میں اب بھی مارکسسٹ ہوں : ڈاکٹر مہدی حسن صاحب

آج دل بہت اداس ہے، لکھنے کے لئے قلم اٹھایا ہے تو ہاتھ کانپ رہے ہیں، آنکھیں نم ہیں، دل و دماغ میں بس ایک ہی عظیم شخص کا خیال آ رہا ہے۔
ان عظیم شخص کا خیال جن کے چلے جانے سے میں نے ان کے ہر طالبعلم کی آنکھوں میں آنسو دیکھے، ہر کسی کے چہرے پر اداسی دیکھی۔
اب بھی یقین نہیں آ رہا کہ میرے پیارے استاد ڈاکٹر مہدی حسن صاحب ہمیں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب! یہ تحریر میں خصوصی طور پر آپ کے لئے لکھ رہا ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ کبھی نہ کبھی یہ آپ کی نظر سے ضرور گزرے گی۔
ڈاکٹر مہدی حسن صاحب ہمیں اکثر کلاس روم میں اپنی اسٹوری بتایا کرتے تھے کہ جب وہ ساہیوال سے لاہور آئے تو وہ اور ان کے بچپن کے دوست طارق عزیز صاحب گھر سے تہیہ کر کے آئے تھے کہ اب سے ہم خود اپنی تعلیم کا خرچ و دیگر خرچے اٹھائیں گے اور گھر والوں سے پیسے نہیں مانگیں گے، ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ پھر ہوا بھی یوں ہی، ان دو دوستوں نے کبھی اس کے بعد اپنے گھر سے پیسے نہیں منگوائے بلکہ ان کو ہمیشہ بھیجے ہی۔ اور پردیس میں رہتے ہوئے اپنا سب خرچ خود اٹھایا، بعد میں طارق عزیز صاحب سرکاری ٹیلی وژن پر ایک معروف پروگرام کے ہوسٹ بن گئے جبکہ ڈاکٹر مہدی حسن صاحب صحافت سے وابستہ ہو گئے۔
پاکستان میں جتنے بھی صحافی ہیں، ان میں سے 80 فیصد ڈاکٹر صاحب کے شاگرد ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کی شخصیت سے کون واقف نہیں، وہ ان چند شخصیات میں سے ایک تھے جو میڈیا کی مکمل تاریخ جانتے تھے۔
میں نے اپنی زندگی میں اتنے ذہین انسان کم ہی دیکھے ہیں جتنے ڈاکٹر صاحب تھے۔ وہ ایک ایسے روشن خیال انسان تھے جنہوں نے اپنی تحریروں اور لیکچرز سے ذہنی انقلاب برپا کیا۔
افسوس! کچھ ادارے ہمیشہ ان کے خلاف رہے، کبھی جیل میں ڈالا تو کبھی یونیورسٹی میں لیکچر دینے سے رکوا دیا۔ لیکن ڈاکٹر صاحب بھی ڈٹے رہے اور 60 سال صحافت سے وابستہ رہے جبکہ 50 سال ٹیچنگ کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے۔
یہ بات ہے سال 2018 کی، موسم تھا خزاں کا، جب میرا داخلہ جامعہ پنجاب کے شعبہ صحافت میں ہوا، تب ڈاکٹر صاحب سے زندگی میں پہلی بار باضابطہ ملاقات کا موقع ملا۔ سر کے ذمے میڈیا ہسٹری کا سبجیکٹ تھا اور وہ میڈیا کی تاریخ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اصل تاریخ بھی بتاتے اور پڑھاتے، وہ اصل تاریخ جس کا ذکر ہماری مطالعہ پاکستان کی روایتی کتابوں میں نہیں ملتا، یہی وہ موقع تھا جب مجھے تاریخ پڑھنے سے محبت و لگن ہو گئی اور میں پوری پوری رات تاریخ کی کتابیں پڑھنے میں صرف کر دیتا۔
ڈاکٹر صاحب کی شخصیت نے اتنا متاثر کیا کہ شاید ہی کوئی ایسا دن ہوتا جب میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ وقت نہ گزارتا، کبھی کلاس میں سوالات کی بوچھاڑ کر دیتا تو کبھی آفس میں چلا جاتا۔ ڈاکٹر صاحب جیسے زندہ دل انسان کبھی اپنے اسٹوڈنٹس سے بیزار نہ ہوتے اور نہ ہی انہیں انکار کرتے بلکہ ہمیشہ بیٹوں کی طرح پیار کرتے۔
یقینی طور پر ڈاکٹر صاحب جیسے عظیم انسان صدیوں بعد ہی پیدا ہوتے ہیں ایک مرتبہ ان کا انٹرویو کرنے کا موقع بھی ملا، وہ شام پانچ بجے یونیورسٹی سے روانہ ہو جاتے،
لیکن اس دن وہ ساڑھے 5 بجے تک کسی کام سے یونیورسٹی رکے رہے، وہ گھر کے لئے روانہ ہونے ہی لگے کہ اچانک میں نے سر کو دیکھ لیا اور فوری کہا: سر انٹرویو مل جائے گا پلیز۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا کہ وہ اپنے اسٹوڈنٹس کو کبھی نا نہیں کرتے تھے، میں نے کبھی نہیں دیکھا یا سنا کہ وہ اپنے اسٹوڈنٹس کو نا کرتے ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے اس دن بھی مجھے نا نہیں کی حالانکہ وہ گھر واپس جا رہے تھے۔
دو بار ان کے گھر جانے کا شرف بھی حاصل ہوا، کچھ دوستوں کا شکریہ جن کے ساتھ یہ میٹنگ ارینج ہو گئی، یوں تو ملاقات کا شیڈول آدھے گھنٹے کا تھا، لیکن ڈاکٹر صاحب کی مہمان نوازی، پیار و شفقت نے وہاں سے اٹھنے کی اجازت نہ دی اور پورے پانچ گھنٹے ہم ڈاکٹر صاحب کے پاس رہے۔
میری ان سے آخری ملاقات 22 دسمبر 2020 کو ان کی رہائش گاہ پر ہوئی، ڈاکٹر صاحب نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”بی ہائنڈ دی ہیڈلائنز“ سے بھی نوازا۔
وہ نظریاتی طور پر پکے مارکسسٹ تھے، آخری ملاقات میں، میں نے سر سے خصوصی طور پر پوچھا کہ: آپ کے کچھ دوست جو ماضی میں مارکسسٹ تھے، اب وہ اپنے نظریے کو چھوڑ کر امریکی سرمایہ دارانہ لبرل نظام کے پکے حامی ہو گئے ہیں، سر آپ اب بھی مارکسسٹ ہیں؟
ڈاکٹر صاحب نے میری آنکھوں میں دیکھا اور کہا بے نظیر بھٹو سے میرا بس یہی اختلاف تھا کہ وہ سوشلزم کو چھوڑ گئی تھیں۔ ہاں میں اب بھی مارکسسٹ ہوں اور ہمیشہ مارکسسٹ ہی رہوں گا۔
یوں آخری ملاقات اختتام پذیر ہوئی اور میں نے اس دن پہلی مرتبہ ڈاکٹر صاحب کو خدا حافظ کرتے ہوئے ان کے ہاتھ چوم لیے، بس یہی آخری ملاقات تھی، ایک عظیم شخصیت کے ساتھ۔
مجھے امید ہے کہ پاکستان میں حقیقی تبدیلی لانے کا ڈاکٹر صاحب کا خواب ضرور پورا ہو گا، اور ہم ان کے اسٹوڈنٹس اسے پورا کریں گے ایک دن، انشا اللہ۔
آخر میں ڈاکٹر صاحب کی وہ نصیحت جو وہ اکثر کیا کرتے تھے : کبھی یہ مت دیکھنا کہ کون بات کر رہا ہے، بلکہ یہ دیکھنا کہ کیا بات کر رہا ہے، اصل حقائق تک پہنچ جاؤ گے۔



