روس یوکرین جنگ اور پناہ گزین: ’پولینڈ کی سرحد کسی کی منزل تو کسی کے لیے غیریقینی مستقبل کا آغاز‘


A man and a woman stand by a car at the Poland-Ukraine border
لوگوں کی ایک بڑی تعداد سرحد عبور کر کے یوکرین سے پولینڈ اور دیگر ممالک میں جا رہی ہے
رومن کہتے ہیں کہ ’ہم نے یہ جنگ شروع نہیں کی۔۔۔ لیکن اب بس یوکرین ہے اور یوکرین مضبوط ہے۔ مجھے امید ہے کہ جیتیں گے۔‘

وہ پولینڈ میں یوکرین کی سرحد پر کھڑے ہیں اور کسی کے منتظر ہیں۔ انھوں نے دیگر بہت سے لوگوں کی طرح اپنے کندھوں پر یوکرین کا جھنڈا لپیٹا ہوا ہے۔

وہ اندازاً ان پندرہ لاکھ یوکرینی باشندوں میں شامل ہیں جو پہلے ہی پولینڈ میں رہ رہے تھے۔ یہ وہ تعداد ہے جو روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق جنگ شروع ہوتے ہی چار لاکھ لوگ یوکرین سے نکل چکے ہیں۔ تارکین وطن کے لیے کام کرنے والے اداروں کو خدشہ ہے کہ روسی جنگ کی شدت اور ہلاکتوں کے بڑھنے سے ملک چھوڑ کر سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والوں کی تعداد پچاس لاکھ تک ہو سکتی ہے۔

رومن سرحد پر گاڑی میں تب سے رہ رہے ہیں جب انھیں پتا چلا کہ ان کے دوست کی بیوی اور بچہ یوکرین سے روانہ ہوئے ہیں جبکہ ان کے دوست وہیں رک گئے ہیں۔

A man draped in a Ukrainian flag makes a telephone call

رومن اپنے اس دوست کی اہلیہ اور بچے کو لینے آئے ہیں جو خود لڑائی لڑنے کے لیے یوکرین میں ہی ہیں

رومن جانتے ہیں کہ وہ اپنے دوست سے نہیں مل پائیں گے مگر وہ اپنے دوست پر فخر محسوس کرتے ہیں جو ملک چھوڑنے کے بجائے اب مزاحمت کرنے والے یوکرینی لوگوں میں شامل ہو گئے ہیں۔

سرحدی راستے پر گاڑیوں کی ایک لمبی قطار ہے یہ یوکرینی خاندان ہیں جو جنگ زدہ علاقوں سے آنے والے اپنے پیاروں کے منتظر ہیں۔

یورپ کے لیے اچانک سے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کی آمد نئی چیز نہیں۔ سنہ 2015 میں یہاں دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزین اور تارکین وطن جن میں زیادہ تر شامی باشندے شامل تھے، داخل ہوئے تھے۔

یہ افراد جنگ سے بچنے کے لیے یورپ میں بحری اور بری راستوں سے داخل ہوئے تھے۔ لیکن سنہ 1995 کی بلقان جنگ کے بعد سے دنیا نے اس براعظم سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کو اتنی بڑی تعداد میں نہیں دیکھا ہے۔

جدا ہونے والے خاندانوں کا ملاپ خوشی اور ملال دونوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ یقیناً سکون کا احساس ہوتا ہے اور طویل میل ملاپ ہوتا ہے لیکن یہاں لوگ خاموش ہیں۔ وہ اپنا سامان اور بچوں کو اٹھائے بسوں سے اترتے ہیں اور سامان اور بچے دونوں ان دوستوں اور رشتہ داروں کے حوالے کر دیتے ہیں جو طلوع آفتاب سے پہلے سے ان کے منتظر ہیں۔

People walk with suitcases at the Polish border crossing with Ukraine

سرحد عبور کرنے والے بہت سے ایسے ہیں جنھیں ابھی آگے بھی اپنا پیدل سفر جاری رکھنا ہو گا

بہت سے پناہ گزینوں کا سفر سرحد عبور کرنے کے بعد بھی جاری ہے۔ سینکڑوں لوگ آہستہ آہستہ پولینڈ کے اندرونی علاقوں کو جانے والی سیدھی سڑک کنارے پیدل چل رہے ہیں اور سامان سے بھرے اپنے سوٹ کیسوں بھی ساتھ گھسیٹتے جا رہے ہیں۔

وہ لوگ جن کا سرحد کے اس پار کوئی منتظر نہیں، ہنگامی بنیادوں پر بنائے جانے والی نو پناہ گاہوں میں قیام کریں گے۔

یوکرین کے مشرقی ہمسائے کی جانب سے اب تک انھیں پرجوش انداز میں خوش آمدید کہا گیا ہے۔ پولینڈ میں موجود رضا کار پلاسٹک کی پلیٹوں میں لوگوں کو ڈمپلنگ اور پیسٹریاں پیش کر رہے ہیں۔ دیگر لوگ چھوٹے بچوں کو کپڑے، جوتے اور کھلونے دے رہے ہیں۔

سرحد پر آنے والی ایک پولش ڈاکٹر کہتی ہیں کہ وہ صرف یہ دیکھنے کے لیے آئی تھیں کہ وہ کیا مدد کر سکتی ہیں۔ کچھ لوگوں گھر سے یوکرینی زبان میں ایسے پلے کارڈ لکھ کر لائے ہیں جن پر پناہ گزینوں کو پولینڈ کے مرکزی شہروں تک مفت لے جانے کی پیشکش کی گئی ہے۔

A woman draped in the Ukrainian flag speaks to two others

سرحد پر موجود لوگوں میں سے بہت سوں نے یوکرین کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا s

تاہم ہر کوئی یہاں سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کر رہا۔

یوکرین کے نوجوانوں کا ایک گروپ ڈنمارک سے آیا ہے اور کوشش کر رہا ہے کہ وہ یوکرین کے تحفظ کی جنگ میں شامل ہوں۔

میکس اور مارک اپنا اصل نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے مگر وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے یوکرین کے صدر کی جانب سے ہتھیار اٹھانے اور لڑنے کے مطالبے کا جواب دینے کے لیے 50 گھنٹوں تک سفر کیا اور وہ یوکرین پہنچے ہیں۔

میکس کہتے ہیں کہ ’ہم اپنی زمین، اپنے ملک اور اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے جائیں گے۔‘

ان دو دوستوں نے یوکرین کے دس دیگر شہریوں کے ساتھ سفر کیا تھا جن کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ کسی منظم گروپ کے ساتھ مل جائیں جو روس کی پیش قدمی روکنے کے لیے لڑ رہا ہے۔

’اگر انھیں فوج میں میری ضرورت ہے، یا وہ مجھے شہر میں رکھنا چاہتے ہیں، میں جانتا ہوں کہ گولی کیسے چلانی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ مارتے کیسے ہیں‘۔

A group of Yemeni students at the border crossing

ان یمنی شہریوں کے علاوہ یوکرین میں بہت سے ممالک کے بچے پڑھنے آتے ہیں

یہ ایک تنازع ہے جس نے نہ صرف یوکرینی شہریوں کو دربدر کر دیا ہے بلکہ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے آبائی ملکوں کو مسائل کی وجہ سے چھوڑ کر یہاں آئے تھے اور اب انھیں بھی یہاں سے جانا ہو گا۔

کبھی یوکرین ان کی پناہ گاہ تھا لیکن اب وہ اپنے آپ کو ویسی ہی صورتحال سے دوچار پاتے ہیں جس میں ان کے پاس جانے کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں۔

مزید پڑھیے

یوکرین پر روسی حملے کے بعد شہری پناہ گاہوں کی تلاش میں: ’میں بہت پریشان اور خوف زدہ ہوں‘

پاکستانی طلبہ کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت: ’لاکھوں خرچ کیے، پاکستان واپسی مستقبل تباہ کر سکتی ہے‘

خارخیو اور کیئو میں تعلیم حاصل کرنے والے پانچ یمنی نوجوان لڑکوں کے گروپ کو پولینڈ کی سرحد تک پہنچنے میں دو دن لگے۔

احمد عمر کا کہنا ہے کہ یوکرین میں ’صورتحال بہت تکلیف دہ ہے، کسی کے لیے کوئی رحم نہیں ہے۔ عورتیں اور بچے اس جنگ کی افراتفری میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔‘

ان کے دوست محمد عبدالعزیز کہتے ہیں کہ ’یوکرین کے لوگ بہت مہربان ہیں لیکن ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ ظالم فوج جیت جاتی ہے۔‘

A bus carrying people who are crossing over into Poland

بسوں میں ان میں سے کچھ لوگ بھی سوار ہیں جو پولینڈ کی سرحد کو عبور کر کے آئے ہیں

ایرانی شہریوں کا ایک بڑا گروپ پولینڈ میں داخل ہونے کے لیے تین دن تک سرحد پر پھنسا رہا۔

وحید نے ایران میں اپنا گھر بیچ دیا تھا تاکہ وہ کیئو میں ایرانی ریستوران کھول سکیں۔ وہ بتانے لگے کہ ’میں نے اپنی زندگی کی تمام جمع پونجی ایک رات میں کھو دی۔ میں نہیں جانتا کہ میرے ریسٹورنٹ کا کیا ہو گا۔’

مسعود بھی ایران سے تعلق رکھتے ہیں وہ ایک ایسی معذوری کا شکار ہیں جس کی وجہ سے انھیں بولنے اور چلنے میں دقت ہوتی ہے۔

وہ اپنے ایک دوست کے منتظر ہیں وہ بھی معذور ہے اور پولینڈ کی سرحد عبور کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘معذور افراد کو سرحد عبور نہ کرنے دینا غیر انسانی ہے۔ انھیں ترجیح دی جانی چاہیے۔’

A sign at the Polish border with Polish and EU flags

جنگ سے بچنے کے لیے یورپ میں یوکرین سے بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد متوقع ہے

یوکرین کے لیے جنگ یورپ کے دہانے پر ہے اور ممکنہ طور پر آنے والے مہینوں میں انسانوں کو ہونے والے نقصان کی صورت میں اسے پورے خطے میں محسوس کیا جائے گا۔

اس سرحد کو عبور کرنے والے بہت سے لوگ ان جیسے ہیں جن کا خطرناک سفر ختم ہو گیا ہے لیکن دیگر لوگوں کے لیے تو یہ غیر یقینی مستقبل کا فقط آغاز ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp