سوئس اکاؤنٹس میں جنرل (ر) زاہد علی اکبر کا نام بھی شامل ہے


تحقیقاتی صحافیوں کی عالمی تنظیم آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پراجیکٹ (او سی سی آر پی) نے سوئس بینکوں میں رکھے گئے 100 ارب ڈالر کی تفصیلات جاری کردیں۔ جاری ہونے والے ڈیٹا میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی ) کے سابق چیئرمین جنرل (ر) زاہد علی اکبر خان کا نام بھی شامل ہے، یہ وہ چیئرمین پی سی بی ہیں جن کے دور مین پاکستان نے 1992 کا ورلڈ کپ جیتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ واپڈا کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔

او سی سی آر پی کے مطابق زاہد علی اکبر پاک فوج کی انجینئرنگ کور کا حصہ تھا جنہوں نے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام میں بھی حصہ لیا، انہیں سنہ 2013 میں بوسنیا کے بارڈر سے انٹرنیشنل وارنٹ کی بنا پر انٹرپول نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر پاکستان میں کرپشن کا الزام ہے۔ زاہد علی اکبر اپنے 77 بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم کا حساب دینے سے قاصر رہے تھے۔ یہ اکاؤنٹ زاہد علی اکبر، ان کے اقربا اور مختلف کمپنیوں کے نام پر تھے۔

او سی سی آر پی کے ڈیٹا کے مطابق انہوں نے سوئٹزر لینڈ میں سنہ 2004 میں کاروباری بینک اکاؤنٹ کھولا جو سنہ 2006 تک آپریشنل تھا، اس اکاؤنٹ میں ایک کروڑ 55 لاکھ 35 ہزار 345 سوئس فرینک کی رقم موجود رہی جو پاکستانی روپوں میں دو ارب 96 کروڑ روپے بنتے ہیں۔

جنرل (ر) زاہد علی اکبر نے 2013 میں گرفتاری کے بعد 2016 میں اقبال جرم کرتے ہوئے نیب سے پلی بارگین کر کے اسے 20 کروڑ روپے ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی اور یہ رقم نیب کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دی تھی۔ انہوں نے نیب کے نام اپنے خط میں کہا تھا کہ وہ اپنے آخری دن پاکستان میں گزارنا چاہتے ہیں۔

Facebook Comments HS