آگے بڑھو یا پیچھو ہٹو

جو کیفیت ایک فرد کی ہے، وہی حالت قوم کی ہے۔ آپ تاریخ انسانیت پر غور کیجئے۔ جن قوموں نے اپنے نظام تہذیب و تمدن کی بنیاد حق سچائی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پر نہ رکھی، وہ لامحدود قوت حاصل کر لینے کے باوجود تباہ و برباد ہو گئیں اس لئے کہ ایسا نظام تہذیب جس میں حق و صداقت کی کوئی متعین اصولوں پر کاربند نہیں رہا جاتا، مسلسل نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے آخرالامر تباہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ باطل اصول اور بد اخلاق معاشرے پر استوار عمارتیں اپنی کھوکھلی بنیادوں کی وجہ سے قائم دائم نہیں رہ سکتی۔
بنیادی کمزوریاں اور داخلی خارجی نظم و ضبط میں خامیوں پر شرمندگی کے بجائے ڈٹے رہنا اور اس کی ترویج کا عمل ایک افسوس ناک المیہ ہے۔ روما کی سلطنت عام انسانوں کی لوٹ کھوسٹ میں سے ایک خاص جماعت کو متمول بنانے کا ذریعہ تھی، لیکن انہوں نے اس ”سودا گری ’کو نہایت قابلیت اور تدبر، خلوص اور دیانت سے چلایا، لیکن حسن انتظام میں یہ تمام خوبیاں، بنیادی باطل کو اس کے فطری نتائج سے نہ بچا سکیں۔
دوسری طرف وہ قومیں بھی تباہ و برباد ہو گئیں جنہوں نے کسی ایک مقام پر کھڑی اور زمانے کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے سے گریز کیا، آگے نہ بڑھیں، افریقہ کے حبشی، آسٹریلیا کے قدیم باشندے، امریکہ نیگرو، قطب شمال کے اسکیمو، کیا ہیں؟ انہی اقوام کے جامد و غیر متحرک مجسمے جنہوں نے اپنے مقام سے ہلنا پسند نہ کیا، جنہوں نے زمانے کے بدلتے تقاضوں کا ساتھ نہ دیا، جنہوں نے ماحول سے مطابقت کے فطری اصولوں کو ٹھکرا دیا، ان کی جھونپڑیاں اور کھالیں، ان کے تیر کمان، ان کے خورد و نوش کے انداز، رہن سہن کے طور طریقے، حتیٰ کے ان کے نظریات و عقائد اور رسوم و رواج، سب ان مقامات کی نشان دہی کرتے ہیں، جہاں وہ رک کر کھڑے ہو گئے اور جہاں سے ان کے ہم عمر قبائل اور اقوام آگے بڑھ گئیں۔ ان کے متعلق شاید سطح بیں نگاہیں یہ کہہ دیں کہ انہوں نے کبھی ترقی ہی نہیں کی تھی، لیکن مصر، یونان، عراق، ہندوستان، (سابقہ) چین اور ترکستان کے اقوام کے متعلق کیا کہیں گے، جن کی سطوت و ثروت کی داستانیں زمانے کی چٹانوں پر منقوش ہیں لیکن بعد کی حالت، ان کے زمانہ ثروت کی بھیانک قبروں کے سوا کچھ نہیں۔
ان کی یہ حالت کیوں ہو گئی؟ اس لئے کہ وہ ایک مقام پر رک گئیں، آگے نہ بڑھیں، انہوں نے تبدیلی کے فطری قانون سے آنکھیں بند کر لیں۔ یاد رکھئے ”فلسفہ معاشرت“ کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ کوئی مکمل شے بھی جمود کی حالت میں مکمل نہیں رہ سکتی، یہ اصول قدرت و فطرت کی تمام جڑوں میں کارفرما ہے، انسان کے سامنے دو ہی راستے ہیں، آگے بڑھو یا پیچھو ہٹو۔ زندگی کے فرسودہ پیکروں کو گلے سے لگائے رکھنا، تنزل و تسفل ہے، ایسی زندگی دن تو پورے کر لیتی ہے لیکن کبھی پھل نہیں لا سکتی۔
کسی ایسے مقام کی طرح جہاں پانی رک جاتا ہو اور سرانڈ پیدا ہوجاتی ہو، ان اقوام کے لئے ”پس ماندہ ’کی اصطلاح پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ان کا جرم کیا تھا۔ یہی کہ وہ زمانے کے ساتھ دیتی ہوئی آگے نہ بڑھیں، پیچھے رہ گئیں اور زمانہ انہیں روندتا ہوا آگے بڑھ گیا، زمانے کا ریلا تو اتنی بھی مہلت نہیں دیتا کہ کوئی راہ روپاؤں سے کانٹا نکالنے کے لئے کہیں بیٹھ جائے، جو بیٹھا وہ کچلا گیا، جو رکا وہ پکڑا گیا، اس لئے کہ جہاں بازو سمٹتے ہیں وہیں صیاد ہوتا ہے۔
آپ کسی بچے کو دیکھیں اس کے بنائے ہوئے کھیل کود یا نقشوں میں ذرا سی بھی تبدیلی کردی جائے تو وہ رونے لگ جاتا ہے، وہ انہیں مقامات میں گھومتا پھرتا رہتا ہے جن سے وہ مانوس ہو، نامانوس مقامات میں جانے سے ڈر لگتا ہے، وہ اپنے لئے جو وضع کرتا ہے، وہ بھی اس کی اسی ذہنی کیفیت کا آئینہ دار تھا، رسوم و آداب، اخلاقیات، معاشرے میں رائج رویے، غرض ان سب کو بعینہ انہیں پیکروں میں رکھنا ضروری سمجھتا ہے جن میں وہ اسلاف سے چلے آتے تھے، ان میں ذرا سی تبدیلی کے تصور سے اس کی روح کانپ اٹھتی، وہ ڈرنے اور لرزنے لگ جاتا ہے، اس لئے کہ اس کا ذہن انسانی کا تراشیدہ تصور، انسانی آزادی کے لئے کوئی گنجائش نہیں رکھتا تھا۔
اس سے انسانی زندگی ایک مستقل بوجھ کے نیچے دبی رہتی ہے۔ یہ نہیں کہ اس قسم کے جذبات صرف اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کسی کو اس قسم کی پابندی پر مجبور کیا جائے، بلکہ اس وقت بھی پیدا ہوتے ہیں جب یہ پابندیاں بطیب خاطر اختیار کی جائیں، اس قسم کی ”پولیس ڈسپلن“ سے انسانی سیرت میں بڑا گھناؤنا تنزل پیدا ہوجاتا ہے، تعمیر سیرت اختیاری اعمال سے ہوتی ہے اس لئے جہاں انسان کے لئے اختیار اور انتخاب کا کوئی موقع ہی نہ ہو، وہاں کیا سیرت مرتب ہوگی؟
موجودہ حالات پر نظر دوڑائیں تو سمجھنے میں دشواری نہیں ہوگی کہ کس راستے پر رواں ہیں، تبدیلی کے اس فسوں کا شکار جس سے طاقت ور قومیں اور قوتیں برباد ہوئیں اور دنیا کے لئے باعث عبرت بنا دی گئیں۔ جھوٹ اور منافقت کے لبادے میں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر گریباں میں ضرور جھانکیں کہ برا کر رہے ہیں یا کہ مخالف کو زک پہنچانا چاہتے ہیں، سیاسی، معاشرتی اور مذہبی افکار اور عمل میں زمین و آسماں برابر تفریق نے ہمیں سوچنے سمجھنے اور کہنے سے مفلوج کر دیا ہے، ایسا کہ جیسے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے۔
برائی کو اچھائی اور اچھائی کو برائی میں تبدیل کرانے کی تگ و دو نے چہروں کو مسخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ شناخت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں، شناخت کی کسوٹی خود ہمارے میزانیہ میں انحطاط کی جانب مائل ہیں۔ شاید کہ اب بھی وقت ہماری مٹھی میں ہے، کچھ لمحے ریت کی طرح بند مٹھی سے نکل گئے یا پیروں سے کسک رہی ہے۔ تاہم سب کو معاشرت کی تبدیلی کی درست سمت کو اپنانے کے لئے رویوں کو بدلنا ہو گا کیونکہ یہ قوم و ملت کے لئے ناگزیر ہے۔

