خاطر خواہ اضافہ نہ کر سکے اور 12 رنز کے مجموعی سکور پر کھیل کے تیسرے اوور میں ہی آج بھی رن آؤٹ ہو کر چلتے بنے۔

قلندرز کی تین وکٹیں 12 رنز پر گر چکی تھیں تو ایسے مشکل وقت میں ہیری بروک میدان میں اترے اور فخرزمان کے ساتھ سکور آگے بڑھایا اور 101 رنز کی شان دار شراکت قائم کی۔ فخر زمان نے چار چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 51 رنز بنائے اور 113 کے مجموعی سکور پر آوٹ ہو گئے۔ اس بار بھی فہیم نے ہی انھیں ظاہر خان کی گیند پر کیچ آؤٹ کیا۔

دوسرے اینڈ سے ہیری بروک نے جارحانہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔ سہیل اختر نے 9 گیندوں پر 15 رنز بنائے اور ڈاؤسن کی گیند پر اعظم خان نے سٹمپس اڑا دیے۔ ڈیوڈ ویزے نے بھی بروک کا ساتھ دیا اور 12 گیندوں پر ایک چھکے کی مدد سے 17 رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے۔

بروک نے اس دوران 48 گیندوں پر اپنی سنچری بھی مکمل کی۔ لاہور قلندرز نے مقررہ اوورز میں چھ وکٹوں پر 197 رنز بنائے اور اسلام آباد یونائٹیڈ کو جیت کے لیے 198 رنز کا ہدف دیا۔ لاہور قلندرز کی جانب سے بروک نے ناقابل شکست 102 رنز بنائے، جس میں 10 چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے۔

یونائیٹڈ کی جانب سے فہیم اشرف نے سب سے زیادہ تین وکٹیں حاصل کیں۔ ہیری بروک کی زور دار ہٹس نے میچ میں شائقین کی دلچسپی کو برقرار رکھا۔

یہ بھی پڑھیے

ملتان سلطانز کی جیت کا سفر جاری، ’یہ رضوان کی لیگ ہے اور ہم بس اسی میں جی رہے ہیں‘

پی ایس ایل: ملتان کو ایک بار پھر کوئی نہ روک سکا، زمان خان نے آخری اوور میں قلندرز کو جتوا دیا

’سلطانز کو اب آسٹریلیا ہی آ کر ہرائے، پی ایس ایل ٹیموں کے بس کی بات نہیں لگ رہی‘

198 رنز کے ہدف کے تعاقب میں رحمٰن اللہ گرباز اور مبصر خان نے 27 رنز کا آغاز فراہم کیا۔ رحمٰن اللہ گرباز 11 گیندو پر دو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 20 رنز بنا کر شاہین آفریدی کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ شاہین شاہ آفریدی نے اگلی ہی گیند پر چھ رنز پر کھیلنے والے مبصر خان کی بھی وکٹیں اڑا دیں۔

محمد وسیم اور لیام ڈاؤسن نے تیسری وکٹ کی شراکت میں ٹیم کا سکور 59 رنز تک پہنچایا۔ وسیم، راشد خان کی گیند پر صرف 12 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ اعظم خان کی اننگز 15 گیندوں پر 10 رنز تک محدود رہی اور وہ بھی راشد خان کا شکار بنے۔

یونائیٹڈ کا سکور جب 85 رنز پر پہنچا تو لیام ڈاؤسن بھی چلتے بنے، جنھوں نے 26 گیندوں پر 31 رنز بنائے تھے۔ شاداب خان کی عدم موجودگی میں کپتانی کے فرائض نبھانے والے آصف علی ایک مرتبہ پھر بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام ہوئے اور ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے صرف 12 رنز بنا کر زمان خان کی گیند پر کیچ دے گئے۔

یونائیٹڈ کی ساتویں وکٹ 113 کے سکور پر گری جب فہیم اشرف دو رنز بنا کر حارث رؤف کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ اس موقع پر اسلام آباد یونائٹیڈ کا رن ریٹ کافی کم تھا اور اسلام آباد یونائٹیڈ کو جیت کے لیے 13 گیندوں پر 75 رنز درکار تھے۔

پانچویں اوور میں کمنٹیٹرز کا خیال تھا کہ یونائٹیڈ کو رن ریٹ کا مسئلہ نہیں آئے گا مگر اس وقت تک دو وکٹوں کے نقصان پر 58 رنز بن چکے تھے۔ لیکن 17ویں اوور تک یونائٹیڈ کو جیت کے لیے 21 کا رن ریٹ درکار تھا۔ 18ویں اوور میں حارث روف نے مرچنٹ کو بھی دو رنز سے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی اور یونائیٹڈ کی آٹھویں وکٹ گرا کر مضبوط ٹیم کو شدید مشکل سے دوچار کر دیا۔

یونائیٹڈ کی جانب سے آخری آؤٹ ہونے والے بلے باز وقاص مقصود تھے جنھوں نے پانچ گیندوں پر صرف ایک رن بنایا۔ اسلام آباد یونائٹیڈ نے مقررہ 20 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر صرف 131 رنز بنائے اور قلندرز اپنی نپی تلی بولنگ کے باعث یہ میچ 66 رنز کے بڑے فرق سے جیتنے میں کامیاب ہوئی۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے دانش عزیز 30 رنز اور ظاہر خان بنا کوئی رن بنائے ناٹ آؤٹ رہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp