اسلامی تمدن اور نور کے بغیر چراغ


مٹھاس، انسان کو پسند ہے، انسان چاہتا ہے کہ اس کی زندگی کے تمام شعبوں میں شیرینی اور مٹھاس ہی ہو۔ دین اسلام بھی یہی چاہتا ہے کہ انسانی معاشرے سے منکرات کو ختم کر کے حیات انسانی کو حسنات کی شیرینی سے معمور کیا جائے۔ انسانی دنیا میں اتنی بڑی تبدیلی ایک دم ممکن نہیں۔ پھل کبھی بھی ایک دن میں پک کر میٹھا نہیں ہوتا۔ ایک بیج کو زمین کے اندر مدتوں کیمیائی اور حیاتیاتی عمل سے گزرنا پڑتا ہے، جس کے بعد وہ ایک پودے کی صورت میں زمین کے اوپر تند و تیز ہواؤں اور سورج کی گرم شعاؤں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنتا ہے۔

اس کے باوجود ایک پودے کو کھینچ کر زبردستی درخت نہیں بنایا جاسکتا۔ درخت بننے کے لئے بھی اسے مسلسل مٹی، پانی، گیس اور ہوا کے ساتھ ساتھ موسمی تغیرات کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان مراحل سے گزرے بغیر پودا درخت نہیں بن سکتا۔ درخت بن جائے تو اس کے بعد بھی پودے کو مسلسل موسمی تربیت کے مراحل طے کرنے پڑتے ہیں، تب جاکر اس پر شگوفے کھلتے ہیں اور پھل اگتے ہیں۔

کسی غنچے کو طاقت کے ساتھ مروڑ کر پھول نہیں بنایا جاسکتا اور کسی پھول کو مسل کر یا دبا کر قوت و طاقت سے پھل بھی نہیں بنایا جاسکتا۔ جب پھل لگ جاتا ہے تو پھر ایک دن میں پک کر میٹھا نہیں ہو جاتا۔ پھل بھی سورج کی کرنوں اور چاندنی کی آغوش میں مقررہ عمل طے کرنے کے بعد ہی میٹھا اور شیریں ہوتا ہے۔ انسانی و اسلامی تہذیب کا شجر بھی اسی طرح ہے۔ انسانی تہذیب کو بھی آگے بڑھنے اور ارتقاء کرنے کے لئے مختلف ادوار سے گزرنا پڑتا ہے۔

بہترین تہذیب سے بہترین ثقافت جنم لیتی ہے اور بہترین ثقافت سے بہترین تمدن وجود میں آتا ہے اور بہترین تمدن اپنی گود میں بہترین اقوام کو پروان چڑھاتا ہے۔ ایک محقق کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی تحقیقات کے دوران انسانی تہذیب کے ارتقائی مراحل کی رعایت کرے۔ تہذیب، ثقافت اور تمدن کے فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے تہذیب و ثقافت اور تمدن کی ارتقائی سطح کو بھی ماپنا چاہیے۔ مخاطبین کی ذہنی سطح کی پیمائش کے بعد ہی ان کی اصلاح احوال کے لئے نسخہ تجویز کرنا چاہیے۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ہر تحقیق ہر میدان میں کام نہیں آ سکتی، ہر بات ہر شخص پر یکساں اثرات مرتب نہیں کرتی اور ہر مریض کے لئے ایک ہی نسخہ کارگر ثابت نہیں ہوتا۔

انسانی تہذیبوں کے درمیان اسلامی تہذیب کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ دیگر اقوام جس قدر اپنی تہذیب سے دور ہوتی گئیں، انہوں نے ترقی کی اور مسلمان جس قدر اپنی تہذیب سے دور ہوتے گئے انہوں نے تنزل کیا۔ تہذیب کوئی ایسی شے نہیں ہے جو خود بخود ایک نسل سے دوسری نسل میں تبدیل ہو جاتی ہے، بلکہ تہذیب کے ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ موجودہ نسل اپنی آئندہ نسل کے حالات کے مطابق اپنی تہذیبی روایات کی تعبیر نو اور تعمیر نو کرے، تاکہ آئندہ نسل اپنی موروثی تہذیب کے سائے میں افکار نو کو پروان چڑھا سکے۔

صدر اسلام میں صفہ کی درسگاہ اور مسجد النبی (ص) کے زیر سایہ جو تہذیب پروان چڑھی، وہ خالصتاً ایک علمی و فکری تہذیب تھی۔ اسی علمی و فکری تہذیب نے ایک علمی و متمدن قوم کو جنم دیا، جس کی آغوش میں سعدی، فارابی، رومی، سینا، جابر بن حیان اور طوسی جیسی گرانقدر شخصیات نے جنم لیا۔ مختلف حالات و واقعات کے پیش نظر جیسے جیسے مسلمان اپنی نسل نو کو اپنی علمی تہذیب سے دور کرتے گئے، وہ غیروں کے محتاج ہوتے چلے گئے۔ حتی کہ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اسلامی ممالک میں تہذیب بھی غیر مسلم مالک سے درآمد کی جا رہی ہے۔

موجودہ صدی کے سماجی، صنعتی اور سیاسی انقلابات بتا رہے ہیں کہ یہ صدی مسلمانوں میں بیداری اور ان کی اپنی تہذیب کی طرف بازگشت یعنی پلٹنے کی صدی ہے۔ آج کے مسلمان کو اپنی عظمت رفتہ کے کھو جانے کا احساس ہو چکا ہے اور اپنی اصلی تہذیب کی طرف پلٹنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ ایسے میں اسلامی دنیا کی بنیادوں میں ایک ایسا مافیا بھی دیمک کی طرح اپنا کام دکھا رہا ہے، جو عالم اسلام کو اس کی علمی و فکری میراث کی طرف پلٹانے کے بجائے فقط نماز روزے اور طہارت کے احکام تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔

پاکستان کے ایک مایہ ناز محقق مختار مسعود کے مطابق انہیں زندگی میں دو طرح کے استاد ملے۔ ایک نے انہیں بچپن میں کہا کہ خبردار قلم کو ہاتھ نہیں لگانا، یہ صرف تمہاری پڑھنے کی عمر ہے، جب تعلیم مکمل کر لو پھر لکھنا شروع کرنا جبکہ دوسرے استاد نے کہا کہ ابھی سے لکھنا شروع کرو، تب جاکر برسوں بعد کچھ لکھ پاؤ گے۔ ان کے بقول اگر میں پہلے والے استاد کی بات پر چلتا تو آج تک کچھ بھی نہ کر پاتا۔ یہ دوسرے استاد کی بات پر عمل کرنے کا نتیجہ ہے کہ میں نے اب تک بہت کچھ کر لیا ہے۔

اسی طرح ہمارے ارد گرد بہت سارے ایسے لوگ ہیں، جو طالبعلموں کو تعلیم کے راستے سے ہٹانے کے لئے اس طرح کے نظریات کی ترویج کرتے ہیں کہ پڑھائی لکھائی کا کیا فائدہ ہے، تعلیم چھوڑو اور چلو قوم کی خدمت کرو۔ اسی طرح بعض افراد سائنس و ٹیکنالوجی کے بجائے تلوار اور گولی سے جہاد کر کے ساری دنیا پر اسلام کا نفاذ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تعلیم و تربیت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے بغیر ساری دنیا پر حکومت کا نعرہ اس ہمدردی اور خضوع و خشوع کے ساتھ لگاتے ہیں کہ اچھے خاصے نوجوانوں خصوصاً طالب علموں کا دل پڑھائی سے اچاٹ ہو جاتا ہے۔

ساری دنیا تک اسلام کا پیغام پہنچانے اور تعلیم و تربیت کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے، نہ ہی تو تعلیم و تربیت کے بغیر تلوار و جہاد کسی کام کا ہے اور نہ ہی ایسی فتوحات امت مسلمہ کے حق میں ہیں جو تعلیم و تربیت کے بغیر ہوں۔ تعلیم و تربیت، تحقیق نو اور تولید علمی کے بغیر دنیا کو مسخر کرنے کا خواب ایسے ہی ہے جیسے نور کے بغیر چراغ۔ ”بند دماغ مافیا“ یعنی سوجھ بوجھ سے عاری مبلغین دین، دن بدن دانستہ یا نادانستہ طور پر مسلمانوں کی نسل نو کے دماغوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔

آج کون نہیں جانتا کہ ہمیں اسلامی بیداری کی موجودہ صدی میں اپنی ملت کو حقیقی اسلامی تہذیب سے مرتبط کرنے کے لئے علمی و فکری، اور سائنسی و ہنری شخصیات کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی علمی و فکری شخصیات کی ضرورت ہے، جو ہمیں مشرق و مغرب کی علمی و اقتصادی، فکری و نظریاتی، اور سائنسی و معاشرتی غلامی سے نجات دلا کر دنیا کے جدید تمدن کے ساتھ متصل کریں۔

یہ سب کچھ ایک دم نہیں ہو سکتا اس کے لئے ہمیں مسلسل تگ و دو اور جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے اور اس کا پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اپنے اسکولز، دینی مدارس، کالجز اور یونیورسٹیز کے طالبعلموں کو ”بند دماغ مافیا“ سے محفوظ کریں، انہیں تعلیم ترک کر کے جہاد اور خدمت کے بجائے تعلیم مکمل کرنے کی ترغیب دیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ سوچنے، تجزیہ کرنے اور حالات کی مدیریت کرنے کا ہنر بھی سکھائیں۔ اسی طرح ان کے ہاتھوں میں کلاشنکوف یا چندے کے باکس تھمانے کے بجائے، ان کی اخلاقی و معنوی تربیت کریں اور ان کی اقتصادی، سیاسی، تحقیقی، فنی و مدیریتی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے منصوبہ بندی کریں۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پھل ایک دن میں پک کر میٹھا نہیں ہوجاتا، پھل بھی سورج کی کرنوں اور چاندنی کی آغوش میں مقررہ عمل طے کرنے کے بعد ہی میٹھا اور شیریں ہوتا ہے۔ انسانی و اسلامی تمدن کا شجر بھی اسی طرح ہے۔ اس شجر کے ثمر آور ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی ملت کے نونہالوں کو علم دشمن مافیا سے بچائیں، چونکہ تعلیم و تربیت اور تحقیق نو و تولید علمی کے بغیر اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا نعرہ لگانا ایسے ہی ہے جیسے نور کے بغیر چراغ لے کر کسی کی رہنمائی کے لئے نکل پڑنا۔

Facebook Comments HS