برازیل کے شہر پیٹروپولس میں طوفانی بارش سے تباہی کے بعد 191 افراد اب تک لاپتہ


برازیل کے شہر پیٹروپولس
برازیل کے شہر پیٹروپولس میں سیلابی ریلوں اور مٹی کے تودوں کے گرنے سے ہونے والی تباہی میں تقریباً 146 افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ 191 اب بھی لاپتہ ہیں۔

خراب موسم کا سلسلہ علاقے میں گذشتہ چار روز سے جاری ہے اور شدید بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ میں ہلاک ہونے والوں میں 27 بچے اور کم عمر بھی شامل تھے۔

منگل کے دن برازیل کے شہر ریو ڈی جنیریو کے شمال میں واقع اس سیاحتی مقام پر فروری کے پورے مہینے کی اوسط سے زیادہ بارش ایک ہی دن میں ہوئی تھی۔

سنیچر کے دن ایمرجنسی ٹیموں کو اس وقت کئی بار اپنا کام روکنا پڑا جب انھیں غیر معمولی موسلا دھار بارش کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب کسی کے زندہ بچ جانے کی امید بہت کم ہے۔

پیٹروپولس

تقریباً 900 افراد کو سکولوں اور حفاطتی مقامات پر پناہ دی گئی ہے۔

سنیچر کے دن ریسکیو حکام سمیت رضاکار بیلچوں کی مدد سے ملبے اور کیچڑ میں کھودائی کرتے رہے جب کہ انھیں شدید دھند کا بھی سامنا تھا۔

اس وقت بھی لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے لیکن ایسے علاقے جہاں اب بھی صورت حال غیر مستحکم ہے وہاں پر دستی اوزاروں اور برقی آریوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

ان ٹیمز کو 41 ماہر کتوں کی مدد بھی حاصل ہے جو لاپتہ افراد کو سونگ کر تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شانگلہ میں لینڈ سلائیڈنگ میں ہلاکتیں: ’انتظار کیا جاتا رہا کہ کوئی حادثہ ہو تو حکومت اور انتظامیہ حرکت میں آئے‘

سانحۂ مری رپورٹ: ’ایڈوائزریز اتنی تاخیر سے پڑھی گئیں کہ منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے وقت ہی نہیں بچا تھا‘

برازیل میں طوفانی بارش سے تباہی

روبرٹو ایمرال مقامی فائر ڈیپارٹمنٹ کی خصوصی ریسکیو ٹیم کے کوآرڈینیٹر ہیں۔ انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اس مقام پر بھاری بھرکم مشینری لانا ناممکن ہے۔ اسی لیے ہمیں تھوڑا تھوڑا کر کے چیونٹیوں کی طرح کام کرنا پڑ رہا ہے۔‘

شہر کے سب سے متاثرہ علاقے میں ایک پہاڑی پر واقع تقریباً 80 گھر لینڈ سلائیڈ کی زد میں کر تباہ ہو گئے تھے۔

برازیل کے صدر جائر بولسونارو نے جمعے کے دن حادثے کے مقامات کا فضائی جائزہ لیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’شہر میں بڑے پیمانے پر ایسی تباہی ہوئی جیسے کسی جنگ میں ہوتی ہے۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp