قائد اعظم کا تصور قومی زبان

اردو زبان وہ زبان ہے جس کی جڑیں برصغیر سے پھوٹیں اور رفتہ رفتہ پودے کی شکل اختیار کرتے ہوئے بیسویں صدی عیسوی میں زبان کی حیثیت میں نمودار ہو کر برصغیر کی آزادی اور پاکستان کے عدم سے وجود میں آنے کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ قرار پائی۔ پاکستان اسلام کے نام کے ساتھ ساتھ زبان کے نام پر بھی حاصل کیا گیا۔ اور وہ زبان اردو تھی صرف اردو۔ جب پاکستان اپنے علیحدہ تشخص کے ساتھ دنیا کے نقشے پر ابھرا تو ضرورت اس امر کی تھی کہ اس کی سرکاری زبان کا درجہ کس زبان کے دامن میں ڈالا جائے۔ غور و خوض کے بعد اردو ہی ایسی زبان ٹھہری جو اس قابل تھی کہ پاکستان کی قومی و سرکاری زبان کا تمغہ اپنے دامن میں سمیٹ لے۔ کیونکہ اس وقت یہ ہی ایسی بڑی زبان تھی جو لوگوں کی اجتماعی، سماجی، مذہبی، علمی، ادبی اور فکری روایات کی واحد ذمہ دار تھی۔
قائد اعظم اور اردو زبان:۔
قائداعظم محمد علی جناح، بانی پاکستان، نے قرارداد لاہور کے منظور ہونے اور اس کی کامیابی کے بعد سے ہی اس مسئلہ پر تحقیق شروع کر دی تھی کہ جو نیا ملک ہم مسلمان حاصل کرنے جا رہے ہیں اس کی قومی و سرکاری زبان کون سی زبان ہوگی۔ قائد اعظم کی نظر میں سب سے ضروری یہ تھا کہ سرکاری اور قومی زبان کا درجہ اس زبان کو دینا چاہیے جو علاقائی تشخص سے بلند قومی تشخص کی حامل ہو۔ قرآن مجید میں بھی یہ نقطہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا:
”ہم نے ہر رسول اس کی ہی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا۔“ ۔ (سورۃ ابراہیم: آیت 4 )
ایسی زبان صرف ایک ہی تھی جس کا رشتہ برصغیر کے مسلمانوں کے ساتھ اس طرح منسلک کر دیا گیا تھا کہ وہ علاقائی قید کی زنجیر سے بالکل آزاد ہو چکی تھی۔ وہ زبان صرف اور صرف اردو ہی تھی۔ قائداعظم کی دور اندیش اور تجربہ پرست نظروں نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ اردو ایک تہذیب کی حامل اور علاقائیت کی پابندیوں سے آزاد زبان ہے اور اگر ہم اسے قومی و سرکاری زبان کا درجہ دیں گے تو ہم متحد رہ کر ترقی کی منازل حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ روش صدیقی اردو کی اصل اہمیت کو یوں بیان کرتے ہیں :
اردو جسے کہتے ہیں تہذیب کا چشمہ ہے ( روش صدیقی )
قائداعظم کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اگر ہم نے کسی ایسی زبان جو علاقائیت کی پاسباں ہو کو قومی اور سرکاری زبان کا درجہ دے دیا تو ملک تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ اس وجہ سے انہوں نے برملا کہا:
”پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہوگی۔“ ( 1942 ء)
قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک اور اجلاس میں بالکل سادہ اور صاف الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ جو ملک ہم حاصل کرنے جا رہے ہیں اس کی قومی و سرکاری زبان صرف اردو ہی ہو گی۔
”میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہوگی۔“ ( 10 اپریل 1946 ء)
پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد اردو کو قومی و سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ کیونکہ پاکستان دو ایسے حصوں پر مشتمل تھا جن کی زبان مختلف تھی تو کچھ شرپسند عناصر، جو پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور اس کو تباہ کرنے کے خواب سجائے بیٹھے تھے، نے زبان کا مسئلہ کھڑا کر دیا۔ آنند نرائن ملا اس مسئلہ کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں :
ملا بنا دیا اسے بھی محاذ جنگ
اک صلح کا پیام تھی اردو زباں کبھی ( آنند نرائن ملا)
قائد اعظم محمد علی جناح نے اس مسئلہ کو پاکستان کی سالمیت کے لئے خطرہ گردانتے ہوئے ڈھاکہ کا دورہ کیا اور وہاں پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں پاکستان کی واحد سرکاری زبان کے متعلق یوں ارشاد فرمایا:
”میں واضح طور پر آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی اور صرف اردو اور اردو کے سوا کوئی زبان نہیں۔ جو آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔“ ( ڈھاکہ: 21 مارچ 1948 ء)
قائد اعظم محمد علی جناح اس بات کے قائل تھے کہ جب تک پورے ملک کی مشترکہ زبان نہیں ہوگی ملک کسی بھی صورت ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ۔ اس وجہ سے ایک اجلاس میں انہوں نے یوں ارشاد فرمایا:
”اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہم متحد ہو کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو ان کی سرکاری زبان ایک ہی ہو سکتی ہے اور وہ میری ذاتی رائے میں اردو اور صرف اردو ہے۔“
مگر افسوس کہ ہم نے قائداعظم کے ارشادات کو تسلیم نہ کرتے ہوئے پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور اگر ہم موجودہ وقت میں بھی ان ارشادات پر عمل نہیں کریں گے تو ایک ایسا نقصان ہو گا جس کی تلافی ناممکن ہوگی۔ اس بات کو منور رانا یوں بیان کرتے ہیں :
تو پھر ان بد نصیبوں کو نہ کیوں اردو زباں آئی (منور رانا)
اختتامیہ:
اگر ہم دور جدید میں ترقی کی منازل طے کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بانی اور عظیم قائد کے ارشادات پر بغیر کسی حجت کے عمل کرنا ہو گا۔ آج اگر ہم ترقی کی دوڑ میں کئی ممالک سے پیچھے ہیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ قومی زبان کو سرکاری درجہ سے محروم رکھنا ہے۔ ہمیں اس امر کی ضرورت ہے، اگر ہم معاشرے کی صف میں نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو، کہ ہم متحد ہو کر صحیح معنوں میں اردو کے سرکاری سطح پر نفاذ کے لئے کوشاں ہو جائیں۔
(تحریک نفاذ اردو، پاکستان سے انعام یافتہ مضمون)


بخدمت جناب سیکرٹری ایجوکیشن، جنوبی پنجاب، ملتان
جناب عالی
سائل حسب ذیل عارض ہے.
١ـ وفاقی حکومت کے واحد قومی نصاب کے مطابق سرائیکی پہلی سے بارھویں تک ذریعہ تعلیم ہے،،
٢ـ ٹیکسٹ بک بورڈ کو پابند کریں کہ سرائیکی میڈیم کتابیں کافی تعداد میں چھاپی جائیں..
٣ـ پیک اور تعلیمی بورڈوں کو ہدایت کریں کہ سرائیکی میڈیم پرچے چھاپے جائیں.
٤ـ ہم نصابی سرگومیوں میں بھی سرائیکی کی سرپرستی جائے.
٥ـ اعلیٰ تعلیم میں بھی سرائیکی کو ذریعہ تعلیم اور ذریعہ امتحان بنایا جائے.
٦ـ قرآن مجید کا سرائیکی ترجمہ نصاب میں شامل کریں.
٧ـ پہلی سے بارہویں تک سرائیکی لازمی کی جائے.
٨ـ سرائیکی میڈیم کتابیں چھاپنے کے لئے سرائیکستان ٹیکسٹ بک بورڈ اور ادارہ نصاب بݨائیں.
العارض
پرویز قادر
ایڈمن بھُوم ڳوجھی